تازہ تر ین

ختم نبوت قانون، ایک جمہوری فیصلہ….1

ذوالفقار علی بھٹو
22مئی1974ءسے شروع ہونے والی ’ تحریک ختم نبوت ‘ کے دوران پاکستان کی قومی اسمبلی کے تمام ارکان نے بطور تحقیقاتی کمیٹی جب اپنی کارروائی مکمل کرلی اور دوستور میں ترمیم کرکے منکرین ختم نبوت (قادیانیوں) کے غیر مسلم ہونے کا فیصلہ کیا، تب قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو نے انگریزی میں ایک طویل خطاب کیا۔ بعض مخصوص این جی اوز ’قادنیت ‘ کے بارے میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور میں مذکورہ ترمیم کو تنقید کا نشانہ بناتی ہیں اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتی ہیں کہ یہ مسئلہ توصرف علما کے ایک طبقے نے اُٹھایا تھا۔ جناب بھٹو کے زیر نظر خطاب سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ فیصلہ پوری قوم نے کیا، جس میں علما اور منتخب عوامی نمائندے بھی شامل تھے اور کوئی ایک ووٹ بھی اس ترمیم کی مخالفت میں نہیں ڈالا گیا تھا۔ان کی تقریر کا ترجمہ نذر قارئین ہے۔

جناب سپیکر‘ میں جب یہ کہتا ہوں کہ یہ فیصلہ ایوان کا متفقہ فیصلہ ہے تو اس سے میرا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ میں کوئی سیاسی مفاد حاصل کرنے کے لئے اس بات پر زور دے رہا ہوں۔ ہم نے اس مسئلے پر ایوان کے تمام ممبروں سے تفصیلی طور پر تبادلہ خیال کیا‘ جن میں تمام پارٹیوں اور ہر طبقہ خیال کے نمائندے موجود تھے اور آج کے روز جو فیصلہ ہوا ہے‘ یہ ایک قومی فیصلہ ہے۔
یہ پاکستان کے عوام کا فیصلہ ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان کے مسلمانوں کے ارادے‘ خواہشات اور ان کے جذبات کا عکاس ہے۔ میں نہیں چاہتا ہے کہ فقط حکومت ہی اس فیصلے کی تحسین کی مستحق قرار پائے اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ کوئی ایک فرد اس فیصلے کی تعریف و تحسین کا حقدار بنے۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ مشکل فیصلہ کئی پہلوﺅں سے بہت ہی مشکل فیصلہ‘ جمہوری اداروں اور جمہوری حاکمیت کے بغیر نہیں کیا جاسکتا تھا۔
یہ ایک بہت پرانا مسئلہ ہے۔ یہ 90 سال پرانا مسئلہ ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہوتا چلا گیا ہے۔ اس نے ہمارے معاشرے میں بہت سی تلخیاں اور تفرقے پیدا کئے ہیں۔ لیکن آج کے دن تک اس مسئلے کا کوئی حل تلاش نہیں کیا جاسکا۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ یہ مسئلہ ماضی میں بھی پیدا ہوا تھا۔ ایک بار نہیں بلکہ کئی بار‘ ہمیں بتایا گیا کہ ماضی میں اس مسئلے پر جس طرح قابو پایا گیا تھا‘ اسی طرح اب کی بار بھی ویسے ہی اقدامات سے اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ ماضی میں اس مسئلے سے کس طرح نبٹا جاتا رہا‘ لیکن مجھے یہ معلوم ہے کہ 1953 ءمیں اس مسئلے پر قابو پانے کے لئے کیا کیا گیا تھا۔
1953ءمیں اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے وحشیانہ انداز سے طاقت کا استعمال کیا گیا تھا۔ جناب سپیکر اور اس ایوان کے محترم ارکان‘ کسی مسئلے کو دبا دینے سے آپ اس مسئلے کا حل نہیں نکال سکتے۔ اگر اسی طرح کے کچھ صاحبان عقل و فہم‘ حکومت کو یہ مشورہ دیتے کہ عوام پر تشدد کرکے اس مسئلے کو حل کیا جائے اور عوام کے جذبات اور ان کی خواہشات کو کچل دیا جائے‘ تو ہم شاید اس صورت میں ایک عارضی حل نکال لیتے لیکن یہ مسئلے کا صحیح اور درست (genuine) حل نہ ہوتا۔ اس سے اُبھرے ہوئے جذبات کو دبایا نہ جاسکتا ممکن ہے مسئلہ پس منظر میں چلا جاتا‘ لیکن یہ مسئلہ ختم نہ ہوتا۔
ہماری موجودہ کوششوں کا مقصد یہ رہا ہے کہ اس مسئلے کا مستقل حل تلاش کیا جائے اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم نے صحیح اور درست حل تلاش کرنے کے لئے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ یہ درست ہے کہ لوگوں کے جذبات مشتعل ہوئے اور غیرمعمولی احساسات ابھرے‘ قانون اور امن و امان کا مسئلہ بھی پیدا ہوا‘ جائیداد اور جانوں کا نقصان ہوا‘ پریشانی کے لمحات بھی آئے۔ پوری قوم گزشتہ تین ماہ سے تشویش کے عالم میں رہی‘ کشمکش اور امید اور بے امیدی کے عالم میں رہی۔ طرح طرح کی افواہیں کثرت سے پھیلائی گئیں اور تقریریں کی گئیں۔ مسجدوں اور گلیوں میں بھی تقریروں کا سلسلہ جاری رہا‘ جس سے اور زیادہ پریشانی ہوئی۔
میں یہاں اس وقت یہ دہرانا نہیں چاہتا کہ 22 اور 29 مئی 1974ءکو کیا ہوا تھا۔ میں موجودہ مسئلے کی فوری وجوہ کے بارے میں بھی کچھ کہنا نہیں چاہتا کہ یہ مسئلہ کس طرح رونما ہوا اور کس طرح اس نے جنگل کی آگ کی طرح تمام ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ میرے لئے اس وقت یہ مناسب نہیں ہے کہ موجودہ معاملات کی تہہ تک (genesis) جاﺅں لیکن میں اجازت چاہتا ہوں کہ اس معزز ایوان کی توجہ اس تقریر کی طرف دلاﺅں جو میں نے قوم سے مخاطب ہوتے ہوئے 13 جون کے روز کی تھی۔
اس تقریر میں‘ میں نے پاکستان کے عوام سے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ یہ ایک مذہبی مسئلہ ہے۔ یہ مسئلہ بنیادی اور اصولی طور پر مذہبی مسئلہ ہے۔ پاکستان کی بنیاد اسلام ہے۔ پاکستان مسلمانوں کے مادر وطن کے طور پر وجود میں آیا تھا۔ گر کوئی ایسا فیصلہ کرلیا جاتا‘ جسے اس ملک کے مسلمانوں کی اکثریت‘ اسلام کی تعلیمات اور عقیدے کے خلاف سمجھتی تو اس سے پاکستان کے مقصد وجود (raison d`etre) اور اس کے تصور کو بھی خطرناک حد تک صدمہ پہنچنے کا اندیشہ تھا۔ چونکہ یہ مسئلہ خالص مذہبی تھا‘ اس لئے میری حکومت کے لئے یا ایک فرد کی حیثیت سے میرے لئے مناسب نہ تھا کہ اس پر 13 جون ہی کو کوئی فیصلہ دے دیا جاتا۔
لاہور میں مجھے ایسے بہت سے لوگ بھی ملے‘ جو اس مسئلے کے باعث شدید طور پر مشتعل (agitated) تھے۔ وہ مجھے کہہ رہے تھے کہ ”آپ آج ہی‘ ابھی ابھی اور یہیں وہ اعلان کیوں نہیں کردیتے‘ جو پاکستان کے مسلمانوں کی اکثریت چاہتی ہے اور اگر میں یہ اعلان کردوں تو اس سے میری حکومت کو بڑی داد تحسین ملے گی اور ایک فرد کے طور پر نہایت شاندار شہرت اور ناموری حاصل ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ”اگر آپ نے عوام کی خواہشات کو پورا کرنے کا یہ موقع گنوا دیا تو آپ اپنی زندگی کے ایک سنہری موقع سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔“ میں نے اپنے ان احباب سے کہا کہ ”یہ ایک انتہائی پیچیدہ‘ گہرا اور نہایت بنیادی نوعیت کا مسئلہ ہے۔ اس مسئلے نے برعظیم کے مسلمانوں کو فکری سطح پر 90 سال سے مشتعل کر رکھا ہے اور پاکستان بننے کے ساتھ ہی پاکستان کے مسلمانوں کے لئے بھی پریشانی کا باعث بنا ہے۔“ میرے لئے یہ مناسب نہیں تھا کہ اس اضطراری (exigencies) موقع سے فائدہ اٹھانے (Capitalise) کی کوشش میں کوئی فیصلہ کردیتا۔ میں نے ان کرم فرماﺅں سے کہا کہ ’ہم نے پاکستان میں جمہوریت قائم کی ہے۔ ہم نے جمہوریت بحال کی ہے۔ پاکستان کی ایک قومی اسمبلی موجود ہے۔ یہ ملکی مسائل پر بحث کرنے کا سب سے بلند مرتبہ ادارہ ہے۔ میری رائے میں‘ میری ناچیز رائے میں اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے پاکستان کی قومی اسمبلی ہی مناسب جگہ ہے اور پاکستان کی قومی اسمبلی میں اکثریتی پارٹی کا لیڈر ہونے کی حیثیت سے میں قومی اسمبلی کے ممبروں پر کسی طرح کا دباﺅ (Whip) نہیں ڈالوں گا۔ میں اس مسئلے کے حل کو ارکان قومی اسمبلی کے ضمیر پر چھوڑتا ہوں اور اپنی پارٹی کے ارکان کے ضمیر پر چھوڑتا ہوں کہ وہ خود فیصلہ کریں۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے ارکان اسمبلی میری اس بات کی گواہی دیں گے کہ جہاں میں نے کئی مواقع پر انہیں بلا کر اپنی پارٹی کے مو¿قف سے آگاہ کیا اور انہیں پالیسی کے مطابق ہدایات دی ہیں اور انہیں پارٹی کے اختیارات دیئے ہیں لیکن اس مسئلے پر اور اس موقع پر میں نے پاکستان پیپلزپارٹی کے ایک ممبر کو بھی بلا کر نہ کوئی ہدایت دی ہے اور نہ اس پر اثرانداز ہونے کی کوئی کوشش کی ہے۔
آپ کو یہ بتاتے ہوئے جناب سپیکر مجھے حیرت نہیں ہورہی کہ اس مسئلے کے باعث اکثر میں پریشان اور راتوں کو نیند سے محروم رہا ہوں۔ اس مسئلے پر جو فیصلہ ہوا ہے‘ میں اس کی شاخ در شاخ پیچیدگیوں (ramifications) اور اس ردعمل (repercussion) سے بھی بخوبی واقف ہوں۔ جس کا اثر‘ مملکت کی سلامتی (security) پر ہوسکتا ہے۔ یہ کوئی معمولی سا (light) مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے کہ پاکستان وہ ملک ہے جو برعظیم کے مسلمانوں کی اس خواہش پر وجود میں آیا کہ وہ اپنے لئے علیحدہ مملکت چاہتے تھے اور اس ملک کے باشندوں کی اکثریت کا مذہب اسلام ہے۔ میں اس فیصلے کو جمہوری طریقے سے راہ یاب کرنے (channelising ) میں‘ اپنے کسی بھی اصول سے انحراف نہیں کررہا۔
٭ پاکستان پیپلزپارٹی کا پہلا اصول یہ ہے کہ اسلام ہمارا دین ہے‘ اسلام کی خدمت پاکستان پیپلزپارٹی کے لئے اولین اہمیت رکھتی ہے۔
٭ ہماری سیاست کا دوسرا اصول یہ ہے کہ جمہوریت ہماری سیاست ہے۔ چنانچہ ہمارے لئے فقط یہی درست راستہ تھا کہ ہم اس مسئلے کو پاکستان کی قومی اسمبلی میں پیش کرتے۔
٭ اور اس کے ساتھ میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ ہم اپنی پارٹی کے اس اصول کی بھی پوری طرح پابندی کریں گے کہ پاکستان کی معیشت کی بنیاد سوشلزم پر ہو۔ ہم سوشلسٹ اصولوں پر یقین رکھتے ہیں۔
یہ فیصلہ جو کیا گیا ہے‘ اس فیصلے میں ہم نے اپنے کسی اصول سے انحراف نہیں کیا ہے۔ ہم اپنی پارٹی کے تینوں بنیادی اصولوں پر پختگی سے پابند رہے ہیں۔ میں نے بارہا یہ بات کہی ہے کہ اسلام کے بنیادی اصول اور اعلیٰ ترین معیارات (norms) سماجی انصاف کے حصول کے تقاضوں کے خلاف نہیں ہیں اور سوشلزم کے ذریعے معاشی استحصال کو ختم کرنے کے حامی ہیں۔
یہ ایک مذہبی فیصلہ بھی ہے اور ایک سیکولر فیصلہ بھی۔ مذہبی فیصلہ اس لحاظ سے ہے کہ یہ فیصلہ ان مسلمانوں کو متاثر کرتا ہے‘ جو پاکستان میں اکثریت میں ہیں اور سیکولر فیصلہ اس لحاظ سے کہ ہم دور جدید میں رہتے بستے ہیں۔ ہمارا آئین ایک دنیاوی آئین ہے‘ اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے تمام شہریوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں۔ ہر پاکستانی کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ فخر و اعتماد سے بغیر کسی خوف کے اپنے مذہبی عقائد‘ اپنے طبقے کی امنگوں اور اپنے مکتب فکر (sect) کی سوچ کا اظہار کرسکے۔ پاکستان کے آئین میں‘ پاکستانی شہریوں کو اس امر کی ضمانت دی گئی ہے۔
میری حکومت کے لئے اب یہ بات انتہائی اہم فرض کی حیثیت اختیار کرگئی ہے کہ وہ پاکستان کے تمام شہریوں کے حقوق کی حفاظت کرے۔ یہ نہایت ضروری ہے اور میں اس بات میں کسی قسم کے ابہام (ambiguity) کی گنجائش نہیں رکھنا چاہتا۔ پاکستان کے تمام شہریوں کے حقوق کی حفاظت ہمارا اخلاقی اور مقدس اسلامی فرض ہے۔
میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں جناب سپیکر اور ایوان سے باہر کے ہرشخص کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ یہ فرض پوری طرح اور مکمل طور پر ادا کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں کسی شخص کے ذہن میں کوئی شبہ نہیں رہنا چاہئے۔ ہم اپنے ملک میں کسی قسم کی غارت گری (vandalism) اور تہذیب سوزی یا کسی پاکستانی طبقے یا شہری کی توہین اور بے عزتی برداشت نہیں کریں گے۔
جناب سپیکر‘ گزشتہ تین مہینوں کے دوران‘ اور اس بڑے شدید (acute) بحران کے عرصے میں کچھ گرفتاریاں عمل میں آئیں‘ کئی لوگوں کو جیل بھیجا گیا اور چند مزید اقدامات کئے گئے۔ یہ بھی ہماری منصبی ذمہ داری تھی۔ ہم اس ملک میں بدنظمی اور فسادی عناصر کا غلبہ برداشت نہیں کرسکتے تھے۔(جاری ہے)
(ترجمہ:سلیم منصور خالد)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved