تازہ تر ین

مسلم لیگ ن کو سب سے بڑا جھٹکا ، اہم ترین رہنما ءنے پارٹی چھوڑ دی

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) میر ظفراللہ خان جمالی نے ن لیگ سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے تحفظ ختم نبوت قانون کے معاملے پر استعفیٰ دیا۔ انہوں نے کہا کہ سامان سمیٹ کر آگیا گھر جارہا ہوں۔ ایسی جگہ رہنا ناممکن ہے جہاں پر اللہ اور رسول کے خلاف بات کی جاتی ہو۔
لاہور،چنیوٹ(خصوصی رپورٹ،ڈسٹرکٹ رپورٹر) تحریک لبیک یا رسول اللہکی جانب سے گزشتہ رات گئے ختم نبوت قانون میں ترامیم کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ایک ہنگامی اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ 6 نومبر کو تحفظ تحفظ ختم نبوت لانگ مارچ کیا جائے گا جو لاہور سے اسلام آباد کیا جائے گا جبکہ پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دیا جائے گا۔ اس حوالے سے تحریک لبیک یا رسول اللہ کے ذمہ دار پیر اعجاز اشرفی نے کہا کہ اس لانگ مارچ کا مقصد حکومت کو آئینہ دکھانا ہے کہ ختم نبوت قانون میں ذمہ داران کو کیوں سزا نہیں دی گئی۔ اس کے علاوہ جو غیراسلامی کام ہورہے ہیں انہیں ختم کیا جائے لہٰذا جب تک ہمارے مطالبات پوے نہیں ہوں گے اس وقت تک احتجاج کیا جائے گا۔ دریں اثنا کل مسالک ورلڈ پاسبان ختم نبوت کے سربراہ علامہ محمدممتاز اعوان نے کہا ہے کہ حکومت میں موجودقادیانی لابی کے ایجنٹ اب بھی عقیدہ ختم نبوت کیخلاف سازشیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔حکومتی اعلان کے باوجودآئین سے ختم نبوت کا حلف نامہ حذف کرنے کے ذمہ داروں کیخلاف تاحال کاروائی کرنے کیخلاف جمعہ 13 اکتوبر کو یوم مطالبات ختم نبوت منایا جائے گا جس کے تحت دینی جماعتوں جے،یو آئی،جے یو پی،جماعت اسلامی،جمعیة اہلحدیث ،جمعیة اہلسنت ،تحریک ملت جعفریہ اور تنظیم علماءو مشائخ اہلسنت کے علماءو خطباءملک بھر کی مساجد میں جمعہ کے اجتماعات پرنواز حکومت کی قایانیت نوازی کیخلاف بھرپور سدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے مذمتی قراردادیں پاس کرائینگے۔جبکہ ورلڈ پاسبان ختم نبوت کے کارکن مختلف شہروں کی بڑی بڑی مساجد کے باہر احتجاجی جلوس نکالیں اورمظاہرے کرینگے۔لاہور میں احتجاجی مظاہرہ جامعہ رحمانیہ عبدالکریم روڈ سے تحفظ ختم نبوت ریلی نکالی جائےگی۔ چناب نگر میں شروع ہونے والی دو روزہ ختم نبوت کانفرنس کی تمام تر تیاریاں مکمل کانفرنس 19 اکتوبر سے شروع ہو گی دنیا بھر سے ہزاروں عاشقان مصطفٰے ﷺشرکت کریں گے۔ تفصیلات کے مطابق عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام 36ویں سالانہ دو روزہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس مسلم کالونی چناب نگر میں 20-19 اکتوبر بروز جمعرات اور جمعہ کو حسب سابق و شوکت سے منعقد ہو رہی ہے، جس میں ملک بھر سے تمام مکاتب فکر کے دینی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین اور مقرین شرکت فرمائیں گے۔ کانفرنس کی صدارت امیر مرکزیہ شیخ الحدیث حضرت مولانا ڈکٹر عبدالرزاق سکندر، نائب امراءحضرت پیر حافظ ناصرالدین خاکوانی، حضرت صاحبزادہ خواجہ عزیز احمد صاحب و دیگر مشائخ عظام فرمائیں گے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما حضرت مولانا غلام مصطفی کے مطابق کانفرنس کی تمام تر تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں اور مہمانوں کی آمد کا سلسلہ کل سے شروع ہو جائیگا۔
پشاور(خصوصی رپورٹ) جماعت اسلامی کے امیرسراج الحق نے کہا ہے کہ حکمرانوں نے ہمیشہ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دیا،راتوں رات ختم نبوت کے قانون پر شب و خون مارا گیا۔آصف علی زرداری پشاور میں لوگوں سے ووٹ مانگنے آئے ہیں انہوں نے پہلے عوام کےلئے کیاکیا ہے جو اب کریں گے۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا مرکز اسلامی پشاور میں علماءکنونشن سے خطاب میں کہنا تھا کہ پاکستان جغرافیہ کانہیں بلکہ ایک نظریئے کا نام ہے،سترسالوں سے قرآنی نظام،اسلامی عدالتیں نہیں ملی ننانوے فیصد لوگ انصاف سے محروم ہیں۔ملک میں سیاست، جمہوریت اور عوام یرغمال ہیں،سراج الحق کا کہنا تھا کہ حکمرانوں نے ہمیشہ بین الاقومی اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دیا اور مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنا دیا،ملک کرپشن کی دلدل میں پھنس چکاہے اور حکمرانوں کا قبلہ واشنگٹن ہے،ان کا کہنا تھا کہ راتوں رات ختم نبوت کے قانون پر شب و خون مارا گیا جماعت اسلامی کی تجویز پر قانون واپس لینے کا وعدہ کیاگیا،ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہئے صرف وعدے نہیں مانتے،سراج الحق نے شفاف تحقیقات کے لئے کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی قائم کرنے کا مطالبہ کیا ،امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے آصف علی زرداری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ لوگوں سے ووٹ مانگنے پشاور آئے ہیں عوام نے انہیں کرسی پر بٹھایا اس نے عوام کےلئے کیا کیا۔
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) میر ظفراللہ خان جمالی نے ن لیگ سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے تحفظ ختم نبوت قانون کے معاملے پر استعفیٰ دیا۔ انہوں نے کہا کہ سامان سمیٹ کر آگیا گھر جارہا ہوں۔ ایسی جگہ رہنا ناممکن ہے جہاں پر اللہ اور رسول کے خلاف بات کی جاتی ہو۔
لاہور،چنیوٹ(خصوصی رپورٹ،ڈسٹرکٹ رپورٹر) تحریک لبیک یا رسول اللہکی جانب سے گزشتہ رات گئے ختم نبوت قانون میں ترامیم کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ایک ہنگامی اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ 6 نومبر کو تحفظ تحفظ ختم نبوت لانگ مارچ کیا جائے گا جو لاہور سے اسلام آباد کیا جائے گا جبکہ پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دیا جائے گا۔ اس حوالے سے تحریک لبیک یا رسول اللہ کے ذمہ دار پیر اعجاز اشرفی نے کہا کہ اس لانگ مارچ کا مقصد حکومت کو آئینہ دکھانا ہے کہ ختم نبوت قانون میں ذمہ داران کو کیوں سزا نہیں دی گئی۔ اس کے علاوہ جو غیراسلامی کام ہورہے ہیں انہیں ختم کیا جائے لہٰذا جب تک ہمارے مطالبات پوے نہیں ہوں گے اس وقت تک احتجاج کیا جائے گا۔ دریں اثنا کل مسالک ورلڈ پاسبان ختم نبوت کے سربراہ علامہ محمدممتاز اعوان نے کہا ہے کہ حکومت میں موجودقادیانی لابی کے ایجنٹ اب بھی عقیدہ ختم نبوت کیخلاف سازشیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔حکومتی اعلان کے باوجودآئین سے ختم نبوت کا حلف نامہ حذف کرنے کے ذمہ داروں کیخلاف تاحال کاروائی کرنے کیخلاف جمعہ 13 اکتوبر کو یوم مطالبات ختم نبوت منایا جائے گا جس کے تحت دینی جماعتوں جے،یو آئی،جے یو پی،جماعت اسلامی،جمعیة اہلحدیث ،جمعیة اہلسنت ،تحریک ملت جعفریہ اور تنظیم علماءو مشائخ اہلسنت کے علماءو خطباءملک بھر کی مساجد میں جمعہ کے اجتماعات پرنواز حکومت کی قایانیت نوازی کیخلاف بھرپور سدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے مذمتی قراردادیں پاس کرائینگے۔جبکہ ورلڈ پاسبان ختم نبوت کے کارکن مختلف شہروں کی بڑی بڑی مساجد کے باہر احتجاجی جلوس نکالیں اورمظاہرے کرینگے۔لاہور میں احتجاجی مظاہرہ جامعہ رحمانیہ عبدالکریم روڈ سے تحفظ ختم نبوت ریلی نکالی جائےگی۔ چناب نگر میں شروع ہونے والی دو روزہ ختم نبوت کانفرنس کی تمام تر تیاریاں مکمل کانفرنس 19 اکتوبر سے شروع ہو گی دنیا بھر سے ہزاروں عاشقان مصطفٰے ﷺشرکت کریں گے۔ تفصیلات کے مطابق عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام 36ویں سالانہ دو روزہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس مسلم کالونی چناب نگر میں 20-19 اکتوبر بروز جمعرات اور جمعہ کو حسب سابق و شوکت سے منعقد ہو رہی ہے، جس میں ملک بھر سے تمام مکاتب فکر کے دینی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین اور مقرین شرکت فرمائیں گے۔ کانفرنس کی صدارت امیر مرکزیہ شیخ الحدیث حضرت مولانا ڈکٹر عبدالرزاق سکندر، نائب امراءحضرت پیر حافظ ناصرالدین خاکوانی، حضرت صاحبزادہ خواجہ عزیز احمد صاحب و دیگر مشائخ عظام فرمائیں گے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما حضرت مولانا غلام مصطفی کے مطابق کانفرنس کی تمام تر تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں اور مہمانوں کی آمد کا سلسلہ کل سے شروع ہو جائیگا۔
پشاور(خصوصی رپورٹ) جماعت اسلامی کے امیرسراج الحق نے کہا ہے کہ حکمرانوں نے ہمیشہ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دیا،راتوں رات ختم نبوت کے قانون پر شب و خون مارا گیا۔آصف علی زرداری پشاور میں لوگوں سے ووٹ مانگنے آئے ہیں انہوں نے پہلے عوام کےلئے کیاکیا ہے جو اب کریں گے۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا مرکز اسلامی پشاور میں علماءکنونشن سے خطاب میں کہنا تھا کہ پاکستان جغرافیہ کانہیں بلکہ ایک نظریئے کا نام ہے،سترسالوں سے قرآنی نظام،اسلامی عدالتیں نہیں ملی ننانوے فیصد لوگ انصاف سے محروم ہیں۔ملک میں سیاست، جمہوریت اور عوام یرغمال ہیں،سراج الحق کا کہنا تھا کہ حکمرانوں نے ہمیشہ بین الاقومی اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دیا اور مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنا دیا،ملک کرپشن کی دلدل میں پھنس چکاہے اور حکمرانوں کا قبلہ واشنگٹن ہے،ان کا کہنا تھا کہ راتوں رات ختم نبوت کے قانون پر شب و خون مارا گیا جماعت اسلامی کی تجویز پر قانون واپس لینے کا وعدہ کیاگیا،ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہئے صرف وعدے نہیں مانتے،سراج الحق نے شفاف تحقیقات کے لئے کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی قائم کرنے کا مطالبہ کیا ،امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے آصف علی زرداری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ لوگوں سے ووٹ مانگنے پشاور آئے ہیں عوام نے انہیں کرسی پر بٹھایا اس نے عوام کےلئے کیا کیا۔
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) جمعیت علماءاسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے مطالبہ کیا ہے کہ فاٹا کے مستقبل کا فیصلہ وہاں کی عوام سے پوچھ کر کیا جائے،فاٹا کے معاملے پر احتجاج کر کے اپنی سوچ کو دوسروں پر مسلط نہ کیا جائے ،سیاسی جماعتوں کے ورکروں کو اسلام آباد لا کر یہ کہنا کہ قبائل کے لوگ آئے ہیںاس طرح کے کاموں سے قوم کو دھوکہ نہ دیا جائے، سکاٹ لینڈ سے برطانیہ کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے اور برطانیہ کے لوگوں سے یورپی یونین کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کے متعلق پوچھا جاتا ہے تو یہاں کیوں نہیں،فاٹا کے مستقبل کے فیصلے میں جلد بازی نہ کی جائے، پارلیمنٹ میں اس حوالے سے جامع بحث ہو، ختم نبوت کے حوالے سے شق میں تبدیلی پر پورے ایوان سے اجتماعی گناہ ہوا، جس میں پی ٹی آئی بھی شامل ہے،شق میں تبدیلی کرنے والا چاہے کوئی چھوٹا ہے یا بڑا اس کی نشاندہی کی جائے اور اس کو اس کی سزا دی جائے۔وہ بدھ کو قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کررہے تھے۔ جمعیت علماءاسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ دو مہینے سے ملک سے باہر تھا میرے بعد ملک میں دو مسائل ابھرے جنہوں نے پوری قوم اور امت مسلمہ کو جھنجھوڑا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن بل میں ختم نبوت کے حوالے سے شق میں تبدیلی سے پورے ایوان سے اجتماعی گناہ ہوا ہے جس میں پی ٹی آئی بھی شامل ہے۔ اس موقع پر تحریک انصاف کے ارکان نے احتجاج کیا اور مولانا فضل الرحمن کے الفاظ کو حذف کرنے کا مطالبہ کیا جس پر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ میں ایوان میں کھڑا ہو کر یہ بات کررہا ہوں کہ پی ٹی آئی بھی اس میں برابر کی شریک ہے۔ آج نہیں تو کل یہ بات ثابت ہوگی اس لئے میرے الفاظ کو حذف نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ختم نبوت اور ناموس رسالت کے مسئلے پر کسی ایک دھڑے کی اجارہ داری نہیں اس پر تمام متفق ہیں۔ انتخابی اصلاحات بل پر قائم کمیٹی کے 126اجلاس ہوئے مگر سابق وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کے بعد اس بل میں نئے نکات شامل کئے گئے حکومت کے پاس اکثریت ہے جس طرح باقیوں کا حق ہے حکومت کا بھی یہ حق ہے کہ وہ نکات شامل کرسکتی ہے ان نکات پر ایک ہنگامہ برپا ہوا اس ہنگامے میں ختم نبوت کے حوالے سے شق میں بھی تبدیلی کردی گئی جس کی تحقیقات ہونی چاہئیں کہ یہ غلطی کس نے کی۔ انتخابات نزدیک ہیں اس معاملے پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ نہ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن بل میں کچھ نئے نکات بھی ایسے سامنے آئے ہیں جن پر اعتراض ہے جیسے سیون سی اور سیون بی کا قانون کا حصہ نہ ہونا ہے اس کو بھی قانون کا حصہ بنایا جائے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ناموس رسالت کا قانون اقلیتوں کے خلاف استعمال ہورہا ہے ممتاز قادری کو تو پھانسی دیدی گئی مگر اس معاملے کی جو وجہ بنی اس کی جانب کسی نے توجہ نہ دی وہ خاتون آج بھی جیل میں ہے اس کو بھی سزائے موت سنائی گئی ہے مگر اس پر عمل درآمد آج تک نہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت فاٹا میں آپریشن ہورہے ہیں جن کی وجہ سے لوگ دربدر ہیں۔ فاٹا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے ان حالات میں فاٹا کے مستقبل کا تعین کرنا مناسب نہیں پہلے وہاں کے لوگوں کو آباد کیا جائے پھر ان کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ آپ فاٹا کا 125سالہ سٹیٹس ختم کرنے جارہے ہیں اور آئین میں فاٹا کے حوالے سے چار شقیں تبدیل کررہے ہیں اس لئے ایسا کرنے سے قبل وہاں کے لوگوں سے پوچھ لیا جائے۔ اگر سکاٹ لینڈ سے برطانیہ کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے اور برطانیہ کے لوگوں سے یورپی یونین کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کے متعلق پوچھا جاتا ہے تو یہاں کیوں نہیں۔ اس بات میں کیا گناہ ہے کہ قبائلی لوگوں سے پوچھ لیا جائے کہ وہ کے پی کے میں انضمام چاہتے ہیں یا الگ صوبہ۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام جھگڑا نہیں اور نہ ہی ہم الگ صوبہ بنانا چاہتے ہیں ہمارا مطالبہ صرف یہ ہے کہ فاٹا کے مستقبل کا فیصلہ کرنے سے قبل وہاں کی عوام سے پوچھا جائے۔ اس ایوان میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار فاٹا تک بڑھانے کے لئے رواج ایکٹ پیش کیا گیا جس کی صرف ہم نے مخالفت کی مگر آج سب کہہ رہے ہیں کہ رواج ایکٹ ٹھیک نہیں کیونکہ وہاں لوئر کورٹس نہیں ہیں۔ فاٹا اصلاحات کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق وہاں ترقیاتی کاموں کے لئے دس سال تک 90ارب روپے دیئے جائیں گے تو پھر جلدی کس بات کی ہے مرحلہ وار تمام مراحل طے کئے جائیں۔ رواج ایکٹ میں آپ نے 2018 کے الیکشن میں فاٹا سے صوبائی نشستیں مقرر کردیں اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی بجائے پشاور ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار فاٹا تک بڑھانے کی تجویز دی اگر یہ انضمام نہیں تو اور کیا ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ فاٹا کے مستقبل کے فیصلے میں جلد بازی نہ کی جائے۔ پارلیمنٹ میں اس حوالے سے جامع بحث ہو۔ کچھ ہم آپ کو سمجھائیں کچھ آپ ہمیں سمجھائیں اور معاملہ کوبات چیت کے ذریعے حل کریں مگر جب آپ فاٹا کو کے پی کے میں ضم کرنے کیلئے احتجاج کریں اور اپنی سوچ کو دوسروں پر مسلط کریں تو یہ طریقہ درست نہیں۔ سیاسی جماعتوں کے ورکروں کو اسلام آباد لا کر یہ کہنا کہ قبائل کے لوگ آئے ہیں اور وہ اپنا حق مانگ رہے ہیں اس طرح کے کاموں سے قوم کو دھوکہ نہ دیا جائے دو دن بعد پشاور میں یوتھ کنونشن ہے جس میں قبائل کے لوگ ہوں گے سب دیکھ لینا کہ قبائل یہاں آئے تھے کہ وہاں ۔ وہ دور گزر چکا ہے جب آپ محلات میں بیٹھ کر فیصلے کرتے تھے اور ان کو لوگوں پر مسلط کرتے تھے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved