تازہ تر ین

سہولت ذلالت بن گئی

ملیحہ سید …. زینہ
بلاشبہ پاکستانی معاشرہ بہت تیزی سے اخلاقی زوال کی طرف رو بہ سفر ہے۔ موجودہ نوجوان نسل کے لئے بہت سی باتیںصرف تفریح کا ذریعہ ہیں(Just for Enjoyment)۔ وہ خود کو ہر اچھائی برائی کے دائرے سے باہر لے جاتے ہیں جبکہ اخلاقی طور پر یہ الفاظ تہذیب کی بدترین صورت ہیں۔ اب سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا صر ف مخصوص طبقہ ہی تہذیب کی دھجیاں اڑا رہا ہے یا ہر طبقے کا نوجوان اس حد تک ذہنی پسماندگی کا شکار ہوچکا ہے کہ وہ تہذیب و تمدن کی تمام مروجہ روایات کو پس پشت ڈال کر خود ساختہ تشکیل کئے ہوئے اطمینان کے سفر کے تعاقب میں خود کو بری طرح روندتے چلا جا رہاہے۔
موجودہ دور میں جدید ٹیکنا لوجی نے انسانی زندگی کو آرام دہ بنانے کے لئے بہت سی آسانیاں دی ہیں اورانسان دور ہو کر بھی اپنوں کے بہت قریب آگئے ہیں فاصلے ختم ہو گئے ہیں۔ان میں سب سے اہم ذریعہ موبائل فون اور انٹرنیٹ ہے تاہم موبائل جب سے بچے بچے کے ہاتھ میں آیا ہے تب سے ایسے مسائل کو جنم دے رہا ہے جوا یک وقت آنے پر کسی عفریت کی طرح ہماری بچی کچھی اخلاقیات کو بھی نگل جائے گا۔موبائل فون جہاں ایک نعمت سمجھا جاتا ہے وہیں اس کے نقصانات بھی بہت زیادہ ہیں۔
بلاشبہ اس حوالے سے بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور لکھا جاتا رہے گا کیونکہ یہ وہ مسائل ہیں جن میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوا ہے کمی نہیں۔
مجھے اس ایشو پر دوبارہ لکھنے کا خیال بھی اس لیے آیا کہ ابھی حال ہی میں ایک رپورٹ نظر سے گزری جس میں برطانوی نفسیات داں نے واضح طور پر لکھا تھا کہ بچے کے ہاتھوں میں اینڈرائیڈ فون دینا کسی بھی بالغ آدمی کیلئے جواکھیلنے اور شراب پینے جیسی برائیوں سے کہیں زیادہ بد تر ہے۔ اس رپورٹ سے اندازہ لگا یا جا سکتا ہے کہ یہ مسئلہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی محسوس کیا جا رہا ہے۔ جبکہ ہمارے ملک میںموبائل کی جدیدیت سے ہٹ کرمس کال اور Wrong No کی وباایک ایسی بیماری بن گئی ہے جو ایڈز سے بھی زیادہ بدترین ہے مگر ہمارے معاشرے میں نوجوان نسل بلا تقسیم عمر اور جنس ہاتھ دھو کر پیچھے پڑ جاتے ہیں،دوستی اور محبت بہت سستی کر دی ہے اس موئے موبائل نے، عالم تو یہ ہے کہ ایک نمبر ہاتھ لگ جائے تو ہاتھ دھو کر اس نمبر کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ مجھ سے دوستی کروں گی؟تم میری دوست ہو بس؟ مجھ سے بات کروں؟ کروں نا جان؟ اور اگر بات نہ کرے اور کوئی رسپونس ناملے تو انتہائی گٹھیا قسم کے sms/mmsبھیج دیتے ہیں اور شاعری کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایسےsms ہر کسی کو موصول ہوتے ہوںہیں۔کچھ لوگ اس کو سنجیدگی سے نہیں لیتے نظر انداز کر دیتے ہیں تاہم بعض اوقات اس شبہ میں کال اٹھا لی جاتی ہے کہ کوئی اپنا نہ ہو اور اگر لڑکی کی آواز سن لیں تو بس ہوگئے شروع۔
بدتمیزی کا جو سلسلہ شروع ہوتا ہے وہ بیان سے باہر ہے۔بعض علاقوںمیں اس حوالے سے لڑکیاں قتل بھی کر دی گئی ہیں جبکہ ان کا کوئی قصور بھی نہیں ہوتا۔
موبائل کسی بھی گھر میں داخل ہونے کے لئے چور راستہ بن چکا ہے اور لڑکے یہ کھیل بہت شوق سے کھیلتے ہیں ان کو اپنے مردہونے کا اسقدر زعم ہوتا ہے کہ جب کوئی لڑکی لفٹ نا کروائے تو وہ نمبر اپنے دوستوں میں بانٹ دیتے ہیں اور پھر ہر لڑکا اس لڑکی تنگ کرنا شروع کر دیتا ہے،سستی دوستی جیسی سرویز نے بھی اہمیت کر دی ہے،مقام ختم کر دیا ہے۔تاہم اس میں اب لڑکیاں بھی کسی حوالے سے پیچھے نہیں۔اس حوالے سے کئی شرمناک واقعات بھی منظر عام پر آچکے ہیں مگر شرم پھر بھی تم کو نہیں آتی کے مترادف عبرت کوئی بھی نہیں پکڑتا۔سہولت زحمت بنتی جا رہی ہیں۔مگر یہ بھی ہے کہ جب ان کو پیسہ خرچ کئے بغیر Laptopمل سکتے ہیں تو وہ موبائل کو نظر انداز کیسے کریں گئے۔
دوسری جانب سستے کال اور ایس ایم ایس پیکج بھی اس برائی کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں لگتا ہے ہمارے دشمنوں سے مل گئے ہیں یہ اور ہماری نسل کو خراب کرنے کا ٹاسک ملا ہے ان کو۔ پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کے مطابق ملک کی اسی فیصد سے زائد آبادی موبائل فونز استعمال کرتی ہے ملک میں اس وقت 139.2ملین موبائل فونز یوزر موجود ہیں اور دن بدن ان میں اضافہ ہو رہا ہے دوسری جانب 40ملین لوگ سے زائدموبائل انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ بعض رپورٹس کے مطابق سب سے زیادہ گندی سائٹس کو پاکستانی کھولتے ہیں اور سستے نیٹ پیکچ اس کے فروغ کا اہم سبب بن رہے ہیں۔ موبائل فون ایک مفید چیز ہے مگر بعض اوقات اس سے بہت سے مسائل کا بھی سامان کرنا پڑتا ہے۔یہ ایک سہولت ہے اس کو زحمت مت بنائےے جبکہ موجودہ نسل کے ہاتھ میں موبائل فونز ایٹم بم کے برابر ہے مگر والدین نہیں سوچتے۔ دوسری جانب سستے فون جو ہر قسم کی سہولت سے بھرے ہوئے ہیں وہ عزت و غیرت کا جنازہ نکال رہے ہیں، گھر والوں کی جانب سے چیک اینڈ بیلنس ختم ہو چکا ہے اور نئی نسل بے راہ روی کے جس راستے پر چل پڑی اس کا جس قدر بھی افسوس کیا جائے کم ہے۔
سوال ہے کہ ہم کب تک کتوبر کی طرح آنکھیں بند کر کے بیٹھے رہیں گے،آپ کتنے نمبرز کو بلاک کریں گئے اور کب تک نظر انداز کیا جائے گا؟ جہاں تک ممکن ہوسکے نوجوان نسل کے ہاتھوں میں موجود اس ہتھیار کو قابو کیا جائے اور فحش اور گندے مواد تک ان کی رسائی نا ممکن بنائی جائے یہ حکومت کے ساتھ ساتھ معاشرے کی بھی ذمہ داری بنتی ہے۔ نقصان صرف ایک گھر کا نہیں ہے پورے کے پورے معاشرے کا ہے۔
کسی بھی ملک کی نئی نسل اس ملک کا مستقبل ہوتی ہے اور ہماری نئی نسل کو تباہی کی راہ پر لگایا جا رہا ہے اور بدقسمتی سے یہ کام غیر محسوس طریقے سے والدین کے ہاتھوں ہی سر انجام پا رہا ہے، کوئی بھی سہولت اس وقت تک اچھی ہے جب تک اس کا استعمال ٹھیک ہے ورنہ وہ صرف ایک انسان نہیں پورے معاشرے کے لیے زہر قاتل ہے۔ سوچئے کہ ہم نے اپنی نسل کو قاتل اور مقتول بنانا ہے یا پھر اپنا فخر۔
(کالم نگار سیاسی و سماجی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved