اب بھی احتسابی عمل ایک سراب ہے

عبد الودودقریشی
پاکستان میں آج بھی احتسابی عمل ایک سراب ہے سندھ کے سیاست دانوں کا کہنا ہے اور اعتزاز احسن کا بھی دعویٰ ہے کہ کسی بھی ملزم کی ضمانت احتساب عدالت نہیں لے سکتی شرجیل میمن سے لے کر ڈاکٹر عاصم تک سب کی ضمانت ہائی کورٹ سے ہوئی جبکہ ایک ملزم مریم نواز کی ضمانت مچلکے پر نیب کے ارکان نے لے لی اور کیپٹن صفدر کی ضمانت احتسابی عدالت کے جج نے لے لی۔ عدالت نے حکم دیا کہ کوئی وزیر عدالت میں نہ آئے جبکہ شریف فیملی کی پیشی پر رینجر کو ہٹا دیا گیا ہے اور تمام وزراءاور مسلم لیگ کے ارکان کو وزیر داخلہ کے حکم پر عدالت تک جانے پر کوئی نہیں پوچھتا حیرت ہے کہ مریم نواز نہ کوئی سرکاری عہدہ رکھتی ہیں نہ رکن اسمبلی ہیں مگر بلٹ اور بم پروف گاڑیوں میں عدالت جاتی ہیں یہ اچھی بات ہے کہ پاکستان کے لٹیروں کو حفاظت کے ساتھ عزت بھی دی جائے مگر یہ سلوک سب پاکستانیو ںکے ساتھ برابر کا ہونا چاہئے کہ اگر عام آدمی کی پنسل بھی گر جائے تو ایس پی کی سطح کا افسر اسے اٹھا کر ملزم کو دے اور پھر سلوٹ بھی کرے۔ مگر یہ سب مخصوص لوگوں کے لئے ہے عام آدمی کی آج بھی راولپنڈی اور اسلام آباد کے تھانوں میں رقم بٹونے کیلئے چھترول کی جاتی ہے کراچی سے ایک خاتون کی سوشل میڈیا پر اپیل سب دنیا دیکھ کر خوفزدہ ہو رہی ہے کہ تھانے کے عقبی حصے میں اسے رکھ کر اس سے زیادتی پر مجبور کیا جاتا ہے اس ویڈیو پر پولیس نے اسے چھوڑ دیا مگر پھر اسے دوسرے چوکی میں بھجوا کر نامعلوم قتل کے مقدمے میں گرفتار کر لیا۔ کیا خوبصورت انصاف ہے جسم مرنے دو ورنہ جان دینی ہو گی اور سالہا سال جیل میں رہنے کے بعد پھانسی دلوائی جائے گی۔
سیف الرحمن کا احتساب جس میں جج ملک قیوم کو سزا سیف الرحمن تجویز کر رہا ہے یہ ملک قیوم آصف علی زرداری کو سزا دیتا ہے اور پھر اس مقدمے کی رقم اسے واپس دینے کیلئے بطور اٹارنی جنرل نیب خط لکھتا ہے سپریم کورٹ گرفتاری اور مقدمے کا حکم دیتی ہے مگر نہ گرفتاری نہ مقدمہ ان کے بھائی مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی ہیں اور لاہور کے حلقے 120 کے الیکشن سیل کے انچارج بھی تھے احتساب کا ایک دور مشرف کے دور میں جنرل امجد کے بطور چیئرمین آیا تھا مگر مشرف کی خواہشات اور چوہدری برادران کی خواہشات کی تکمیل نہ کرنے پر فاروق آدم کو ہٹایا گیا اور پھر جنرل امجد بھی چلے گئے۔ پھر نیوی کے ایک سابق سربراہ کو کس نے لگوایا اور ان کے ذریعے نیب میں چپڑاسی سے لے کر ڈائریکٹر تک اپنے افراد بھرتی کروائے اور اب نئے چیئرمین کے بارے میں بھی اس صاحب کی سفارش کا چرچہ ہے۔ احتسابی عدالت کی کارروائی، اور نئے چیئرمین کا ریکارڈ دیکھنے کے بعد مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ احتساب ایک ڈرامہ ہے اس کی وجہ لچک اور احتساب کرنے والوں پر اندر سے ایک خوف ہے کہ اگر انہوں نے احتساب کر کے صاحب ثروت اور صاحب اقتدار کو سزا دی تو انہیں کچھ عرصے بعد یہ سزا خود بھگتنی ہو گی اور انہیں تختہ مشق بنا دیا جائے گا جب ایک مقدمے میں وفاقی وزراءملزموں کے ساتھ سرکاری لاﺅ لشکر سمیت جائیں تو جج کتنی جرا¿ت کرے گا کہ وہ کسی کو سزا دے سکے اور پھر اس صورت میں جب جج کو معلوم ہو کہ عدالت کے باہر موجود پولیس اہلکار ان کا نہیں کسی اور کا حکم مانیں گے۔ آج بھی سوئٹزرلینڈ کے بینک لاکر میں حکومت پاکستان کے خرچ پر بدعنوانی کی مصدقہ دستاویزات پڑی ہوئی ہیں مگر کسی کو اس کی خبر ہی نہیں اور نہ ہی احتسابی ادارہ اس ریکارڈ سے دلچسپی رکھتا ہے کیونکہ اس طرح کی دستاویزات کی فوٹو کاپی عدالت میں دے کر وہ ملزموں کو بری کرا چکی ہے مجھے جنرل رفیع اللہ نیازی نے خود بتایا کہ انہوں نے سوئس بینکوں میں دستاویزات رکھی تھیں مگر بعد میں بینک لاکر کی چابی حکومت کے ختم ہوتے ہی سیف الرحمن نے مجھ سے لے لی تھی۔ سوئٹزرلینڈ سے پاکستانی سفیر واجد شمس الحسن کی نگرانی میں جو دستاویزات برطانیہ منتقل کی گئیں تھیں کہاں گئیں ان میںسے کون کون سے کاغذات تبدیل کر کے ہٹا دیئے گئے کسی کو اس کی فکر ہے۔ اور اب بھی عدالتوں میں احتساب کے حوالے سے چوہے بلی کا کھیل عوام کو دکھانے کیلئے ہے اور سیاسی طور پر جن لوگوں کو تعینات کیا گیا ہے کیا وہ لوگ بے اثر ہو چکے ہیں۔ یہ جو دکھاوے کا احتساب روزانہ میڈیا پر صرف گرفتاریاں اور پیشی کی صورت میں نظر آتا ہے یہ بھی سپریم کورٹ کی نگرانی کی وجہ سے ہے ورنہ عدالت پوچھتی کہ عدالتی آرڈر شیٹ میں جن رینجر کے انتظامات کی تعریف کی تھی وہ رینجر کہاں گئی ہے اور اس کو کیوں ہٹایا گیا اور پھر اس کے متبادل کوئی بااعتماد فورس موجود ہے اگر جج شریف خاندان کے خلاف کوئی فیصلہ دے تو عدالت میں ہی اس کی درگت نہ بنائی گئی یہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ہو چکا ہے جب پیپلزپارٹی لندن کے صدر نے اپنے ورکر کے ساتھ راولپنڈی صنعتی تعلقات سے متعلق خصوصی عدالت کے جج کو اس کی کرسی پر مارا تھا۔ ایک دن عدالتوں نے ہڑتال کی وکلاءنے بازوﺅں پر کالے جھنڈے لہرائے۔متعلقہ واقعے کا سرغنہ پیپلزپارٹی لندن کا صدر ہے مگر جج اپنی اس بے عزتی پر مستعفی ہو کر فیصل آباد چلے گئے تھے بعد میں معلوم ہوا کہ وہ تین سال تک بار میں بھی پریکٹس کرنے نہیں آئے یہ مختصر واقعات ہیں فہرست طویل ہے جس کے لئے کم از کم دس ہزار کالم لکھے جا سکتے ہیں۔ الگ الگ واقعات پر لہٰذا اس کی روشنی میں موجودہ احتساب بھی ایک سراب ہے۔
٭٭٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved