ہائی پروفائل اشتہاری

توصیف احمد خان
اس ملک میں کبھی ہائی پروفائل اشتہاری نہیں دیکھے تھے ، غالباً یہ پہلا موقع ہے کہ بعض بڑے لیڈران کرام اور ایک بڑے لیڈر کی اولاد جن کو مغل شہنشاہ بھی کہا جاتا ہے ، اشتہاری قرار پا رہی ہے ، شہنشاہ کی مناسبت سے تو انہیں شہزادگان عالی مقام نہ کہنا ادب و آداب کے منافی ہوگا ۔ ویسے آپ کو بتادیں کہ جو لفظ شہنشاہ کو اپنے نام کا حصہ بنائیگا ، وہ ان لوگوں میں سے ہوگا جن سے اللہ تعالیٰ روز محشر سب سے زیادہ ناراض ہوگا، کیونکہ حقیقی شہنشاہی تو اس ذات کے پاس ہے اس بارے میں حدیث پاک بھی موجود ہے ، یہاں مسئلہ یہ ہے کہ موصوف نے خود تو اپنے نام کے ساتھ شہنشاہ نہیں لگایا ، کچھ لوگ کہتے ہیں لہٰذا بار گناہ بھی انہی ، کہنے والوں پر ہوگا۔
اصل میں ہائی پروفائل اشتہاریوں کا ذکر ہو رہاتھا، اس فہرست میں سب سے پہلا نام اس ہستی کا ہے جو کسی سے ڈرتا ورتا نہیں تھا، شاید اسی لئے دوبئی میں کہیں دبک کر بیٹھ گیا ہے کہ کوئی سامنے آئے اور نہ وہ کسی سے ڈرے، یہ نام نامی تو آپ جان ہی گئے ہونگے ، یقینا ہم کمانڈو جرنیل جناب پرویز مشرف کا ذکر کر رہے ہیں جن کیلئے آج کی تاریخ خاص اہمیت رکھتی ہے کہ اس روز اقتدار کا ہما ان کے سر پر آ بیٹھا تھا، اگرچہ وہ خود طیارے میں تھے لیکن ہما بھی آخر پرندہ ہے کسی نہ کسی طرح سے جہاز میں داخل ہونے کی راہ نکال ہی لی ہوگی۔
غالباً کچھ عرصہ کیلئے شوکت عزیز اس فہرست میں رہے ہیں اور حال ہی میں جناب عمران خان اور جناب طاہر القادری نے اس فہرست کو اعزاز بخشا ہے کہ ان کا نام نامی اس میں شامل کرلیا جائے، طاہر القادری تو خیر کبھی کبھی پاکستان کے دورے پر آتے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے عمران خان صاحب نے قسم کھا رکھی ہے کہ وہ خود پیش نہیں ہونگے اور یہ وقت دوسروں کو عدالتوں کے چکر لگوانے میں صرف کرینگے، وہ ایسا نہ کرتے تو محترم نواز شریف کیونکر گھن چکر بن جاتے ۔
حال ہی میں اس فہرست کو مذکورہ دونوں شہزادوں کی شمولیت کا اعزاز ملا ہے کہ راولپنڈی کی احتساب عدالت نے پیش نہ ہونے پر چند روز قبل ہی انہیں ایسا قراردینے کا حکم دیا ہے، اب وہ اشتہاری شہزادے خود آتے ہیں یا انہیں لایا جاتا ہے ، یہ ان پر منحصر ہے ، ویسے نئے چیئرمین نیب اس حوالے سے کافی تجربہ رکھتے ہیں جس کا ذکر کل کے کالم میں بھی ہوچکا ہے اور اتفاق سے انہوں نے چارج بھی کل ہی سنبھالاہے، چارج سنبھالتے ہی ان کا جو بیان نظر سے گذرا ، اسکے مطابق نواز شریف کے خلاف ریفرنس کا نتیجہ ضرور نکلے گا۔
کتنے پتے کی بات کہدی ہے سپریم کورٹ کے اس سابق جج نے …..یقینا نتیجہ نکلے گا…..نوازشریف سزا پا جائیں گے یا بری ہو جائیں گے ، یہ نہیں ہوگا کہ کیس اس طرح لٹک کر رہ جائے اور لٹکنے کے بعد انجام وہی ہو جو آصف زرداری صاحب کیخلاف مقدمات کا ہوا ہے ، اب تو چھ ماہ کی مدت دیدی گئی ہے ،لہٰذا قیامت تک لٹکنے کا بظاہر کوئی امکان نہیں۔
حضرات ! کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ دونوں جماعتوں یعنی ن لیگ اور پیپلزپارٹی میں مک مکا کا نتیجہ ہے ، ہوگا لیکن ہم نہیں مانتے ، مگر …..اس بیان سے کچھ دھواں سا اٹھ رہا ہے ، ممکن ہے ہمارا وہم ہی ہو اور یہ وہ دھواں نہ جوہو مک مکا کے نتیجے میں اٹھتا ہے …برادرم خوشنود علی خان نے دو روز قبل لکھا تھا کہ نئے چیئرمین کیلئے پہلا چیلنج سپریم کورٹ کے نگران جج کا تقرر ہے ، غالباً انکے کہنے کا مطلب تھا کہ قانون میں اس کی گنجائش موجود ہے یا نہیں ، یہ دیکھنا اب جناب جاوید اقبال کا کام ہے کہ ان سے زیادہ قانون سے کون آگاہ ہے ، پھر چھ ماہ کی مدت بھی ایک معاملہ ہے ، ہم سپریم کورٹ کے کسی فیصلے پر اعتراض یا تنقید کی ہمت اور جرا¾ت نہیں کرسکتے ، مگر اس سلسلے میں کوئی باقاعدہ اصول وضع ہونا چاہئے کہ مذکورہ نوعیت کے ہر ہائی پروفائل کیس کا فیصلہ چھ ماہ میں ہوگا ، ورنہ تو سابق صدر محترم یعنی آصف علی زرداری کے مقدمات کم از کم ایک عشرہ تو ضرور چلے ہیں اور ان کے دونوں وزرائے اعظم یعنی یوسف رضا گیلانی اور پرویز اشرف برسوں سے عدالتوں کے دھکے کھا رہے ہیں۔
نوازشریف صاحب فرماتے ہیں کہ ان کے ساتھ ظلم ہوا ہے لیکن ہمارے خیال میں ان کو رعایت ملی ہے کہ مختصر مدت کی وجہ سے عدالتوں میں کم سے کم دھکے کھائے جائیں ، ویسے تو انہیں اور بھی کئی رعایتیں دی گئی ہیں جن کا ایک نہیں دو مطلب ہوسکتے ہیں کہ انجام بھی اسی قسم کی رعایتوں کے حساب سے ہوگا یا پھر قربانی سے پہلے جانور کو خوب کھلانے پلانے والا معاملہ بھی ہوسکتا ہے۔
بات پھر دوسری طرف نکل گئی، ہم کہہ رہے تھے کہ ملک کی تاریخ میں پہلی بار اتنے ہائی پروفائل اشتہاری دیکھنے کو ملے ہیں ، بھینس چوری اور اسی قسم کے مقدمات تو سیاستدان بھگتتے رہے ہیں مگر انہیں اس طرح کا شرف حاصل نہیں ہوا تھا ، ہم غلط ہیں تو قارئین میں سے کوئی ، جو علم رکھتا ہو ہماری تصحیح کرادے جس پر وہ ہمارے شکریہ کا حقدار ہوگا۔
اور قارئین ! آج کا دن ایک سپیشل یا خصوصی دن ہے …..1999کا یہی وہ دن تھا جب نوازشریف صاحب کی حکومت کو دوسری بار معذور ….معاف کیجئے گا معزول کیا گیاتھا ، سپیشل دن کے حوالے سے معذور قلم کی نوک پر آگیا، ویسے تو بات ایک ہی ہے، معزول یا معذور میں کوئی خاص فرق نہیں۔
اوپر بھی ذکر کرچکے ہیں کہ پروزمشرف کیلئے یہ سپیشل دن ہے کہ اس دن ہما نے ان کے سر کا انتخاب کیاتھا، دوسرے لفظوں میں نوازشریف کے ایک اقدام کی وجہ سے جسے ہم ان کی حماقت ہی کہیں گے ، ملک میں مارشل لاءنافذ کردیاگیا اور اقتدار جنرل پرویز مشرف نے سنبھال لیا تھا ، دوسرے لفظوں میں آپ اسے اقتدار پر قبضہ بھی کہہ سکتے ہیں ، ایوب خان ، یحییٰ خان ، اسکے بعد کچھ عرصہ بھٹو کا سول مارشل لاءاور پھر ضیاءالحق …..پرویز مشرف اس سلسلے کی یہ آخری پیشکش تھی، اللہ کرے کہ حتمی طور پر آخری ثابت ہو اور ملک کو مزید کسی مارشل لاءکا منہ نہ دیکھنا پڑے۔
بات اشتہاریوں سے چلی تھی اور مارشل لاءتک پہنچ گئی ، بہرحال ! ان حوالوں سے انشاءاللہ گاہے بگاہے لکھتے رہیں گے۔
٭٭٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved