تازہ تر ین

بےنظیر کا اصل قاتل!

اکرام سہگل ….توجہ طلب
اصل مجرم تو وہ ہیں، جو بے نظیر بھٹو قتل کیس کے عدالتی فیصلے پر مگر مچھ کے آنسو بہا رہے ہیں، جب کہ دوسری جانب دنیا بھر میں اربوں روپوں کے ڈھیر لگا چکے ہیں اور قہقہہ زن ہیں۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے ایک کتاب ”Taking up the Sword“ سے کچھ اقتباسات یہاں نقل کرنا ضروری محسوس ہوتا ہے۔ یہ کتاب غیر معمولی سیکیورٹی پروفیشنل رینڈل بینٹ نے لکھی ہے۔ وہ امریکا کی ڈپلومیٹک سروس کے لیے کراچی میں 1998سے2002تک بطور ریجنل سیکیورٹی آفیسر (آر ایس او) اور بعد ازاں 2007سے 2008تک اسلام آباد میں سینیئر آر ایس او خدمات انجام دے چکے ہیں۔ہر اعتبار سے رینڈل غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل اور انتہائی معتبر فرد ہیں۔ ان کی کتاب سے پیش کردہ ان چند اقتباسات سے قارئین خود ہی نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ بے نظیر قتل کیس کے اصل مجرم کون ہیں۔
رینڈل لکھتے ہیں:”پولیس اور ذاتی سیکیورٹی مشیروں نے بے نظیر کو آگاہ کردیا تھا کہ انہیں خاموشی اور تیزی کے ساتھ ائیرپورٹ سے جتنا جلد ممکن ہوسکے اپنی قیام گاہ تک کا سفر طے کرنا چاہیے۔ انہوں نے کسی کی ایک نہ سنی اور انتہائی سست رفتاری سے یہ قافلہ ایئرپورٹ سے کراچی میں اپنے گھر تک لے کر چلنے کا فیصلہ کیا، وہ چاہتی تھیں کہ ان کے چاہنے والے انہیں دیکھ لیں اور یہ جان لیں کہ وہ انھیں مشرف سے بچانے کے لیے واپس لوٹ آئی ہیں۔ دیئے گئے شیڈیول میں اس قافلے نے 18گھنٹے میں صرف 12میل کا سفر سست رفتاری سے طے کرنا تھا۔ ہر کسی نے اپنی موت کے بارے میں کچھ نہ کچھ سوچ رکھا ہوتا اور پولیس اس لیے تشویش کا شکار تھی کہ ان حالات میں کسی بھی قسم کی دہشت گردی ممکن تھی۔
وہ اس کے باوجود کسی کی بات سننے کو تیار نہیں تھیں اور اس سفر کے بارہ گھنٹے مکمل ہوئے تھے کہ دو خودکُش حملہ آوروں نے ان کی گاڑی کے اردگرد موجود ہجوم میں خود کو دھماکے سے اُڑا لیا۔ جس کے نتیجے میں 140جاں بحق اور 500افراد زخمی ہوئے۔ مختلف اطلاعات اور سیکیورٹی پروفیشل کے مشوروں کو انہوں نے سنجیدگی کے ساتھ سننے سے انکار کردیا جس کے نتیجے میں 140قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔اس واقعے کے باوجود انہوں نے یہ کہتے ہوئے پولیس کی مدد لینے سے انکار کیا کہ انہیں پولیس پر اعتبار نہیں اور وہ اپنی سیکیورٹی کے لیے غیر تربیت یافتہ سیاسی ساتھیوں پر انحصار کریں گی۔ بے نظیر کی سیکیورٹی ان کے خاوند زرداری نے سنبھال لی اور جیل کے زمانے کے اپنے بدقماش ساتھیوں کو ان کی ”حفاظتی سیکیورٹی“ پر مامور کردیا۔ حفاظتی یا پروٹیکٹوو سیکیورٹی ایک آرٹ اور ایک سائنس ہے۔ اس کام کے لیے اسپیشل ایجنٹس کو برسوں تربیت دی جاتی ہے، تب جا کر وہ صدر، وی آئی پی یا ہمارے قواعد کے مطابق سیکریٹری آف اسٹیٹ اور امریکا آنے والے اکثر غیر ملکی عمائدین اور غیر ملکی دوروں پر جانے والے سینیٹرز و اراکین کانگریس کی سیکیورٹی پر مامور ہوتے ہیں۔ (بے نظیر کی سیکیورٹی پر لگائے گئے) یہ بد قماش ایسی کوئی تربیت نہیں رکھتے تھے اور اس سے بھی سنگین بات یہ تھی کہ انہیں حفاظت کے بارے میں ہرگز کوئی سوجھ بوجھ نہیں تھی۔ بے نظیر کی حفاظت کے لیے جس طرح غیر تربیت یافتہ جرائم پیشہ افراد کو مامور کیا گیا، اس انتہائی بڑے اور اہم ٹارگٹ کی حفاظت سے متعلق لاپروائی برتنے کے مترادف تھا اور اس اقدام کے درپردہ عزائم سے متعلق شکوک میں مبتلا کرنے کے لیے کافی ہے۔
بے نظیر کے دو انتہائی اہم ساتھیوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ میں آر ایس او، امریکی حکومت یا امریکا کی اسپیشل فورس ان کی سیکیورٹی کا اہتمام کریں۔ ظاہر ہے کہ امریکا انہیں ان کے اپنے ملک میں سیکیورٹی دینے کا اختیار نہیں رکھتا تھا اس لیے پیچھے میں یعنی ایس آر او ہی بچتا تھا۔ اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا، کیوںکہ نہ صرف میرے پاس انہیں سیکیورٹی دینے کے کافی وسائل تھے بلکہ وہ اپنی بھلائی کے لیے بھی کسی قسم کی احتیاطی تدابیر پر کان دھرنے کو تیار ہی نہیں تھیں، ان کی انانیت نے انہیں آنے والے کئی خطرات سے بے خبر کردیا تھا۔ اس کا واضح مطلب تھا کہ اگر میں مشاورت کی ذمے داری قبول کربھی لیتا تو یہ سراسر گھاٹے کا سودا ہوتا، کیوں کہ سیکیورٹی پروفیشنل کی بات پر دھیان نہ دینے اور ان کی رائے کو انداز کرنے کی صورت میں وہ کسی بھی وقت قتل ہوسکتی تھیں۔ اگر انہیں غیر مستعد جرائم پیشہ افراد کے ، جن کی وفاداری پر بھی کئی سوالیہ نشان تھے، نرغے ہی میں رہنا تھا اور وہ مسلسل پولیس کو بھی اس کے کام سے روک رہی تھیں تو بس ان پر وار کا موقع ملنے ہی کی دیر تھی۔
ہمارے سفیر سیاسی طور پر ایک سمارٹ اور معاملہ فہم سفارت کار تھے، انہوں نے تھوڑے وقت کے لیے مجھے بے نظیر کے معتمد ساتھیوں اور ان کے ”سیکیورٹی“ چیفس کو واضح اور سخت مشورے دینے کے لیے مامور کردیا۔ مجھ سے جس قدر ہوسکا واضح، ٹھوس ، مگر دوستانہ اور دوٹوک انداز میں ، ان پر یہ واضح کیا کہ امریکی حکومت یہ ذمے داری قبول کرسکتی ہے اور نہ ہی آئندہ کبھی کرے گی۔ مزید یہ کہ بلیک واٹر پاکستان میں آپریٹ نہیں کرسکتی کیوں کہ ایک تو وہ انتہائی ہائی پروفائل ہے اور دوسرا یہ کہ وہ پاکستان کے گلی کوچوں سے واقف نہیں، الٹا ان کے یہاں آنے سے بے نظیر کو لاحق خطرات میں اضافہ ہی ہوگا۔ اس کے بعد میں نے انہیں تفصیل سے سمجھایا کہ سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے کیا اقدامات اور تکنیک اپنائی جاسکتی ہے اور بالخصوص ”پرسنل پروٹیکشن“ کے لیے اعلیٰ تربیت یافتہ پیشہ ور افراد کی اہمیت سے بھی آگاہ کیا۔ پھر کمزوریوں کی نشان دہی کی کیوں کہ میں دیکھ چکا تھا کہ زرداری کا ٹولہ کس طرح قافلے میں چلتا ہے اور ہجوم پر نظر رکھنے کے بجائے بے نظیر کی جانب منہ کیے رکھتا ہے، اس صورت میں دہشت گرد با آسانی اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتے تھے۔ یہ ذمے داری پاکستانی پروٹیکشن پرفیشنلز ہی کو دینی چاہیے تھی۔ بے نظیر کے ایک امریکی دوست کا بھی کہنا ہے کہ وہ کہا کرتی تھیں کہ انہیں صرف اپنی پارٹی کے لوگوں پر اعتبار ہے اور یہ کہ ان کے خاوند کے ساتھی یہ ذمے داری نبھا سکتے ہیں۔
پہلاوار۔ وہ یہ طے کرچکی تھیں کہ نقل و حرکت کے دوران پولیس کو دور رکھا جائے گا اور صرف اسے سیکیورٹی کے بیرونی حصار کی ذمے داریاں دی جائیں گی، کیوں کہ انہیں خدشہ تھا کہ پولیس کہیں انہیں قتل نہ کردے۔ یہ مکمل حماقت تھی اور دوسرا وار بھی۔ لیکن تیسرا وار اس وقت ہوا جب انہوں نے بیان دیا (خداجانے انہوں نے یہ کیوں کہا اور بہتر سمجھتے ہوئے ہی کہا ہوگا) کہ مجھے کوئی قتل نہیں کرسکتا۔ کیوں کہ ان کے لوگ ان سے محبت کرتے ہیں اور قرآن عورتوں اور بچوں کے قتل کو حرام قرار دیتا ہے۔ کتنے ہی بچے اور عورتیں اس احمقانہ ”مقدس جنگ“ میں قتل ہوچکے تھے اور انہیں خود وطن واپسی کے موقعے پر نشانہ بنایا جاچکا تھا؟ وہ کیا سوچ رہی تھیں؟ایسا لگتا ہے کہ وہ شہادت کی آرزو مند تھیں لیکن ان کی انا کا قد اس بات سے متصادم ہے۔ ان کی ضد اور حقائق سے چشم پوشی کسی بھی موقعے پر ان کے قتل کو یقینی بناچکی تھی۔ ان کے پاکستان واپس آنے کے تقریباً دو ہفتے بعد ہونی ہوکر رہی۔
وہ اسلام آباد ، راولپنڈی میں تھیں۔ انہوں نے تمام تر مشوروں کے باجود مقامی مکینکوں سے سیکیورٹی کے لیے فراہم کردہ اپنی مکمل بکتر بند گاڑی کی چھت میں ایک روشن دان بنوایا۔ سبھی انہیں روکتے رہے کہ ایسا کرنے کی صورت میں بم اور حملوں کی مدافعت کے لیے اس گاڑی کا حفاظتی حصار مکمل طور برباد ہوجائے گا۔ لیکن وہ سن روف سے نکل کر ”اپنے لوگوں“ کو، جو ان سے محبت کرتے تھے، اپنا چہرہ دکھانا چاہتی تھیں، ہاتھ ہلا کر ان کے نعروں کا جواب دینا چاہتی تھیں۔ شام ڈھلے ایک جلسے سے نکلتے ہوئے وہ اپنی گاڑی میں سست رفتاری کے ساتھ جلسہ گاہ سے نکل رہی تھیں کہ انہیں دیکھنے کے لیے گاڑی کے گرد ہجوم جمع ہوگیا۔ وہ موزے پہنے ہوئے اپنی سیٹ پر کھڑی ہوئیں اور سن روف سے نکل کر نعروں کا جواب دینے کے لیے ہاتھ ہلانے لگیں۔بے وقوف باڈی گارڈ حسب معمول ہجوم کے بجائے ان کی طرف منہ کیے ہوئے تھے جب کہ بیس فٹ دور کھڑے شخص نے بندوق نکال کر انتہائی غیر پیشہ ورانہ انداز میں ایک ہاتھ کی مدد سے دو فائر کیے۔ حفاظت پر مامور افراد کی جانب سے ایک بھی جوابی فائر نہیں ہوا۔ حملہ آور بچنا نہیں چاہیے تھا دوسری بات یہ کہ وہ ہتھیار لے کرکیسے پہنچا ،اس کے ہاتھ میں دھات کی نشاندہی ہوئی۔
غیر تربیت یافتہ اور سابق مجرم باڈی گارڈوں نے کور کرنے کے لیے گاڑی کی جانب چھلانگ لگا دی۔ غیر تربیت یافتہ انداز میں ایک ہاتھ سے کیے گئے دونوں فائر چُوک گئے اور بے نظیر نے سن روف سے واپس گاڑی میں جانے کے لیے جھکنا شروع کردیا۔ حملہ آور گاڑی کی جانب بڑھ رہا تھا اور قریب پہنچ کر اس نے اپنی جیکٹ کا ٹرگر دبا کر دھماکے سے خود کو اُڑا دیا۔ زور دار دھماکے کی وجہ سے بے نظیر کا سر مقامی سطح پر تیارکردہ سن روف کی کناریوں سے ٹکرا گیا۔ یہ گہری چوٹ تھی۔ سن روف کا کھٹکا کھوپڑی کو توڑتے ہوئے دماغ تک پہنچ گیا جس سے گہرا زخم آیا، جس کے بعد سر کے اندر ہی خون بہنا شروع ہوگیا۔ چند منٹوں میں بے نظیر کی موت واقع ہوگئی۔ بعد ازاں پولیس میں اپنے ذرائع سے ، خاموشی کے ساتھ میں نے اصل صورت حال معلوم کی۔ اس بات کی تصدیق کے لیے شواہد حاصل کیے کہ کس (بیت اللہ محسود) نے یہ کارروائی کی ، اس طرح بے نظیر کی باڈی اور کھوپڑی کے ایکسرے کا جائزہ لینے کی اجازت بھی حاصل کی۔ اپنی آنکھوں سے ایکسرے میں دیکھا کہ افواہوں اور چہ مگوئیوں کے برخلاف بے نظیر کے سر میں ایک بھی گولی نہیں لگی بلکہ کھوپڑی کی ہڈی کا ٹکڑا دماغ میں پیوست ہوا اور موت کا سبب بنا۔
احمقانہ انداز میں بنائے گئے سن روف اور ناقص سیکیورٹی کے باعث وہ ہو کر رہا جس کی منطقی انداز میں پیش گوئی کی جارہی تھی۔ یہ انتہائی سنگین المیہ تھا۔ ہم سبھی جانتے ہیں کہ زرداری نے اس واقعے کو طاقت کے کھیل میں اپنی حیثیت منوانے کے لیے کس طرح استعمال کیا۔ “
اس اقتباس کے بعد خیال آرائی کی گنجائش کم ہی بچتی ہے۔ یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ ناکافی سیکیورٹی انتظامات کے لیے کس نے اکسایا، یہ جان بوجھ کر کیا گیا یا غفلت سے ہوا؟طویل سزا پانے والے دو پولیس افسران اس کے ذمے دار نہیں اور نہ ہی مشرف، گو کہ اس معاملے میں ایسے کئی دیگر امور کی نشان دہی کی جاسکتی ہے جس کی جوابدہی ان سے ہونی چاہیے۔
(فاضل مصنف سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved