تازہ تر ین

آزاد جونا گڑھ کی تحریک

ڈاکٹر نوشین عمران….پس منظر
حال ہی میں بھارت کی طرف سے فری بلوچستان کے جواب میں کچھ پاکستانیوں نے آزاد جونا گڑھ کی مہم شروع کی ہے، فیس بک پر نقشے چھاپے گئے ہیں جس میں بھارت کے اندر جونا گڑھ کو واضح طور پر الگ دکھایا گیا ہے اور اس پوسٹر پر درج ہے کہ جونا گڑھ پاکستان کا حصہ ہے لیکن بھارت نے اس پر زبردستی قبضہ کررکھا ہے ایک چارٹ میں فری جوناگڑھ کے جلی الفاظ کے ساتھ مقبوضہ ریاست کے دارالحکومت کی تصاویر دی گئی ہیں اس تحریک کا نعرہ ہے ”بھارت تحریک مسخ کرنا بند کرو۔“ ایک اور پیغام میں نواب آف جونا گڑھ جو کراچی میں رہتے ہیں کا پیغام ”میرے دادا نواب مہابت خان جی نے الحاق کے وقت دفاع، خارجہ مواصلات کے شعبے پاکستان کے حوالے کیے تھے، حکومت پاکستان نے نواب مہابت اور میرے والد دلاور خان جی کے انتقال کے بعد مجھے اگلا نواب تسلیم کیا۔نواب جہانگیر خان جی نے کہا کہ انہوں نے 2010ءمیں پاکستان کی وزارت خارجہ کو خط لکھا جس کے جواب میں اس نے واضح کیا کہ ہم جوناگڑھ کو مقبوضہ ریاست گردانتے ہیں اور اس مقدمے کی حمایت کرتے ہیں۔“
ظاہر ہے کہ اب جب کہ بھارت ”را“ کی بھرپور مالی مدد سے پاکستان کے باقاعدہ صوبے بلوچستان میں نام نہاد علیحدگی پسندوں کی مدد کررہا ہے اور پوری دنیا میں یورپ اور امریکہ کے شہروں میں مہم چلوا رہا ہے کہ بلوچستان کو آزاد کرو اور گزشتہ روز یہ خبریں چھپنے پر کہ سوئٹزرلینڈ میں بسوں پر بورڈ آویزاں کردیئے گئے ہیں اور سڑکوں کے کنارے سائن بورڈ بھی آویزاں کئے جاچکے ہیں جس پر فری بلوچستان لکھا ہے۔ بھارت نے اقوام متحدہ میں بھی یہ قرار داد دجمع کرا دی ہے کہ پاکستان کے اس صوبے کو بلوچ باغیوں کی خواہشات کے مطابق آزاد ہونا چاہیے۔ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ بھارت نے کس ڈھٹائی اور بے شرمی سے جوناگڑھ کی ریاست پر فوج کشی کے ذریعے قبضہ کررکھا ہے جس کے سربراہ نے قائداعظم محمد علی جناحؒ کے ساتھ الحاق کافیصلہ کیا تھا مگر بھارت نے زبردستی وہاں فوجیں داخل کردیں اس نئی مہم کے پیش نظریہ دیکھنا ضروری ہے کہ ریاست جوناگڑھ کی تاریخ کیا ہے اور یہ کس طرح زبردستی بھارت میں شامل کی گئی۔ واضح رہے کہ اس کے آخری فرمانروا دلاور خان جی کو پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے سندھ کا گورنر مقرر کیا تھا۔
ریاست جوناگڑھ کا قیام 1748ءمیں عمل میں آیا، 1807ءمیں یہ برطانوی زیر حمایت ریاست بن گئی، 1818ءمیں ایسٹ انڈیا کمپنی نے اس کا کنٹرول سنبھالا۔ سوراشٹرا کے تمام علاقے کو برطانیہ نے سو سے زائد نوابی ریاستوں میں تقسیم کردیا جو 1947ءتک قائم رہیں۔ ریاست جوناگڑھ کے نواب کو 13توپوں کی سلامی دی جاتی تھی۔ 1748ءسے 1948ءتک ریاست جونا گڑھ کے 9 نواب حکمران رہے۔ 1911ءمیں حکمران محمد مہابت خان جی سوم تھے جو تقسیم ہند کے وقت بھی برسر اقتدار تھے انہوں نے 11 سال کی عمر میں منصب سنبھالا۔ تاریخ کے مطابق ان کی حکمرانی میں ریاست پر سکون اور ترقی یافتہ تصور کی جاتی تھی انہوں نے ریاست میں بہادر خان لائبریری اور مہابت خان کالج بنوایا اور ولنگڈن ڈیم کا سنگ بنیاد رکھا،مہابت خان کتوںکے شوقین تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے پاس 2 ہزار کے قریب مختلف نسلوں کے کتے تھے۔
آزادی ہند کے وقت تمام ریاستوں کو کہا گیا کہ وہ ہندوستان یا پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کریں۔ نواب مہابت خان اس وقت برطانیہ کے دورے پر تھے لیکن وہ پاکستان سے الحاق چاہتے تھے ان کی غیر موجودگی میں ان کے دیوان (وزیراعظم) شاہ نواز بھٹو نے جو ریاست کے امور چلاتے تھے اور ذوالفقار علی بھٹو کے والد تھے، نے بھی پاکستان سے الحاق کا اعلان کیا۔ 11 اگست 1947ءکو نواب مہابت خان نے واپسی پر قائداعظم محمد علی جناحؒ سے رابطہ کیا۔15اگست کو پاکستان سے الحاق کی رسمی منظوری دے دی گئی اور سرکاری اعلان بھی کردیا گیا۔
جوناگڑھ ہندو اکثریت کی ریاست تھی۔ نواب مہابت خان کا موقف تھا کہ اگرچہ ریاست جوناگڑھ کا خشکی کا کوئی راستہ پاکستان سے نہیں ملتا مگر سمندر کے ذریعے یہ تعلق ممکن ہے کیونکہ اس ریاست کا کراچی سے سمندری فاصلہ صرف 480 کلو میٹر ہے اس ریاست جوناگڑھ کے اندر دو ماتحت ریاستیں تھیں ۔منگرول اور بابری کہا جاتا ہے کہ ہندوستان کے پہلے وزیر داخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل کا ان دونوں ماتحت ریاستوں سے مذاکرات اور انہیں بغاوت پر اکسانے میں اہم کردار تھا جس کے نتیجے میں دونوں ماتحت ریاستوں نے خود مختاری کا اعلان کردیا جس پر نواب مہابت خان نے ان کیخلاف فوجی کارروائی شروع کردی۔ ان دونوں ریاستوں کے حکمرانوں نے حکومت ہندوستان سے مدد مانگی۔ فسادات کے نتیجے میں 24 اکتوبر 1947ءکو نواب مہابت اپنی فیملی سمیت بذریعہ ہوائی جہاز پاکستان آگئے اور کراچی میں مقیم ہوئے۔
ہندوستانی فوج نے ریاست جوناگڑھ پر حملہ کردیا اس دوران ایک جلاوطن گروپ نے عارضی حکومت قائم کی جس کا سربراہ سمل داس گاندھی کو مقرر کیا گیا۔ جسے مہاتما گاندھی کا بھتیجا کہا جاتا ہے۔ شاہ نواز بھٹو نے حکومت ہندوستان مسٹر بوچ کمشنر سوراشٹراکو خط لکھا کہ وہ ریاست جوناگڑھ پر قبضہ کرسکتے ہیں۔
9 نومبر کو ریاست جوناگڑھ پر ہندوستان کا مکمل قبضہ ہوگیا اور ریاست کا نیا گورنر مقرر کردیا گیا۔یہ فیصلہ انگریزی حکومت کے فیصلے کے خلاف تھا جس میں درمیان ریاست کو پاکستان یا ہندوستان میں کسی سے الحاق کا حق دیا تھا اور جوناگڑھ پاکستان سے الحاق کے حق میں فیصلہ دے چکا تھا۔ 20جنوری 1949ءکو جوناگڑھ کو نئی ریاست سوراشٹرا میں ضم کردیا گیا۔ 1960ءمیں جونا گڑھ میں مہاگجرات موومنٹ Maha Gujrat Movement کے نتیجے میں ریاست گجرات کا حصہ بنادیا گیا۔
یہ ہے وہ مختصر تاریخ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ نہ تو جوناگڑھ بھارت کا حصہ تھا نہ اس کے نواب نے بھارت سے الحاق کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن بھارت نے چالاکی اور مکاری سے اپنی فوجیں اس ریاست میں داخل کرکے قبضہ کیا اور بعد ازاں اسے اپنے صوبے سوراشٹر کا حصہ بنالیا تھا۔ نواب آف جوناگڑھ دلاور خان جی کے بیٹے جن کا نام جہانگیر خان جی ہے، کراچی میں رہتے ہیں اور اس مہم میں ان کی سوچ بھی شامل ہے۔
(کالم نگار روزنامہ خبریں کی منیجنگ ایڈیٹر
اورایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved