ملک کو درپےش چےلنجز اور ان کا حل

حاجی محمد سیف اللہ ۔خاص مضمون
مملکت خداد ادِپاکستان کا قےام دوقومی نظرےہ کی بنےاد پر عمل مےں آےا تھا کےونکہ برصغےر ہندوستان مےں دو بڑی قومےں ہندو اور مسلمان آباد تھے جن کا مذہب،ثقافت اصول اےک دوسرے سے متضاد تھے اس لےے برصغےر کے مسلمانوں نے قائداعظم کی قےادت مےں ےہ مطالبہ کےا کہ برصغےر کو دو حصوں مےں تقسےم کےا جائے جس حصہ مےں مسلمانوں کی اکثرےت ہے وہ پاکستان مےں شامل ہوں جہاں اکثرےت نہےں ہے وہ ہندوستان ےعنی موجودہ بھارت کا حصہ ہوں گے ےہی وہ نعرہ اور بنےاد تھی جس کی بنےاد پر برصغےر کو تقسےم کےا گےا اور مملکت خدادادِ پاکستان کا قےام عمل مےں لاےا گےا۔ بانی پاکستان نے واشگاف الفاظ مےں اس امر کا اعلان کےا تھا کہ پاکستان اےک اسلامی فلاحی مملکت ہو گی جو پوری دنےا کے مسلمانوں کے لےے مشعل راہ ہو گی پاکستان کے قےام کے فوراً بعد ہی قائداعظم کی علالت و مجبورےوں کی بنا پر ان مقاصد پر فوری عمل نہ کےا گےا جس کے لےے پاکستان معرض وجود مےں آےا تھا اور قائداعظم کی وفات کے بعد لےاقت علی خان سمےت ان تمام قائدےن جو پاکستان کے قےام کا ہراول دستہ تھے نے وہ کچھ نہ کےا جو انہےں کرنا چاہےے تھا بلکہ ملک اقتدار کی رسہ کشی کا شکار ہو گےا اور لےاقت علی خان جو قائداعظم کے بعد کلےدی حےثےت رکھتے تھے ان مقاصد کی تکمےل نہ کر سکے اور ملک طوائف الملوکی کا شکار ہو گےا وقت کی ضرورت ےہ تھی کہ دستور ساز اسمبلی دوسالوں مےں ہی آئےن کو منظور کر کے بھارت کی طرح غےر جانبدار اور شفاف انتخابات کر ادےتی مگر دانستہ طور پر اےسا نہ کےا گےا کےونکہ مغربی پاکستان کی قےادت بشمول لےاقت علی خان پر مشرقی پاکستان کی عددی اکثرےت کا خوف سوار تھا۔
اس مےں کوئی شک نہےں کہ فوج اور بےوروکرےسی کا پاکستان کے قےام مےں بہت بڑا دخل عمل تھا جس کا ذکر واشگاف الفاظ مےں ابوالکلام آزاد نے اپنی کتاب (India wins Freedom)مےں کےا ہے اور پاکستان کے قےام مےں بےوروکرےسی نے اےک سچے جذبہ اور لگن کے ساتھ کام کےا اس حد تک کہ بےرکوں اور درختوں کے نےچے سےکرےٹرےٹ قائم کےے گئے آئرن پن کی جگہ درختوں کے کانٹوں سے کام لےا تاکہ مملکت اپنے پےروں پر کھڑی ہو سکے اور ان مقاصد کو حاصل کر ے جس کے لےے پاکستان کا قےام عمل مےں لاےا گےا تھا مگر اس وقت لےاقت علی خان نے پنجاب،سندھ،اور سرحد مےں انتخابات کرائے اور ان انتخابات کا وہ حشر ہوا کہ انتخابی بدعنوانی کے باعث “جھرلو”کا نام اردو ڈکشنری مےں متعارف ہوا ان انتخابات سے لےاقت علی خان نے اس امر کی پوری کوشش کی کہ خصوصی طور پر پنجاب مےں قائداعظم کے قرےبی ساتھی ےعنی ممدوٹ گروپ کا مےابی حاصل نہ کر سکے اور دولتانہ کو کامےاب کرانے کے لےے اس حد تک بےوروکرےسی اور پولےس سے کام لےا گےا جس کی تارےخ مےں کوئی مثال نہےں ملتی مےرے ساتھ اسمبلی مےں اےک سابق ڈپٹی کمشنر باقر خان نے مجھے حلف اٹھا کر بتاےا کہ جب پنجاب مےں صوبائی اسمبلی کے پہلے انتخاب ہوئے تو مےں اس وقت شےخو پورہ مےں ڈپٹی کمشنر تھا اور مجھے وزےر اعظم ہاﺅس کراچی سے براہ راست ٹےلی فون آتے تھے کہ دولتانہ گروپ کو ہر حال مےں کامےاب کراےا جائے اور ممدوٹ گروپ کی پوری مخالفت کی جائے ےہ اےک ادنیٰ سی مثال ہے کہ وہ بےوروکرےسی جس کے ذہن مےں پاکستان کے وہ مقاصد تھے کہ ےہ اسلامی فلاحی رےاست ہو گی اور پورے عالم اسلام کے لےے اےک رول ماڈل ہو گی وہ سےاست دانوں کے اس طرز عمل سے انتہائی ماےوس ہوئے اور بالآخر لےاقت علی خان کی وفات کے بعد بےوروکرےسی نے فوج کی مدد سے ےہ فےصلہ کر لےا کہ کےوں نہ بادشاہ گر کی بجائے خود بادشاہ بنا جائے ےہی وجہ تھی کہ لےاقت علی خان کی وفات کے بعد ملک مےں عملاً غلام محمد بےورو کرےٹ کی سربراہی مےں بےوروکرےسی اور فوج کا دخل عمل بڑھ گےا اور سےاست دان ثانوی حےثےت اختےار کر گئے ےہی وجہ ہے کہ دنےا کی ےہ پہلی مثال ہے کہ 1954ءمےں اےوب خان جو فوج کے کمانڈر ان چےف تھے کو وزےر دفاع بھی بنا کر کابےنہ مےں شامل کردےا گےا اور مملکت خداداد پاکستان جو اےک مقدس فرےضہ کی انجام دہی کے لےے قائم کی گئی تھی ان کے پاسبانوں نے ملک کو بازےچہ اطفال بنا دےا کےونکہ فوج اور بےوروکرےسی مےں مغربی پاکستان کی اکثرےت تھی اور پھر ان کی تمام تر توجہ اس طرف مبذول ہو گئی کہ کسی طرح مشرقی پاکستان کی اکثرےت کو اقلےت مےں بدل دےا جائے اور اس مقصد کے حصول کے لےے پےرٹی (Parity)کا فارمولا وضع کےا گےا جس مےں قرار دےا گےا کہ چون فےصد =چھےالےس فےصد(54%= 46%)اور اس طرح مشرقی پاکستان کی بھاری اکثرےت کو مغلوب کرنے کے لےے مغربی پاکستان کا ڈھونگ رچاےا گےا۔اگر اس وقت مشرقی پاکستان کی نفی پر مغربی پاکستان کا صوبہ بنانے کی بجائے مشرقی پاکستان کے چار صوبے بنائے جاتے تو پاکستان کبھی دولخت نہ ہوتا جب مشرقی پاکستان کی اکثرےت کو اقلےت مےں تبدےل کر دےا گےا تو پھر خدا خدا کر کے سن 1956ءکا پہلا آئےن منظور کےا گےا اور اس وقت آئےن کے تحت صدر اور اسمبلےوں کے انتخابات کرانے کی بجائے سکندر مرزا کو صدر نامزد کر دےا گےا جسے فوج کے کمانڈر ان چےف اےوب خان کی پوری حماےت حاصل تھی اور پھر راتوں رات وزےراعظم اور وزرائے اعلیٰ تبدےل ہوتے رہے اس حد تک کہ اےک ماہ کا وزےر اعظم بھی بناےا جاتا رہا جس پر جواہر لعل نہرو کو کہنا پڑا کہ اس نے ملک کے قےام سے لے کر دس سال تک اتنے پاجامے نہےں بدلے جتنے پاکستان مےں وزرائے اعظم تبدےل کےے گئے اور بالآخر اس کا نتےجہ ملک مےں سن 1958ءکے پہلے مارشل لاءکی صورت مےں برآمد ہوا اور اس وقت سے لے کر آج تک ملک فوجی اور جمہوری آمروں کے تسلط مےں ہے اور وہ ملک جو جمہورےت کے نام پر قائم ہواتھا اور اس کے لےے واشگاف الفاظ مےں قرارداد مقاصد مےں قرار دےا گےا کہ کائنات پر حاکمےت اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات مقدس کی ہے اور پاکستان مےں اس کے اختےارات اس کی مقرر کردہ حدود مےں رہتے ہوئے عوام کے منتخب کردہ نمائندوں کے ذرےعے بطور مقدس امانت استعمال ہوں گے۔پاکستان کے آئےن مےں آرٹےکل 2-Aمےں ان الفاظ کو آئےن کا حصہ بنا دےا گےا ہے مگر آج تک اس پر نہ تو کسی حکومت نے عمل کےا ہے اور نہ ہی کسی عدالت نے عمل کراےا ہے جس کا نتےجہ ےہ ہے کہ پاکستان مےں ےاتو فوجی آمرےت قائم رہی ہے اور ےا نام نہاد جمہوری بادشاہت۔
آئےن پاکستان کی رو سے ان الفاظ کی موجودگی مےں کسی قسم کی صوابدےد کا تصور ہی نہےں کےا جاسکتا کےونکہ تمام اختےارات اور قومی خزانہ کو مقدس امانت قرار دےا گےا ہے اس وقت صورتحال ےہ ہے کہ مملکت کے تمام اختےارات اور پورا بجٹ و خزانہ وزےر اعظم کی صوابدےد پر ہے اور صوبوں مےں بھی ےہی صورتحال ہے آج ملک کو جو چےلنجز درپےش ہےں اس کی بنےادی وجہ آئےن کی بنےادی شق اور اختےارات کا آمرانہ استعمال ہے۔دنےا کی کسی بھی جمہورےت مےں چےف اےگزےکٹو ےعنی وزےر اعظم کو کوئی صوابدےدی اختےارات نہےں ہوتے اور وہ صرف اور صرف قانون کے نفاذ کا چوکےدار ہوتا ہے ہمارے ہمساےہ ملک بھارت کے وزےر اعظم کو اےک چپڑاسی اپنی صوابدےد پر بھرتی کرنے کا اختےار نہےں ہے اور نہ ہی اسکے پاس کسی قسم کے صوابدےدی فنڈز ہےں ےہی وجہ ہے کہ جب ہمارا وزےراعظم برطانےہ کے سرکاری دورہ پر گےا اور وہاں اسے اُوول کے مےدان مےں کرکٹ کے مےچ مےں شامل کےا گےا تو اس نے خوشی سے اوول کرکٹ کلب کو 5لاکھ پاﺅنڈ ز کا عطےہ پاکستان کے قومی خزانہ سے دےنے کا اعلان کےا تو اس وقت کے برطانےہ کے وزےراعظم نے کہا کہ کاش مےرے پاس بھی اےسے اختےارات ہوتے تو شاےد مےں بھی اوول کرٹ کلب کو اےک سو پاﺅنڈز کاعطےہ دےنے کا اعلان کرتا۔
آج تک ہمارے سےاستدانوں،دانشوروں،مےڈےا اور سول سوسائٹی نے ےہ سوچنے کی زحمت ہی گوارہ نہےں کی کہ پاکستان جس کے قےام کا مقصداسلامی فلاحی رےاست کا قےام تھا وہ آج دنےا کی بدترےن نام نہاد جمہوری اور بدترےن آمرےت کی رواےات کا ملک بن چکا ہے اور ہم کس طرح ان مقاصد کو حاصل کر سکتے ہےں جس کے لےے لاکھوں شہےدوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر لاکھوں ماﺅں بہنوں اور بےٹےوں نے اپنی عصمتوں اور سہاگ کو لٹا کر اور لاکھوں شےر خوار بچوں نے نےزوں کی انےوں پر اپنے معصوم سر نچھاور کر کے اس عظےم مملکت پاکستان کا قےام ممکن بناےا تھا۔وہ مملکت آج بازےچہ اطفال بن چکی ہے ہم نے ےہ کبھی بھی سوچنے کی زحمت گوارہ نہےں کی کہ پاکستان کےوں دولخت ہوا اور کےوں اندرا گاندھی کو ےہ کہنے کی جرات ہوئی کہ دوقومی نظرےہ خلےج بنگال مےں ڈبو دےا گےا ہے۔ہم نے کبھی ےہ سوچنے کی بھی زحمت گوارہ نہےں کی کہ آےا موجودہ پاکستان اےک حقےقی وفاق ہے ؟حےران کن امر ہے کہ اس نام نہاد وفاق کا اےک صوبہ باسٹھ(62)فےصد ہے اور باقی تمام صوبے صرف اڑتےس (38)فےصد ہےں ہم نے اس امر سے بھی سبق نہےں سےکھا کہ جب محترمہ بے نظےر بھٹو ملک کی وزےر اعظم تھےں اور مےاں نواز شرےف پنجاب کے وزےر اعلیٰ تھے تو اسکی قلمرو اسلام آباد تا فےض آباد تھی اور جب مےاں نواز شرےف ملک کے وزےر اعظم تھے اور مےاں منظور احمد وٹو پنجاب کے وزےر اعلیٰ تھے تو اس وقت ےہی صورتحال مےاں نوازشرےف کی تھی کسی نے آج تک ےہ سوچنے کی زحمت گوارہ نہےں کی کہ آج جو صورت وفا ق کی ہے ےہ نام نہاد وفاق کتنی دےر تک اےسے چلتا رہے گا؟پاکستان دنےا کا واحد ملک ہے جس کے اکابرےن نے آج تک دنےا سے سبق سےکھنے کی زحمت گوارہ نہےں کی ہے۔
امرےکہ دنےا کا واحد ملک ہے جس کی اپنی کوئی قوم نہےں ہے اور وہ(Country of Immigrants) کہلاتا ہے تو جب آزادی ملی اسکی تےرہ(13)رےاستےں تھےں اور آج اسکی پچاس (50)رےاستےں ہےں جس کی بنےاد پر وہ آج طاقتور ترےن ملک ہے اور امرےکہ کا مرکز ےعنی صدر دنےا کا طاقت ور ترےن مرکز ہے بھارت مےں جب نہرو 1962ءمےں امرتسر کے دورہ پر گےا تو وہاں اس نے اپنی چھٹی حس کے تحت محسوس کےا کہ کسی بھی وقت سکھ خالصتان کا مطالبہ کر سکتے ہےں اس نے دہلی واپس آ کر پہلا کام ےہ کےا کہ مشرقی پنجاب جو پورے پنجاب کا اےک تہائی تھا کو تےن صوبوں مےں تقسےم کر دےا جس کی بناپر خالصتان کا مطالبہ ہمےشہ کے دفن ہو چکا ہے اس کے برعکس ہم نے مشرقی پاکستان کی علےحدگی سے سبق حاصل کرنے کی بجائے مغربی پنجاب جو متحدہ پنجاب کا دوتہائی تھا مےں رےاست بہاولپور کو بطور کالونی ضم کر کے گرےٹر پنجاب بنا دےا ہے۔مےں ےقےن اور وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ےہ ملک صرف اور صرف فوج کی طاقت سے قائم ہے اگر آج فوج کی طاقت نہ ہوتی تو ےہ کبھی کا ٹکڑے ہو کر چار پانچ حصوں مےں تقسےم ہو چکا ہوتا۔
بدقسمتی سے ہم مےں کسی کو فکر نہےں ہے کہ مملکت خداداد پاکستان کو کس طرح اسلامی فلاحی رےاست بناےا جاسکتا ہے اور کس طرح ےہ دنےا کا مضبوط ترےن وفاق بن سکتا ہے۔مےری دانست مےں جب تک آئےن کو اسکی روح کے مطابق نافذ نہےں کےا جائے گا ےعنی اختےارات اور وسائل کو مقدس امانت نہےں سمجھا جائے گا اور ملک کے موجود ہ تمام صوبوں کو توڑ کر ڈوےثرن کی سطح پر رےاستےں نہےں بنائی جائےں گی اس وقت تک وہ مقاصد حاصل نہےں ہوسکتے جن کے لےے ےہ ملک قائم ہوا تھا اور نہ ہی وفاق مضبوط ہو گا اور ہر وقت سندھ کارڈ،بلوچستان کارڈ اور پنجاب کارڈ کھےلے جاتے رہےں گے ڈوےثرن کی سطح پر جو رےاستےں قائم ہوں ان کا سربراہ عوام کا براہ راست منتخب کردہ گورنر ہو ڈوےثرن کی ہر تحصےل مےں عوام کے براہ راست منتخب کردہ دو نمائندے ہوں جو گورنر کی اےڈوائزری کونسل کے فرائض سرانجام دےں اور اسکے علاوہ نہ تو کوئی کےبنٹ ہو اور نہ ہی اسمبلی بلکہ ڈوےثرن کے تمام اختےارات بلدےاتی سطح پر منتقل ہوں جہاں تک مرکزی ڈھانچہ کا تعلق ہے تووہ اسی طرح قومی اسمبلی،سےنٹ اور وفاقی کابےنہ پر مشتمل ہو تب جا کر ملک کو دپےش چےلنجز کا مقابلہ کےا جاسکتا ہے او ر پاکستان کو اےک ناقابل تسخےر اسلامی فلاحی رےاست بناےا جاسکتا ہے۔
(نوٹ: یہ مضمون سابق وفاقی وزیر و سینئر سیاستدان
حاجی سیف اللہ خان نے لکھا لیکن بیماری کے باعث وہ روزنامہ خبریں جس میں ان کے اکثر مضامین چھپتے تھے، کو بھجوا نہ سکے، ان کی وفات کے بعدیہ آخری مضمون اب ان کے بیٹے نے ارسال کیا جو من و عن شائع کیا جارہا ہے)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved