تازہ تر ین

سپریم کورٹ جہانگیر ترین پر برہم, زرائع آمدن بارے سنسنی خیز انکشاف

اسلام آباد (آئی این پی)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ ٹیکس معاملات کی تشریح کرنے کی مجاز ہے،قانون کے تحت زرعی آمدن پر ٹیکس عائد ہوتا ہے،ہائی کورٹ سے اپیل سپریم کورٹ میں منگوائی جا سکتی ہے،الیکشن کمیشن، ایف بی آر میں زرعی آمدن میں فرق کیوں ہے جبکہ جسٹس عمر عطاءبندیال نے کہا کہ عدالت نا اہلی کا مقدمہ سن رہی ہے،جہانگیر ترین کی ڈیکلیریشن کا ہم نے خاص جائزہ لینا ہے،آمدن میں فرق،لیز زمین ظاہر نہ کرنے پر نا اہلی کی درخواست کی گئی ہے، ہم ٹیکس نہیں آمدن ظاہر نہ کرنے کا جائزہ لے رہے ہیں،الیکشن کمیشن میں بظاہر زرعی آمدنی چھپائی گئی ہے، جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ الیکشن فارم میں جہانگیر ترین نے مکمل زرعی آمدن چھپائی ہے،الیکشن فارم میں ان سے مکمل آمدن پوچھی گئی تھی۔بدھ کو سپریم کورٹ میں جہانگیر ترین کے خلاف نااہلی کیس کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ جہانگیر ترین کے وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ پنجاب کے زرعی ٹیکس کے قانون میں ابہام ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ قانون کے تحت زرعی آمدن پر ٹیکس عائد ہوتا ہے۔ سکندر بشیر نے کہا کہ قانون کے بارے میں گزشتہ روز دلائل دیئے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ زرعی ٹیکس کے قانون کی تشریح کرنے کی کوشش کروں گا ہم ابھی زرعی ٹیکس کے قانون کی شق کے اطلاق کو سمجھ رہے ہیں۔ وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ پانامہ فیصلے میں بھی عدالت نے کہا کہ ہم ٹیکس اتھارٹی نہیں۔ اس کیس میں عدالت ٹیکس معاملات کا جائزہ لے رہی ہے۔ اس پر عدالت نے کہا کہ ٹیکس حکام نے تصدیق نہیں کرائی لیز زمین مالکان سے لی یا نہیں۔ اس پر وکیل سکندر نے کہا کہ متعلقہ فورمز کے بعد اپیل سپریم کورٹ میں ہی آنی ہے ٹیکس آڈٹ کے معاملے کا عدالت ابھی جائزہ نہ لے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہائیکورٹ سے اپیل سپریم کورٹ میں منگوائی جاسکتی ہے اس پر وکیل نے کہا کہ عدالت کیس منگوانے کے نوٹس جاری کرے جواب دیں گے۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ الیکشن کیشن‘ ایف بی آر میں زرعی آمدن میں فرق کیوں ہے؟ اس پر وکیل سکندر بشیر نے جواب دیا کہ ٹیکس حکام نے جہانگیر ترین کی زرعی آمدن کو درست قرار دیا۔ جسٹس عمر عطاءبندیال نے کہا کہ عدالت نااہلی کا مقدمہ سن رہی ہے نااہلی کیس میں جہانگیر ترین کے ڈیکلریشن کا خاص جائزہ لین ا ہے۔ امدن میں فرق‘ لیز زمین ظاہر نہ کرنے پر نااہی مانگی گئی۔ اس پر وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ لیز زمین کی آمدنی ٹیکس گوشواروں میں ظاہر کی گئی اس پر جسٹس عمر نے کہا کہ ٹیکس نہیں امدن ظاہر نہ کرنے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ وکیل نے جواب دیا کہ کاغذات نامزدگی کے ساتھ ٹیکس گوشوارے جمع کروائے گئے ہیں۔ انتخابی فارمز میں لیز زمین ظاہر کرنے کے لئے کالم موجود نہیں ہے۔ گوشواروں میں کوئی غلط بیانی نہیں کی گئی جسٹس عمر عطاءبندیال نے کہا کہ الیکشن کمیشن میں بظاہر زرعی آمدنی چھپائی گئی وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ عدالت ٹیکس آڈٹ کے معاملات میں مداخلت نہ کرے۔ عدالت کی تشریح سے متعلقہ فورم پر ٹیکس کے معاملات متاثر ہونگے۔ ٹیکس گوشواروں کو دو سال کے اندر کھولا جاسکتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ معاملہ متعلقہ فورم پر زیر التواءہو تو اس وقت کیا کیا جائے؟ کیا متعلقہ فورم سے فیصلے کا انتظار کیا جائے؟ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ الیکشن فارم میں مکمل آمدن پوچھی گئی ہے جو نہیں بتائی گئی۔ الیکشن فارم میں مکمل زرعی آمدن چھپائی گئی۔ وکیل سکندر بشیر نے جواب دیا کہ فارم میں پوچھا گیا کہ وہ آمدن بتائیں جس پر ٹیکس دیا جس آمدن پر ٹیکس دیا وہ لکھ دی۔ جسٹس عمر عطاءنے کہا کہ ایسی صورت حال میں آپ آمدن والا خانہ خالی چھوڑ دیتے وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ الیکشن فارم کوئی ٹیکنیکل لیگل فارم نہیں ہے۔ الیکشن فارم انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کے لئے ہے۔ عدالت نے جہانگیر ترین کے وکیل سے تحریری معروضیات طلب کرلیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن لڑنے والے کو لینڈ ہولڈنگ کی تعریف کا کیسے علم ہوگا ٹیکس گوشواروں میں آمدن درست ظاہر کی تو بدنیتی کیسے ہوگئی۔ سماعت (آج) جمعرات تک ملتوی کردی گئی۔ تحریک انصاف کے مرکزی رہنما جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ نیب میں اس وقت اہم معاملات چل رہے ہیں، نیب چیئرمین کا کردار بہت جلد سب کے سامنے آجائے گا، ن لیگ اور اپوزیشن نے بہت جلدی میں نیب چیئرمین کا فیصلہ کرلیا، جہانگیر تری نے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ ہم احتساب سے نہیں ڈرتے، عمران خان اور میرا بھی احتساب کرلیں، عمران خان پی ٹی آئی کے چیئر مین ہیں اور لوگوں کی امیدیں۔ میرے خلاف سماعت اگلے ہفتے مکمل ہوجائے گی۔آصف زرداری کا اپنا بات کرنے کا انداز ہے۔ اس وقت نیب میں اہم معاملات چل رہے ہیں، نیب چیئرمین کاکردار جلد سامنے آجائے گا، مسلم لیگ(ن) اور اپوزیشن نے نیب چیئرمین کے سلسلے میں بہت جلد فیصلہ کرلیا، عدالت کا فیصلہ میرے حق میں آئے گا، فیصلہ جو بھی ہو من و عن قبول کرینگے۔ ایل این جی کا کیس بہت بڑا فراڈ ہے،1992ءسے لیکر آج تک میری4 شوگر ملز ہیں، جتنی بھی زمین خریدی اسکا ریکارڈ موجود ہے، تمام ادائیگیاں کراس چیک کے ذریعے کی گئیں۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved