تازہ تر ین

زیادہ دولت کیسے حاصل کی جاسکتی ہے ،سب سے بڑی خبر،طریقہ کا ر بھی بتا دیا گیا

لندن(ویب ڈیسک)کروڑ پتی بنے کا خواب تو ہر کوئی دیکھتا ہے، لیکن یہ خواب پورا کیسے ہو؟ کیوں نا یہ بات انہی لوگوں سے پوچھ لیں جو نوجوانی میں ہی کروڑ پتی بننے کا خواب پورا کر چکے ہیں۔ دی انڈیپینڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق 21 سال کی عمر میں ایک مقروض کی زندگی گزارنے والے لیکن 30 سال کی عمر میں کروڑ پتی بننے والے گرانٹ کارڈون کا کہنا ہے کہ آپ کروڑ پتی بننا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنی کمائی بڑھانے پر توجہ دینی ہو گی، کیونکہ صرف بچت کرکے آپ کروڑ پتی نہیں بن سکتے۔
مصنف تھامس کورلے کہتے ہیں کہ کروڑ پتی لوگوں کی ایک اہم خوبی یہ ہے کہ وہ متعدد قسم کے ذرائع آمدنی رکھتے ہیں۔ ان میں سے تقریباً 65 فیصد کو تین مختلف ذرائع سے آمدنی حاصل ہوتی ہے، تقریباً 45 فیصد چار مختلف ذرائع آمدنی رکھتے ہیں اور تقریباً 29 فیصد ایسے ہوتے ہیں جو پانچ یا اس سے بھی زائد ذرائع سے آمدنی حاصل کرتے ہیں۔ یہ لوگ عام طور پر رئیل سٹیٹ، سٹاک مارکیٹ کی سرمایہ کاری اور کاروباری اداروں کی ملکیت سے آمدنی حاصل کرتے ہیں۔
جب آپ بچت کرتے ہیں تو اس نیت سے کریں کہ آپ رقم بچا کر اسے کسی کاروبار میں لگائیں گے۔ اگر آپ صرف رقم بچا کر رکھتے جائیں گے تو اس کا آپ کو فائدہ نہیں ہوگا۔ بچائی گئی رقم کو اگر آپ سرمایہ کاری میں لگاتے ہیں تو یہ آپ کی دولت میں اضافے کا سبب بنے گی۔
کارڈون کہتے ہیں کہ ”میں نے اپنی پہلی لگڑری گھڑی اور گاڑی اس وقت تک نہیں خریدی تھی جب تک کہ میں متعدد کاروبار قائم نہیں کرچکا تھا۔ میں کروڑ پتی ہونے کے باوجود بھی ٹویوٹا کیمری چلارہا تھا۔ میرا خیال ہے کہ آپ کو اپنی دولت دکھانے سے زیادہ اس میں اضافے کی فکر ہونی چاہیے اور خصوصاً اس بات کا دھیان رکھنا چاہیے کہ لوگ آپ کو آپ کی دولت کی وجہ سے نہیں بلکہ آپ کی کاروباری اخلاقیات کی وجہ سے پہچانیں۔“
ایک اور کروڑ پتی سٹیو سائی بولڈ کہتے ہیں کہ دولت مندوں اور غریبوں کی سوچ میں ایک بنیادی فرق ہوتا ہے۔ ایک غریب آدمی ہمیشہ یہ سوچتا ہے کہ دولت مند بننا اس کے بس میں نہیں ہے لیکن جن لوگوں کے پاس ڈھیروں دولت ہوتی ہے وہ غربت میں بھی یہ یقین رکھتے تھے کہ وہ دولتمند بن سکتے ہیں۔ جب تک آپ دولت کے بارے میں پرا±مید سوچ کے حامل نہیں ہیں آپ امیر نہیں ہوسکتے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved