بدھ مت کے بھکشو


جاوید کاہلوں….اندازِفکر
جو کچھ سوشل میڈیا پر برما کے مسلمانوں سے متعلق دکھایا جا رہا ہے، اس کو دیکھنے کیلئے بھی ایک دل چاہیے، کبھی کبھار ٹیلی ویژن پر دلدل میں پھنسے بھینسے یا بیل کو کتے کی نسل کے لگڑ بھگڑ کے ہاتھوں تکابوٹی ہوتے دیکھ کر بے اختیار چینل بدل دیا جاتی ہے کہ زندہ جانور کی جانوروں ہی کے ہاتھوں چیڑ پھاڑ کا منظر برداشت سے باہر ہو جاتا ہے۔ روہنگیا مسلمانوں کے بچوں، بوڑھوں اور عورتوں تک کے اعضاء جس بے دردی سے بقائمی ہوش و حواس برمی فوج کے کتے نما سپاہی اور لگڑ بھگڑ نسل کے بدھ مذہبی بھکشو کاٹ رہے ہوتے ہیں، وہ بھی پتھرسے پتھر دل کے انسان کے دیکھنے کی سکت سے باہر ہوتے ہیں۔ ایسی دلخراش ویڈیوز ایک نہیں، دو نہیں، درجنوں کی تعداد میں سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔ ہمیں معلوم نہیں کہ آدم کی اولاد میں سے کوئی کبھی کسی زندہ حلال یا حرام جانور کو آگ میں سیدھا بھون سکتا ہے۔ مگر بدھ مت کے بھکشوﺅں کے ہاتھوں روہنگیا مسلمانوں کو اکثر آگ میں زندہ جلائے جانے کے مناظر دیکھے جاسکتے ہیں گو کہ کتاب کریم نمرود بادشادہ کے حکم پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو زندہ آگ میں پھینکوائے جانے کا قصہ بیان کرتی ہے، مگر ساتھ ہی یہ وضاحت بھی کرتی ہے کہ وہی آگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جلا کرمارنے کی بجائے سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی کر دی گئی تھی۔ اس صدی میں یہ کام ہم آجکل دن رات بدھ مت کے لعنتی پیروکاروں کے ہاتھوں انسانوں کا ہوتے دیکھ سکتے ہیں۔ کیا بدھا نے اپنے پیروکاروں کو انسانوں کے ضمن میں ایسی ہی تعلیمات دی تھیں؟ یہ بات کسی طور دل کو نہیں لگتی۔
اب یہ ننگے مظالم تو ایک طرف، ان کو دیکھ کر دنیا کے دیگر معاشروں اور ممالک میں ردعمل کیسا ہے؟ یہ امر بھی ابھی تک نہایت مایوس کن ہے۔ جس عورت نما ڈائین کی آنکھوں اور اختیار کے نیچے یہ سارے کا سارا منظر نامہ وقوع پذیر ہو رہا ہے۔ وہ نہ صرف برما کی وزیراعظم ہے بلکہ اس کو عالمی برادری نے امن کا نوبل انعام بھی دے رکھا ہے اور تو اور ”یہ امت وسط“ جس کے ذمے بلاتفریق مذہب و نسل یہ آسمانی ڈیوٹی عائد ہے کہ وہ جہاں کہیں بھی انسانوں نہیں بلکہ جانوروں پر بھی ظلم و ستم ہوتا دیکھے تو ان کی مدد کو پہنچیں۔ اس کے بیشتر ممالک بھی مدد تو کیا خالی منہ سے بھی اظہار ہمدردی نہیں کر پارہے ہیں۔ یہ سارا کچھ کیونکر ممکن ہے؟ ان حقائق کو جاننے کیلئے ہمیں اس تصویر کے دوسرے رخ پر نظر کرنا بھی ضروری ہوگا۔ اس رخ پر نظر کرنے کیلئے ہمیں مندرجہ ذیل باتوں کو زیر غور رکھنا ہوگا۔
یہ کہ ایک طویل فوجی حکمرانی کے بعد، ایک جمہوری عمل کے واسطے سے ایک وزیراعظم کی سربراہی میں آج کل برما میں ایک حکومت قائم ہے، یہ جمہوریت کس قدر صحیح ہے؟ اس بات سے قطع نظر کہ وہاں کی وزیراعظم ایک نوبل انعام یافتہ عورت بھی ہے۔ اس کے نوبل انعام کی وجہ سے بھی ساری دنیا میں اس کی ساکھ موجود ہے۔
یہ کہ صوبہ راخائن میں بستے روہنگیا مسلمانوں کی ایک تاریخ ہے۔ یہ نسلاً جو کوئی لوگ بھی ہیں، یہ طے ہے کہ یہ اب نسل در نسل وہیں بستے چلے آ رہے ہیں ان کا پرانا دیس جو کوئی بھی تھا، یہ آج برما کے مکمل شہری ہیں، خواہ انہیں یہ حقوق ملے ہوں یا کہ نہیں۔یہ کہ روہنگیا مسلمانوں کے صوبہ اراکان میں مختلف عوامل کی بنا پر کبھی آزادی یا پھر کبھی حقوق کے حصول کی تحاریک چلتی رہتی ہیں۔یہ کہ ان تحاریک میں بعض اوقات دہشت کا عنصر بھی نمایاں ہو جاتا ہے ۔ جس سے نپٹنے کیلئے برما کی افواج کو تادیبی کارروائیاں کرنی پڑتی ہیں۔
یہ کہ روہنگیا چونکہ مسلمان ہیں ، اس لیے ان کو سکہ رائج الوقت کی وساطت سے آناً فاناً دہشت گردی سے بآسانی جوڑا جا سکتا ہے۔ کیونکہ دنیا نے صحیح یا غلط طور پر مسلمان اور دہشت گردی کو لازم و ملزوم بنا رکھا ہے۔ اب ان چند حقائق کی نظریں جب دنیا، روہنگیا کو دیکھے گی تو وہ کس نتیجے پر پہنچے گی؟ یہ کوئی مشکل سوال رہ نہیں جاتا، باقی باتیں دراصل فقط ایک ”تفاصیل“ میں کہ کیا واقعی دنیا کے ممالک کی سوچ صحیح ہے یا غلط؟، اس پر ایک لاحاصل بحث چھیڑی جا سکتی ہے۔
اب اگر ہم ساری دنیا کو ایک طرف رکھیں تو ظاہر ہے کہ اس مسئلے کی وجہ سے پیدا ہونے والے نتائج سب سے پہلے برما کے ہمسایہ ممالک پر ہی پڑیں گے۔ ویسے ہی جیسے کہ یمن کے حالات کے سب سے زیادہ اثرات لامحالہ سعودی عرب پر پڑتے ہیں۔ اسرائیل کے وجود کی سب سے زیادہ بدبو ہمسایہ عرب ممالک کو سونگھنی پڑتی ہے۔ یا پھر افغانستان کے بگڑے حالات سے سب سے زیادہ متاثر پاکستان ہی کو ہونا پڑتا ہے۔ برما کی سب سے بڑی سرحد، چین و بھارت کے ساتھ لگتی ہے۔ بنگلہ دیش تیسرا بڑا ملک ہے۔ جہاں تک بھارت کے نریندر مودی کا تعلق ہے تو وہ اپنے چیف منسٹری کے وقت سے ہی ”مسلمانوں کے قصاب“ کے طور پر اپنی ایک تاریخ رکھتا ہے۔ لہٰذا جونہی روہنگیاﺅں پر مظالم کی حالیہ ابتدائی ہو وہ فی الفور برمیوں کو شاباش دینے رنگون پہنچ گیا تھا۔ بنگلہ دیش نے روہنگیاﺅں کے ساتھ اپنے نسلی اور مذہبی تعلق کے باوجود، برما کے ساتھ اپنی سرحد پر ایک مضبوط خاردار باڑ لگا رکھی ہے۔ اس باڑ پر وہ ایک زبردست پہرہ بھی بیٹھائے رکھتے ہیں تاکہ مظلوم روہنگیا ان کے ملک میں داخل نہ ہوسکیں۔ روہنگیا کے ساتھ حسینہ واجد کا ایسا خوفناک رویہ کسی بھی مسلمان کی سمجھ سے بالاتر ہے۔ حالت یہ ہے کہ بنگلہ دیشی مسلمانوں نے اپنے ہم مذہبوں کے حق میں مظاہرے بھی کیے ہیں۔ مگر بھارتی کٹھ پتلی، غدار وطن شیخ مجیب کی بیٹی کے کان پر جوں نہیں رینگ رہی ۔ تیسرا ملک چین ہے جس نے کہ صرف چند دن قبل برمی حکومت سے اظہار یکجہتی کیا ہے۔ حالانکہ روہنگیاﺅں کے حق میں سارے عالم اسلام میں سے پاکستان اور ترکی کی آوازیں بلند ترین ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چین کو بھی برمی حکومت کے زیرنگرانی بدھ بکھشوﺅں کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر کوئی اعتراض نہیں۔ دراصل ”برکس ممالک“ کی طرف سے کوئی دو ہفتے قبل کیے گئے چین کے اندر والے مشترکہ اعلامیہ کے بعد علاقے کے مسلمانوں کے لیے چین کا یہ دوسرا بڑا زبردست تھپڑ ہے۔ یاد رہے کہ اس ”برکس مشترکہ اعلامیے“ میںچین نے بھی نام لیکر پاکستان میں موجود کچھ تنظیموں پر پہلی دفعہ ویسے ہی نکتہ چینی کی تھی جیسی کہ اس سے قبل بھارت، امریکہ یا دیگر مغربی ممالک کیا کرتے تھے۔ چین جیسا ملک بھی اگر مسلمانوں کے ضمن میں اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرتا معلوم ہو رہا ہے تو یہ پاکستانیوں کے لیے یقینا ایک بڑا لمحہ فکریہ ہے۔ اور اس پر ہمارے پالیسی ساز اداروں اور بالخصوص وزارت خارجہ کو خصوصی طور پر غور کرنا چاہیے۔ کیا اس کی وجہ مسلم اکثریت کے چینی صوبہ سنکیانگ میں مسلمان تنظیموں کی طرف سے دہشت گردی کی وہ کارروائیاں تو نہیں جن سے کہ گاہے بگاہے چینی حکومت کو پالا پڑتا رہتا ہے۔ ایسی کارروائیوں میں سے بعض کی جڑیں بھی پاکستان کے شمالی علاقہ جات سے جڑی نظر آتی ہیں۔
بہرحال! تصویر کا یہ دوسرا رخ جیسا کیسا بھی ہے۔ یہ اس بات کو قطعاً جواز فراہم نہیں کرتا کہ بدھ مذہبی بکھشو زندہ روہنگیاﺅں کے بے دردی سے اعضا کاٹیں، انہیں زندہ جلائیں یا پھر ان پر اس قدر مظالم کریں کہ ان کی نسل ہی معدوم ہو جائے۔ اگر دنیا نے روہنگیاﺅں کے ساتھ ایسا ہونے دیا تو یہ نمرود و ابراہیم کے واقعہ کے بعد انسانی تاریخ کا ایک المناک ترین باب ہوگا کہ جس کی کوئی دوسری مثال روئے زمین پر موجود نہیں ہوگی۔ برما کی حکومت اور وہاں کی ”ڈائن“ کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ آج بابے کی باری ہے تو کل یہی باری چاچے کو بھی ضرور ملے گی کہ اوپر والے کا یہی دستور ہے۔ بدھ بکھشو اتنے ہی مظالم ڈھائیں کہ کل جتنے وہ خود برداشت کرسیں۔ ویسے ان کے گول گول گنجے سروں کے زندہ کاٹ کر پیالے بنیں تو دنیا کو پھر یہ کیسا لگے گا؟ لہٰذا ضروری ہے کہ دنیا آگے بڑھ کر اس انسانی المیے کو روکے۔
(کرنل ریٹائرڈ اور ضلع نارووال کے سابق ناظم ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved