بس سٹاپ، توجہ کے منتظر

ملیحہ سید …. زینہ
میرے لیے وہ ایک نارمل صبح تھی جس کا آغاز معمول کے کاموں کے ساتھ ہوا ، آفس جانے سے پہلے گھر کے کچھ کام اور پھر آفس کے روٹین کاموں کو خوش اسلوبی سے سر انجام دینے کے بعد حسب معمول شام چھ بجے میں بس سٹاپ کی طرف روانہ ہوئی، مومنہ بھی ہمارے درمیان تھی۔ اس وقت میں نے واپسی کے لیے ابھی رکشہ نہیں لگوایا تھا۔ سچ تو ہے کہ مجھے بس سٹاپ پر کھڑے ہو کر بس کا انتظار کرنا ہمیشہ سے ہی برا لگتا ہے جس کی وجہ مردوں کے رویے ہیں ۔ عورت کو گھورنا وہ اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں اور اگر وہ عورت کوئی ردعمل ظاہر کرے تو پھر یہ معاشرہ بڑی آسانی سے اسے فاحشہ قرار دے کر اسے انسان کے رتبے سے بھی نیچے گرا دیتا ہے کہ گھر سے باہر آ گئی ہے ۔یہاں پر کسی حد تک قصور ان خواتین کا بھی ہے جو لباس اور میک اپ کے نام پر ہر حد عبور کر جاتی ہیں جو آفس آنے کے لیے بھی میک اپ کی تہیں لگا کر آتی ہیں اور واپسی پر بھی ایسا ہی کرتی ہیں ۔جب کہ عام مشاہدہ ہے کہ شام کے اس وقت شکار اور شکاری دونوں ہی باہر نکل آتے ہیں ۔جس کا آسان قیام بس سٹاپ ہے جہاں سے دونوں کو اپنا اپنا شکار مل جاتا ہے ، ایک کو پیسے سے غرض ہے اور دوسرے کو اپنی ہوس کی تکمیل سے اور ان کے معاہدے کے اس درمیانی عرصے میں وہ لڑکی یا خاتون ذہنی طور پر کوفت میں مبتلا ہو جاتی ہے،جو آفس سے گھر جانے کے لیے بس کے انتظار میں وہاں کھڑی ہوتی ہے۔میںاس رویے کو اکثر اپنے سوشل میڈیا پیج پر لکھا کرتی تھی مگر کالم نہیں لکھ پائی مگر آج جب کالم لکھنے بیٹھی تو پھر اس دن کے لیے عورتوں کے حوالے سے اس سے اچھا موضوع میرے سامنے نہیں آیا ۔ مگر اس مسئلے پر بات کرنے سے پہلے کچھ زمینی حقائق کا جائزہ لینا انتہائی ضروری ہے تا کہ میرے قاری کو موضوع کی حساسیت کا اندازہ ہو سکے کہ کہنا کیا چاہتی ہوں ۔
ہماری معاشرتی زندگی میں آنے والی حالیہ ساری تبدیلیوں کا تعلق معاشی ہے ، معاشی آسودگی کے لیے اب گھر کے سبھی افراد مل کر کام کرتے ہیں چاہے وہ بیٹی ہو یا بیٹا،مہنگائی اور غربت نے پاکستان کے معاشرتی ڈھانچے کو تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کی اس وقت موجودہ آبادی اکیس کروڑ سے زیادہ ہے جبکہ ایک محتاط اندازے کے مطابق چالیس فیصدپاکستانی غربت کی لیکر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔
دوسری جانب پاکستان بیوروشماریات ، کا کہنا ہے کہ رواں سال صرف ستمبر میں ہی پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں تقریباً چار فیصد تک اضافہ ہوا جب کہ ستمبر کے دوران مہنگائی کی شرح 3.42فیصدریکارڈ کی گئی۔ انسان زندگی میںغربت اور مہنگائی ایسے پیچیدہ پہلو ہیں جو نہ صرف جرائم کو جنم دیتے ہیں بلکہ اخلاقی اصولوں کو بھی توڑ پھوڑ کر رکھ دیتے ہیں ۔آج کے غریبوں نے غربت کو اپنے لیے گالی سمجھ لیا ہے ،اسی لیے وہ گالی بن کر جینے کو بھی برا نہیں سمجھتے۔یہی وجہ ہے کہ کم عمر لڑکیاں بھی جسم فروشی کے مکروہ دھندے میں شامل ہو چکی ہیں اور بس سٹاپ پر کھڑی اپنے لیے ”روزی روٹی“ کا بندوبست کر رہی ہوتی ہیں۔میرے نزدیک ہماری ریاست اور معاشرہ اس جرم کے واضح مجرم ہیں جو انسان کی ضروریات کوپورا کرنے میں ناکام ہیں۔ عورت عزت سے کمانے جائے تب بھی اسے کئی جگہوں پر غلیظ نظروں اور فقروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جیسا کہ ایک بار مجھے کرناپڑا، اپنی ٹیم کی فرمائش پر کھانا گھر سے بنا کر لے کر گئی تو آفس سے ہی کسی نے کہا کہ واہ جی کنوارے ہاتھ کا کھانا، سواد آ جائے گا۔ جس کی شکایت میں نے براہ راست باس کو لگائی تو اس کی کافی سرزنش کی گئی اور مجھے تحفظ کا احساس دیا گیا۔یعنی ادارے نے اپنی ذمہ داری پوری کی مگر وہ آفس کے معاملات تھے، وہیں حل ہو گئے۔ اس کے بعد بس سٹاپ پر ایک آدمی روز ہی تنگ کرتا ہے میں نے جرا¿ت کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہاں سے گزرتی پولیس وین کو روکا اور ان سے شکایت لگائی ۔
جبکہ اکثرراشن کارڈ کی سروس کی بات کی جاتی ہے تو عام مشاہدہ ہے کہ وہ ضرورت مندوں اور مستحقین سے کہیں زیادہ ہر سیاسی پارٹی کے ورکر کو مل جاتا ہے جو اس کارڈ کا حقدار بھی نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ لڑکے لڑکیاں غلط راستوں پر چلنابرائی نہیں سمجھتے۔
یہی وجہ ہے بس سٹاپ ایسی خواتین کو آسان جگہ لگتی ہے خاص کر وہ جو کسی نیٹ ورک کا حصہ نہیں ہوتیں۔ مگر ان کی وجہ سے ورکنگ کلاس کی ہم جیسی خواتین کو جس کیفیت سے گزرنا پڑتا ہے وہ حقیقتاً تکلیف دہ ہے۔ اس دن کی شام بھی ایسا ہی ہوا ، بس سٹاپ تک پہنچنا میرے لیے عذاب بن گیا تاہم ہاتھ میں فائل، لیپ ٹاپ اور بیگ ہونے کے باوجودایک دو اشارے بھی بھگتے حتیٰ کہ لفٹ دینے کے لیے گاڑی بھی رو کی مگرایک سخت نگاہ ڈال کر آگے بڑھ گئی۔ سٹاپ پر پہلے سے خواتین موجود تھیں اور ایک دو تو شدید غصے میں تھیں۔ میرے پوچھنے پر وہی جواب کہ آپی ،لوگ اتنے بے غیرت کیوں ہو چکے ہیں کہ انہیں شریف اور غلط لڑکیوں کی پہچان ہی نہیں رہی۔ نہ میرا لباس ایسا ہے اور نہ ہی میک اپ تھوپھا ہوا ہے پھر یہ لوگ ہمارے ساتھ ایسا کیوں کرتے ، گندے اشارے اور بار بار پاس سے گزر کر اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرنا ۔یہ کیا ہے سب ؟ ہمارے گھریلو مسائل ہمیں گھروں سے نکلنے پر مجبور کرتے ہیں۔ تعلیم بھی اس لیے حاصل کی ،اللہ ایسی کمائی سے بچائے۔
میرے پاس ان سب سوالوں کے جواب تھے مگر اسے حوصلہ دینے کے سوامیں کچھ کر ہی نہیں سکتی تھی کہ بس سٹاپ پر کھڑی ہر عورت نہ ہی شکارہے اور نہ ہی شکاری کے لیے وہاں موجود ہے۔ صبح نو بجے سے لیکر شام پانچ یاچھ بجے تک رزق حلال کمانے والی لڑکی اپنی عزت کو اتنا سستا نہیں سمجھتی کہ ایک وقت کے اچھے کھانے اور بوتیک ڈریس کے لیے بک جائے اور جو ایسا کرتی ہیں توپھر عمر بھر بکتی چلی جاتی ہیں حتیٰ کہ جن سے شادی کرتی ہیں وہ بھی انہیں استعمال کر جاتے ہیں۔ ایسی لڑکیوں کو معاشی دھارے میں لانے کے لیے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کو مل کر کام کرنا ہو گا اس کے ساتھ ساتھ بس سٹاپوں پر پولیس کا ریگولر گشت ہونا چاہیے تا کہ ایسی مردو زن کو وہاں سے دور رکھا جائے جن کے رویوں کی وجہ سے دوسرے لوگ ذہنی اور روحانی کوفت کا شکار ہو جاتے ہیں۔بھوکے مردوں کی ننگی نگاہیں بس سٹاپ پر کھڑی ہر دوسری لڑکی کے لیے عذاب ہے اور شدید ترین روحانی اذیت بھی۔ایک نظر اس طرف بھی صاحب!
(کالم نگار سماجی مسائل پر لکھتی ہیں)
٭……..٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved