اُٹھو بگولوں کے ساتھ دوڑو!

سید تابش الوری ….فکر ونظر
سالہا سال سے ایک جملہ پڑھتے سنتے ہماری آنکھیں تھک چکی ہیں اور ہمارے کان پک چکے ہیں کہ ”پاکستان ایک نازک دور سے گزر رہا ہے “ اس لیے اب اس کی معنویت و اہمیت ختم ہو چکی ہے مگر آج ہم جس سنگین پیچیدہ اور گھمبیر صورتحال سے دو چار ہیں اس کے پیش نظر اس جملے کا روایتاً نہیں بلکہ حقیقتاًملک پر اطلاق ہو رہا ہے ملکی آفاق پر ہمارے اردگرد سیاست و قیادت کے زاویے تبدیل ہو رہے ہیں طاقت و حاکمیت کے محور بدل رہے ہیں اور حال و مستقبل کا ایک نیا منظر نامہ ابھر رہا ہے مگر ہمارا اجتماعی احساس گہری نیند میں محسوس ہوتا ہے اور فکر و نظر اور تنقید و تجزئیے کی روشنی مدھم نظر آتی ہے ۔کھیل تماشے ‘ ہنسی ٹھٹھا ‘ افواہیں اور در فتیناں اور سنسنی و تہلکہ خیزی مرغوب مشغلے نظر آتے ہیں اور خدا نخواستہ تاریخ کا وہ باب کھلتا ہوا محسوس ہوتا ہے جب بغداد میں قرآن کے خالق و مخلوق کی بحث ہو رہی تھی اور ہلاکو خان انہیں ان کی سرحدوں پر للکار رہا تھا ۔کیا وقت نہیں آ گیا ہے کہ ہمارے ارباب سیاست و صحافت اور صاحبان دانش و حکمت اپنی تمام حسیں بیدار کر کے صف آراءہو جائیں اور ملک و قوم کی راہنمائی کریں کہ ہم یہاں کھڑے ہیں ہمیں کیا کرنا ہے اور ہمیں کس طرف جانا ہے ۔کہنے والے کا شعربھی کیا خوب حسب حال ہے ”نہ خواب غفلت میں وقت کاٹو نہ عیش و راحت سے کام رکھو۔۔ اٹھو بگولوں کے ساتھ دوڑو یہ دشت وحشت ہے گھر نہیں ہے“ بھارت کی متعصب اور متشدد آنکھوں میں پاکستان روز اول سے کھٹکتا ہے اور سازشوں کے ذریعہ مسلسل ہماری سلامتی کے در پے ہے کئی جنگیں ہم پر مسلط کر چکا ہے اور پاکستان کو دو لخت کرنے کے بعد اب خاکم بہ دہن موجودہ پاکستان کے چار ٹکڑے کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے ۔ہمارے ہمسائے ایران کے تیور بہتر نہیں ہیں افغانستان ہماری لازوال قربانیوں اور رعایتوں کے باوجود دشمنوں کی سی زہریلی زبان استعمال کرتا ہے اور بہتان و الزام کی گردان کرتا رہتا ہے ادھر بھارت ‘اسرائیل اور امریکہ کا گٹھ جوڑ نیا رنگ روپ اختیار کر رہا ہے اور امریکی صدر ٹرمپ خطر ناک کھلی دھمکیوں کے ذریعے پاک چین دوستی کی سزا دینے کے بہانے تراش رہا ہے ۔
عرب و عجم کی بڑھتی ہوئی مخاصمت سے ہمارا کردار غبار آلود ہو کر رہ گیا ہے اور عالم اسلام اپنے انتشار و کنفیوژن کے باعث کسی موثر کردار ادا کرنے کی اہلیت سے محروم نظر آتا ہے ۔خارجی احوال کی طرح پاکستان کی اندرونی و داخلی فضاءپر بھی اندیشوں ‘ واہموں اور خطروں کی گھنگھور گھٹا منڈلا رہی ہے ۔دہشت گردوں کی باقیات آخری ہاتھ پاﺅں مارتی ہوئی نظر آتی ہے فوج نے ضرب عضب ‘ردالفساد اور خیبر فور آپریشن کی کامیابیوں کے بعد اندرونی سلامتی اور شر پسندوں کی صفائی پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے مگر مشترکہ ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کے لیے حکومتوں کی طرف دیکھ رہی ہے ۔حکومت کا یہ حال ہے کہ اس کی رٹ عملداری بتدریج تحلیل ہوتی جا رہی ہے اور وہ ریاست کے اندر ریاست کا شکوہ کر رہی ہے شاید ایسی صورت اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی ہو گی کہ حکمران پارٹی حکومت بھی چلا رہی ہے اور خود ہی حزب اختلاف کا کردار بھی ادا کر رہی ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کا عالم یہ ہے کہ ایک دوسرے سے دست و گریباں ہو کر خود کو نقصان اور حکومت کو فائدہ پہنچا رہی ہے ۔سیاست و معیشت ترقی یافتہ ملکوں میں قدم بقدم اور شانہ بشانہ چلتی ہیں اور ایک دوسرے کی مدد سے آگے بڑھتی ہیں ہمارے ہاں ماضی قریب میں معیشت کے اعشارئیے بہتر ہوئے تھے اور بعض عالمی اداروں نے اسی بنیاد پر ہماری معیشت کے بارے میں خوش گمانی کا اظہار کیا تھا لیکن جب سے میاں نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ آیا ہے اسحاق ڈار اور دوسروں کے خلاف ریفرنسز دائر ہوئے ہیں اور مسلم لیگ (ن) نے ریلیوں اور جلسوں میں مزاحمتی اور احتجاجی سیاست کا آغاز کیا ہے اور دیدہ و نا دیدہ قوتوں کو للکارا ہے اس سے قومی اداروں کے درمیان تناﺅ بڑھا ہے اور معاشی درجہ حرارت میں اتار چڑھاﺅ کی تشویشناک صورت نظر آ رہی ہے ۔برآمدات کم ہو رہی ہیں درآمدات انتہاﺅں کو چھو رہی ہیں ملکی و غیر ملکی قرضوں کے نئے وحشت ناک ریکارڈ قائم ہو رہے ہیں زر مبادلہ کا گراف نیچے آ ر ہا ہے اور ملک کا سٹاک ایکسچینج اپنی تاریخ کے بد ترین بحران سے دو چار ہو کر 53ہزار انڈیکس سے گر کر 41ہزار تک پہنچ گیا ہے جس میں سرمایہ کار بدحواس ہیں اور صنعتی و تجارتی حلقہ ہیجان و اضطراب میں مبتلا ہیں مجھے یاد آ رہا ہے کہ 1993ءکے انتخابات کے بعد پنجاب اسمبلی میں میاں شہباز شریف قائد حزب اختلاف تھے اور راقم الحروف بحیثیت رکن اسمبلی ترجمان حزب اختلاف تھا تو سٹاک ایکسچینج کو اسی طرح کے کمتر درجے کے زلزلے نے آ گھیرا تھا ۔
میاں شہباز شریف اس وقت اڈیالہ جیل میں تھے مجھ پر کچھ اضافی پارلیمانی و سیاسی ذمہ داریاں آ پڑی تھیں جن کی وجہ سے مشاورت کے لیے ان سے جیل میں ملنے کے لیے جانا ہوتا تھا ۔ایک دفعہ ان سے ملاقات کے لیے پہنچا تو وہ بے حد پریشان اور مضطرب تھے ان کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں میں سخت پریشان ہو گیا گمان گزرا کہ انہیں کسی اذیت یا صدمے سے تو دو چار نہیں ہونا پڑا میں نے پوچھا میاں صاحب کیا ہوا ؟کہنے لگے بہت تشویشناک بات ہے ابھی ابھی خبر آئی ہے کہ ہمارا سٹاک ایکسچینج کریش ہو رہا ہے ۔ حکومت سے ہمارا کیسا ہی سیاسی اختلاف سہی مگر یہ ریاست کی بقاءکا مسئلہ ہے ہمیں مل کر اپنی قومی معیشت کو مستحکم کرنا ہو گا ۔میاں صاحبان اس وقت پیپلزپارٹی کی اپوزیشن میں تھے تب میاں شہباز شریف کا خوش ہونے کی بجائے یہ مثبت رد عمل تھا مگر آج جبکہ ان کی اپنی حکمرانی ہے تو سٹاک ایکسچینج کی بحرانی کیفیت پر کوئی اضطراب نظر نہیں آتا یہ اجتماعی قومی منظر نامہ اور سیاسی و معاشی صورتحال پوری قوم سے بیدار ہونے ‘تیار ہونے اور آگے بڑھنے کا تقاضا کرتی ہے اگر چہ سیاسی و جماعتی فضاءکچھ ایسی امید افزاں نہیں ہے لیکن اگر ممکن ہو سکے تو ملک کے اندرونی و بیرونی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے قومی یکجہتی و استحکام کا ڈول ڈالنے کی ضرورت ہے ہمیں ایک ایسی معاشی و ترقیاتی حکمت عملی اور جامعہ لائحہ عمل پر اتفا ق کرنا ہو گا جو حکومتوں کی تبدیلیوں کے ساتھ تبدیل نہ کیا جا سکے ۔
(معروف پارلیمنٹیرین اور دانشور ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved