ملکی مفادات اور خارجہ پالیسی!

میجرجنرل(ر) زاہدمبشر خاص مضمون
ڈونلڈٹرمپ کے جنوبی ایشیا کے حوالے سے پالیسی تقریر کے بعد پاکستان میں خارجہ پالیسی کی تبدیلی کے حوالے سے مطالبہ روز پکڑ رہا ہے۔ کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی درحقیقت اس کے اندرونی حالات ہی کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ خارجہ پالیسی ہے کیا؟ کسی بھی ملک کے قومی مفادات ہی اس کی خارجہ پالیسی کہلاتے ہیں۔ اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرنے کیلئے جو طریقہ کار ہم اختیار کرتے ہیں وہی ہماری خارجہ پالیسی کہلاتی ہے۔ سب سے پہلے تو ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہمارے قومی مفادات کیا ہیں۔ کیا ہماری قوم اپنے قومی مفادات پر متفق ہے؟ کیا ہم اپنے قومی مفادات کو اپنی پہلی ترجیح سمجھتے ہیں یا اپنے ذاتی اور گروہی مفادات کو مقدم رکھتے ہیں؟ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں بھانت بھانت کی بولیاں بولی جارہی ہیں اور سیاسی جماعتیں اپنے اقتدار کو ہی ”قومی مفاد“ قرار دیتی ہیں اور دوسری ساری سیاسی جماعتوں کو ملک دشمن اور ترقی کا دشمن قرار دیتی ہیں۔ ہمارا ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور حکومت قوم کو یہ بھی بتانے کے لئے تیار نہیں کہ اتنے زیادہ قرضے کیوں لئے گئے ہیں، ان کی شرح سود کیا ہے اور ان کی واپسی کی سٹرٹیجی کیا ہوگی۔ پارلیمنٹ اور سینٹ کی حیثیت عضو معطل کی ہے اور کسی بھی اہم معاملے میں پارلیمنٹ اور سینٹ کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا۔ ایسے قوانین بنا دئیے گئے ہیں کہ پارلیمنٹ کا کوئی رکن اپنی پارٹی کی قیادت پر تنقید کرسکتا ہے اور نہ ہی اپنی قیادت کی مرضی کے خلاف ووٹ دے سکتا ہے۔ ایسے قوانین جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں اور انہیں جلد یا بدیر تبدیل کرنا پڑے گا ورنہ سیاسی جماعتوں کی آمریت ایک دوسری شکل میں ملک پر مسلط رہے گی۔ اٹھارویں ترمیم نے صوبوں کی ذمہ داری ان کی بساط سے بڑھ کر ان پر ڈال دی ہے اور صوبے مرکزی حکومت کو جوابدہ نہیں رہے۔ اس کی وجہ سے نہ صرف صوبائیت کو ہوا ملی ہے بلکہ صوبائی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دی جارہی ہے۔ اسی وجہ سے ملک میں وفاقی سطح کے ترقیاتی منصوبے بنانا تقریباً ناممکن ہوگیا ہے۔ کالا باغ ڈیم اس کی ایک بڑی مثا ل ہے۔ صوبوں کی مخالفت کی وجہ سے اس ڈیم کا بنانا نہایت مشکل ہوگیا ہے حالانکہ یہ ڈیم پانی اور بجلی کے مسائل کے حل کے لئے ناگزیر ہے۔ واقفان حال جانتے ہیں کہ بھارت نے اس ڈیم کو متنازعہ بنانے کے لئے اربوں ڈالر خرچ کئے ہیں۔ صوبائی وزراءاور اہلکار وفاقی حکومت کو رسمی عزت دینے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں اور صوبائی حکومتوں کے بعض زعماءوزیراعظم اور وفاقی وزراءکے بارے میں ایسی زبان استعمال کرتے ہیں جیسے ان کا تعلق دشمن ملک سے ہو۔
برکس کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں پاکستان کی چار تنظیموں کو دہشت گردی سے منسلک کردیاگیا ہے۔ حکومت پاکستان نے اس اعلامیہ کو مسترد کردیا۔ اپوزیشن لیڈر جناب خورشیدشاہ نے اسے حکومت کی خارجہ پالیسی کی مکمل ناکامی قرار دیا جبکہ حکومت یہ ماننے کے لئے باکل تیار نہیں۔ آرمی چیف نے اپنے 6ستمبر کے تاریخی خطاب میں امریکی پالیسی کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ”ڈومور“ کہنے والوںکی اب ”ڈومور“ کرنے کی اپنی باری ہے۔ لیکن نئے وزیرخارجہ جناب خواجہ آصف نے فرمایا کہ ہمیں اپنا گھر درست کرنا ہوگا۔ اب حکمران جماعت کے سینئر ترین رکن اور سابق وزیر داخلہ چودھری نثار نے خواجہ آصف کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وزیرخارجہ کے ہوتے ہوئے ہمیں کسی دشمن کی ضرورت نہیں ہے۔
سابق نااہل وزیراعظم جناب نوازشریف کی دختر نیک اختر آجکل اپنی علیل والدہ کے لئے انتخابی مہم کی مدار مہام ہیںوہ کوئی سرکاری عہدہ نہ رکھنے کے باوجود پورے پروٹوکول کے ساتھ مصروف عمل ہیں۔ وہ اپنی تقریروں میں دعویٰ کررہی ہیں کہ عوام نے عدلیہ کا فیصلہ مسترد کردیا ہے اور نوازشریف کو نکالنا ان کے بس کی بات نہیں۔ وہ فرما رہی ہیں کہ ان کی والدہ کو ووٹ دے کر ان کے والد کی نااہلی کا بدلہ لیں۔ ان کا پسندیدہ ڈائیلاگ یا شعر جو وہ ہر تقریر میں استعمال کرتی ہیں کہ ، نہ پانامہ، نہ اقامہ، نوازشریف نشانہ وہ مسلسل نوازشریف کے خلاف سازش کا ذکر کررہی ہیں اور یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ یہ سازش کون کررہا ہے۔ البتہ وہ عدلیہ اور فوج کو ہی اس کا ذمہ دار قرار دیتی نظر آتی ہیں لیکن بغیر کسی دلیل کے۔ ایک بات جس کاذکر وہ بالکل نہیں کرتیں وہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی جائیداد کے بارے میں پوری قوم کے سامنے جھوٹ کیوں بولا اور انہوں نے جعلی کاغذات عدالت کے سامنے کیوں پیش کئے۔ سابق وزیر داخلہ نے اپنے حالیہ انٹرویو میں محترمہ مریم صفدر کو یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ ان کی حیثیت صرف نوازشریف کی بیٹی کی ہے اور وہ قطعاً کوئی لیڈر نہیں ہیں اور بےنظیر بھٹو سے ان کا موازنہ سراسر زیادتی ہے۔ لیکن وہ ان کی کب سنتی ہیں جبکہ عرفان صدیقی، طلال چودھری، مریم اورنگزیب اور دانیال عزیز انہیں بتاتے ہیں کہ وہ مارگریٹ اور اندراگاندھی سے بھی بڑی لیڈر ہیں۔بینظیر بھٹو ان کے سامنے کیا چیز ہیں۔
افراسیاب خٹک نے بھی بیان دیا ہے کہ پاکستان ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہے۔ اس سے پہلے محمود اچکزئی بھی پاکستانی فوج اور ایجنسیوں کو دہشت گردی کا ذمہ دار قرار دے چکے ہیں۔ آج موٹروے پر ان کا تیز رفتاری پر چالان بھی ہوگیا۔ ظاہر ہے کہ اس کی ذمہ داری بھی فوج اور آئی ایس آئی ہوگی۔ پاکستان میں ایسے ایسے مفکرین کی موجودگی میں خارجہ پالیسی کیسے کامیاب ہوگی۔ یہ لوگ کھاتے پاکستان کا ہیں اور گیت دشمن کا گاتے ہیں اور ہم ہیں کہ ان لوگوں کے نام پر اپنی یونیورسٹیوںکے نام رکھتے ہیں جو اس سرزمین میں دفن ہو نا بھی پسند نہیں کرتے۔
ڈاکٹر فاروق ستار ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ہیں اور قومی اسمبلی کے ممبر ہیں۔ ان کی جماعت سندھ میں حکومت بنانے اور بگاڑنے میں ہمیشہ دخیل رہی ہے۔ کراچی کے میئر بھی ان کی جماعت سے ہیں۔ ان کی جماعت پر بھارت سے مدد لینے،بھتہ خوری، قتل و غارت اور آتشزدگی تک کے الزامات ہیں۔ اس کے باوجود وہ اس ملک میں نہ صرف خوش و خرم زندگی بسر کررہے ہیں بلکہ دندناتے پھرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی جماعت کا موازنہ برما کے روہنگیا مسلمانوں سے کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ پاکستان میں ان کی نسل کشی ہورہی ہے۔ ان کی عقل و دانش پہ ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔
یہ ہیں پاکستان کے معروضی حالات جن میں پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی لانی ہے۔ وزیرخارجہ کے دوست ممالک کے دورے نہایت مناسب بلکہ ضروری ہیں۔ ان کا چین کا دورہ حسب توقع کامیاب رہا کیونکہ چین پہلے ہی ہمارا بہترین دوست ہے اور سی پیک میں فریق بھی۔ ان کا اصل امتحان ایران، افغانستان اور روس میں ہوگا جو آسان نہیں ہے۔ ان تعلقات میں ایک دو دوروں سے خاص فرق نہیں پڑے گا بلکہ پہلے ہمیں اپنی مستقل مزاجی ثابت کرنی پڑے گی۔ لیکن خدا کا شکر ہے کہ اس ملک کو ایک کل وقتی وزیرخارجہ نصیب ہوا ہے اور وہ اپنے کام پر توجہ دے رہا ہے۔ ہمارے سابق وزیرخارجہ اور نااہل وزیراعظم تو ابھی تک اپنی ذاتی ایمپائر بچانے کی فکر میں ہے اور اس کوشش میں ہیں کہ کسی طرح انہیں امریکی حکام کی قدم بوسی کا موقع مل جائے۔
ہمارے نئے وزیرخارجہ کی یہ بات ایک حد تک بالکل درست ہے کہ ہمیں اپنے گھر کو سب سے پہلے درست کرنا چاہیے۔ جب تک ہم اپنے ملک میں ففتھ کالمسٹ طبقے کا قلع قمع نہیں کرتے ہماری کوئی پالیسی کامیاب نہیں ہوسکتی۔ ہمیں اپنی قومی اسمبلی اور سینٹ کی بے توقیری کو بھی ختم کرنا ہوگا اور اپنے قومی مفادات کا فیصلہ عوامی نمائندوں کے ذریعے کرنا ہوگا۔ ہمیں ذاتی، گروہی اورخاص طور پر خاندانی مفادات سے اور اوپر اٹھنا ہوگا اور تمام سیاسی جماعتوں کو قومی مفادات پر یک زبان ہونا ہوگا۔ ہمیں جذباتی ہونے کی بجائے کھلے دل کے ساتھ اور ٹھنڈے دل کے ساتھ معاملات کا جائزہ لے کر اپنے قومی مفادات کی روشنی میں خارجہ پالیسی ترتیب دینا ہوگی۔ جب تک ہم خود اپنے ملک کے ساتھ مخلص نہیں ہوں گے ہمیں دوست ممالک سے اپنا مقدمہ لڑنے کی توقع رکھنا خام خیالی ہوگا۔
(کالم نگار قومی و بین الاقوامی امور پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved