تازہ تر ین

قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری؟

اسرار ایوب….قوسِ قزح
”ہاروی اور ارما“ نامی قیامت خیز طوفان جو امریکہ اور اسکے قرب و جوار میں آئے، اگر پاکستان میں آئے ہوتے تو خدا جانے کیا ہوتا ؟ کون نہیں جانتا کہ فقط ساڑھے تین انچ کے لگ بھگ معمول کی بارش نے کراچی کا بیڑہ غرق کر دیا جبکہ ”ہاروی اور ارما“ تو 500سالہ تاریخ کے بدترین طوفان تھے، ہاروی کی رفتار225کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ تھی اور اس سے ہونے والی بارش کی مقدار 51انچ تھی۔
قدرتی آفات سے نمٹنے کی ہماری تیاری کاعالم کیا ہے، اس کی ایک اور مثال دیکھ لیجئے کہ 2005میں پاکستان اور 2011میں جاپان میں زلزلہ آیا،گہرائی کے اعتبار سے ہر دوزلزلوں کا تعلق ایک ہی زون سے تھا(جو زمین کی سطح سے 70کلومیٹر نیچے تک ہوتی ہے،جسے Shallowکا درجہ دیا جاتا ہے اور جو خطرناک ترین ہوتی ہے)لیکن رِکٹر سکیل پراول الذکر کی شدت 7.6 جبکہ ثانی الذکر کی 9.1تھی، اور رِکٹرسکیل پر ایک درجہ بلند ہونے کا مطلب31.6گنازیادہ توانائی کا اخراج ہوتاہے جس سے10گنا طاقتور لہریں پیدا ہوتی ہیں،دوسرے لفظوں میں یوں کہیے کہ پاکستانی زلزلے کی نسبت جاپانی زلزلے سے47.4گنازیادہ توانائی کا اخراج ہوا اور 15گناطاقتور لہریں پیدا ہوئیں،یہ تاریخِ انسانی کا چوتھا بڑا زلزلہ تھا جسے جاپان کے وزیرِ اعظم نے ملکی تاریخ کی دوسری سخت ترین آزمائش قرار دیا(پہلی جنگِ عظیم دوئم تھی جب جاپان پر دو ایٹم بم گرائے گئے)۔قابلِ غور بات یہ ہے کہ مالی نقصان کا موازنہ کیا جائے توجاپانی زلزلہ دنیا کی تاریخ کا مہنگا ترین ڈزاسٹر تھا جس سے( ورلڈ بینک کے مطابق)235ارب ڈالرکا نقصان ہوا جبکہ پاکستانی زلزلے سے ہونے والا نقصان فقط 5ارب ڈالر تھا، لیکن جانی نقصان کا موازنہ کیا جائے توحیرت انگیزطورپر جاپان میں فقط 657لوگ ہلاک ہوئے جبکہ ہمارے یہاں لقمہ اجل بننے والوں کی تعدا دتقریباً ایک لاکھ تھی۔ اس لئے کہ جاپانیوں کے برعکس ہم نے اپنے کرنے کے کام بھی خدا پر چھوڑ رکھے ہیں، ہم Proactiveنہیں بلکہ Reactiveاپروچ کے تحت کام کرنے کے عادی ہیں جس کا آسان سا مطلب یہ ہے کہ ہم آفت آنے سے پہلے اس سے نمٹنے کی تیار ی نہیں کرتے بلکہ آفت آنے کے بعد یہ سوچتے ہیں کہ کیا کِیا جائے؟ہمیں یہ بات پلے سے باندھ لینی چاہیے کہ Riskایک لازمی امر ہے لیکن اس سے ہونے والا نقصان لازمی امر نہیں ورنہ زیادہ ”رِسک“ والے زلزلے سے جاپان میں کم اموات اورکم خطرناک زلزلے سے ہمارے یہاں زیادہ بلکہ بہت زیادہ لوگ کیوں ہلاک ہوتے؟اس حقیقت کو ایک قطعے میں یوں بیان کیا کہ
تدبیر کو تقدیر اگر اپنی سمجھ لے
تجھ سے تری قسمت کا سِرا دور نہیں ہے
ہے آگ تو مجبور جلا دینے پہ لیکن
انسان تو جل جانے پہ مجبور نہیں ہے
فلوریڈا میں ارما کے داخلے سے پہلے میری ایک عزیزہ نے وہاں مقیم اپنی دوست سے بات کی اور انہیں کچھ وظائف بتا کر ان کا ورد کرنے کی تاکید کی تو بے ساختہ اپنا یہ شعر زبان پر آ گیا کہ
بھنور میں چھوڑ کے پتوار اپنی کشتی کی
اٹھاﺅں ہاتھ بھلا کس طرح دعا کے لئے
اس حوالے سے بھی ایک مثال دیکھ لیتے ہیں؛ کوئٹہ زلزلے کی خطرناک ترین زون(4)میں آتا ہے چناچہ یہاں کینٹ تعمیر کرتے وقت ”کافر“ فوجوں نے زلزلے کے ”بلڈنگ کوڈ“کی پابندی کی اور کوئٹہ کے لوگ گواہی دیں گے کہ ایک زلزلہ بھی اس چھاﺅنی کا کچھ نہیں بگاڑ سکا جبکہ کوئٹہ کا شہرہربڑے زلزلے سے ملیا میٹ ہوجاتا ہے کیونکہ ہم بلڈنگ کوڈ کی پابندی کے بجائے کوئی وظیفہ کر کے اسے دوبارہ تعمیر کر دیتے ہیں۔اپنا ایک اور شعر یاد آ رہا ہے کہ
اب بیج کے بغیرشجر کس طرح اُگے
تُو ہی نہ کچھ کرے تو بھلا کیا خدا کرے
ہیوسٹن یافلوریڈا کے برعکس کراچی کی تباہی کی وجہ بارش نہیں بلکہ غیرموزوں تعمیرات اور ناقص سیوریج سسٹم ہے، اس پر ستم یہ کہ پلاسٹک کے شاپنگ بیگ(جن پر ”شاپنگ بم“کے عنوان سے کالم بھی لکھ چکا ہوں) بہتات میں استعمال کیے جاتے ہیں اور پھرجہاں جی میں آئے پھینک دیے جاتے ہیںجو نالیوں کو بلاک کر کے”جلتی پہ تیل“کا کام کرتے ہیں۔ اگر آپ نے ”ہاروی اور ارما“سے متاثرہ امریکی علاقے دیکھے ہوں تو وہاںشاپنگ بیگ نام کی کوئی چیز دور دور تک دکھائی نہیں دیتی جبکہ کراچی میں پانی سے زیادہ پلاسٹک کے شاپنگ بیگ دکھائی دے رہے تھے جن کے استعمال پر ترقی یافتہ ممالک میں پابندی لگائی جا چکی ہے کیونکہ انہیں”ڈی کمپوز“ہونے کے لئے 500سال درکار ہوتے ہیں، ان کی جگہ اب”بائیو ڈیگریڈیبل“ یعنی آسانی سے ”ڈی کمپوز“ہونے والے شاپنگ بیگ استعمال کئے جاتے ہیں جن کا نمونہ ہمارے یہاں بھی کسی اچھے میگا مارٹ میں دیکھا جا سکتا ہے۔
ہمارے بچپن کے دنوں میں 707نامی ایک صابن بڑا مشہور ہوا کرتا تھا جس کا اشتہار (واحد چینل)پی ٹی وی پر اس طرح چلا کرتھا کہ ”سو باتوں کی ایک ہی بات، صابن ہو تو سات سو سات“۔ہمارے ہر مسئلے کی بنیادی جڑ یہ ہے کہ ہم پروفیشنل لوگوں کے ساتھ کام کرنے کے عادی نہیں اور میرٹ کی پابندی نہیں کرتے جس کی آسان مثال یہ ہے کہ ہمارے یہاں ڈزاسٹر مینجمنٹ کا کوئی ایک ادارہ بھی ایسا نہیں جس کا سربراہ محض گریڈ /سینیارٹی یا جان پہچان کے زورپر تعینات نہ کیا گیا ہو، یہی نہیں بلکہ اُسے ڈزاسٹر مینجمنٹ کی ا، ب، پ بھی معلوم نہیں جبکہ یہ سائنس انتہائی حساس اور ٹیکنیکل مضامین میں شمارکی جاتی ہے۔ایساحیرت انگیز نظام کسی کالونی کی باقیات میں ہی دیکھا جا سکتا ہے جہاں بی اے پاس کر کے ”افسر“ بن جاﺅ اور پھر بلحاظِ عہدہ ہر مضمون پر مہارت حاصل کر لو۔سو باتوں کی ایک ہی بات یہ ہے کہ جب تک ہم مختلف شعبہ جات کی سربراہی ان شعبہ جات کے ماہرین کو نہیں دیں گے اور ان کی تعیناتی میں صرف اور صرف میرٹ کو ملحوظِ خاطر نہیں رکھیں گے، ڈزاسٹر مینجمنٹ تو کیا کسی شعبے میں بھی کوئی خاطر خواہ کامیابی بعید از قیاس ہوگی چاہے ہم کچھ بھی کر لیں۔
(کالم نگار ڈزاسٹر مینجمنٹ کنسلٹنٹ
اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved