تازہ تر ین

گوتم بدھ کو کون بتائے؟

محمد صغیر قمر….چنار کہانی
اسلامی ممالک کے بے حمیت حکمرانوں کو کون سمجھائے کہ یہ صرف اراکانی مسلمانوں کا خون نہیں ۔یہ امت کا خون ہے جسے دنیا کا ”امن پرست“ بدھسٹ چاٹ رہا ہے۔ یہ ایک پیغام ہے نام نہاد مسلم حکمرانوں کے نام ہے جو پٹتے ہی چلے جا رہے ہیںلیکن پٹائی سے سیر نہیں ہوتے۔ بدھ مت، جس کی بنیاد ی تعلیمات ایک انگریز مصنف ہالراکڈ نے اپنی تصنیف (Indian Customs) میں لکھی ہیں ” اس مذہب میں ذات کو کوئی دخل نہیں ہے ہر ایک آدمی کا درجہ اس کے عمل پر ہے۔ مردوں‘ عورتوں‘ جوانوں اور بچوں کو رحم دلی اختیار کرنے اور تکلیفیں سہنے کی عادت ڈالنی چاہئے۔کسی جان دار کو تکلیف د ینا گویا وپوری انسانیت کا خون کرنا ہے۔ اس سے فائدہ حاصل نہیںہوتا ۔گوتم بدھ کے نزدیک نجات انسان کو خوشی دینے کے بعد تمام مصائب اور خواہشوں سے چھوٹ مل جاتی ہے“۔گوتم بدھ کو آج کون بتائے کہ اس کے چاہنے والے کس طرح انسانوں کی لاشوں کے قتلے بنا رہے ہیں ،برما،کشمیر،مشرقی پنجاب،آسام،تامل ناڈو،میزورام،جھاڑکھنڈ اس کا میدان مشق ٹھیرے۔ستم تو یہ ہے کہ ان کے چاہنے والے اس خوف سے جوتے نہیں پہنتے کی کہیں چیونٹی جیسا جان دار کچلا نہ جائے۔حد تو یہ ہے کہ انسانوں کو ایٹم سے بھوننے والا بھی اس فلسفے کوسچ مانتا ہے اور اسلام کے نام سے اسلامی ملکوں پرمسلط کم ہمت کم ظرف حکمران بھی۔کوئی بھی اس کھلے ستم کے خلاف آواز نہیں اٹھاتا،کوئی بھی نہیں بولتا۔گیارہ ستمبر ۲۰۰۱ئ( نائن الیون) کے حادثے کے بعد مغربی دنیا ‘خصوصاً امریکہ کو عالم اسلام پر یورش کرنے کا بہانہ ہاتھ آ گیا ۔اس بہانے سے وہ ایک طرف مسلمان ممالک کے تیل کے خزانوں پر متصرف ہونا اور دوسری جانب انہیں اپنی غلامی کا شکار کر کے ان کے عقائد و نظریات میں نقب لگانا چاہتے تھے ۔یوں تو پورا عالم اسلام ہی امریکی جبر و کبر کے نشانے پر تھا لیکن افغانستان اور عراق جیسے کمزور ممالک براہ راست انتقام کا نشانہ بنے اور آج بھی امریکی غارت گری کے نرغے میں ہیں ۔امریکی بمباری سے لاکھوں بے گناہ مسلمان شہید ہو چکے ہیں ‘ان گنت بستیاں تباہ کر دی گئی ہیں اورلاکھوں انسان اپنے ہی وطن میں در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ۔ افغانستان اور عراق میں جنگ کا سیلاب گزر گیا ہے ‘ مگر ہلاکت خیز بمباری کے نتائج معذور اور ناقص الخلقت بچوں کی پیدائش کی صورت میں ظاہر ہو رہے ہیں ۔افغانستان اور عراق کے باہر بھی اسلامی دنیا کی حالت قابل رشک نہیں ۔اس سب کے باوجود عالم اسلام کے حکمران امریکی استعمار کی جارحیت سے متاثر نہیں ہوئے ‘ اس لیے کہ وہ خود بھی مغربی تہذیب کے فرزند تھے اور ان کے پر جوش تعاون کی وجہ سے امریکہ کو اسلامی دنیا پر عملی اور معنوی قبضہ جمانے میں زیادہ دقت پیش نہیں آئی ۔ ایک ارب سے زیادہ مسلمانوں کو یہ ذلت اور رسوائی خون کے آنسو رلاتی ہے ۔ہمارے حکمران غیرت و حمیت سے محروم اور امریکی چیلنج کے سامنے ایسے سر نگوں ہوئے کہ اب یہ امید کم ہے کہ ان کی خفتہ حمیت بیدار ہو جائے گی ۔بدقسمتی سے ایک غالب اکثریت بھی طوفان مغرب سے خوف زدہ ہے ۔ اسلامیوں کے دانشور روز روز ڈراتے رہتے ہیں کہ فلاں کھا جائے گا، فلاں نگل جائے گا ۔ وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے عقیدے اور ایمان کے بارے میں راسخ علم اور درست معلومات سے بے بہرہ ہیں ۔ہمیں معلوم ہوتا کہ اس کائنات میںہمیں خلیفہ الٰہی بنا کر بھیجا گیا ہے ۔ بطور مسلمان وہ بر تر و اعلیٰ ہے ” اور تم ہی بر تر و اعلیٰ ہو اگر تم مومن ہو ۔“ لیکن مسلمانان عالم کی اکثریت یہ جانتی ہی نہیں کہ کفر کے سامنے سر نگوں ہونا شیطان کے آگے سجدہ کرنے کے مترادف ہے جو مسلمانوں پر حرام قرار دیا گیا ہے ۔امریکی دہشت اور خوف نے ہمارے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب کر رکھی ہے ۔مسلمانوں کو مزید خوف زدہ کرنے کے لیے اور ان کے عقائد اور ایمان کو متزلزل کرنے کے لیے امریکہ نے جھوٹے پروپیگنڈے کا طوفان اٹھا رکھا ہے ۔ اسلام کا منفی امیج پیش کرنے کے لیے سارے وسائل جھونک دیے گئے ہیں ۔دنیا بھر میں ” اسلامی بنیاد پرستی “ ” مسلم انتہاپسندی “ اور …. ” اسلامی دہشت گردی “ جیسے موضوعات اور عنوانات پر کتابوں اور مضامین کا ایک سیلاب ساامڈاہوا ہے ۔ہزاروں ٹیلی ویژن چینلز دن رات اسلام کو جنگجو ‘ جھگڑالو اور لڑاکا مذہب ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور زمین و آسمان کے قلابے ملا رہے ہیں لیکن بدھ مت کے پجاریوں کی جانب کسی کی نظر اٹھنے نہیں دی جا رہی۔اس میں ہمارے حکمران بھی خاموش۔امریکی اور یورپی ذرائع ابلاغ کے اسلام پر حملے ڈیزی کٹر بموں سے کم ہلاکت خیز نہیں ۔پورا عالم اسلام مغربی میڈیا کی تباہ کن بمباری اور تابکاری کی زد میں ہے ۔اب تو یوں نظر آتا ہے کہ” نائن الیون‘اور مسلمان اسلام کے عسکری مزاج کے حوالے کے طور پر باقی رہ گئے ہیں ۔ ان کے ذریعے دنیا بھر میں اسلام کے خلاف نفرت پھیلائی جاتی ہے ۔اس مرحلے پر کچھ نام نہاد مسلمان مفکرین اور دانشور بھی امریکہ کے ابلاغی حملے سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں ۔وہ امریکہ کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہتے ہیں ‘ ہمیں چاہیے کہ امریکہ اور اہل مغرب کو اطمینان دلانے کے لیے اسلامی عقائد اور اصول و ضوابط میں ایسی تبدیلیاںکر دیںجن سے اسلام کا امیج بہتر ہو سکے ۔بہت سے کمزور ایمان علماءبھی یہ کہہ رہے ہیں کہ حکمت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم سر جھکا کر اپنا بچاﺅ کریں ۔بنیاد پرست اور دہشت گردقرار دے کر مارے جانے سے بہتر ہے کہ ہم اپنا عقیدہ دل میں رکھتے ہوئے سفید جھنڈا اٹھا لیں ۔امریکہ کو یقین دلا دیا جائے کہ مسلمان اس کے نظریات سے مصالحت کرنے اور اس کے تمدن کو اپنانے کے لیے تیار ہیں ۔ہندوستان کے تین سو سے زیادہ علماءاب تک امریکی میزبانی سے لطف اندوز ہو چکے ہیں ۔ امریکہ ان علماءپر ثابت کرنا چاہتا ہے کہ اس کی جنگ ” پر امن “ مسلمانوں سے نہیں صرف ” دہشت گرد اسلام “ سے ہے ۔دوسری طرف امریکی دانشور اور مفکرین بڑے یقین سے کہتے ہیں کہ دنیا ئے اسلام میں مغربی تہذیب کو مٹانے کی زبردست خواہش موجود ہے اور مغربی تمدن کو نقصان پہنچانے کی ساری ذمے داری اسلام کے نظام تعلیم و تربیت میں ہے ۔وہ تشدد کو اسلامی تعلیم کا لازمی نتیجہ سمجھتے ہیں اور مسلمانوں سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اسلامی مدارس کا نصاب بدل دیا جائے ‘ان اسلامی اصولوں اور قوانین کو بھی بدل ڈالیں جن سے دہشت گردی اور انتہا پسندی جنم لیتی ہے ۔معروف سرکاری امریکی دانشور اور مورخ ڈاکٹر ڈینیل پائپس نے کچھ سال قبل ”نیویارک پوسٹ“ میں لکھا تھا۔
” کوئی پروا نہیں ‘اسلام ماضی میں جیسا بھی رہا ہے یا حال میں ہے ‘مستقبل میں یہ آج سے کچھ نہ کچھ مختلف ضرور ہوگا ۔اسلام کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ جدید تہذیب کو اپنا لے اورایسا ممکن بھی ہے ۔ مرد اور عورت جب دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں تو اکٹھے نماز کیوں نہ پڑھیں ، مسلمان عورت کو غیر مسلم مرد سے شادی کی اجازت دینے جیسا جرات مندانہ اور صدیوں پرانی روایت توڑنے کا فیصلہ کرنا ہو گا ۔ عورتوں سے متعلق قوانین کو بدلا جا سکتا ہے اسی طرح ”جہاد “یا پورے اسلامی قوانین بھی تبدیل کیے جا سکتے ہیں ۔اسلام بھی دوسرے مذاہب کی طرح جدیدیت کو قبول کر سکتا ہے ۔“
یہ ایک ستم ہے کہ استعمارہمارے قوانین بدلنا چاہتا ہے لیکن اپنے قوانین اور عقائد پر عمل نہیں کرنا چاہتا۔ یہ بھی ایک نا قابل تردید حقیقت ہے کہ امریکہ اپنی عسکری بالا دستی کے باوجود کمزومسلم ممالک کو بھی مسخر نہیں کر سکا ‘ تا ہم وہ ہمارے عقائد و نظریات میں نقب لگانے سے باز نہیں آتا۔ اپنے اس مشن کے لیے اسے ہمارے ضمیر فروشوں کا تعاون حاصل ہے۔ ہمارے حکمرانوں کی ذلت آمیز خاموشی ایک بڑا سبب بھی ہے۔اگر ایسا نہ ہوتا تو برما جیسی کمزور ریاست لاشیں کاٹ کر ہمیں پیش نہ کرتی۔اتنا خون دیکھ کر بھی امریکیوںکی آنکھوںمیں پانی نہیں اترا تو مطلب صاف ظاہر ہے کہ اس کے پیچھے کون چھپا ہے؟کوئی بھی نہیں کہتا کہ برما میں فوجیں اتار دیں اور اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں ،بس اتنا تو کریںایک آنسو ٹپکا دیں،ایک احتجاج ریکارڈ کرا دیں۔ اس کھلے ظلم پر خاموشی کا مطلب یہ ہے کہ آج نہیں تو کل، کل نہیں تو پرسوں تمہاری باری آکے رہے گی۔استعمار نے جب مٹانے کا فیصلہ کر لیا تو پھر تمہیں بھی برما۔عراق و شام یا افغانستان بننا ہی پڑے گا۔امت مظلومہ کے حکمرانوں کی اس روش پر ماتم بس ماتم ،جو ہر ایک کی بھابی بنے ہوئے ہیں۔
(امور کشمیر کے ماہر، مصنف اور شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved