دنیا کے آگے بولتی لاہور کی دیواریں

رازش لیاقت پوری وسدیاں جھوکاں
گلگشت کے درمیان چونگی نمبر چھ کی مغرب طرف ایک مکان کی چھت پر سرفرازکلیمنٹ اورجاوید نذیر کے ساتھ گپ شپ جاری تھی کہ نیچے پٹھان تیز دھار آریوںکےساتھ ایک بڑی سوکھی ٹالھی کوکاٹنے کے لیے پہنچ گئے جیسے ہی انہوں نے آری چلانی شروع کی مجھے اپنے آنگن میں موجود گھنی ٹالھی یاد آگئی جسے میں نے چند سال قبل اپنے فرنیچر کے لیے کٹوایا تھا اور پھر جب جب اپنے آبائی گھر جاتا تو نہ صرف اپنا ویڑھا سونا سونا لگتا بلکہ وہ جگہ جہاں سے ٹالھی کونکالا گیا تھا مجھے اپنی قبر محسوس ہوتی اور میں کئی سال کرب رہا آج جب ایک اور ٹالھی کوکٹتے دیکھا تو اداس سا ہوگیا میری اداسی کو بھانپتے ہوئے سرفراز نے بات چھیڑ دی کہ دیکھا بھائی آج کل ملک کے جس کونے میں بھی جائیں سڑکوںکے اردگرد کی دیواریں جہادی نعروں سے بھری ہوتی ہیں اب تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے پورا ملک ایک مرتبہ پھر جہاد کے لیے تیار ہورہا ہے اور یہی صورتحال رہی تو ہر طرف خون ہی خون نظر آئے گاسرفراز کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے جاوید نذیر نے کہا کہ واقعی ہم ایسے صوفی مزاج لوگوں کا تو اس ملک میں رہنا بہت مشکل ہورہا ہے دل گھٹا گھٹا سارہتا ہے جی چاہتا ہے کہ یہ ملک ہی چھوڑدیں لیکن میں نے انہیں کہا کہ یار نہیں ایسا ہرگز نہیں آپ بہت جلد تبدیلی محسوس کریں گے کیونکہ اب جہادی بیانیہ تبدیل ہونے والا ہے اور ملک میں بہت جلد گدے، بھنگڑے شروع ہونے والے ہیں۔
جیسے جیسے ہماری بحث بڑھتی گئی ٹالھی بھی اتنی تیزی سے کٹتی گئی جیسے ہی اس کے گرنے کی آواز آئی توماحولیات میں دلچسپی رکھنے والے ظفر اقبال بھی اپنے کمرے سے باہر نکل آئے اور کہا کہ یار کتنے دکھ کی بات ہے کہ ملتانیوں کو تھوڑی سی بھی عقل نہیںکہ اپنے گھروں میں موجود درخت بھی کٹوادیتے ہیں ،میں نے کہا یار یہ تو سوکھا ہوادرخت تھا کسی بھی وقت حادثے کا سبب بن سکتا تھا سوکٹوادیاگیا مگر ظفر نے کہا کہ یار آپ اس شہرمیںگھومیںجاکردیکھیںکہ پورا شہر ہی گنجا گنجا لگتا ہے ،ڈیرا اڈہ روڈ ہو یاحسن پروانہ،حافظ جمال ملتانی روڈ ہویا چوک کچہری حتیٰ کہ بوسن روڈ،چوک کمہاراں والاجس روڈ پر بھی چلے جائیں آپ کوکہیں بھی درخت نظر نہیں آئیں گے پھر ملتانی کہتے ہیں کہ یارگرمیوں میں تو ملتان میں سورج سوا نیزے پر ہوتا ہےساتھ ہی اپنی نا اہلی کو چھپانے کے لیے یہ بھی کہ دیتے ہیںکہ سوا نیزے پر سورج کا آنا یہاں کی روایت ہے لیکن یہ یہاں کبھی بھی درخت نہیں لگائیں گے کہ گرمی سے بچا جاسکے ،یہ تو بھلا ہولاہوریوںکاکہ چوک کمہاراں والا سے بی زیڈ یوتکمیٹرو کی صورت ایک بڑی چھتری تان دی ورنہ ملتانی تو گرم ترین نیلی چھتری کے نیچے رہنے کے عادی ہوچکے ہیں۔
یہ مکالمہ جاری تھاکہ ٹی وی چینلز پر خبر چلنے لگی کی بہت جلدنیشنل ایکشن پلان بنایا جارہا ہے جس میں دہشت گردی کی روک تھام کے ساتھ ساتھ دہشت گرد پیدا کرنے والے مائینڈ سیٹ کی روک تھام بھی کی جائےگی تو سرفراز ایک مرتبہ پھر بولے کہ اس کے لیے سب سے پہلے ملک بھرکی دیواروں پر موجود جہادی نعروں کوختم کیا جائے ان کے منہ سے نکلنے والی یہ بات شاید کسی نے سن لی کہ کچھ ہی ماہ بعد واقعی یہ دیواریں بدلنے لگیں اور کچی پکی دیوراوں پرکالی لکھائی کے بجائے رنگین پینٹنگز نے لے لی اور جہادی نعروں کے بجائے ڈھول چمٹے چپڑیاں بجاتے لوگ نظرآئے، جہادی شعروں کے بجائے امن کے شعروں اور صوفیانہ شاعری سے دیواریں بھرگئیںپھر لاﺅڈ سپیکر پر پابندی لگیتوزور زور سے نفرت آمیزتقریریںکرنےوالے بھی خاموش ہوگئے کیونکہ ریاست کے فیصلے کے آگے کوئی ٹک نہیںسکتا ، یوں پورے ملک کی فضا تبدیل ہونے لگی اورہر طرف امن کے گیت سنائی دیئے جانے لگے ،سیاسی گہما گہمی میں تیزی آئی توبڑی بڑی سیاسی جماعتوں نے بھی اپنے جلسوں اور ریلیوں میں سروں اور نغموں کو شامل کر لیا حتیٰ کہ مولانا طاہر القادری کے پارٹی گیت بھی سروں کی دھن میں منظر عام پر آگئے پھر اسلام آباد سے کراچی تک،بلا ،شیر اور تیر بجا،اسی بھرپور سیاسی گہما گہمی میں چین کی طرف سے سی پیک کی شکل میں ملنے والی بڑی اقتصادی خوشی نے پورے ملک کی خوشیوں کو دوبالا کر دیا جو آج بھی منائی جارہی ہےںکہ ہر طرف سے یہی شور ہے کہ اب ملک کی تقدیر بدل رہی ہے اور اب کوئی بھی بھوکا نہیں سوئے گا اور نہ ہی کوئی ماں کالال بے روزگار رہےگا اوراب محسوس بھی یہی ہورہا ہے کہ جہاں جہاں پیک پرکام ہورہا ہے عام لوگوں کے روزگار کے ذرائع بھی بڑھ چکے ہیں جس سے ڈکیتی اور دوسری وارداتوں کی شرح بھی کافی کم ہوچکی ہے
جب مسٹر ٹرمپ نے نئی افغان پالیسی بیان کی اور پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ کیا تو ہم نے ان کی یہ تقریر لاہور میں سنی ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں شدت پسندوں کے گھر اب بھی موجود ہیں تو مجھے محمود غزنوی اور ایجرٹن روڈ یاد آگئے جہاں پہلے جہادی نعرے درج ہوتے تھے لیکن اب یہاں بھی صوفیانہ شعر ،ڈھول بجاتے اور دھمال اور گدے ڈالتے نوجوان پینٹ ہوئے نظر آئے کیونکہ ایک وقت تھا کہ جب خود امریکہ سے جہادی لٹریچر پاکستان آتا تھا تو ایک مائنڈ سیٹ بنا اور اس مائنڈ سیٹ نے روس کو شکست دی اب اس مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنے میں واقعی وقت لگے گا جس کی شروعات مجھے ان روڈز پر لکھی عبارتوں سے بھی محسوس ہوئیں کیونکہ دیواریں ہی کسی ملک یامعاشرے کا چہرہ ہوتی ہیں اور دیواریں ہی لوگوں کے اندر کی عکاسی ہوتی ہیں ان دیواروںکو بار بار دیکھ کر مجھے خودلاہوریوںبلکہ حکومت پرترس آیاکہ وہ اس تبدیلی کو اچھی طرح مارکیٹ کیوں نہ کر پائے کہ ٹرمپ کے بعد برکس اعلامیہ بھی ہمارے خلاف آگیا ہمیں چاہیے تھا کہ ہم ٹرمپ اور دوسرے عالمی رہنماﺅں کو یہاں بلاتے اور انہیں یہ سب دکھاتے کہ اب ہم نے تبدیلی کا عمل تیز تر کر دیا ہے جس سے پوری دنیا میں امن ہوگا پھر محمود غزنوی روڈ پر موجود ملک ریاض کے دسترخواں پر ان عالمی رہنماﺅں کو لے جایا جاتا تو مجھے یقین ہے ٹرمپو سمیت کئی رہنماءیہاں کھانا کھاتے کثیرتعدادمیںلوگوںکی غربت اور افلاس دیکھ کر خود روپڑتے اور بولتے کہ” اے لاﺅ چیک تے اتھے لوگاں نوں کھانا چنگا کھواﺅ“۔
میں سمجھتا ہوںکہ اب ریاست کو اپنے ملک میں لائی گئی دہشت گردی کے خلاف تبدیلیوں کو پوری دنیا میں مارکیٹ کرنا چاہیے اور انہیں بتانا چاہیے کہ ہم نے یہاں تک کام کردیا ہے اب آپ بھی آگے بڑھیں اور ہم سب مل کر پوری دنیا میں امن کے لیے کام کریں اس مارکیٹنگ کے لیے نئی نئی سوچوں سے لب ریز نئے سفارتکاروں کی بھی ضرورت ہے۔
(کالم نگار معروف شاعر اور صحافی ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved