تازہ تر ین

خارجہ پالیسی کا مقصد

محمد جمیل …. منزل
کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی کا مقصدقومی مفادات کا تحفظ کرنا ہوتا ہے؛ لہذا پاکستان کے ار با ب اختیا ر کی یہ ذمہ دا ر ی ہے کہ وہ قو می سلامتی ، خا ر جہ پالیسی اور دیگر امو ر با ر ے فیصلے کر تے وقت قو می مفا دا ت کو مد نظر رکھیں ۔ ما سو ا ئے چند ایک کے، ہما رے حکمر ا نو ں نے ذاتی مفا د ا ت کو قو می مفا دا ت پر تر جیح دی اور بیر و نی آقا ﺅ ں کے مفا دا ت کا تحفظ کرنے اور انہیں خو ش کر نے کی پالیسی پر گا مز ن رہے۔ پاکستان کے قیام کے وقت تومجبوری تھی کہ ریاست چلانے کےلئے پاکستا ن کو مالی امداد کی ضرورت تھی ا س لے¿ مغربی ممالک کے ساتھ معاہدے کرنا پڑے، مگر بعد ازآں ہماری حکمراں اشرافیہ نے وطن عزیز کو خود کفیل بنانے کی کاوش نہ کی، اور وہ ےہ سمجھنے سے قاصر رہے کہ امریکا اور مغربی ممالک پرانحصار کی وجہ سے ،نیز آئی اےم اےف سے قرضے لےتے وقت اپنی خود مختاری کا اےک حصہ گروی رکھنا پڑتا ہے۔
ہما ر ے حکمران خوا ہ وہ منتخب تھے ےافوجی آمر ،وہ سمجھتے تھے کہ ان کے اقتدار کو دوام امریکا کی خوشنود ی حاصل کرنے میں ہے، اسی لئے وہ امریکا کی پالیسیوں پر عمل کرتے رہے۔ےہ اےک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ پاکستان کا اےٹمی طاقت بننا امریکا کو اےک آنکھ نہیں بھاتا، اور وہ پاکستان کی فوج اور آئی اےس آئی کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔ فروری2008ءکے انتخابات کے نتیجے میں پاکستان پیپلز پار ٹی بر سر اقتد ا ر آئی تو ماضی کے حکمر ا نو ں کے نقش قد م پر چلتے ہو ئے اس نے بھی امر یکہ کی خوشنودی حا صل کر نے کےلئے کو ئی کسر اٹھا نہ رکھی اور اس کے مذمو م مقاصدپور ے کر نے کےلئے آئی ایس آئی اورفوج کو سو ل حکو مت کے کنٹرو ل میں لا نے کےلئے آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے تحت لا نے کا فیصلہ کیا ۔ موجودہ حکومت نے بھی اےسی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ یاد رہے کہ آئی ایس آئی پہلے سے ہی فو ج کا حصہ تصور کی جاتی ہے اور یہ پاکستانی بر ی ، بحر ی اور فضا ئی ا فو ا ج کی آنکھیں اور کا ن ہیں ۔
بہر کیف ا فوا ج پاکستان منتخب حکو مت کے ما تحت ہیں لہذا آئی ایس آئی بھی اس حو ا لے سے سو ل حکو مت کے ما تحت ہے ، مگر یہ چیف آف آر می سٹا ف کے ذریعے حکو مت کو جو ا بد ہ ہے ۔ دو مئی کو ا مر یکی اسپیشل فور سزنے اپنے اتحا د ی پاکستان کو اعتما د میں لئے بغیر ایبٹ آبا د کمپاﺅ نڈ پر حملہ کر دیا تھاجس سے حکو مت کی آنکھیںکھل گی¿ تھیں کیو نکہ پاکستان کی حا کمیت اعلیٰ پر کار ی ضر ب لگی تھی ۔ابتداءمیںاس وقت کے صدر آصف علی زر دا ر ی اور وزیراعظم یو سف رضا گیلا نی اسا مہ بن لا د ن کی ہلا کت پر خو شی کا اظہا ر کر تے ہو ئے ا مر یکا کو مبا ر ک با د دی تھی، مگر اےسا کرتے وقت وہ یہ بھو ل گئے تھے کہ امر یکا پاکستان کے سا تھ ہا تھ کر گیا ۔ اس کے بعد ا نہو ں نے کل جما عتی کا نفر نس بلا ئی اور امر یکا کو و ا ضح پیغا م دیا کہ پا کستا ن میں ایسے آپریشنز کی ا جا ز ت نہیں د ی جا سکتی اور پاکستان امر یکا کے سا تھ تعلقا ت پر نظر ثا نی کر ے گا ۔
پاکستان کی عسکر ی اور سو ل قیا د ت نے جر آت کا مظاہر ہ کیا تھا اور امر یکا کے رو یے میںجو تبد یلی نظر آئی تھی وہ اسکا ثمرتھا ۔ مقا م افسو س کہ بعد ازآں انہوں نے ایک مر تبہ پھر مصلحت کو شی سے کا م لینا شر و ع کر دیاتھا اور ’اعصا ب کی جنگ© ‘میں تھکا و ٹ کے آثا ر نظر آرہے تھے۔ انہی دنوںاس وقت کے و ز یر اعظم یو سف ر ضا گیلانی نے آسٹر یلیا ءمیں ٹی و ی انٹر و یو میں ہیلر ی کلنٹن کے دو ر ہ پاکستان کے حو الہ دیتے ہو ئے کہا : ”ہما ری طو یل ملا قا ت میں ہم ان تما م نکات پر متفق ہو ئے جن کا مطالبہ ا مر یکا نے کیا تھا ۔ “ انہو ں نے یہ نہیں بتا یاتھا کہ وہ کو ن کون سے مطا لبا ت تھے جو پا کستان نے مان لئے ، اور کیا اس کے عو ض پاکستان کی سلا متی کے ضمن میں جو خدشا ت تھے ا ن کے سد با ب کے لئے امر یکا نے حا می بھری ؟کیا امر یکا نے پاکستا ن پر دہشت گر دو ں کے رابطو ں اور ا ن کی پشت پنا ہی کے الز ا ما ت سے گر یز کرنے کا و عد ہ کیا ؟بہر کیف پاکستان کی قیا د ت کو قو می مفا دا ت پر کو ئی سمجھو تہ نہیں کر نا چا ہیے ،اورہما ر ے لیڈران کو یہ با ت سمجھنی چا ہیے کہ قیا د ت کے تدبر،فہم و فراست اور حو صلے کا امتحا ن کٹھن حا لات میں ہی ہوتا ہے، کہ وہ ثا بت قدم رہتی ہے یاگھبر ا ہٹ کے عا لم میں یا بزدلی کا شکا ر ہو کرکچھ عر صہ سے یں آرہی تھیں کہ پاکستان نے بھا ر ت کو پسند یدہ تر ین ملک قر ا ر دینے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ وز یر خا ر جہ حنا ر با نی کھر نے قو می اسمبلی میں پہلے ہی عند یہ دیا تھا کہ اصو لی طور پر یہ فیصلہ ہو چکا ہے ۔ اس سے قبل و ز یر تجا ر ت امین فہیم نے بھار ت کے دور ے کے دور ا ن بھا ر تی ہم منصب کے سا تھ حا می بھر لی تھی ۔ آخر کا ر بد ھ کے روز و فا قی گھٹنے ٹےک دےتی ہے۔
انہی دنوں ےہ خبر چلی تھی کہ کا بینہ نے بھا ر ت کو تجا ر ت کے لئے پسند ید ہ تر ین ملک قر ا ر دے دیا ہے۔ اس وقت کی وز یر اطلاعا ت و نشر یا ت ڈاکٹر فر دو س عا شق ا عو ا ن دو ر کی کو ڑی لا ئی اور اس فیصلہ کو قا ئد ا عظم محمد علی جنا ح کے و ژ ن کی تکمیل اور ملک و قو م کے بہتر ین مفا د میں قرا ر دیا ۔ اس کے علا وہ انہو ں نے دلیل دی کہ پاکستان اس سے قبل 100مما لک کو پسند ید ہ تر ین ملک قر ا ر دے چکا ہے ۔ ان سے سوا ل پو چھا جا سکتا تھا کہ پچھلی چھ د ہائیو ں سے جب یہ پالیسی ر ہی ہے کہ بھا ر ت کو کسی قسم کی کو ئی ر عا ئیت اس وقت تک نہیں دی جا ئیگی جب تک مسئلہ کشمیر سمیت تما م تنا زعات کے حل میں پیش ر فت نہیں ہوتی،اس سے انحر اف کیو ں کیا گیا ۔ مختلف سیاسی جماعتوں اور تجا ر تی تنظیمو ں کی طر ف سے سخت تنقید کی گئی تھی مگر حکو مت نے اسے در خو ر ا عتنا ءنہ سمجھا ۔
ایسا محسو س ہو تا ہے پاکستا نی قیاد ت گھبر ا ہٹ یا بز دلی کا شکا ر تھی، اورغالبا ً مصر ، تیو نس اور لیبیا ءمیں جو کچھ ہوا وہ اس سے پر یشان تھی کہ امر یکا ، پاکستان میں بھی ایسے حالات پیدا نہ کر دے ۔ مگر یہ امر ہما رے قا ئد ین کے پیش نظر رہنا چا ہیے کہ مصر اور تیونس میں جو کچھ ہو ا وہ و ہا ں کے حکمر ا نو ں کی طر ف سے امر یکا کی پالیسو ںپر عمل کرنے کا نتیجہ تھا کیونکہ انہو ں نے امر یکی ایجنڈے پر عمل کرتے ہو ئے اس کے مفا د ا ت کی نگہبا نی میں کو ئی دقیقہ فر و گذاشت نہیں کیا تھا ۔ اگر ا ن حکمر ا نو ں نے عو ام کو شر یک اقتدار کیاہو تا ،اور آز ا د ا نہ اور منصفا نہ انتخا با ت کر ا کے اقتدار عو ا م کے منتخب نما ئند و ں کو منتقل کر دیتے تو ان کی تذلیل اور رسوا ئی نہ ہو تی ۔
ہمارے حکمران بھی ا مر یکا کی خد مت کو اعز ا ز سمجھتے ہیں اور اکثر اس کی زبا ن بو لتے ہیں ۔ مثلا ً نو مبر 2008ءمیں اس وقت کے صد ر آصف ز ر دار ی تو یہاںتک کہہ گئے کہ وہ بھارت سے کو ئی خطر ہ محسو س نہیں کرتے لہٰذا بھار ت کو بھی ہم سے کو ئی خطر ہ محسو س نہیں کرنا چا ہیے۔ مگر تا ر یخ آشنالوگ اس منطق کو ما ننے کےلئے تیا ر نہیں کیو نکہ تا ریخ کے اورا ق گوا ہ ہیں کہ بھارت 1948میں کشمیر پر نا جا ئز قبضہ کر تا ہو ا نظر آتا ہے ، تودوسری جانب وہ مکتی با ہنی کے ارکا ن کوتر بیت دیتا نظر آتاہے۔نیز اس نے مکتی باہنی کی بر ا ہ راست مد د سے ہمارے مشرقی با ز و کوہم سے جدا کر کے بنگلہ دیش بنایا۔
(کالم نگار قومی اور بین الاقوامی امور پر
انگریزی و اردو میں لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved