تازہ تر ین

اجتماعی دانش مگر کیسے

امتیاز احمد بٹ ۔۔پلکوں تلے چراغ
یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمیں اپنی انفرادی اور اجتماعی کمزوریوں اور غلطیوں کو تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ ہوتی ہے یہی اسباب کبھی کلی اور کبھی جزوی ناکامیوں کو بنیاد فراہم کرتے ہیں۔پاکستان کے بیرون دنیا کے ساتھ تعلقات کا ر اور خارجہ امور پر ناکامی اب نویشتہ دیوار ہے۔ناکامی کی وجوہات کاپس منظر تو اب تاریخ کی کتابوں سے ابھر کر ہمارے ذہنوں پر نقش ہوچکا ہے۔امریکہ اور روس کی سرد جنگ میں کیسے افغانستان کے پہاڑوں پر ہم دہکتی آگ کا ایندھن بنے؟کئی دہائیوں تک لاکھوں افغان مہاجرین کو پنا دے کر معاشی طورپر بدحالی اور عدم استحکام کا شکارہیںاور اب تک اس جنگ کا حصہ ہیں۔آج کا منظر نامہ ملاحظہ ہو،جس افغانستان کے ساتھ ہم شیروشکر رہے،آج اسی افغانستان کے ساتھ 2ہزار 600کلو میٹر باڑ لگارہے ہیں اور900سے زائد پوسٹیںاور قلعے اس کے علاوہ ہیں۔ ملک کے اندار افغانستان ”جہاد“ کے ثمرات دہشت گردی کی صورت میں سمیٹ رہے ہیں۔ایک محتاط اندازے کے مطابق ستر ہزار سے زائد افراد جن میں فوجی اور سویلین شامل ہیں اس دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔گزشتہ پندرہ سال سے پاکستانی فوج آپریشنز المیزان،راہ حق،صراط المستقیم، راہ راست،راہ نجات،ضرب عضب اوراب ردالفساد کی صورت جنگ و جدل میں مصروف ہے۔ایک محاذ ملک کے اندر ہے جس کا ہمیں سامنا ہے اور کئی محاذ پاکستان کی سرحدوں کے باہر آن کھڑے ہیں۔ملک کے اندر سیاسی و معاشی ابتری اوردہشت گردی سے خلفشارپھیلتا چلا جارہا ہے اور ملک کے باہر، دنیا کے ساتھ تعلقات کی دوری کے فاصلے بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔
انڈیا کے وزیراعظم نریندر موندی کے رواں سال 25,26جون کو امریکہ اور جولائی کے پہلے ہفتے میں اسرائیل کے دورے کے بعد صدر ڈونلڈٹرمپ کی جنوبی ایشاءکے لیے نئی پالیسی کوئی انوکھی بات نہیں۔انڈیا نے ایک طرف شمال مغرب میں افغانستان کے ساتھ جبکہ دوسری جانب مشرق میں کشمیر تنازعات کی آڑ میں پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کر رکھا ہے۔پاکستان کی حکومت اور ادارے امریکہ کے پیغام کے صدمے سے نکل کر تاحال کوئی حکمت عملی اور پالیسی واضع کرنے کے لیے گفت وشنید میں مصروف تھے کہ بریکس کانفرنس نے پاکستان کو مزید تنہائی میںدھکیل دیا۔ انڈیا، برازیل، چین، جنوبی افریقہ اور روس پر مشتمل تنظیم بریکس نے اپنے اعلامیہ میں پاکستان میں پائی جانیوالی شدت پسند تنظیموں کیخلاف کارروائی کامطالبہ کردیا۔سب سے اہم بات یہ کہ ہمارا مہربان دوست اس مطالبے میں پیش پیش ہے اور اس بات کا قومی امکان ہے کہ چین اور انڈیا بوٹان کے محاظ پر سرحدی تنازعے کو اقتصادی تعاون میں تبدیل کرکے پاکستان اور دنیا کو حیرت میں مبتلا کردیں۔چین کے پڑوسی ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات کہیں سی پیک پر کاری ضرب کاموجب نہ بنیں۔
یوم دفاع کی تقریب سے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کا دنیا کے لیے پیغام کہ اب ہم نہیں دنیا ڈو مور کی طرف بڑھے اور یہ کہ جہاد ریاست کی ذمہ داری ہے اتنہائی واضح اور دو ٹوک پالیسی ہے۔اس پالیسی کے تحت ہمیں جیش محمد،لشکر طیبہ،حزب المجاہدین،حزب التحریراور حکانی نیٹ ورک کی پشت پنائی اور سرپرستی کرنے والوں کو بے نقاب کرنا ہوگا۔حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر سید صلاح الدین نے آخر پٹھان کوٹ پر ہونیوالے حملے کی ذمہ داری کیوں قبول کی؟ اقوام متحدہ کی قراردادیں حزب المجاہدین اور کشمیر کی دیگر عسکری تنظیموں کو اپنی آزادی اور حق خوداردیت کے لیے اگر بھارتی فوج کے مقابل مزاحمت کا حق دیتی ہیں تو پھر اس کا دائرہ کار ریاست جموں وکشمیر تک محدود ہے۔
ایک طرف پاکستان کی خارجی پالیسی کے نتائج ہیں جس سے پوری قوم مایوسیوں میں لڑھکتی جارہی ہے اور دوسری طرف انڈیا کے وزیراعظم نریندرمودی کے بیرون ملک پے در پے کامیاب دورے ہیں۔امریکہ کے صدر ڈونلڈٹرمپ کے ہمراہ پریس کانفرنس اور مشترکہ اعلامیہ میں دہشت گردی کیخلاف آپریشن پر ”اتفاق “پر پاکستان کی حکومت اور خارجی امور کے ماہرین نے کچھ غورو عوض کیا؟اسرائیل کے دورے کے دوران نریندر مودی نے ستمبر2015میں اسرائیل کے ساتھ Heron TP Armed Dronsخریدنے کے لیے چارسوملین ڈالرزکا جو معاہدہ کیا تھا ادائیگی کے بعد دس ڈرونز کی خریداری کو یقینی بنانے میں کامیاب رہے جس پربھارتی میڈیا نے اسے بڑی عسکری کامیابی سے منسوب کیا اورپراپیگنڈا کیا کہ ان ڈرونز کے ذریعے پاکستان میں چھپے دہشت گرودں اور شدت پسندوں کو نشانہ بنانے میں مدد ملے گی۔موجودہ حالات میں پاکستان کو مشکل ترین صورت حال کا سامنا ہے ایک طرف امریکہ کے ساتھ طویل عسکری تعاون اور معاہدات دوسری طرف امریکہ مخالف روس کے ساتھ بڑھتے ہوئے مراسم،پاکستان کی خارجی پالیسی کئی حصوں میں تقسیم ہوکر رہ گئی۔سوال یہ کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی موجودہ نہج تک کیسے پہنچی۔کیاخاری پالیسی واقعی جمہوری حکومتوں کا خاصہ ہے۔ کچھ اور عوامل بھی ہیں جو خارجہ امور کی نگرانی کرتے ہیں یاپھر ہماری حکومت،پالیسی ساز اداروں اور فوج نے خارجہ پالیسی کو مختلف حصوں میں بانٹ رکھا ہے۔بالفرض انڈیا،چین،روس،افغانستان،ایران اور امریکہ سے متعلق امور خارجہ کی نگرانی ایک ادارے جبکہ باقی دنیا کے ممالک کی خارجی پالیسی جمہوری حکومت نے اپنے پاس رکھی ہے۔ ایسی صورتحال میں ذہنوں میں خدشات اورسوالات ابھرتے ہیں کہ کئی حصوں میں بٹی خارجہ پالیسی کا مستقبل کیا ہے؟ آنے والے وقتوں میں جب امریکہ اور اس کے اتحادی پاکستان کو مزید تنہائیوں میں دھکیل دیں گے تو پھر ہمیںمزیدمشکلات اور مصائب کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ دنیا بھر سے بلائے گئے پاکستانی سفیروں کی کانفرنس یقینا بہتری کی طرف پہلا قد م ہے پاکستان کو تنہائی اور مشکل ترین صورت حال سے نکالنا کا واحد راستہ یہ ہے کہ سیاسی اورعسکری ادارے نیشنل سیکورٹی کونسل کے ذریعے ایک پیج پر ہوں اور خارجہ پالیسی کو مشترکہ حکمت عملی سے تعبیر کریں۔
(کالم نگار سیاسی و سماجی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved