تازہ تر ین

عمران خان کے ایسے وارنٹ جاری جن کی ضمانت بھی نہیں ہوسکے گی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) الیکشن کمیشن نے توہین عدالت کیس میں چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے ۔الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی کے سابق رہنما اکبر ایس بابر کی درخواست پر توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی۔ الیکشن کمیشن کے 5 رکنی بینچ میں سے سندھ اور پنجاب کے 2 ممبرز نے عمران خان کے وارنٹ گرفتاری کی مخالفت کی تاہم 3 ممبرز نے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاریجاری کرتے ہوئے چئیرمین تحریک انصاف سے درخواست پر جواب طلب کرلئے۔الیکشن کمیشن نے حکم دیا ہے کہ عمران خان کو توہین عدالت کیس میں 26 اکتوبر کو گرفتار کرکے پیش کیا جائے، عدالت نے کیس کی سماعت 26 اکتوبر تک ملتوی کردی۔ خیال رہے کہ عمران خان نے غیر ملکی فنڈنگ کیس م یں عدالت پر متعصب ہونے کے الزامات لگائے تھے جس پر اکبر ایس بابر نے 23 جنوری کو ان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی۔ واضح رہے اس سے قبل 15 ستمبر کو الیکشن کمیشن نے توہین عدالت کیس میں عمران خان کو ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دیا تھا تاہم ان کی عدم پیشی پر الیکشن کمیشن نے ان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے جو اسلام آباد ہائیکورٹ نے معطل کردیئے تھے۔اس سے پہلے مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی نے سپریم کورٹ میں عمران خان نااہلی کیس میں متفرق درخواست دائر کر دی۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران خان کی منی ٹریل خود ساختہ ہے ‘ عمران خان نے الیکشن کمیشن سے ایک لاکھ پائونڈ کا اثاثہ چھپایا ہے ‘ نیازی سروسز کمپنی کے اکائونٹ کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔ جمعرات کو سپریم کورٹ میں عمران خان نااہلی کیس میں حنیف عباسی نے متفرق درخواست دائر کر دی۔حنیف عباسی نے عمران خان کی منی ٹریل کو خود ساختہ قرار دیدیا۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ ثابت نہیں ہو سکا کہ بنی گالہ نقشے کی رقم جمائمہ نے دی۔ نقشے کے 79 ہزار پائونڈ گوشواروں میں ظاہر نہیں کئے گئے۔ عمران خان نے الیکشن کمیشن سے ایک لاکھ پائونڈ کا اثاثہ چھپایا۔ نیازی سروسز کمپنی کے اکائونٹ کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔دریں اثناء پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ؤں نے الیکشن کمیشن کی جانب سے عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے پر اپنے رد عمل میں کہا ہےکہ عمران خان کی گرفتاری کا فیصلہ تعصب و تنگ نظری پر مبنی ہے جس کی ہم مذمت کرتے ہیں ،الیکشن کمیشن کے پاس وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے اختیارات ہی نہیں ،چیف الیکشن کمشنر کے 2داماد حکومت کے ملازم ہیں وہ اس عہدے پر رہنے کے اہل نہیں ،پہلے ہم خاموش رہے اب نہیں رہیں گے ۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نعیم الحق نے کہا کہ عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنا قابل مذمت فعل ہے،چیف الیکشن کمشنر کے 2بیٹے حکومت کے ملازم ہیں انہوں نے عمران خان کے معاملے میں تنگ نظری کا مظاہرہ کیا ہے، وارنٹ گرفتاری کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔نعیم الحق نے کہا کہ الیکشن کمیشن ان اختیارات کے تحت فیصلہ دینا چاہتا ہے جو اس کے پاس ہیں ہی نہیں، عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس پرانے قانون کے مطابق سنا جا رہا ہے حالانکہ وہ قانون ختم ہو چکا ہے، ان کے وارنٹ گرفتاری جاریکرنے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔انہوں نے چیف الیکشن کمشنر پر براہ راست تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے 2 داماد حکومت کے ملازم ہیں ، وہ اس عہدے پر رہنے کے اہل ہی نہیں ہیں انہوں نے تنگ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عمران خان کے وارنٹ جاری کیے۔ پہلے ہم خاموش رہے ہیں لیکن اب خاموش نہیں رہیں گے، یہ الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کرانے کی اہلیت نہیں رکھتا۔دوسری جانب الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد تحریک انصاف کے وکیل بابر اعوان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پی ٹی آئی اور عمران خان کے خلاف فیصلے تعصب کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارا بنیادی سوال یہ ہے کہ عمران خان کے خلاف نوٹسز کس قانون کے تحت جاری کیے گئے، جب تک اختیارِ سماعت کا فیصلہ نہیں ہوتا، جلدی میں جو بھی فیصلے کیے جائیں گے، اس کا مطلب یہی ہے کہ پی ٹی آئی اورعمران خان نشانے پر ہے۔دریں اثناء عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کاتوہین عدالت کیس میں عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنا زیادتی ہے ۔شیخ رشید نے کہا کہ عمران خان عوامی لیڈر ہیں اور ان پر کوئی کرپشن کے الزامات نہیں ہیں الیکشن کمیشن نے وارنٹ جاری کر کے اپنی پوزیشن کو مزید خراب کیا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے ملک میں کچھ ہونے والا ہے ،وارنٹ جاری کرنے کا مقصد حالات کو خراب کرنا ہے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved