تازہ تر ین

قاضی غلام سرور، سراپا جہد انسان

محمد صغیر قمر….چنار کہانی
وہ دن مجھے کل کی طرح یاد ہے ۔
نومبر ۱۹۹۴ءکی ایک روز صبح جب درختوں کے پتے متاع حیات کی طرح راہ گزاروں پر نچھاور ہو رہے تھے۔ صبح دم گھر کے دروازے پر ایک درویش صورت کو پا کر حیرت ہوئی۔ وہ غالباً نماز فجر کے بعد ہی گھر سے نکل آئے تھے اور ہم اپنی سستی کے باعث سوئے پڑے تھے۔ ویسے بھی بہت صبح گھر کی گھنٹی کا بجنا کئی قسم کے وسوسے جنم دیتا ہے۔ گیٹ تک پہنچتے پہنچتے میں نے کئی بار سوچا کہ یقیناً کوئی حادثہ ہو چکا ہے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب مجھے راولپنڈی منتقل ہوئے دو برس گزرے تھے۔ ان دو برسوں میں ترنول سے فیض آباد تک مکان تلاش کیا لیکن کہیں ڈھب کا کہیں اپنی پسند کا اور کہیں سکت کا معاملہ درپیش ہوتا ۔ صدر کے نواحی علاقے افشاں کالونی میں مکان پسند تو آ گیا لیکن چاروں طرف کہیں کھیت کہیں بھینسوں کے باڑے اور کہیں جان کو کاٹتا ویرانہ ۔ اس مکان میں آئے ہوئے کچھ ہی دن ہوئے تھے کہ محلے کے لوگ چڑیلوں اور جنات سے ڈرانے لگے ۔ اسی لیے صبح صبح کسی کا بھی آنا خطرے کاالارم ہی تھا ۔ آنکھیں ملتا، گیٹ تک پہنچا تو خضر صورت بزرگ کو کھڑے پایا۔ ” جی فرمائیے !“ میں نے اکتاہٹ سے کہا۔” میرا نام قاضی غلام سرور ہے ۔“ وہ بولے ۔” تو ؟“ میرے منہ سے بے اختیار نکلا۔” میں سامنے والے محلے میںرہتا ہوں ، مسجد مائی جان ……..“ یہاں تک کہہ کروہ رک گئے وہ اندازہ کر چکے تھے کہ ……..میں ان کو پہلے سے نہیں جانتا ۔” میں مسجد مائی جان کا امام ہوں ۔“ مجھے کچھ کچھ یاد آنے لگا ۔ کسی نے ان کا تذکرہ کیا تھا۔
میں نے انہیں اندر آنے کی دعوت دی اور وہ بے تکلفی سے مہمان خانے میں آ کر بیٹھ گئے ۔ یہ برسوں پہلے کی بات ہے لیکن اس پہلی ملاقات کی حلاوت اب تک محسوس ہوتی ہے۔ وہ تعارف کے چند لمحے تھے جو مجھے یاد رہے ان کی چند باتیں تھیںجو میری زندگی کے ساتھ ساتھ رہیں ۔ بنیادی طور پر مولانا محمد سرور ایک داعی الی اﷲ اور راہ خدا میں سراپا جہد انسان تھے۔ وہ انسانوں سے ٹوٹ کر محبت کرنے والے اور انہیں آگ کے گڑھے سے بچانے والے ۔سلیم ناز بریلوی کے انقلابی ترانوں کے وہ عاشق تھے، اکثر آتے، ان ترانوں کے کیسٹ اور پندرہ روزہ ” جہاد کشمیر “ اور بچوں کا جریدہ ” مجاہد “ لے جاتے۔
اپنے حلقہ احباب میں فروخت کرتے اور کچھ دن میں ہی پیسے لا کر جمع کرا دیتے۔ایسا نقد سودا کرنے والا پھر نہ ملا۔ ماضی کے جھروکوں سے ابھرتی مٹتی یادوں کے اس پار ان کا نورانی چہرہ ہمیشہ نظروں کے سامنے رہتا ہے۔ اسلام سے ان کی وابستگی اتنی لازوال اور بے مثل تھی کہ ان کے پائے کے لوگ اب اس معاشرے میںخال خال ملتے ہیں ۔ ایک ” پوری “ مسجد کے خطیب و امام ہونے کے باوجود انہوں نے کبھی فتویٰ نہیں دیا ، کبھی کسی پرپھبتی نہیں کسی ، کبھی کسی کو اسلام سے ” خارج “ نہیں کیا اور اس علاقے کے لوگ گواہ ہیں کہ کبھی انہوں نے فرقہ پرستی کی لعنت کو فروغ نہیں دیا۔وہ اسلامی لٹریچر لے کر مختلف جگہوں پر سٹال لگاتے جہاں موقع ملتا ، اسلام کے عالمگیر نظام کی بات کرتے، جہاں بیٹھتے اسلامی انقلاب کے لیے جدوجہد تیز تر کرنے کا تذکرہ ہوتا۔ ایک جید عالم دین کیا ہوتا ہے ؟ ان سے مل کر اندازہ کیا جا سکتا تھا۔ ان سے دوستی کے نئے نئے دن تھے اور ہماری جوانی بھی جذبات میں ڈوبی ہوئی تھی ۔ ہمارے ساتھ والے محلے کے ایک امام مسجد نے فجر کی نماز میں بلند آواز کے ساتھ آمین کہنے پر ایک بزرگ (بعد میں معلوم ہوا وہ سعودی عرب سے آئے تھے ) کو بری طرح سب کے سامنے ڈانٹ دیا ۔ ان کے خیال میں یہ مسجد صرف ان کے مسلک کے لیے مختص تھی ۔ کسی بھی دوسرے مسلک والے ان کی مسجد میں بلند آواز سے ” آمین “ کہنے کا حق نہیں تھا۔ ہم نے امام صاحب کے اس رویے پر نہ صرف احتجاج کیا بلکہ محلے کے کچھ معززین کے ساتھ مل کر مولوی صاحب کا گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اگلی صبح مولانا سرور ہمار ے گھر تشریف لائے تو ان سے گزشتہ واقعے کا ذکر کیا ۔ تفصیل سننے کے بعد بہت دیر تک مسکراتے رہے ۔ ہم نے ان سے اپنے ” عزائم “ کا ذکر کیا تو پہلے حیرت سے مجھے دیکھا اور پھر زیر لب دیر تک کچھ پڑھتے رہے۔” آپ ایک عالم دین کے خلاف اس طرح لوگوں میں نفرت پھیلا کر کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں ؟“ ان کے اس سوال پر تلخی نمایاں تھی۔
” اس عالم دین نے سب لوگوں کے سامنے ایک نمازی کی عزت نفس مجروح کی ۔ “ اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ و سلم نے تو کبھی ایسا نہیں کیا۔ “ میں نے وضاحت کی۔
وہ مسکراتے رہے پھر بولے۔” آپ بھی ایسا ہی کر رہے ہیں ناں ، سب کے ساتھ مل کر ایک عالم دین ، ایک انسان جس سے غلطی ہو گئی ہے ، ان کو خوار کر رہے ہیں۔ یہ بھی کوئی سنت رسول نہیں ۔ آپ تو ایسا نہیں کرتے تھے۔“ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے گھڑوں پانی میرے اوپر کسی نے انڈیل دیا ہو۔ دیر تک حواس بے قابو رہے۔
زندگی اپنے ڈگر پر چلتی رہتی ہے ۔ انسان آتے اور چلے جاتے ہیں لیکن کچھ لوگ دلوں میں بس جاتے ہیںاور جو دلوں میں بس جاتے ہیں ان کا جانا کوئی معنی نہیں رکھتے۔ وہ امر ہو جاتے ہیں ۔ مولانا سرور بھی امر ہو گئے۔
(امور کشمیر کے ماہر، مصنف اور شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved