انور قریشی اور آخری کیل؟

ظہور احمد دھریجہ سرائیکی وسیب
17 اگست کے خبریں میں انور قریشی کے کالم
”لسانیت پرستی میں آخری کیل“ نے ان کی اصلیت ظاہر کرنے کے ساتھ یہ سوال پیدا کیا کہ لسانیت پرست کون ہے؟ سوال بارے غیر جانبدارانہ تجزےے کی ضرورت اس لئے بھی ہے کہ تاریخ کے نام پر پہلے بھی بہت فراڈ ہوا ہے، لسانی مسئلہ صدیوں پرانی بات نہیں، سب کچھ آنکھوں کے سامنے ہوا، لسانی بنیاد پر دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت کو دو لخت کرانے کا موجب کون لوگ اور کونسی زبان ہے؟ اس کا فیصلہ ہونا ضروری ہے۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ قیام پاکستان کے بعد اردو بنگالی تنازعہ، اردو سندھی تنازعہ پید اکرنے اور کراچی میں پشتو اردو اور پنجابی اردو کے نام پر لسانی فسادات کرانے والوں سے پہلی بار پوچھا جا رہا ہے کہ اگر سرائیکی صوبے کا مطالبہ لسانی ہے تو اردو بازار، اردو یونیورسٹی اور اردو اکیڈمیاں کس طرح آسمانی یا قرآنی ہیں؟ ہم بتانا چاہتے ہیں کہ پہلے تو قدیم مقامی لوگ مہمان نوازی کی روائتی اقدار کے باعث خاموش رہے مگر انڈیا سے آنے والے ہمارے مسلم بھائیوں نے لسانیت پرستی کی پرانی عادت کے مطابق سرائیکی اور دوسری مقامی زبانوں پر لسانی حملے شروع کئے اور پاکستانی زبانوں کی توہین شروع کی تو مقامی افرادسے بھی نہ رہا گیا، انہوںنے بھی جواب دینا شروع کیا جس سے ان کو تکلیف پیدا ہوئی، جیسا کہ سب کو معلوم ہے ایک سال سے میں خود لسانیت پرستوں کے حملوں کی زد میں ہوں، پہل انہوں نے خود کی، میری طرف سے ان کو جواب ملنا شروع ہوا ہے تو ان کی ”دھاڑ وے“ روہ روہی تھل دمان تو کیا پورے پاکستان میں سنائی دے رہی ہے، جی ہاں ! اسی کا نام لسانیت پرستی کے بُت میں آخری کیل ہے۔
چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق انور قریشی شہید مینار کی بات کر رہا ہے، میرا سوال یہ ہے کہ ڈھاکہ میں شہید مینار کیوں وجود میں آیا؟ پوری دنیا میں 21فروری کو ماں بولی کا دن کیوں قرار دیا گیا؟ یہ تمام واقعات تاریخ کا حصہ ہیں، حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ بھی موجود ہے، مزید یہ کہ آج نیٹ کا دور ہے نیٹ پر شہید مینار کی ہسٹری پڑھیئے، یہ شہید مینار ڈھاکہ میں ان بنگالی نوجوانوں کی یاد میں بنایا گیا ہے جو اپنی بنگالی ماں بولی کا حق مانگ رہے تھے، جو کہہ رہے تھے کہ اردو زبان کو ہم پر مسلط نہ کیجئے کہ نہ تو ہم اردو بول سکتے ہیں، نہ لکھ سکتے ہیں اور نہ پڑھ سکتے ہیں۔ کچھ شرم ہوتی ہے، کچھ حیا ہوتا ہے کہ جس شہید مینار کے آپ مجرم ہیں اس کا الزام اور طعنہ سرائیکی کو دے رہے ہیں۔ میں چیلنج دیتا ہوں کہ شہید مینار کی پوری تاریخ پڑھیئے اگر کسی زبان کے حقوق غصب کرنے کے حوالے سے سرائیکی کا ذرا برابر جرم ثابت ہو جائے تو ہم ہر طرح کی سزا بھگتنے کو تیار ہیں اور اگر تاریخ ثابت کر رہی ہے کہ شہید مینار اردو بنگالی تنازعہ کے باعث اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا آغاز بھی اردو کی وجہ سے ہوا تو پھر اپنے لیئے سزا خود تجویز کیجئے۔ آگے چل کر انور قریشی کہہ رہا ہے کہ ”دھریجہ جی! کسی ایسی قوم کا نام بتایئے جو آسمان سے براہ راست اس خطہ میں نازل ہوئی ہو“ جی ہاں! یہ قوم اردو ہے کہ انور قریشی اردو کے بارے میں خود کہہ رہا کہ ”اردو زبان مغلیہ دور کے زوال کے دوران فارسی کے انحطاط پذیر ہونے پر ہندی، فارسی، عربی کے امتیاز سے ایک نئی زبان اردو نے جنم لیا“تو گویا انور قریشی خود تسلیم کر رہا ہے کہ اردو بذات خود کوئی زبان یا قوم نہیں دوسری زبانوں کا ملغوبہ ہے اس کا اپنا کوئی شجراءنسب نہیں۔ تو جس کا شجراءنسب زمین سے نہ ملے اُسے آسمانی مخلوق ہی کہا جاتا ہے۔
آگے وہ خود کہہ رہا ہے کہ ”قارئین کرام! مہاجرین اور اردو قطعاً دو الگ الگ چیزیں ہیں، مہاجر کسی قومیت کا نام نہیں“ جب یہ بات انور قریشی نے خود تسلیم کر لی تو جھگڑا کس بات کا؟ جس ظہور دھریجہ پر آپ نشتر برسا رہے ہو وہ بھی تو بار بار یہی کہتا ہے کہ مہاجر اور اردو الگ الگ چیزیں ہیں اور مہاجر کسی قومیت کا نام نہیں، ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ انور قریشی کو اپنی اس بات پر قائم رہنا چاہےے کہ ان کے مکرنے میں دیر نہیں لگتی۔ اس سے آگے چل کر کہہ رہا ہے ” دو صدیوں کی قلیل مدت میں اردو نے اپنے وطن حجاز و فارس ہندو پاک سے پوری دنیا کو اپنا جغرافیہ بنا دیا ہے“انور قریشی اردو کی عمر دو سو سال بتا رہا ہے، جہاں تک ہندوستان، پاکستان، عرب و ایران تک اس کے جغرافےے کا تعلق ہے تو اس میں کوئی سچائی نہیں، زبانوں کی تاریخ پڑھیں تو فارسی زبان کا اصل وطن ایران ہے مگر مغل حملہ آوروں نے ہندوستان پر قبضہ کیا تو ایک ہزار سال تک فارسی زبان نے ہندوستان پر راج کیا، تعلیمی اداروں کا نصاب بھی فارسی میں تھا، دفتروںکی سرکاری زبان بھی فارسی تھی جونہی مغلیہ عہد ختم ہوا فارسی بھی جاتی رہی۔ اردو کے ساتھ بھی ایسا ہونے کا خطرہ ہے، مصنوعی کوئی بھی چیز ہو اس کی طبعی عمر طویل نہیں ہوتی، ماہرین لسانیات بتاتے ہیں کہ کسی بھی ایسی زبان جو کہ بے بنیاد ہو، دھرتی میں اس کی جڑیں نہ ہوں تو سرکاری طاقت کے بل بوتے پر ہزار سال تک مسلط کیا جا سکتا ہے لیکن جونہی کسی بھی اجنبی زبان بولنے والوں کا تسلط ختم ہوگا تو ان کے ساتھ ان کی زبان بھی چلی جائیگی۔ اردو کو سرکاری طور پر مسلط کیا گیا ہے، آج پنجابی،سرائیکی، پشتو، بلوچی اور سندھی اور پوٹھوہاری وغیرہ کو سرکاری طور پر ان کا جائز مقام دے دیا جائے، ان کے اپنے اپنے علاقوں میں دفتری اور تعلیمی زبان بنا دیا جائے پھر ہم دیکھیں گے کہ جغرافیہ کیسے بنتا ہے، اردو دراصل معمولی الفاظ کے ساتھ ہندی کی بگڑی ہوئی شکل ہے جیسا کہ ہندی میں بولا جاتا ہے کہ ”آپ کونسی بھاشا بولتے ہیں؟“ تو لفظ ”بھاشا“ کو ہٹا کر ”زبان “ لگا دینے سے کوئی مکمل زبان نہیں بن جاتی، اس کے باوجود جب ہندوستان میں نستعلیق رسم الخط کی جگہ ”دیونا گری “ شروع کیا گیا تو آج ہندوستان میں اردو کو اردو والے بھی نہیں پڑھ سکتے۔ سندھ کو دیکھئے کہ اندرون سندھ میں لوگ سندھی پڑھتے ہیں اس لئے وہاں اردو اخبار پڑھنے والا ڈھونڈھے سے بھی نہیں ملتا۔
انور قریشی کہہ رہا ہے کہ ” ریاست بہاولپور کی سرکاری زبان اردو تھی“ میرا سوال یہ ہے کہ نواب بہاولپور کی اتنی بڑی فیاضی کا اردو والے ان کو کیا صلہ دے رہے ہیں؟ مزید یہ کہ بہاولپور کے نواب ”دولے “ تھے، ان کو مقامی تہذیب و ثقافت کا علم نہ ہو سکا وہ پگ کی بجائے ترکی ٹوپی کو ریاست کی ثقافت کہتے رہے، آج بھی وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم سرائیکی نہیں ریاستی ہیں حالانکہ ریاست خیر پور، ریاست حیدرآباد اور ریاست سوات و قلات وغیرہ میں سے کسی نے خود کو ریاستی نہیں کہا تو یہ ان کے لئے بہت بڑا سبق ہے مگر انور قریشی کی طرح ان کو بھی قومیت، وطنیت اور تہذیبی و ثقافتی فلسفے کا ادراک نہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ والیان ریاست بہاولپور نے اچھے کام بھی کئے لیکن اپنی قومی شناخت سے دوری نے آج ان کو ایک کٹی پتنگ بنا دیا ہے۔انور قریشی یہ بھی کہہ رہا ہے کہ دھریجے 1960ءکی دہائی میں سندھ سے دھتکارے گئے، انور قریشی جیسے کو کیا جواب دیا جائے کہ دھریجے چار سو سال قبل حملہ آور ارغون سے لڑتے جھگڑتے سرائیکی وسیب کے مختلف علاقوں میں پہنچے، سندھ میں یہ بھی دھریجہ قوم کی تاریخ ہے کہ اپنی برادری کے سینکڑوں سرداروں کے سر قلم کروا دیئے، ہزاروں لوگ شہید ہوئے مگر کسی ایک نے بھی ارغون کی بیعت نہ کی۔ سکھر کا معصوم شاہ قبرستان دھریجہ قوم کی قبروں سے معمور ہے اور تاریخ سندھ میں دھریجہ قوم کی حریت پسندی کے تذکرے موجود ہیں۔ آخر میں انور قریشی کی اس بات پر داد دونگا کہ انہوںنے تسلیم کر لیا کہ میرا تعلق ذبح خانہ سے ہے، جہاں تک ان کے اس سوال کا تعلق ہے کہ ”کیا سرائیکستان میں ذبح خانوں پر پابندی زیر غور ہے؟“ تو ہم انور قریشی کو کہتے ہیں کہ آپ مہربانی کریں صوبہ سرائیکستان بننے دیں، اس طرح کی کوئی پابندی زیر غور نہیں۔
(سرائیکی دانشور اور معروف صحافی ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved