قبائلی، فیوڈل اور عصبیت زدہ معاشرہ

محمد جمیل …. منزل
کارل مارکس کے مطابق تاریخ دو طبقوں کے ٹکراﺅ سے بنتی ہے اور آگے بڑھتی ہے نیز سماج کے سبھی ادارے خواہ وہ سیاسی ہوں یا تہذیبی، خواہ فکری ہوں یا ادبی تصورات، سب کے سب اس بدلنے والی جدلیاتی حقیقت کی تصویریں ہیں۔ دور غلامی میں آقا اور غلام میں، جاگیر داری نظام میں جاگیرد ار اور ہاری میں اور سرمایہ دارانہ نظام میں آجر اور محنت کش کے مابین ٹکراﺅ رہا ہے۔ بہر کیف سرمایہ دارانہ نظام دوسرے نظاموں سے بہتر سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس میں©©©©©©©©©©©©©© کچھ دو اور کچھ لو© © کی© بنیاد پر معاملات طے کئے جاتے ہیں۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام صنعتی انقلاب کی پیداوار ہے اور جمہوریت کے حوالے سے ہی انسانی، سماجی اور معاشی حقوق کے تصور نے جنم لیا۔ مگر ےہ بھی اےک مسلمہ حقیقت ہے کہ چودہ سو سال قبل اسلام نے ان بنیادی حقوق کا تصور پےش کیاتھا۔
تا ہم تاریخ میں بہت سے ایسے ادوار آئے جن میں اقدار بنیادی تبدیلی کے عمل سے گزریں، جو تاریخ کے سفر میں کوئی اچھوتی یا انوکھی بات نہیںتھی۔ ماضی میں کلاسیکی دور کے کھنڈرات سے ازمنہ وسطیٰ پیدا ہوئے او ررینے سانس نے عہد جدیدکا راستہ دکھایا۔ ان تغیر پذیر ادوار میں مختلف ثقافتوں، نیز روشن خیال او ر ر وحانی دنیاﺅں کا امتزاج سامنے آیا۔ اس کے برعکس ان ادوار میں جب نظام اقدار میں ٹوٹ پھوٹ ہوئی تو مختلف تحاریک کے نتیجے میں نئے نظریات ابھرے اور ایک ہی وقت میں مختلف تہذیبوں کا پر تو نظر آیا۔ اگر اس کیفیت یا صورت حال کا اطلاق آج پر کیا جائے تو اسے مابعد جدیدیت کہا جا سکتا ہے۔ اس رجحان کا سمبل پاکستان کا ایک کسان ہے جو بیل گاڑی چلا رہا ہے، روایتی لباس زیب تن ہے، کوکا کولا کی بوتل ہاتھ میں ہے اور جدید موسیقی سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔ ہم مغرب کو مشرقی ثقافت کو تباہ کرنے کا ذمہ دار ٹھہرا سکتے ہیں مگر اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ ثقافتیں آپس میں ضم ہو رہی ہیں اور ایک پرانا عہد نئے عہد سے تبدیل ہو رہا ہے۔
اس بارے میں اب کوئی ابہام باقی نہیں رہا کہ چکا چوند کرنے والی سائنسی ترقی، مقصدیت اور تجربیت نے ایک جدید ٹیکنالوجیکل تہذیب کو جنم دیا ہے۔ یہ تہذیب پوری دنیا پر محیط ہے اور اس نے تمام انسانی معاشروں کو ایک مشترکہ نصیب میں باندھ دیا ہے۔ مقام افسوس ہے کہ تمام سائنسی اور تکنیکی ترقی کے باوجود دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی کو بھوک، ننگ، جہالت اور بیماری کا سامنا ہے۔ یہ کہنا کچھ غلط نہ ہوگا کہ سماجی سائنس، قدرتی سائنس کی ترقی کی رفتار کا ساتھ نہ دے سکی اور غیر منصفانہ معاشی اور سماجی نظام کی وجہ سے ایک طرف بے پناہ امارت اور دوسری جانب انتہائی غربت کے مظاہر موجود ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ ایک اقلیت جدید تہذیب و تمدن کی تمام آسائشوں سے لطف اندوز ہو رہی ہے جبکہ دوسری جانب ایک بڑی اکثریت کے لئے زندگی ایک عذاب ہے اور اس کے لیے جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں انتہا پسندی، دہشت گردی اور جرائم کی شرح میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، اور دنیا کے ایک سے زیادہ خطوں میں فلیش پوائنٹ موجود ہیں جو دنیا کو کسی بڑے حادثے سے دو چار کر سکتے ہیں۔ آج دنیا ایک بے ربط اور پیچیدہ نظر آتی ہے اور جوڑنے والی قوتیں کہیں نظر نہیں آتیں جن کی مدد سے ہم بند گلی سے باہر نکل سکیں۔ اس صورتحال کے سیاسی اور سماجی نتائج ترقی پذیر یا پسماندہ ممالک کے حق میں نہیں کیونکہ ترقی یافتہ ممالک عالمگیریت کو فروغ دینا چاہتے ہیں جبکہ دوسری جانب پسماندہ ممالک میں غربت اور افلاس کے ساتھ ساتھ سوچ اور انداز فکر قبائلی، فیوڈل اور عصبیت زدہ ہے اور ان ممالک کے لوگ ان فرسودہ روایات اور اقدار کو تھامے ہوئے ہیں جن کی وجہ سے ثقافتی تصادم بڑھ رہے ہیں۔ اگر دو پسماندہ یا ترقی پذیر ممالک کے مابین لڑائی ہوتی ہے تو اس کا نتیجہ بھیانک نکلتا ہے کیونکہ پسماندہ ہونے کے باوجود سب جدید ہتھیاروں سے لیس ہیں اور ان کے سپلائرز بھی ایک ہیں، یعنی ترقی یافتہ ممالک۔ مگر ان ممالک کی حکمران اشرافیہ نے کوئی سبق حاصل نہیں کیا اور نہ ہی اس کے امکانات فی الحال نظر آ رہے ہیں کیونکہ انہیں اس امر کا ادراک ہی نہیں کہ ترقی یافتہ ممالک کی طرف سے عالمگیریت مسلط کرنے کے بعد مسابقت کے لیے قوموں کو تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ لہٰذا ان معاشروں میں قانون کی حکمرانی اور پر امن بقائے باہمی کو ترویج دینے کے لئے انصاف پر مبنی نطام استوار کرنا ہوگا۔ ان کی قیادتوں کو بیسویں صدی کے دو اہم ترین سیاسی واقعات کی اہمیت اور ان کے اثرات کو سمجھنا ہو گا جن میں ایک تو نو آبادیاتی نطام کا خاتمہ اور دوسرے سویت یونین کا انہدام ہے۔ ےہ درست ہے کہ پرانا ورلڈ آرڈر سوویت یونین کے بکھرنے کے بعد ختم ہو گیا تھا اور واحد سپر پاور امریکہ نے نیو ورلڈ آر ڈر کے نفاذ کا حکم سنایا تھا، جس کا نتیجہ بھی مختلف نہ ہوگا۔ بہر کےف ابھی ایک منصفانہ عالمی نظام کے امکانات نظر نہیں آتے، گوکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک ایسا نطام ترتیب دیا جائے جو مختلف ثقافتوں، مذاہب اور قوموں کو ایک مربوط تہذیب میں جوڑ دے۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے مابین خلیج وسیع ہوتی جا رہی ہے۔ صائب الرائے اور اہل دانش کا خیال ہے کہ انسانیت کو تباہی سے بچانے کے لیے نئے تعلیمی، سیاسی اور سفارتی اقدامات کی ضرورت ہے ورنہ ایک دن خوشحالی کے چھوٹے چھوٹے جزیرے غربت کے سمندر میں غرق ہو جائیں گے۔
ماضی میں فلاسفہ اور اہل دانش اپنے اپنے معاشرے کو درپیش مسائل کا تجزیہ کرتے رہے اور ان کے حل پیش کرتے رہے۔ کارل مارکس نے سرمایہ داروں کی اضافی قدر اور محنت کشوں کے استحصال کو اور نطشے نے طاقت اور دوسروں پر غلبہ حاصل کرنے کی روش کو معاشرے میں تضادات کا سبب قرار دیا۔ اس امر سے انکار ممکن نہیں کہ انسان دوسری جاندار مخلوق کے برعکس جذبات اور تخیل کے حوالے سے مختلف ہے۔ جانور کی سرگرمی کا محور پیٹ بھرنا اور افزائش نسل تک محدود ہے جبکہ انسان ایک طرف زندگی برقرار رکھنے کے لئے جدوجہد کرتا ہے اور جب بنیادی ضرورت پوری ہو جاتی ہے تو اس کا تخیل اسے تخلیقی عمل کے لیے اکساتا ہے۔ مگر دنیاکے کی¿ اےک ممالک کی اکثریت کو دو وقت کی روٹی مےسر نہیں، نیز وہاں کی حکومتیں اپنے عوام کو تعلیم، صحت اور دوسری بنیادی سہولتیں فراہم کرنے سے قاصر ہیں،تو وہاں کے لوگ کےسے تخلیق کار بن سکتے ہیں ےا ملکی ترقی میںاہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
(کالم نگار قومی اور بین الاقوامی امور پر
انگریزی و اردو میں لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved