مردم شماری اور گونگا پنجاب ….1

ازھر منیر….فرینکلی سپیکنگ
مردم شماری کے (عبوری) نتائج پر شکوک اور شکایت تو پنجاب کو ہونی چاہئے تھی اور شورتو اسے مچانا چاہئے تھا لیکن یہ کام سندھ کی طرف سے ہورہا ہے۔ پنجاب کو شکایت کیوں ہونی چاہئے تھی؟ اس لئے کہ اس کی آبادی کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ شرح جو 1998ءمیں 55.95 تھی‘ کم ہوکر 52.95 رہ گئی ہے۔ یعنی پورے تین فیصد کی کمی۔ سندھ کی آبادی کی شرح میں اضافہ ہواہے جو 23 فیصد سے بڑھ کر 23.05 فیصد ہوگئی ہے۔ اس سے زیادہ بلوچستان کی جو 4.96 فیصد سے بڑھ کر 5.94 فیصد ہوگئی ہے یعنی تقریباً ایک فیصد سب سے زیادہ اضافہ خیبر پختونخوا کی آبادی میں ہوا ہے جو 13.41 فیصد سے بڑھ کر 14.69 فیصد ہوگئی ہے۔ اسی طرح وفاقی دارالحکومت کی آبادی کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے اور صوبوں کی آبادی کی شرح میں کمی یا اضافے کا نتیجہ کیا ہوگا؟ قومی وسائل (Federal divisible pool) میں ان کے حصے میں کمی یا زیادتی۔ جس صوبے کی آبادی کی شرح میں اضافہ ہوا اس کا حصہ زیادہ ہوجائے گا اور جس کی شرح میں کمی ہوئی ہے اس کا کم۔ اس لئے کہ قومی وسائل کی تقسیم 82 فیصد آبادی کی بنیاد پر ہوتی ہے۔
اور یہی نہیں‘ ہر صوبے کی قومی اسمبلی کی نشستوں میں بھی اسی حساب سے کمی بیشی ہوگی۔ اندازہ ہے کہ تازہ مردم شماری کے نتیجے میں پنجاب کی قومی اسمبلی کی نشستیں مزید سات کم ہوجائیں گی۔ یعنی یہ 148 سے کم ہوکر 141 رہ جائیں گی۔ مزید کا لفظ اس لئے استعمال کیا گیا ہے کہ اس کی نشستیں اس کی آبادی کی شرح کے حساب سے پہلے ہی تین کم ہیں‘ یعنی 151 جو اس کا جائز حصہ بنتا تھا‘ اس کے بجائے 148۔ یہ مہربانی جنرل مشرف کی ہے جس کے دور میں پنجاب کے حصے میں یہ کمی کی گئی تھی۔ بلوچستان کی نشستوں میں دو کا اضافہ ہوگا جو 14 سے بڑھ کر 16 ہوجائیں گی۔ خیبر پختونخوا کی نشستوں میں چار کا جو 35 سے بڑھ کر 39 ہوجائیں گی جبکہ اسلام آباد کی نشستوں میں ایک کا جو دو کے بجائے تین ہوجائیں گی تو مردم شماری کے نتائج کا سب سے زیادہ نقصان کسے ہوا؟ پنجاب کو بلکہ زیادہ کیا‘ نقصان ہی اصل میں پنجاب کو ہوا ہے۔ اس لئے کہ باقی تمام صوبوں کو فائدہ ہوا ہے‘ کسی کو کم‘ زیادہ۔ تو شکایت کسے ہونی چاہئے تھی‘ شکوک کا اظہار کسے کرنا چاہئے تھا اور شور کسے مچانا چاہئے تھا؟ پنجاب کو اور مچا کون رہا ہے؟ سندھ۔ کیوں؟آئیے اس کی وجوہ اور مختصر تفصیل جانیں۔
بات اردو اسپیکنگ تارکین وطن (ایم کیو ایم وغیرہ) کی طرف سے شروع ہوئی۔ کراچی کی آبادی میں جس قدر اضافے اور نتیجے میں اسمبلیوں میں اس شہر کی نشستوں میں خصوصاً صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں اضافے اور جاب کوٹے میں تعین (دوسرے لفظوں میں اضافے) کی جو توقع وہ کررہے تھے وہ پوری نہیں ہوپائی۔ چنانچہ اس پر انہوں نے شور مچانا شروع کیا اور ان نتائج کو غلط قرار دیا۔اس لیے کہ اردو اسپیکنگ تارکین وطن کی آبادی شہروں میں ہے۔ خصوصاً کراچی اور حیدرآباد میں ، شہروں کی آبادی کی شرح جس قدر زیادہ ہوگی دیہی علاقوں کے مقابلے میں سندھ اسمبلی میں ان کی نشستوں کی تعداد اور درج بالا بیان کردہ دیگر امور میں اسی حوالے سے اضافہ ہوگا اور وہ ایسی توقع کررہے تھے جو پوری نہ ہو پائی چنانچہ عبوری نتائج آنے پر انہوں نے شور مچایا۔”کراچی کی آبادی اس قدرکم کیوں دکھائی گئی ہے؟ حالانکہ یہاں تو فاٹا اور خیبر پختونخوا سے اس قدر آئی ڈی پیز اور دوسرے لوگ آئے۔“
یہ سوال صوبائی حکومت سے تھا اور شکایت بھی اسی سے تھی۔ اس لیے کہ کسی صوبے کی شہری آبادی میں کمی کا مطلب ہے کہ اس کی دیہی آبادی میں اضافہ جس کا فائدہ ان سندھی پارٹیوں کو پہنچتا ہے جن کا ووٹ بینک شہروں کے مقابلے میں دیہات میں زیادہ ہے اور نقصان ایم کیو ایم اور اردو اسپیکنگ تارکین وطن کی دیگر جماعتوں کو۔ اب شکایت تو سندھ حکومت سے تھی لیکن صوبائی حکومت اس کے جواب میں ایک بالکل عجیب منطق نکال لائی۔
”لاہور جوکراچی کے مقابلے میں بہت چھوٹا شہر ہے اس کی آبادی اتنی زیادہ کیوں ہے؟ یعنی کراچی کے مقابلے میں بہت چھوٹا شہر ہے اس کی آبادی اتنی زیادہ کیوں ہے؟ یعنی کراچی سے صرف سینتیس لاکھ‘ چوہتر ہزار نفوس کم۔ یہ سندھ کے خلاف سازش ہے“۔
یہ معاملے کو ایک بالکل مختلف شکل دینے کی کوشش تھی اور بحث کا رخ اصل موضوع سے ہٹا کر کسی اور طرف موڑنے کی کاوش۔(جاری ہے)
(کالم نگار سینئر صحافی‘ شاعر اور ادیب ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved