نوازشریف بازی پلٹ سکتے ہیں ؟

خضر کلاسرا….ادھوری ملاقات
اس بات کے باوجود کہ سپریم کورٹ سے پانامہ مقدمہ میں نااہلی کے بعد نوازشریف کو سیاسی زندگی کے مشکل ترین حالات کا سامنا ہے لیکن اس صورتحال میں دھیان رہے کہ ابھی تک ان کی حکومت وفاقی دارلحکومت اسلام آباد کے علاہ پنجاب، بلوچستان،آزادکشمیر اور گلگت بلتستان میں پورے مینڈیٹ کیساتھ موجود ہے۔ علاوہ ازیں دیگر صوبوں میں بھی موصوف بحیثیت وفاقی حکومت سیاسی عمل میں پوری طرح شریک ہیں۔ادھر پنجاب کے بلدیاتی نظام پر بھی ان کا سکہ یوں چل رہاہے کہ پنجاب کے ایک ضلع کے علاوہ پورے صوبہ میں بلدیاتی نظام انہی کے کنڑول میں ہے۔ادھر اسلام آباد کی میئر شپ بھی ن لیگ کے پاس ہے۔نوازشریف سیاست میں نااہل وزیراعظم کے باوجود بھی عوام کی ہمدردیاں سمیٹنے کا کام اب بخوبی کرسکتے ہیں لیکن اس کیلئے انہیں محدود سوچ سے نکلناہوگا۔وزیراعظم ہاوس سے نااہلی کے داغ کیساتھ نکالے جانے کے رونے دھونے کو کچھ وقت کیلئے اپنے آپ سے دور کرناہوگا۔اس بات کو سمجھنا ہوگاکہ© لیڈر وزیراعظم سے بڑے ہوتے ہیں۔ان کی زندگیوں میں حکومتی عہدوں کی بجائے عوام کی عدالت میں سرخرو ہونے جیسے مقاصد کا حصول اہم ہوتاہے۔نوازشریف اور انکی پارٹی برا نہ مانے تواب تک انہوں نے لاہور کے لیڈر کی حیثیت میں سیاست کی ہے جوملاہے،وہ اٹھاکر لاہور لیکر گئے ہیں اور لہور بھی ان سے خوش نہیں ہے۔ان کے اس اندازسیاست کو تاریخ کبھی اچھے الفاظ میں یاد نہیں کرے گی بلکہ ان کو خود بھی اس بات کا احساس وقت کیساتھ تنگ کرے گا کہ انہوں نے ایک شہر کی خاطر پورے ملک کے عوام کیساتھ انصاف نہیں کیاتھا۔ادھر پنجاب میں بھی انہوں نے انصاف کے تقاضے پورے یوں نہیں کیے کہ جنوبی پنجاب کے علاقوں کو اتنی بھی اہمیت نہیں دی کہ وہ ان کے ساتھ خوشی اور غم میں کھڑے ہوتے۔ان کے حقوق پر بھی دن دیہاڑے ڈنڈی ماری ہے اور ان کے سیاہ کارناموں کی وجہ سے احساس محرو می اس حد تک بڑھ گیاکہ وہاں سے سرائیکی صوبہ کے قیام اور بہاولپور صوبہ کی بحالی کیلئے آوازیں شدت کیساتھ سننے کو ملی ہیں۔ ہمارا خیال تھاکہ نوازشریف اس تلخ صورتحال میں ایک طرف ماضی کی غلطیوں پر سرائیکی دھرتی کے عوام سے معافی مانگیں تودوسری طرف اپنے چھوٹے بھائی شہبازشریف کو اس بات کا پابندکریں گے کہ وہ پنجاب کے بجٹ کو برابر تقسیم کریں بلکہ سرائیکی علاقوں کو لاہور جیسے منصوبے دیں گے اور ترقیاتی فنڈز کا رخ ادھر کی طرف کریں گے لیکن ایسا نہ ہوسکابلکہ نوازشریف نے بھی پچھلے دور حکومت میں جب پیپلزپارٹی کی وفاق میں حکومت تھی اور نواز لیگ بحیثیت صوبائی حکومت پنجاب میں موجود تھی نے،اس بات کا فیصلہ پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتوں سے ملکر کیاکہ پنجاب کو تین صوبوں میں تقسیم کرتے ہیں،مطلب بہاولپور، ملتان کے علاوہ تیسرا صوبہ لاہور ہوگا۔یوں اس خواب کوعملی شکل میں لانے کیلئے پنجاب اسمبلی میں حکمران جماعت نواز لیگ کی طرف سے سرائیکی صوبہ کے قیام اور بہاولپور صوبہ کی بحالی کیلئے قرارداد لائی گئی،جسکو پنجاب اسمبلی میں ساری جماعتوں نے متفقہ طورپر منظور کرلیا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پنجاب اسمبلی کی اس قرارداد کو یوں بھی خاص اہمیت حاصل ہے کہ اس کے علاوہ کبھی دوسرے صوبہ نے اپنے آپ کو تقسیم کرنے کا مطالبہ وفا ق سے نہیں کیا لیکن پنجاب کے حکمرانوں نے بڑا دل کرکے اسلا م آباد سے شدت کیساتھ مطالبہ کیاکہ متحدہ پنجاب میں وہ نظام حکومت کو چلانے میں بری طرح ناکام ہوگئے ہیں اور پنجاب کو تین صوبوں بہاولپور،ملتان اور لاہور میں تقسیم کرنا ازحد ضروری ہے۔وفاق اس کیلئےءفوری طور پر کمیشن تشکیل دے کر پنجاب کے ایوان کے قرارداد کی صورت میں مطالبہ کو قانون اور آئین کے تقاضے پورے کرتے ہوئے عملی شکل دے۔یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ پنجاب میں بہاولپور صوبہ کی بحالی اور ملتان صوبہ کیلئے جب متفقہ قرارداد پنجاب اسمبلی کے ایوان میں منظور ہورہی تھی تو لاہو میں کوئی ایک فرد بھی ایسا نہیں تھا جوکہ اسمبلی کے سامنے آکر احتجاج کررہاہو کہ پنجاب کو تقسیم نہ کیاجائے بلکہ چاروں اطراف خاموشی تھی۔اس خاموشی کا میرے جیسے لوگوں نے تو یہی اثرلیاکہ پنجابیوں نے بھی اس بات کو کھلم دل سے تسلیم کیاکہ اب وقت آگیاہے کہ پنجاب میں بسنے والی دیگرقوموں کو آئین پاکستان کے تحت ملنے والی خود مختاری صوبوں کی صورت میں دیدی جائے۔ادھر اس با ت کا ذکر بھی ضروری ہے کہ مسلم لیگ نوازکو 2013 کے الیکشن پنجاب کی تقسیم کے نعرے پر نقصان کی بجائے فائدہ یوں ہوا کہ وہ سرائیکی علاقوں میں جیت گئی،لیگی امیدواروں کے پاس سیاسی گراونڈ تھاکہ ان کی پارٹی نے تو پنجاب میں سرائیکی اور بہاولپور صوبہ کیلئے قرارداد منظور کرکے وفاق کو بھجوا دی ہے،اب پیپلزپارٹی نے ان کیساتھ ہاتھ کی صفائی دکھائی ہے تو ان کی اپنی قسمت ہے۔یادرہے کہ وفاق میں پیپلزپارٹی کی طرف سے پنجاب میں نئے صوبوں کی قرارداد پورے جوش خروش سے وصول کی گئی لیکن بعد ازاں پیپلزپارٹی نے سرائیکی دھرتی کے لوگوں کو ٹرک کی بتی کے پیچھے یوں لگایاکہ آصف زرداری نے ملتان جاکر کہاکہ ان کے پاس اکثریت نہیں ہے اور وہ اب سرائیکی بنک بناکر تخت لاہور کو کمزور کریں گے اور سرائیکی صوبہ اگلی بار بنائینگے،یوں معاملہ گول ہوا،صدر زرداری اپنی ٹرم پوری کرکے دوبئی سدھار گئے اور سرائیکی صوبہ کے علاوہ سرائیکی بنک کا وعدہ بھی زرداری کا جھوٹ ثابت ہوا۔ رہے نام اللہ کا۔
سرائیکی عوام کو اس بات کی داد د ینی پڑے گی کہ وہ کبھی مایوس نہیں ہوئے۔یوںانہوں نے پیپلزپارٹی کی حکومت جانے کے بعد لیگی قیادت سے امیدلگالی کہ اب کی بار تو نوازشریف وزیراعظم ہیں اور شہبازشریف وزیراعلی ہیں،اکثریت بھی ان کے پاس ہے۔اس طرح پنجاب میں نئے صوبوں کا قیام کو تو اب دنوں کی بات ہے لیکن چار سال گزرگئے، یہاں تک کہ وزیراعظم نوازشریف سپریم کورٹ سے نااہل ہوگئے، 2013 الیکشن مہم میںنوازشریف کی سرائیکی اور بہاولپور صوبہ کے حق میں کی گئی تقریروں کے ویڈیوکلپ سوشل میڈیا پر ہزاروں بار چل کر اپنی موت آپ مرگئے لیکن لیگی قیادت ٹس سے مس نہیں ہوئی مطلب وہ بھی پیپلزپارٹی کے نقش قدم پر چل پڑے ہیں۔ادھر پیپلزپارٹی کی قیادت نے اپنے گماشتوں کے ذریعے ایک بارپھر ڈھولکی بجانی شروع کردی ہے کہ اب کی بار الیکشن میں اکثریت دلوائیںتو پھر پنجاب میں صوبوں کی بارش کردیں گے لیکن سرائیکی خاموش ہیں اور پیپلزپارٹی کو پچھلے دور حکومت میں دئیے گئے دھوکہ کی وجہ سے رسپانس نہیںدے رہے ہیں۔اور پیپلزپارٹی سرائیکی علاقوں کی حمایت کے بغیر اقتدار میں نہیں آسکتی ہے۔
اس وقت اہم سوال یہ ہے کہ اب اس مشکل میں نوازشریف کیاکرسکتے ہیں ؟ اور اپنے سیاسی گناہوں کا کفارہ اداکرنے کے علاوہ عوام میں خیبر تاکراچی کس طرح پاپولر بھی ہوسکتے ہیں؟بات بڑی سادہ ہے کہ پاکستان میں بڑی دیر سے عوام میں جومقبول نعرہ ہے وہ پورے ملک میںنئے صوبوں کا ہے،ساری لیڈرشپ اس بارے میں عوام کو اپنے اپنے انداز میں وعد ے دے چکی ہے لیکن نوازشریف جیسا مینڈیٹ کسی کے پاس نہیں ہے،یوں نئے صوبوں کیلئے فیصلہ کن کردار نوازشریف ہی اداکرسکتے ہیں۔نوازشریف بحیثیت وزیراعظم نااہل ہوچکے ہیں لیکن ابھی بھی وقت ہے،اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے کہ نوازشریف وزیراعظم ہاوس میں موجود نہیں ہیں،لیکن نواز لیگ حکومت انہی کے تابع چل رہی ہے۔پاکستان کے چاروں صوبو ں میں نئے صوبوں کی آوازیں بڑی دیر سے دبائی جارہی ہیں۔ان کیخلاف نوازشریف کو نکلنا ہوگا۔مثال کے طورپر سندھ میں اردو بولنے والے مہاجر صوبہ مانگ رہے ہیں جبکہ دوسری طرف بلوچستان میں پشتون محمود خان اچکزائی کی قیادت میں صوبہ کیلئے آواز بلند کررہے ہیں۔ادھر خیبر پختونخواہ میں ہزارہ کے عوام چودہ افراد کی شہادت اپنے صوبہ کے حصول کیلئے دے چکے ہیں بلکہ نوازشریف کے داماد کیپٹن صفدر بھی اس صوبہ کے قیام کیلئے نعرے لگاتے ہیں،پنجاب کی صورتحال واضع یوں ہے کہ یہاں پر دوصوبوں بہاولپور صوبہ کی بحالی اور سرائیکی صوبہ کے قیام پر پنجاب کا ایوان قرارداد متفقہ طورپر منظور کرچکاہے۔ادھر اطلاعات آرہی ہیں کہ پاکستان کی آبادی اب کی مردم شماری میں بائیس کروڑ سے بڑ ھ چکی ہے،یوںپاکستان کے نظام حکومت کو بائیس کروڑ آبادی میں چارصوبوں کیساتھ چلانا مذاق ہوگا۔، اس صورتحال میں نوازشریف کو سیاسی طورپر بڑا فیصلہ کرناہوگا اور سیاسی طورپر لاہور تک محدود ہونے کی بجائے پورے ملک کی سیاست کرنی ہوگی جوکہ چاروں صوبوں میں نئے صوبوں کے قیام میں پنہاں ہے،یقینا عوام کی توقعات کے مطابق سرائیکی،ہزارہ،مہاجر،پشتون صوبہ کے قیام اوربہاولپور صوبہ کی بحالی کے بعد انہیں کوئی بھی طاقت عوام کے دلوں سے نہیں نکال سکے گی اور نہ ہی انہیںچند لوگ سازش کرکے اس طرح رسواکرکے انہیں وزیراعظم ہاوس سے نکال سکیں گے۔بیان کردہ حقائق کی روشنی میں واضع ہوچکاہے کہ بال نوازشریف کے کورٹ میں ہے، انہیں اس بات کو بحیثیت لیڈر یادرکھناہوگاکہ وقت پر مارا گیامکہ ہی کارگر ہوتاہے،باقی میاں صاحب سمجھدار ہیں۔وزیراعظم ہاوس سے تیسری بار نکالا جاناہی ان کی سمجھداری کا ثبوت ہے۔
(کالم نگار سماجی و سیاسی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved