زاہد حامد کےخلاف جوڈیشل انکوائری کروائیں

کنور محمد دلشاد …. نقطہ نظر
انتخابی اصلاحات بل کی آڑ میں ختم نبوت کے حلف نامے سے خارج ہونا اور صدق دل سے حلفیہ بیان کے الفاظ کی جگہ اقرار کرتا ہوں کے الفاظ شامل کرنا ایک ایسا معاملہ تھا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وزیراعظم کی کابینہ اورپارلیمانی امور پر گرفت کمزور ہے۔ دراصل میر ی نظر میں ےہ نیت کا فساد تھا کیونکہ اس فارم میں جہاں ختم نبوت کے حوالے سے حلفیہ بیان کو حذف کیا گیا وہاں انتخابی فہرست ایکٹ 74کی دفعہ سات (سی) منسوخ کر کے قادیانی ووٹر کو مسلمانوں کی ووٹر لسٹ سے نکالنے کا کوئی قانونی طریقہ ہی باقی نہ بچا اور ایسی کئی تبدیلیاں حادثاتی یا تکینیکی غلطیاں نہیں بلکہ نواز شریف کی سیکولرسوچ کا نتیجہ ہے۔ جو ان کے مشیر خاص ظفر اللہ خان اور زاہد حامد کی نیت کے فتور کو ظاہر کرتی ہے جس میں پارلیمانی اصلاحاتی کمیٹی کے بعض ارکان کی لادینی سوچ بھی شامل تھی۔
انتخابی اصلاحات کا بل ایک ایسا متنازعہ قانون ہے جسے ہر صورت عدالت میں چیلنج ہونا چاہےے۔ چونکہ اس قانون میں ایسی شقیں موجود ہیں۔ جنہوں نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات اور آئین کے آرٹیکل 62اور 63کی روح کو متاثر کیا ہے۔ اصلاحاتی بل کی شق 203سے جرائم پیشہ افراد کےلئے پارٹی صدارت کا راستہ کھول رہی ہے اور ان حالات میں پاکستان کا دستور خطرے کی زد میں ہے۔ نوازشریف کے ذاتی مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے جو قانون سازی کی گئی ہے۔ اب بھارت کا شہری بھی پاکستان میں سیاسی جماعت کا سربراہ بن سکتا ہے کیونکہ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2000کے آرٹیکل 5کو حذف کر دیا گیا ہے۔
کاغذات نامزدگی میں قسم و اقرار کے لفظ حذف کر دئےے تھے جو کہ گذشتہ بل میں موجود تھے۔ جب قسم و اقرار کے الفاظ ہی نکال دئےے جاتے ہیں تو باقی اقرار کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے۔ ترمیم سے پہلے ایک ڈکلیئریشن بھی دینا ہوتا تھا کہ ایک اللہ پر ختم نبوت پر یقین و ایمان ہونا اور ےہ ایک راستہ کھولا گیا تھا کہ قادیانی کسی بھی حکومتی عہدہ پر براجمان ہو سکیں۔حکومت پاکستان کو سیکولرسٹیٹ کی طرف گامزن کرانے کےلئے بین الاقوامی طاقتوں کو یقین دہانی کرا چکی ہے اور اب بڑی ہوشیاری اور چالاکی سے سارا کام کر رہی ہے کہ پہلی چیز حلف نامہ کی شق حذف کرنے کی سازش تھی اور دوسرا کاغذات نامزدگی سے قسم کے الفاظ حذف کرنے کی مذموم کوشش کی۔ حلف و اقرار میں فرق ےہ ہے کہ حلف کی خلاف ورزی پر امیدوار سزا کا مرتکب ہوتا ہے جب کہ اقرار سے انحراف کی صورت میں اس کے خلاف بدعنوانی اور حقائق سے انحراف کے خلاف ہونے کسی سزا کا محقق قرار نہیں دیا جاسکتا۔
کاغذات نامزدگی میں امیدوار کے ملکی اور غیر ملکی اور آف شور کمپنیوں کے حوالہ جات اپنے اورزیر کفالت کے بھی حذف کر دئےے گئے ہیں کہ 1974ءکی ترمیم کے تحت جن منحرف گروہ کو غیر مسلم قرار دیا تھا اس کی روح کو ہی ختم کرنے کی سازش انتخابی اصلاحات کمیٹی کے بعض ارکان نے کی تھی۔
میں نے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور پارلیمانی کمیٹی برائے انتخابی اصلاحات کو چند ماہ پہلے خبردار کر دیا تھا کہ حکومت کاغذات نامزدگی کے فارم میں کسی بھی قسم کی ترمیم یا اخراج سے اجتناب کریں کیونکہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے الےکشن رولز بنانے کےلئے الےکشن کمیشن آف پاکستان کو وسیع اختیارات تفویض کر دئےے تھے۔ جب انتخابی اصلاحات کمیٹی کے سیکولر ذہنیت کے ارادوں کا علم الےکشن کمیشن آف پاکستان کو ہوا کہ ایک متنازعہ غیر سرکاری تنظیم کے ایماءپر کاغذات نامزدگی فارم میں کئی ترامیم کر رہی ہے تو چیف الےکشن کمشنر آف پاکستان نے 16مئی 2017ءمیں انتخابی اصلاحات کمیٹی کو خط لکھا جس میں الےکشن کمیشن کے بذات خود اس اقدام کو انجام دینے کے حوالے سے آئینی حیثیت بیان کی گئی تھی اور انتخابی اصلاحات کی پارلیمانی کمیٹی کے ارکان کو ےہ ہدایت کی گئی تھی کہ وہ کسی بھی قسم کی ترمیم کی تجاویز الےکشن کمیشن آف پاکستان کو بھجوائے جو آئین کے آرٹیکل 218کے تحت بذاتِ خود ضرورت کے مطابق تبدیلی کا مجاز ہے۔ کیونکہ انتخابی اصلاحات کمیٹی کے بعض ارکان نے ےہ تجویز دی تھی کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ کے نامزدگی فارمز کو الےکشن ایکٹ 2017ءکے ڈرافٹ کے سیکشن 60اور 109کو حصہ بنایا جائے گا تاکہ مستقبل میں الےکشن کمیشن اس میں ترامیم نہ کر سکے۔ الےکشن کمیشن کا مو¿قف تھا کہ اس حوالے سے الےکشن کمیشن کے رولز بنانے کے اختیارات کو محدود نہ کیا جائے۔ ےہ الےکشن کمیشن کا اختیار تھا کہ وہ ایکٹ کے مقصد کے لئے فارمز کی تشکیل اور کاغذات نامزدگی کے فارم اور دیگر فارمز خود تیار کرے تاکہ آرٹیکل 218/2کی ضرورت پوری کرے۔ مزید ےہ کہ الےکشن کمیشن، الےکشن قوانین 2017ءکے ڈرافٹ کے تحت الےکشن کمیشن کی جانب سے تیار کئے گئے تمام فارمز کا تبادلہ پارلیمانی کمیٹی برائے انتخابی اصلاحات سے کیا جائے اور اگر انتخابی اصلاحات کمیٹی کا کوئی رکن فارم یا کسی اور فارم میں کسی کمی و بیشی کی تجویز دے تو اس تجویز کو تحریر کی صورت میں الےکشن کمیشن کو بھجوائے جسے بعدازاں الےکشن کمیشن اگر ضروری سمجھے تو اس پر غور کیا جائے۔ الےکشن کمیشن کو آئین کے آرٹیکل (2)218کے تحت تفویض کردہ اختیارات کے تحت وہ کسی بھی امیدوار سے جس نے نامزدگی فارم جمع کرایا ہو کسی بھی قسم کی معلومات طلب کر سکتی ہے تاکہ آزاد، صاف، شفاف انتخابات منعقد کئے جاسکیں اور بدعنوانیوں کے طریقہ کار سے تحفظ حاصل کیا جاسکے۔ چیف الےکشن کمشنر جسٹس سردارمحمد رضا نے انتخابی اصلاحات کمیٹی کے ارکان کو جو خط لکھا تھا کہ نامزدگی فارم 2013میں کچھ ترامیم اور کرپٹ پریکٹس کے ازالے کے لئے جو اقدامات اٹھائے گئے تھے اور اسے ہی عدالت عظمیٰ کے سامنے 14مارچ 2013ءکو پیش کئے گئے تھے جس پر عدالت عظمیٰ نے کہا تھا کہ بہتراور ترامیم شدہ نامزدگی فارم ان کے 14مارچ 2013کے حکم نامہ کا حصہ ہے اور عدالتی مو¿قف ےہ ہے کہ لہٰذا ےہ اعلان کیا جاتا ہے کہ الےکشن کمیشن آرٹیکل 218(3)جسے آئین کے آرٹیکل 222، عوامی نمائندگی ایکٹ 76کی دفعہ 103اور104کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو جو فارمز تیار کئے گئے ہیں جو کہ آئندہ عام انتخابات کے لئے آئین و قوانین کے تحت ہوں گے۔
الےکشن کمیشن آف پاکستان کے مذکورہ فارم میں عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں ترامیم میں احتیاط کی تجویز دی تھی۔ دلائل کی روشنی میں الےکشن کمیشن آف پاکستان نے انتخابی اصلاحات کمیٹی سے درخواست کی کہ آئینی مشاہدات کا تبادلہ انتخابی اصلاحات کی پارلیمانی کمیٹی کے ساتھ کیا جائے۔ الےکشن کمیشن آف پاکستان کے اس اہم سفارشات کے بعد پارلیمانی کمیٹی برائے انتخابی اصلاحات نے کمیٹی کے اجلاس میں الےکشن کمیشن آف پاکستان کے سیکرٹری کو مدعو نہیں کیا اور فیصلے کرنے کو ترجیح دی تاکہ الےکشن کمیشن آف پاکستان کے فارم میں تبدیلی کے اختیارات کو محدود اور جامد کیا جاسکے اور ”صدق دل سے حلفیہ اقرار“ کا لفظ نکال دیا گیا۔ اب میڈیا، اسلامی ذہن رکھنے والے دانشوروں، اینکر پرسنز اور سیاسی جماعتوں کے دباﺅ کے تحت حکومت نے 24گھنٹے کے اندر ےہ مو¿قف بدل لیا اور نئی ترمیم منظور کر دی اور کاغذات نامزدگی کی اصل شکل بحال کرنے کا عزم لئے ہوئے ہے۔ دراصل وفاقی وزیر زاہد حامد ایک ایس۔این۔جی۔او کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے تھے جس کے وہ اور ان کے بھائی شاہد حامد بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبر رہے ہیں اور اس تنظیم نے بین الاقوامی ایجنڈے کے تحت سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کے بعد خاموشی سے انتخابی اصلاحات میں متنازعہ ترمیم منظور کرائی گئی اور قادیانیوں کے لئے قومی اسمبلی کے ارکان بننے کےلئے راستہ ہموار کر دیا۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف کے مطالبے پر مذکورہ متنازعہ وفاقی وزیر برطرف کر کے جوڈیشل انکوائری کرائی جائے کہ انتخابی اصلاحات کمیشن نے کس کی تجویز پر الےکشن کمیشن آف پاکستان کی سفارشات کو نظر انداز کر کے ختم نبوت کے حلف نامے کی اہمیت کم کی گئی تھی۔
پاکستان کی عوام میں تشویش پائی جانا قدرتی رد عمل تھا۔ صورت حال کے سنگین تر خدشات کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں تھا اور اگر سپریم کورٹ آف پاکستان از خود نوٹس لے لیتی تو ان ارکان کی رکنیت خارج ہو جاتی۔ جنہوں نے اس متنازعہ بل کی رائے شماری میں حصہ لیا تھا اور صدر مملکت کی اہلیت کو بھی چیلنج کیا جاسکتا تھا اسی طرح وفاقی وزیر زاہد حامد نے غیر ملکی ایجنڈہ پر عمل کرتے ہوئے انتخابی فہرست ایکٹ 74کی دفعہ 7(سی) منسوخ کر کے قادیانی ووٹروں کو مسلمانوں کی ووٹر لسٹ سے نکالنے کا کوئی طریقہ ہی باقی نہ بچا تھا اور ایسی کئی تبدیلیاں نیت کے فتور کو ظاہر کرتی ہے۔ اب عوام اور میڈیا کے دباﺅ کے تحت حکومت نے ان پرانی شقوں کو بحال کر دیا ہے۔ اگر حکومت تاخیری حربے اختیار کرتی تو پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کا جواز بن سکتا تھا۔ اس طرح سینٹ میں جو بل متعارف کرایا گیا اس میں ختم نبوت کا حلف بدلنے کی کوئی شق نہیں تھی۔ لےکن پاس کرنے کے لئے جو بل پیش کیا گیا اس میں خاموشی سے اسے شامل کیا گیا۔ اس سازشی کردار میں وفاقی وزارت قانون و انصاف کے مشیران شامل رہے تھے اور ایک این۔جی۔او کے شیطانی ذہن اس پر کام کر رہے تھے۔ جس کو بیرونی ملک سے کروڑوں ڈالر امداد ملتی رہی ہے اور اس این جی او میں انتخابی اصلاحات کمیٹی کے کم و بیش ارکان ان کے بورڈ کے رکن ہےں۔
(کالم نگار الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سابق سیکریٹری ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved