ضیاشاہد کا نیادرشن

رازش لیاقت پوری۔۔وسدیاں جھوکاں
ویسے تو جناب ضیاشاہد سے شناسائی بہت پرانی ہے کہ جب سے انہوں نے ملتان میں سرائیکی مشاعرے شروع کروائے تب سے وسیب واسیوں کی طرح میں بھی ان کا شیدائی ہوںلیکن ان سے یہ وابستگی اس وقت بڑھی جب ملتان آرٹس کونسل میں منعقد ہونے والے ایک مشاعرے میں ان کی تقریر سنی جس میں انہوں نے کہاکہ وسیب کے شاعر لوگوں میں مایوسی کی بجائے امید کی کرن پیدا کریں،ان کی اس بات نے میرے اندر بھی امید کی کرن پیدا کی کہ آج لیاقت پور کے دیہات کی ایک چھوٹی سے بستی سے اٹھ کرملتان کے بعد لاہور آگیا ہوں اور آپ سب دوستوں سے کالم کے ذریعے ہمکلام ہوتا ہوں ، کیونکہ میں بھی شاعر ہوں اس لیے سرائیکی شاعری کا بھی کافی مطالعہ ہے، میں نے جتنی سرائیکی شاعری پڑھی ہے اس میںزیادہ تر غمگین اشعار ہی نظروں سے گزرے ہیں، وسیب کے لکھاریوں میں موجود مونجھ کو دور کرنے کا نسخہ مجھے لاہور آکر ملا کہ جب رانا محبوب اختر نے کہا کہ وسیب کے لکھاریوں کو یونیورسٹیوں، صنعتی، ثقافتی اور سماجی اداروں ، سینماﺅںاوربیرون ممالک کی سیر کروائی جائے تاکہ ان کے اندر کی ثقافتی،سیاسی اور سماجی تنہائی ختم ہواور وہ انسانیت پرستی کے نئے آدرشوں کے ساتھ اپنے آپ کو ہم آہنگ کرسکیںاور یہی نسخہ کیمیا پاکستان کی دوسری قومیتوں کے لکھاریوں پر بھی آزمایہ جاسکتا ہے ۔
میں جب سے لاہور آیا ہوں جناب ضیاشاہد کو ایک متحرک انداز میں دیکھا ہے اگرچہ وہ کافی بزرگ ہوچکے ہیں مگر ان کے لب ولہجے سے پتا چلتا ہے کہ وہ کسی سترہ سال کے نوجوان سے زیادہ بہتر انداز میں بول اورکام کرسکتے ہیں،ابھی ان کی صحافتی زندگی کے پچاس سال بھی پورے ہونے والے ہیں لیکن میں جب بھی ان سے ہمکلام ہوتا ہوں وہ نئے جذبوں اورنئی سوچوں کی وجہ سے مجھ سے بھی زیادہ تروتازہ سوچ کے مالک محسوس ہوتے ہیں،مجھے ان کے زیر سایہ کام کرتے ہوئے دوماہ کا عرصہ ہوا ہے ان دوماہ میں انہوں نے ایسے ایسے کام سرانجام دیئے ہیں جنہیں مجھ جیسا نوجوان بھی دوسال میں مکمل کرتا ،اگست میںملتان میں خبریں مشاورت ہویا سرائیکی مشاعرہ لوگ آج بھی اس کے سحر سے نہیں نکل پارہے اس کی وجہ میں نے یہ محسوس کی ہے کہ وہ لوگوں کو راستے کی سمت کا تعین کر کے دے دیتے ہیںپھرلوگ جوق در جوق اس راستے پر چلنا شروع کر دیتے ہیں،کئی سالوں سے آپس میں دست وگریباں ملتانی آج شیر وشکر ہوچکے ہیں اور سب یک زباں ہوکر صوبے کے لئے کوشاں ہیں ،ان میں پنجابی ومہاجر یاسرائیکی کی تفریق تقریبا ختم ہوچکی ہے۔
جناب ضیا شاہد کا ملتان کے بعد بہاول پور جانا بھی کسی بڑے خوشگوار جھونکے سے کم نہیں ،احمد پور سانحہ کے درد بھرے لوگوں کے پاس ایک دردی کے جانے سے اب وہاں سے بھی نئی امیدوں کی خبریں آرہی ہیں،متاثرین کے رُکے چیکوں کی تقسیم کے ساتھ ساتھ مقامی سرکاری اداروں کے افسران کے رویوں میں بھی فرعونیت کے بجائے اب نرمی نوٹ کی جارہی ہے،ویسے جب سے خبریں کے دیکھا دیکھی دوسرے میڈیاہاﺅسز نے بھی وسیب کے لوگوں میں سیاسی شعور اجاگر کرنا شروع کیا ہے اب یہاں کے سیاست دانوں کی گردنوں سے سریاواقعی نکلتا محسوس ہوتا ہے،جمشید دستی کے کھوتا ریڑھی اور جوتے پالش کرنے کے عوامی سٹائل کو اب دوسرے بڑے بڑے سیاست دانوں نے بھی کاپی کرنا شروع کر دیا ہے کہ گذشتہ دنوں شاہ محمود قریشی کی ملتان کی گلیوں میں موٹرسائیکل پر اپنے ووٹرز کے پاس جانے کی ویڈیو کے بعد ان کے بیٹے زین قریشی کی سبزی فروش کے تھڑے پر بیٹھنے کی فوٹو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکی ہے،اسی طرح ربانی کھر کی اپنے ووٹرز سے معافی مانگنے کی فوٹو بھی کافی چرچا پاچکی ہے، رحیم یار خان کے دوست بتا رہے تھے کہ مخدوم احمد محمود بھی اب جہاز سے اتر چکے ہیں،ایک وقت تھا جب وہ لیاقت پور کے حلقے سے الیکشن لڑتے تھے توروزانہ جہاز جمال دین والی سے آتا اور ان کی پرچیاں پھینک کر چلا جاتالیکن آج وہ بھی عوامی انداز سیاست اپنانے پر مجبور ہیں، ایک جگہ تو پانچ سال بعد بھی تعزیت کرنے پہنچ گئے ہیں،اسی طرح ایم این اے میاں امتیاز کی موٹر سائیکل پر اپنے حلقے میں جانے کی ویڈیو بھی بہت ڈسکس ہورہی ہے،ادھر مخدوم خسروبختیاربھی سڑکیں ناپنے لگے ہیں ، جہانگیر ترین کے بارے میں تو اتنا کہا جارہا ہے کہ موصوف اپنا حلقہ ایک دن بھی خالی نہیں چھوڑتے جب باہر جانا ہو تو بیٹے کو بلوا لیتے ہیںدوسری طرف صدیق بلوچ بھی کتے اور گھوڑے پالنے کے بجائے کالج اور سکول بنوانے کاسوچ رہے ہیں،فخر امام ،فیصل صالح حیات،تہمینہ دولتانہ اور امجد نیازی بھی اب عوام کی بات کرنے لگے ہیں،سیاست دان یہ سب کچھ اس عوامی شعور کی وجہ سے کرنے پر مجبور ہیں جو خبریں اور ضیاشاہد نے چائے خانوں اورتھڑوں پر بیٹھے عوام کو دیا۔
جناب ضیا شاہد کی لکھی کتاب” پاکستان کے خلاف سازش“ دو ماہ سے میرے زیر مطالعہ ہے جو میں نے خود ان سے لی تھی ،سچی بات یہ ہے کہ اس کتاب نے مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبورکر دیا ہے اور میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ پاکستان میںاعلانیہ یاخاموش قوم پرستی کی سیاست کاکوئی مستقبل نہیںکیونکہ سیاست اقتدار کانام ہے اور جب ایک قوم پرست اقتدار حاصل کرے گا تو وہ لازمی طور پرصرف اپنی قوم ، قبیلے اوراپنی نسل کی ترقی کے بارے میں سوچے گا اور ان کے لیے کام کرے گاجو پاکستان ایسے کثیرالاقوامی ملک کے لیے بہتر نہیںکیونکہ یہاں مختلف زبانوںاور نسلوںکے لوگ جگہ جگہ رچ بس گئے ہیںاس لئے پاکستان میں قوم پرست سیاست کی بجائے قومی سیاست ہی یہاں کے کروڑوں لوگوں کی بھلائی اور جڑت کا باعث بن سکتی ہے،اس کتاب اور جناب ضیاشاہد کی سوچ نے مجھے کلچرل پاکستان کی بھی شاند(جھلک) دی ہے کہ یہ ملک ثقافتی انداز میں نہ صرف ترقی کر سکتا ہے بلکہ آگے بھی بڑھ سکتا ہے،اس کتاب کے مطالعے کے دوران میں یہ بھی سوچ رہا ہوں کہ انہوں نے اس کتاب میںان پنجابی رہنماﺅں کا ذکر کیوں نہیں کیا جو سرحد کے آرپار ایک ہونے کی گردان کرتے نہیں تھکتے۔
جناب ضیاشاہد کی باتیں کبھی کبھی مجھے بہت زیادہ متاثر کرتی ہیںجن سے میرے اندر بھی نئی نئی سوچوں کے سوتے پھوٹ رہے ہیں،ستلج کے ساتھ ان کے عشق نے انہیں نئی توانائیوں اور نئی روشنیوں سے جوڑ رکھا ہے اور مجھے یہی لگتا ہے کہ ان کا یہ عشق انہیں زندگی کی نئی معراج عطاءکررہا ہے کہ آجکل وہ جب خاموشی سے سوچوں میں گم صوفے پر سو رہے ہوتے ہیں تو مجھے کسی ولی کامل کی طرح لگتے ہیںاور میں ایک نئے ضیاشاہد کا درشن کر رہا ہوتا ہوں۔
(کالم نگار معروف شاعر اور صحافی ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved