تازہ تر ین

اندلس سے آداب عرض!

وجاہت علی خان….مکتوب لندن
اندلس، ہسپانیہ یا سپین میں آج میرا دوسرا روز ہے، اس ملک کا شمار یورپ کے چند خوشحال ترین ممالک میں ہوتا ہے، تقریباً پانچ کروڑ کی آبادی اور جی ڈی پی 1,769 ٹریلین ڈالر ہے یہ 505,990 کلومیٹر رقبے کے ساتھ جرمنی کے بعد یورپ کا دوسرا بڑا ملک ہے، یہاں 76% عیسائی ہیں لیکن ان میں سے 54% کبھی عبادت کیلئے چرچ نہیں جاتے 20% خدا یا کسی مذہب پر یقین نہیں رکھتے۔ یہاں صرف 2% دیگر مذاہب کے ماننے والے آباد ہیں۔ سپین جہاں کبھی مسلمانوں نے 711ءسے 1492ءتک بلاشرکت غیرے حکومت کی تھی اب یہاں کی کل آبادی میں صرف دو ملین مسلمان ہیں اور کم و بیش 80 ہزار پاکستانی آباد ہیں جن کی پہلی زبان پنجابی اور یہ زیادہ تر جہلم اور گجرات سے تعلق رکھتے ہیں، یہ وقت کی بے رحم گردش ہے کہ جو اسلامک سپین ، کبھی یورپ کے 9 ملکوں پر محیط تھا اور جس کی اکثریتی آبادی مسلمانوں کی تھی، البتہ یہاں یہودیوں، عیسائیوں کی بھی خاصی تعداد تھی، جو بعض ضروری حکومتی پابندیوں کے ساتھ رہے تھے، آج یہاں مسلمان انتہائی اقلیت میں آباد ہیں۔ یہ حقیقت بھی قابل ذکر ہے کہ سپین میں مسلمانوں کا کوئی ساڑھے سات سو سالہ دورمسلسل خلافت کا نہیں تھا اسے پانچ مختلف ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے چنانچہ ان سات صدیوں میں خلافت کا دور فقط ایک سو سال 929ءسے1031ءتک تھا۔
ہسپانیہ جو اندلس یا سپین کا تاریخی نام ہے ، مغرب میں پرتگال جنوب میں جبل الطارق مراکش اور شمال میں فرانس کے ساتھ ملتا ہے۔ آج 21 ویں صدی میں برطانیہ، ہالینڈ اور بعض دیگر یورپی ملکوں کی طرح یہاں بھی سربراہ مملکت بادشاہ ہے جس کا نام خوان کارلوس اول ہے، یہاں پارلیمانی نظام جس کے دو ایوان سینٹ (ایوان بالا) اور کانگریس (ایوان زریں) ہیں جبکہ حکومت کا سربراہ وزیراعظم ہوتا ہے انتظامی لحاظ سے اسے 17 خود مختار ریاستوں میں تقسیم کیا گیا ہے ہر ریاست کی اپنی پارلیمنٹ جس کا انتخابات کے ذریعہ چناﺅ ہوتا ہے اور پھر اس علاقائی حکومت کے سربراہ (صدر) کا چناﺅ یہ اسمبلی کرتی ہے، دارالحکومت میڈرڈ کے علاوہ پرشلونہ، قرطبہ، غرناطہ، اشبیلیہ، شاطبہ اور بارسلونا اس کے معروف شہر ہیں، آج کے سپین کو ہم آئینی ملکویت کہہ سکتے ہیں اس سپین نے 1492ءمیں مسلمانوں سے آزادی حاصل کی تھی، ہسپانیہ پر مسلمانوں کے حملہ کے ضمن میں روایتی کہانی یوں ہے کہ 711ءمیں جب ہسپانیہ شدید خانہ جنگی کی لپیٹ میں تھا اور ملک کے بادشاہ کو معزول کردیا گیا تھا تو اس بادشاہ کے بیٹے ویٹزانے دمشق کے حاکم موسیٰ بن نصیر سے مدد طلب کی کہ سپین کے تحت پر غاصب راڈرک نے زبردستی قبضہ کرلیا ہے، ہمیں اس سے نجات دلائی جائے، موسیٰ بن نصیر اموی خلیفہ ولید بن عبدالمالک کا سپہ سالار تھا، اس نے اپنے جنرل طارق بن زیاد کو سات ہزار فوجیوں کے لشکر کے ساتھ ہسپانیہ روانہ کیا، جہاں طارق بن زیاد نے جبرالڑکے مقام پر شہر کا محاصرہ کرلیا اور ایک بڑے لشکر کو شکست دیکر شہر میں داخل ہوگیا۔راڈرک مارا گیا، چنانچہ یہیں سے یورپ میں مسلمانوں کے دور کا آغاز ہوتا ہے۔ عام طور پر مغربی دنیا مدد کی یہ کہانی قبول نہیں کرتی بلکہ ان کا نکتہ یہ ہے کہ مسلمانوں نے اپنی سلطنت کی حدود بڑھانے کیلئے اندلس پر حملہ کیا، وہ سمجھتے ہیں کہ اگر مسلمانوں کا مقصد مدد کرنا تھا تو حقداروں کے ان کا ملک لوٹا کر واپس چلے جاتے لیکن وہ مدد کے بہانے سپین پر قابض ہوگئے ، ان کا دوسرا اور تاریخی نکتہ یہ بھی ہے کہ ہسپانیہ کے یہودی اور مسلمانوں سے مدد طلب کرنے والا عیسائی بادشاہ کا بیٹا اپنے جانثاروں کے ساتھ طارق بن زیاد کی مدد نہ کرتے تو مسلمان ہسپانیہ کبھی فتح نہیں کر سکتے تھے۔
میں اس وقت غرناطہ میں موجود ہوں جسے مقامی زبان میں گرناڈا کہا جاتا ہے۔ یہ سپین کے جنوب میں ایک تاریخی شہر ہے اس کی وجہ شہرت مسلمانوں کے دور درخشاں کا ہوشربا الحمرا محل ہے جو حقیقتاً مسلمانوں کی عظمت رفتہ کا ایک ثبوت ہے اسی شہر میں سپین کا سب سے اونچا پہاڑ ملحسن واقع ہے جو سپین کے آخری مسلمان حکمران مولائے حسن کے نام پر ہے۔ غرناطہ ہی وہ شہر ہے جو 1492 تک سپین میں مسلمانوں کی آخری اسلامی ریاست کا مرکز تھا یہ ایک انتہائی خوبصورت شہر ہے جو ماضی و حال کا حسین امتزاج ہے اس کی خوبصورتی کو ایک ہسپانوی شاعر اقازہ نے یوں بیان کیا ہے کہ!
دنیا میں اس سے بڑی بدقسمتی کوئی اور نہیں ہوسکتی
کہ انسان غرناطہ میں ہو اور اندھا ہو
الحمرا محل ایک پہاڑی پر تعمیر کیا گیا ہے اسے سرخ پتھر سے بنایا گیا ہے 1213ءمیں یعنی سپین میں مسلمانوں کی آمد کے 100 سال بعد محمد ثانی نے اس کی بنیاد رکھی اور یوسف اول نے اس کو عربی طرز کے نقش و نگار سے مزین کیا خوشگوار و پرشکوہ عمارتوں کے ساتھ ساتھ علم و فضل کو بھی ترقی دی ، افسوس کہ مسلمانوں کے زوال کے بعد بیشمار شاہکار مٹا دیئے گئے۔ الحمرا کے بے شمار کمرے جس صحن کے اردگرد بنے ہوئے ہیں اسے البراکة کہتے ہیں جس کے معنی بجلی کی سی چمک دمک رکھنے والا ہے۔ البراکتہ کے سامنے ہی مشیروں کا صحن ہے، روایت کے مطابق یہاں شیروں کو لڑایا جاتا تھا، قدیم غرناطہ کا زیادہ تر حصہ پرانی بودوباش کا امین ہے۔ دو تین اور چار منزلہ مکانات ہیں ان میں کسی کے بھی اندر جھانک کر دیکھا جائے تو صحن میں ایک فوارہ ضرور دکھائی دیتا ہے، شاید یہ ماحول کو دلکش اور معطر رکھنے کیلئے تعمیر کیے گئے ہوں شہر کے درمیان دریائے داروبہتا ہے جو امتداد زمانہ سے اب ایک بہت کم چوڑائی کے ایک نالے کی شکل اختیار کر چکا ہے جس کے بالکل کنارے پر تین چار منزلہ مکانات ہیں اسی دریا سے الحمرا محل کو پانی کی فراہمی ہوتی تھی، تمام شہرپہاڑیوں پر آباد ہے اس کی تنگ گلیاں اوپر سے نیچے تک جال کی طرح پھیلی ہوئی ہیں۔
غرناطہ کی قدیم عمارتوں کے سحر میں مبتلا، الحمرا محل کے دلکش دروبام سے گزرتے ہوئے، کسی قدیم عمارت یا چرچ کے سامنے بیٹھ کر آنکھیں بند کرکے خود کو کوئی پانچ سو سال پیچھے لے جائیں تو لگتا ہے کہ چہار سو اللہ اکبر کے نعرے، اذان کی آواز اور مساجد میں خشوع و خضوع میں مصروف مسلمان یہاں وہاں موجود ہیں جب آنکھ کھلتی ہے تو سیکڑوں سال ایک ہی جست میں آپ کو 2017ءمیں لے آتے ہیں۔ الحمرا شہر کے اس معروف کیفے میں بیٹھا یہ سن رسیدہ شخص لگتا تھا کہ اپنی عمر کی صدی مکمل کرنے کے آس پاس ہے ، ہاتھ میں سبز رنگ کے موٹے دانوں کی تسبیح گھماتا ہوا وہ ہماری طرف ایک ٹک دیکھ رہاتھا، ہم اس کی بغل والی کرسیوں پر بیٹھ چکے تھے، میرے صحافی دوست انعام سہگل نے ہلکی سی ہیلو کے بعد پوچھا! کیا میں آپ سے انگریزی میں گفتگو کرسکتا ہوں، بزرگ نے آکسفورڈ لہجے کی شفاف انگریزی میں کہا وائے ناٹ، گفتگو کے دوران بزرگ نے ہمیں بتایا کہ وہ کوئی ستر سال پہلے انگلینڈ پڑھنے کیلئے گیا تھا، انعام نے اسے بتایا کہ ہم لندن سے دو روز پہلے ہی یہاں پہنچے ہیں، سمجھیں کہ یہ ہمارا معلوماتی وزٹ ہے تاکہ اپنے اسلاف کے اس اندلس اور اس کی یادگاروں کا مشاہدہ کیا جائے جو ہمارے مسلمان ہیروز نے اپنے ساڑھے سات سو سالہ دور اقتدارمیں ہسپانیہ اور یورپ کے ان نوممالک میں تعمیر کروائیں ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ ان کا بودوباش اور حکمرانی کا انداز کیا تھا، یہ بات سنتے ہی بزرگ نے قدرے گھور کر ہمیں دیکھا اور گویا ہوئے، تمہارا آبائی ملک کونسا ہے، ہم نے کہا پاکستان! بزرگ نے تھوڑے توقف کے بعد کہا اچھا تو تم پاکستانی مسلمان ہو، ویسے میں بھی مسلمان ہوں اور میرے آباءکا تعلق شمالی افریقہ سے تھا، لیکن پچھلے دو سو سال سے میرا خاندان اس خطے میں آباد ہے، مگر مجھے شدید حیرت ہے کہ بربر قبیلے کے طارق بن زیاد، بنوامیہ کے گورنر اور جنرل موسیٰ بن نصیر اور خطہ عرب و افریقہ سے تعلق رکھنے والے ان فاتحین کا تم لوگوں سے کیا تعلق ہے۔ وہ تمہارے ہیروز اور تم برصغیر والوں کے اسلاف کس طرح ہوئے؟ بزرگ بولتا اور ہم سنتے چلے گئے، ہم دونوں کیلئے اس ادھیڑ عمر کے ہسپانوی بزرگ کی یہ بات ایک جھٹکے سے کم نہیں تھی، بزرگ نے مزید کہا ، اگر پاکستان میں رہنے والا کوئی عیسائی یا یہودی کوئی کارنامہ انجام دیتا ہے تو وہ سپین یا امریکہ و برطانیہ میں رہنے والے عیسائیوں و یہودیوں کا ہیرو کیسے ہوسکتا ہے، وہ تو پاکستانیوں کیلئے ہیرو ہوسکتا ہے؟ بزرگ نے ایک اور انکشاف کیا کہ طارق بن زیاد کی تو جائے پیدائش یا شہریت کا بھی پتہ نہیں چل سکا، کوئی تاریخ دان کہتا ہے کہ وہ ایرانی تھا اور ہمدان میں پیدا ہوا، کچھ تاریخ دان اسے الجزائر کا باشندہ اور کچھ اسے بربر اور عرب کہتے ہیں۔
غرناطہ اور الحمرا کی تاریخی اہمیت اور خوبصورتی اپنی جگہ، مسلمانوں کے دور عظیم کی یادگاروں کے اوج کمال میں بھی کلام نہیں لیکن اس عمر رسیدہ اندلس مسلمان کا سوال بھی بہرحال جواب طلب ہے اور یہ ساری تمہید میں نے اسی ایک سوال کیلئے باندھی ہے، ہمارے تاریخ دانوں اور دانشوروں پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے عوام کی عملی ضرورت کیلئے اس سوال کا جواب بغیر کسی لگی لپٹی کے دیں۔ الحمرا کے محلات اور غرناطہ کے باغات کا سرورو رومان تو موجود ہے لیکن ہمیں بحیثیت ایک قوم ان سوالوں کے جوابات بھی تلاش کرنے ہیں کہ آخر وہ کیا خرابیاں تھیں وہ کونسی چیرہ دستیاں تھیں جنہوں نے مسلمانوں کی اس عظیم و الشان سلطنت کو نشان عبرت بنا دیا اور ساڑھے سات سو سالہ ریاست کی بربادی کا سبب بنیں ،کیا اس بربادی میں خود مسلمانوں نے ہی بڑا کردار ادا نہیں کیا، اس کا سبب کیاآمرنظام، ملکویت، اقربا پروری ،موروثی اقتدار، تعصب اور عیش کوشی نہیں تھا۔ کیا ہاشمی و غیر ہاشمی، عربی و عجمی، بنوامیہ و بنو عباس کی خونخوار جنگوں کا اس میں دخل نہیں تھا ۔ قومیں اپنے اسلاف اور اپنی غلطیوں سے سبق سیکھ کر اپنا لائحہ عمل طے کرتی ہیں اگر ہم نے سپین میں مسلمانوں کے زوال اور بغداد میں عباسیوں کی شکست سے ہی کوئی سبق لیا ہوتا، عثمانیوں اور مغلوں کی بربادیوں کو ہی مدنظر رکھا ہوتا تو شاید سقوط ڈھاکہ بھی نہ ہوتا اور پاکستان میں موجود آپا دھاپی اور کرپشن کا نظام بھی نہ ہوتا۔ جناب اقبال نے اپنی نظم ”ہسپانیہ“ میں اندلس کو خون مسلم کا امین تو قرار دے دیا لیکن اس خون کی ارزانی میں شریک جرم کون کون تھا، ہمیں اس کا بھی تو تجزیہ کرنا ہے۔ ہمارے دانشور ہمیں یہ بھی بتائیں کہ اندلس فتح کرنے والے دونوں فاتحین طارق بن زیاد اور موسیٰ بن نصیر کے ساتھ ان کے اپنے ہی لوگوں نے آخر کیا کیا کہ ان کی موت کسمپرسی کی حالت میں ہوئی؟ ہمارے سامنے ایک بہت بڑا سوال یہ بھی ہے جو اس عمر رسیدہ اندلسی نے ہم سے کیا ہے کیونکہ اگر اس کی بات کی صحت کو تسلیم کرلیا جائے تو پھر موسیٰ بن نصیر، یوسف بن تاشفین، صلاح الدین ایوبی، سلطان محمود غزنوی، محمد بن قاسم اور طارق بن زیاد سمیت درجنوں اسلامی تاریخ کے ہیروز ہم برصغیر والے مسلمانوں کے نہیں ہیں پھر اس طرح تو ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ اندلس کبھی ہمارا تھا کہ وہاں اموی حکمران تھے، بغداد بھی ہمارا تھا کہ وہ عباسیوں کی سلطنت تھی، ترکی میں بھی ہمارے ہیروز تھے کہ وہاں عثمانی تھے تو پھر ہمارا تھا کیا آخر؟ ہم نے غرناطہ تودیکھا الحمرا کے محلات کو بھی آنکھوں میں سمویا لیکن بقول علامہ اقبال
غرناطہ بھی دیکھا مری آنکھوں نے لیکن
تسکین مسافر نہ سفر میں نہ خضر میں
دیکھا بھی دکھایا بھی سنایا بھی سنا بھی
ہے دل کی تسلی نہ نظر میں نہ خبر میں
(معروف صحافی لندن میں خبریں کے بیوروچیف ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved