قصور میں بچوں کا قتل

جاوید ملک …. مساوات
گزرنے والا دن قصور کے بچوںپر پھر بہت بھاری گزرا بستی صابری قصور میں رات گئے محمد حنیف نامی ایک شخص نے ٹوکے کے پے درپے وار کرکے اپنی تین بچیوںطیبہ ،لائبہ اور ثمرہ کے علاوہ اپنی بیوی شاہدہ بی بی کے گلے کاٹ ڈالے ایک سرکاری سکول میں مالی کی ذمہ داری نبھانے والے محمد حنیف کو اپنی اہلیہ جو چھ بچوںکی ماںتھی کے چال چلن پر شبہ تھا محمد حنیف کا تعلق قصور کے ایک نواحی گاﺅںسے ہے ابتدائی بات چیت میں اس نے پولیس کو بتایا کہ وہ کرائے کے مکان میں رہائش پذیر ہے او ر گھر میں چلی آنیوالی معاشی تنگدستی سے وہ پہلے ہی مشکلات کا شکار تھا اور اس پر محلہ کے لوگوںکی تنقید سن سن کر وہ تنگ آچکا تھا بالآخر ایک روز اس نے بیوی سمیت بیٹیوںکو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا فیصلہ کیا جس پر وقوعہ کی رات اس نے عمل کر ڈالا ۔
اسی طرح کا ایک اور افسوسناک واقعہ قصور کے نواح الہ آباد میںہوا جس میں تین بچوںکے با پ علی محمد میو نے اپنے تین بچوں اڑھائی سالہ حلیمہ ایک سالہ محمد عبداللہ سمیت چھ روز کی بچی کو زندہ جلا ڈالا مذکورہ شخص نے بچوںکو جلانے کے ساتھ ساتھ اپنے جسم کو بھی آگ لگا لی اور یہ آگ بجھاتے ریسکیو 1122 کے عملہ سمیت چار افراد بھی بری طرح جھلس گئے علی محمد میو سمیت دیگر افراد تو جناح ہسپتال لاہور میں زیر علاج ہیں جبکہ تینوںمعصوم بچے موقع پر ہی یکے بعد دیگرے دم توڑ گئے ان دونوںواقعات کو غور سے دیکھاجائے تو ان میں ملزمان کا شکار بننے والے بے گناہ مقتولین میںبچے شامل ہیں اور دونوںواقعات میں دوسری بات یہ مشترک ہے کہ دونوںمیں ملزمان نے واقعات کا محرک اپنی ذات کی بجائے اپنی بیویوںکو قرار دیا ہے ۔
ایک ممتاز دانشور نے کہا تھا کہ” مظلوم ترین طبقات میں بھی بچے اور عورتیںسب سے مظلوم طبقے ہوتے ہیں جن پر جاری چلے آنیوالے استحصال اور تشدد کےخلاف کوئی آواز بلند نہیں ہو پاتی “یہ مقولہ مندرجہ بالا واقعات میںمارے جانیوالے بے گناہوںکے بارے میںبھی سچ نظر آتا ہے اور اگر اسے وسیع تناظر میں دیکھاجائے تو قصور کے نواحی گاﺅں حسین خانوالہ میں 2015 ء میں منظر عام پر آنیوالے ویڈیوسکینڈل میں سینکڑوںبچوں کو جنسی تشدد اور بلیک میل کرنیوالے سینکڑوںواقعات میںبھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ تمام بچے غریب گھرانوںسے تعلق رکھتے تھے جنہیں آٹھ سال تک ہر طرح کے تشدد کاناصرف سامنا کرنا پڑا بلکہ وہ ذہنی مریض بن کر رہ گئے ان مریضوںکی بڑی تعداد اور ان کے والدین یا تو یہ علاقہ چھوڑ کر چلے گئے ہیں یا پھر مختلف شہروںمیں بڑے ہوجانیوالے یہ متاثرہ بچے نام بدل بدل کر کام کررہے ہیں ۔
یہی کیفیت ایک درجن سے زائد ان گھرانوںکی بھی ہے جن کی بچیوںاور بچوںکو قصو ر میںمختلف مقامات سے اغواءکے بعد زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور پھر بہیمانہ طریقے سے قتل کرنے کے بعد ان کی نعشیںویرانوںمیںپھینک دی گئیں قصور پولیس آج تک جنسی درندوں کے ہاتھوں ہلاک ہونیوالے ان بچوںکے کسی قاتل کو گرفتار نہیں کر سکی گویا اگر غریب ہونا اور بے آسرا ہونا مقتولین کا ایک جرم ہے تو پولیس سمیت دیگر ذمے دار ادارے بھی ہونیوالی ان وارداتوںمیں برابر کے قصور وار ہیں کیونکہ ان مار ے جانیوالے بچوںمیں تمام کا تعلق غریب اور پسماندہ خاندانوںسے ہے ۔
گویا ناہموار سماجی حالات میں جہاںعام آدمی کو بنیادی سہولتوں کی عیاشی دستیاب نہیں ہے وہاںپر غربت کی لکیر سے نیچے رہ جانیوالے لوگوں کی اکثریت سماج کے ساتھ ساتھ سرکاری اداروں کی طرف سے بھی سوتیلی اولاد جیسے سلوک کی ہی مستحق ٹھہرتی ہے دوسرے لفظوںمیں غربت جہالت اور جرائم کو سب سے زیادہ جنم دینے والا عفریت ہے جو مسلسل ہمارے معاشرے کو اپنی لپیٹ میںلیتا چلا جارہا ہے جس کا اندازہ اس امر سے لگایاجاسکتا ہے کہ پاکستان میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے مطابق ساٹھ فیصد سے زائد لوگ دووقت کے کھانے سے محروم ہیں تعلیم کے حوالے سے دیکھا جائے تو پاکستان میں ساڑھے تین کروڑ بچے سکولوںسے باہر ہیں یہ تلخ حقیقت ہے کہ مدارس کا رخ اختیار کرنیوالے بچوںکی اکثریت کے ورثاءانکی تعلیم کے اخراجات ادا کرنے کی سکت نہیںرکھتے حال ہی میں شائع ہونیوالی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 45 فیصد بچے اب نارمل پیدا ہورہے ہیں یعنی کم غذا اور دیگر ضروریات کی عدم موجودگی کی وجہ سے انکی گروتھ نارمل نہیں ہورہی اور بڑے ہوکر ناصرف وہ پورے قد کے حامل نہیں ہوںگے بلکہ انکی ذہنی صلاحیت بھی کم رہے گی اس طرح وہ عمر سے پہلے بوڑھے ہوںگے اور وقت سے پہلے قبروںمیں اتر جائیںگے ۔
بچوںپر ڈھائی جانیوالی قیامت اور قصور میںدہرائے جانیوالے یہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ پاکستان میںآنیوالے لیڈر اس وطن کو بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناحؒ اور علامہ محمد اقبال ؒ کے خوابوںکے مطابق ڈھالنے میں بری طرح ناکام ہوئے ہیں کیونکہ اعدادوشمار کی روشنی میں دیکھاجائے تو 1950 ئ کا پاکستان 2017 ئ کے پاکستان سے کہیںزیادہ بہتر صاف ستھرا کم جرائم پیشہ زیادہ اجلا زیادہ روشن خیال اور بہتر معاشی وسائل رکھنے والا پاکستان تھا ۔
المیہ یہ ہے کہ موجودہ قائدین چاہیں وہ کسی بھی پارٹی کے سربراہ یا رہنماءہوں کے پاس بھی پاکستان کی آبادی کے سب سے بڑے د و حصوں کے مسائل حل کرنے کےلئے کوئی ترجیحی پروگرام نہیںہے پاکستان مسلم لیگ ہو پاکستان پیپلزپارٹی تحریک انصاف ہو یا جماعت اسلامی ہر پارٹی مستقبل سے محروم او ر مایوس طبقوںاور حلقوںکو اپنے پیروںپر کھڑا کرنے کے لیے کوئی واضح لائحہ عمل نہیں رکھتی ۔
شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے عوام کی اکثریت مروجہ سیاست اور سیاسی جماعتوںسے سخت نالاںاور مایوس ہیں ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صرف 11 فیصد لوگ سیاست میں دلچسپی رکھتے ہیں اور یہ تعداد پوری دنیا میں کسی بھی ملک کی نسبت سب سے زیادہ کم ہے گویا پاکستان کے عوام کی اکثریت ناصرف سیاسی قائدین سے تنگ ہے بلکہ سیاسی جماعتوںکی نعرہ بازی پر بھی یقین نہیں کررہی ۔
ایسے میں ایک عام آدمی بھی یہ پیشگوئی کر سکتا ہے کہ جب تک ہمارے سیاسی قائدین غربت ،جہالت استحصال اور معاشی جبر کا نظام ختم کرنے کےلئے کوئی سنجیدہ پروگرام اور لائحہ عمل اختیار نہیںکرتے تب تک محمدحنیف اور علی محمد جیسے لوگ بچوںکو ذبح کرتے اور زندہ جلاتے چلے آئیںگے جب تک خواتین اور بچوںکے ساتھ ساتھ غریب پاکستانی کو دو وقت کی روٹی ،تعلیم ،علاج ،گھر کی چھت اور تحفظ نہیں دیا جاتا تب تک وہ حسین خانوالہ اور قصور کے بچوںکی طرح بے گناہ ہر طرح کی زیادتی اور ظلم کا نشانہ بنتے رہیںگے۔
(کالم نگار زیادہ تر سماجی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved