تازہ تر ین

خناق

ڈاکٹرنوشین عمران
”ڈیتیھیریا“ یا خناق کا مرض کارنی بیکٹیرم (بیکٹیریا) سے ہونے والا مرض ہے جو سانس کی نالی کو شدید متاثر کرتا ہے۔ اس کی علامات بیکٹیریا کے جسم میں داخل ہونے کے دو سے سات دن میں ظاہر ہو جاتی ہیں۔ مرض زیادہ تر بچوں کو ہی متاثر کرتا ہے۔ ابتدائی علامت بخار سے شروع ہوتا ہے۔ بخار 101 ڈگری تک رہتا ہے۔ مریض کو سردی اور کپکپاہٹ بھی ہوتی ہے۔ جلد خاص کر ہونٹوں اور ناخنوں کی رنگت نیلی ہو جاتی ہے۔ گلا خراب ہوتا ہے، گلے میں خراش، آواز کا بیٹھ جانا، کھانسی، خرخراہٹ، نگلنے میں دشواری، سردرد، سانس لینے میں دشواری، تیز تیز اور گہرے سانس، ناک سے گاڑھا جما ہوا یا خون آلود بدبودار پانی کا اخراج، گلے میں دونوں جانب گلٹیاں بننا ہو سکتے ہیں۔ گلے میں سوزش ہونے سے پورا گلا یا گردن سوج جاتی ہے۔ بیماری کی شدت جتنی زیادہ ہو علامات اتنی ہی زیادہ اور شدید ہوں گی۔ گلے کی بہت زیادہ سوزش کے باعث سانس لینے اور نگلنے میں بہت مشکل پیش ااتی ہے۔ خشک اور تکلیف دہ کھانسی شروع ہو جاتی ہے۔ سانس لینے کی اونچی آواز آنے لگتی ہے۔
مریض کے معائنے پر دیگر علامات کے علاوہ منہ اور گلے کے اندرونی معائنے پر گلے پر جھلی کی طرح یا جالے کی طرح گرے رنگ کی تہہ نظر ااتی ہے۔ خناکق کے مرض کی تشخیص گلے یا جھلی سے کچھ مواد لے کر ٹیسٹ کرنے پر ممکن ہے۔ رپورٹ آنے سے پہلے ہی علاج شروع کر دیا جاتا ہے۔ عموماً ایری تھرومائسین اور پنسلین اینٹی بائیوٹک اور سٹیرائیڈز فوری دی جاتی ہیں۔ مریض کو اکثر آکسیجن کی بھی ضرورت ہوتی ہے اس لئے ہسپتال میں داخل کروانا ضروری ہے۔ اگر خناق بگڑ جائے تو انفیکشن پھیپھڑوں کے علاوہ دل کی جھلی کو بھی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ علامات جتنی پیچیدہ ہوں، حالت اتنی ہی خراب ہوتی جاتی ہے۔
خناق ہوا کے ذریعے یا براہ راست رابطے پر پھیلتا ہے۔ خناق عام طور پر چھ ماہ سے چھ سال تک کے بچوں کو متاثر کرتا ہے۔ خناق کے علاج میں آکسیجن کی مسلسل فراہمی اور سٹیرائڈز کا متواثر استعمال بہت ضروری ہے۔ سٹیرائڈز کو آکسیجن کے ساتھ بذریعہ سانس (انہیلر) بھی دیا جاتا ہے۔ اس سے گلے کی سوزش میں نمایاں کمی ااتی ہے اور سانس کے لئے ہوا کا راستہ ہموار ہو جاتا ہے۔ اگر بچپن میں خناق کی ویکسین نہ لگی ہو تو بڑھاپے میں خناق لاحق ہو سکتا ہے۔
خناق سے بچاﺅ کے لئے ویکسین بچوں کے لازمی ویکسین (حفاظتی ٹیکسوں) میں شامل کی جاتی ہے۔ جو عام طور پر کالی کھانسی اور تشنج کی ویکسین کے ساتھ ملا کر دی جاتی ہے اسے ڈی پی ٹی DPT کہا جاتا ہے۔
بعض اوقات خناق پیدا کرنے والا بیکٹیریا جلد کو بھی متاثر کرتا ہے اور جسم پر کسی ایک یا دو جگہ گہرا زخم بن جاتا ہے۔ زخم پر گہرے رنگ کی جھلی یا جالا نظر ااتا ہے۔ درد کی شکائت ضرور ہوتی ہے۔ زخم کے سرے ابھرے اور اندرونی حصہ گہرا زخم ظاہر کرتا ہے۔ پیپ یا ریشہ بھی نکلتا ہے۔
٭٭٭


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain