عوام اورٹرک کی بتی

مدثر اقبال بٹ….آوازِ پنجاب
ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے فاضل جج صاحبان نے کرپشن اور بد عنوانی کے الزامات کے تحت تحقیق و تفتیش کی رپورٹس پر سابق وزیر اعظم کو صادق اور امین نہ ہونے کی بنا پر نا اہل قرار دیا اُن کے اور انکے بچوں کیخلاف نیب کو ریفرنس تیار کر کے احتساب عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔ جس پر احتساب عدالت نے کارروائی شروع کی اور مقدمات کو آگے بڑھانے کا سلسلہ شروع کیا۔ گزشتہ دنوں نواز شریف کے داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر اور اُن کی اہلیہ مریم نواز عدالت کی طلبی پر لندن سے اسلام آباد آئے تو کیپٹن صفدر کو نیب نے حراست میں لے لیا کیونکہ عدالت نے اُن کے نا قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے ہوئے تھے۔ مریم نواز کے چونکہ قابل ضمانت وارنٹ تھے اس لئے اُن کی آزادی پر کوئی آنچ نہیں آنے دی گئی۔ وہ اپنے سمدھی کے گھر چلی گئیں اور صُبح عدالت میں پیش ہو ئیں جہاں اُن کی اور کیپٹن صفدر کی 50/50 لاکھ کے مچلکوں کے ساتھ ضمانتیں منظور کر لی گئیں تا ہم بغیر اجازت بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کر دی کہ اس اندیشے کی خبریں زبان زدِ عام تھیں کہ اب ہو سکتا ہے کہ وہ واپس نہ آئیں اور ان ملین ڈالرز کے لندن فلیٹس کو ہی اپنی رہائش گاہ بنائیں جن کے بارے مقدمات عدالت میں زیر سماعت ہیں۔
لیکن اسے بد قسمتی نہ کہیں تو اور کیا کہیں کہ پاکستان کے سیاستدان عوام کو صرف بے وقوف اور نا سمجھ ہی نہیں بلکہ اندھے بھی سمجھتے ہیں، یہ ٹھیک ہے کہ اکثر اپنے لیڈروں کیساتھ محبت ہی نہیں عقیدت بھی رکھتے ہیں۔ وہ نہ تو اُن کیخلاف کچھ سننے کو تیار ہوتے ہیں اور نہ ہی اُ ن کے کسی سیاسی اور مالی جرم کو تسلیم کرتے ہیں۔ انہیں سب سے زیادہ پاکباز اور فرشتہ سمجھتے ہیں۔ دنیا میں کوئی اور انسان اُ ن سے بہتر نہیں ہوتا۔اُن کے منہ سے نکلا ہوا ہر لفظ سچائی اور دانائی کاجو ہر ہوتا ہے۔ لیکن ہم ایسے لوگ جو ایک طویل مدت سے سیاست اور سیاست دانوں کے عمل اور کردار کو دیکھ رہے ہیں پسِ پردہ اور اندرونی کہانیاں تلاش کرنے میں صبح شام ایک کر دیتے ہیں اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ سیاسی اور انتظامی جبر کے باعث بہت کچھ نوک قلم پر نہیں لاتے یا اگر بہت زیادہ جبر محسوس کریں تو اشاروں کنایوں میں امکانات بیان کر کے اپنا فرض ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ عام آدمی کی گرفت میں نہیں آتے۔
ایسی بے شمار کہانیاں خبر کی صورت میں میں گذشتہ تیس سال کی صحافت اور سیاست میں شرفا کے اس معزز خاندان کے حوالے سے موجود ہیں۔ کسی محقق کو کہیں اور ڈھونڈ نے بھٹکنے کی ضرورت نہیں وہ اگر اخبارات کا ہی مطالعہ کر لے تو اُسے بہت کچھ پڑھنے اور دیکھنے کو مل جائے گا بلکہ اُسے یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ جاتی امرا کا یہ مہاجر خاندان کیا تھا اور آج کیا ہے، چلئیے یہ ذرا دُور کی بات ہے بھٹو کے زمانہ میں جب نیشنلائزیشن ہوئی تھی تو اتفاق فاﺅنڈری تھی…. اب کتنی فیکٹریاں پاکستان اور دیگر ممالک میں ہیں اور کس کس مُلک میں سرمایہ کاری ہے اور مزید کہاں کہاں اس کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔یہی تو آسمان کو چھوتی ترقی کا ہنر ہے۔
یہ ٹھیک ہے کہ کروڑوں کے کاروبار میں منافع بھی کروڑوں میں ہوتا ہے اور پھر ہمارے ہاں تو ایک اور فائدہ بھی ہے بلکہ بہت کچھ اور بھی ہے جو معاشی نظام میں سرما یہ میں اضافہ کا باعث ہوتا ہے۔ بس ذرا کاروباری ذہنیت لازم ہوتی ہے۔ ٹیکس نظام میں موجود خرابیوں سے کیسے فائدہ اُٹھانا ہے اور پھر بینکنگ کے شعبہ کو اپنے مقاصد کےلئے کیسے استعمال کرنا ہے۔ جب بات مزید آگے بڑھے تو عدالتی نظام سے قانونی فوائد کو کیسے استعمال کرنا ہے اور اُ س کو طوےل مدتی تحفظ فراہم کرنا ہے۔منی لانڈرنگ کے ذرےعے بےرون ملک سے سرمائے کی منتقلی کےسے کرنی ہے ےہی وہ ہنر ہے جو اسحق ڈارکی ہنر مندی سے سامنے آےا اور اب وہ بھی عدالت کے سامنے ہے ۔اس کے باوجود کہا جاتا ہے کہ مےرا جرم کےا ہے مجھے کےوں نکالا گےاہے۔
اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا
حالانکہ ےہ سادگی نہےں،سب ہنر مندی ہے جو اب کوئی راز نہےں رہی۔اب توےہ کھلا راز ہے بہر حال پھر بھی اگر مرےم نواز ےہ دعویٰ کرتی ہےں کہ ےہ احتساب نہےں انتقام ہے۔قوم اُس کو معصومےت بھی نہےں کہہ سکتی ےہ تو معصومےت کے ذرےعے بے گناہی ثابت کرنے کی کوشش ہے۔جو انفارمےشن ٹےکنالوجی اورآزاد مےڈےا کے اس زمانے مےں انتہائی مشکل ہے پھر بھی ہم سمجھتے ہےں کہ ہر کسی کواپنے دفاع کا پورا حق ہے۔ےہ انصاف کی عدالت ہو ےا عوام کی عدالت۔
ےہ بات صحیح ہے کہ احتساب سب کا ہونا چاہےے اور عوام کوا س کی امےد بھی ہے ،اگر ےہ کام اےک طاقتو رخاندان سے شروع ہوا ہے تو مستقبل مےں اس کا دائرہ کار وسےع بھی ہوسکتا ہے کوئی اور خاندان بھی احتساب کی زد مےں آسکتا ہے۔آنا بھی چائیے۔بات چلے گی تو آگے بڑھے گی۔
لےکن فی الوقت ےہ بھی ہو شےاری ہے کہ نواز شرےف خود تو اپنی بےگم کی عےادت اور تےماداری کے لئے لندن مےں ہےں خدا کرے اُس خاتون کو جلد از جلد صحت ےابی نصےب ہو،مگر کےا ےہ سچ نہےں کہ انہوں نے اپنی بےٹی مرےم نواز کواپنی مظلومےت ثابت کرنے اور عوام کی ہمدردےاں حاصل کرنے کے لئے عدالت کے روبروکھڑا کردےا ہے۔ دوسری طرف بچے کہتے ہےں کہ پاکستان کی عدالت انہےں اشتہاری قرار نہےں دے سکتی کےونکہ وہ اب کسی اور ملک کے شہری ہےں۔گوےا پاکستان کے ساتھ انہوں نے جو کچھ کےا ہے جو کچھ ےہاں سے سےاسی اور معاشی لحاظ سے کماےا اور بڑھاےا ہے وہ پرانی بات ہے اور اُس پر ان کا حق ہے اُسے کوئی انگلی بھی نہےں لگا سکتا،نہ عدالت نہ رےاست،نہ حکومت نہ کوئی اور۔
بالاخر ےہی کچھ ہونا تھا ےہی کچھ ہو رہا ہے۔ےہی کچھ بالاخر نواز شرےف بھی کرےں گے اُن کے لئے ےہ سودا بھی کوئی مہنگا نہےں ہوگا۔اس مےں بھی منافع ہی منافع ہے ۔ تاحےات منافع عوام کاکےا ہے وہ پہلے بھی سےاستدانوں کے مہرے تھے ،اب بھی ہےں۔کل وہ کسی اور سے امےدےں وابستہ کرلےں گے اور ٹرک کی بتی کے پےچھے دوڑنے لگےں گے ،ےہی ان بے چاروں کا مقدر ہے۔
(کالم نگار زیادہ تر پنجابیوں کے مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved