اصل سلیقہ

توصیف احمد خان
چیئرمین نیب جناب قمرزمان چوہدری رخصت ہوگئے، اچھی یا بری …..اپنی مدت پوری کرکے گھر کو لوٹے، ان کا دور جیسا بھی تھا گذر گیا….. ویسے بھی جانے والوں کی برائیاں نہیں کیا کرتے ، اگر چہ ہمارے ہاں کا دستور اس سے مختلف اور نرالا ہے کہ ہم سب کچھ جانے والوں کے گلے منڈھ دیتے ہیں …..یہ اپنی اپنی سوچ ہے ۔
اب ہمیں آنیوالے کو دیکھنا ہے ، اور آنیوالے کی رونمائی آج ہے ، آپ سب جانتے ہیں سابق جج سپریم کورٹ جناب جاوید اقبال جو اگرچہ پھالیہ کے ہیں تاہم بلوچستان میں سکونت کی بنا پر وہیں جج بنے اور سپریم کورٹ میں آئے ، ایسا ہی معاملہ ان کے دور کے چیف جسٹس افتخارمحمد چودھری کے ساتھ تھا، لیکن آج یہ ہمارا موضوع نہیں، ہمیں چیئرمین نیب کی حیثیت سے جاوید اقبال صاحب پر بات کرنا ہے۔
اکثر دوست ذکر کرتے ہیں کہ ہونہیں سکتا اس عہدے پر تقرری کیلئے حکومت اور پیپلزپار©ٹی میں کوئی سودے بازی یا مک مکا نہ ہوا ہو، اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ نئے چیئرمین کو عدلیہ کی طرف سے کوئی پریشانی نہیں ہوگی کیونکہ سپریم کورٹ کی موجودہ لاٹ سے وہ بہت سینئر تھے اور ہائیکورٹوں کے جج صاحبان کا نمبر تو کہیں بعد آتا ہے …..ہاں ! یہ ایک وجہ ہوسکتی ہے مگر مکمل طور پر یہی وجہ نہیں ،کچھ اور باتیں بھی ہونگی جن کو پیش نظر رکھا گیا ہوگا کہ دونوں جماعتوں کے سابق وزرائے اعظم تک نیب زدگان میں شامل ہیں اور احتساب عدالتوں میں مقدمات بھگت رہے ہیں، ہماری مراد نوازشریف کے علاوہ سید یوسف رضا گیلانی اور راجہ رینٹل …معاف کیجئے گا …راجہ پرویز اشرف آف گوجر خان سے ہے جن کی واقعی لاٹری نکلی تھی۔
ہم نے قومی کے علاوہ انٹرنیشنل میڈیا کی رپورٹیں دیکھی ہیں کیونکہ سب کو دلچسپی ہے کہ جناب جاوید اقبال کا تقرر کس لئے کیا گیا ہے اور بات یہیں سے واضح ہوتی ہے ، ان کے سابق ساتھیوں اور ان کے قریب لوگوں کا خیال ہے کہ وہ موقع کی نزاکت کو بھانپ لیتے ہیں اور اس کے حوالے سے عمل کرتے ہیں، وہ ہاں کہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو ناں بھی کہہ سکتے ہیں ، لیکن وہاں جہاں ہاں یا ناں کہنا بنتا ہو اور یہ انکی شخصیت کا اصل پہلو اور کامیابی کا راز ہے ، یعنی وہ سلیقہ مند ہیں، قارئین نے آج کے اخبار میں وہ خبریں بھی دیکھ لی ہونگی، تاہم مختصر ذکر کردیتے ہیں کہ ایبٹ آباد کمیشن کی انکوائری کے دوران کمیشن نے انٹیلی جنس بیورو کے اس دور کے سربراہ کو طلب کیا جنہوں نے آنے سے انکار کردیا، تو موصوف کو پیغام بھیجا گیا کہ آپ خود آئیں گے یا آپ کو آدمی بھیج کر بلوایا جائے، آئی بی کے سربراہ نے بھی جواب میں سمجھداری کا ثبوت دیا اور کمیشن کے روبرو پیش ہوگے، اسی معاملہ کا ایک دوسرا پہلو بھی ہمارے سامنے ہے کہ کمیشن نے مسلح افواج کے سربراہوں کو بلایا، جس پر آرمی چیف نہیں آئے ، اس وقت غالباً جنرل کیانی فوج کے سربراہ تھے، یہاں انہوں نے معاملے کو ٹال دیا کہ حالات کی نزاکت کا یہی تقاضا تھا۔
دیکھا آپ نے قارئین ! جسٹس (ر) جاوید اقبال کتنی صلاحیتوں کے مالک او راتنے سلیقہ مند ہیں ، جہاں دیکھا دھمکی دیدی اور جہاں دیکھا خود دبک گئے، ایسا ہی معاملہ لاپتہ افراد سے متعلق تھا کہ جسٹس اس قائم کمیشن کے بھی سربراہ تھے ، کہنے والے کہتے ہیں جب انہیں احساس ہوا کہ اس کے ڈانڈے کہیں اور ملتے ہیں تو پہلو تہی کرگئے اور لاپتہ ہونے والے ان افراد کا مسئلہ آج تک لٹکا ہوا ہے ، اس کے پس پردہ کیا وجوہات ہیں …اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس باکمال خوبی نے انکی تقرری میں اہم کردار اداکیا ہے ، نامزد ہونے والوں میں تین اور سابق جج بھی تھے اور انکی تقرری کے اعلان سے پہلے جناب فقیر محمد کھوکھر کو اس عہدے کیلئے فیورٹ قراردیاجارہاتھا، لیکن مذکورہ دونوں جماعتوں یعنی ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی مصلحتیں ایک جیسی ہیں اور لفظی جنگ کے باوجود دونوں میں مک مکا آسان ہے کہ اس نوعیت کی جنگ تو محض کمپنی کی مشہوری کیلئے ہے ورنہ کمپنی مزید خسارے میں چلی جائیگی، اگر دیانتداری اور سخت گیری کا معاملہ ہی ہوتا تو باقی کو ہم جانتے نہیں ، مگر شعیب سڈل کے بارے میں سن رکھا ہے کہ ان معاملات میں وہ خاصے ”بدنام“ ہیں ، پھر وہ عمران خان یعنی تحریک انصاف کے نامزد کردہ تھے، آپ خود سوچیں مذکورہ دونوں جماعتوں کو ان کا اور ایسا بندہ کیسے قبول ہوسکتا ہے جو بے لاگ حساب کرنے والا ہو، تحریک انصاف مانے نہ مانے آئین اور قانون کے تحت جاوید اقبال کا تقرر حتمی ہے ، وہ آج چارج سنبھال لیں گے او راس ملک کو بدعنوانی اور بدعنوانوں سے پاک کرنے کا فریضہ اداکرینگے، اللہ کی اس سرزمین پر یہ فریضہ مقدس ہی نہیں بہت بڑے جہاد سے کم نہیں کہ جہاد محض تلوار سے …..یا آج کل توپوں ، ٹینکوں اور میزائلوں سے ہی نہیں ہوتا ….وہ اس جہاد میں پورے نہ سہی کافی حد تک بھی کامیاب ہوگئے تو ہمیں یقین ہے کہ اس سرخروئی پررب کریم انہیں ضرور اجر دیگا ، اس دنیا میں اور دوسری دنیا میں بھی ۔
یہ معاملہ کون سی کروٹ لیتا ہے ….! آنے والے دنوں میں معلوم ہو جائیگا لیکن ہماری ہی نہیں پوری قوم کی خواہش ہے کہ معاملات کو سابقہ ادوار کی طرح نہ چلایا جائے اور مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ دیا جائے ، اس طرح کہ احتساب انتقام نہ بن جائے، یا انتقام نہ بنا رہے۔
اب ذرا ٹرمپ کے دیس کی طرف چلتے ہیں جہاں انہوں نے کافی شور مچایا ہوا ہے ، یہ ذہن میں رہے کہ ٹرمپ کی پارٹی یعنی ری پبلکن کا انتخابی نشان گدھا ہے ، انہی کے سینیٹ میں خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین باب کروکر چلا اٹھے ہیں کہ اس شخص نے ملک کو تیسری جنگ عظیم کی راہ پر ڈال دیا ہے جس کی بڑی وجہ جوہری اسلحہ سے لیس شمالی کوریا کو آئے روز کی للکار ہے جسے لوگ گیدڑ بھپکیاں بھی کہہ رہے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ صدر کے عہدے کو رئیلٹی شو کی طرح استعمال کیا جارہا ہے، وائٹ ہاو¿س میں انہیںکئی باتوں سے روکا جاتا ہے یعنی ان کا منہ بند کیا جاتا ہے ۔
قارئین !تیسری جنگ عظیم کا ذکر اکثر سننے میں آتا ہے ، ہم آئندہ کسی کالم میں اللہ کے ولی نعمت اللہ شاہ کی پیشگوئیوں کے حوالے سے اس کا ذکر کرینگے کہ یہ کس خطہ میں لڑی جائیگی اور اس میں کس کے ساتھ کیا ہوگا، واضح رہے کہ یہ پیشگوئیاں ساڑھے آٹھ سو سال پرانی ہیں اور آج تک حرف بحرف درست ثابت ہوئی ہیں، حتیٰ کہ 1965ءمیں بھارت کے ساتھ جنگ میں ٹھیک سترہ دنوں جبکہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی ، وہاں قتل و غارت اور تنازعہ کشمیر کا بھی ذکر ہے ، بزرگ نے پہلی دو عظیم جنگوں کے بارے میں جیسے بتایا وہ بھی ویسے ہی لڑی گئیں، ہم اکثر و بیشتر نعمت اللہ شاہ ولی کی پیشگوئیوں کا ذکر کرتے رہیں گے۔
٭٭٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved