جن کی بینائی نہ ہو!

اسرار ایوب….قوسِ قزح
نابینا افرادکی ہڑتال پر ایک دلچسپ فلم یاد آ گئی جس میں ایک وزیر ذاتی فائدے کےلئے ایک یتیم مزدوربچے کو اس کی رہائش سے محروم کرنا چاہتا ہے لیکن نزدیکی کالونی کے بچے راستے کی رکاوٹ بن جاتے ہیںکیونکہ وہ بچہ ان کا دوست ہوتا ہے۔ معاملہ طول پکڑتا ہے تو ایک ٹی وی چینل فریقین کے درمیان ”ٹاک شو“کا اہتمام کرتا ہے، جس میں غریب بچے کا کیس اس کے دوست لڑتے ہیںجو مختلف سکولوں کے طالبِ علم ہوتے ہیں، اپنے موقف کی تائید میں وہ اپنے نصاب کی کتب میں سے مختلف اقتباسات پڑھ کر سناتے ہیں۔ آخر میں ٹی وی اینکر غریب بچے سے پوچھتی ہے کہ آپ بھی کچھ کہنا چاہیں گے؟ تو وہ کہتا ہے کہ میری زندی کا سب سے بڑا دکھ یہ تھاکہ میں پڑھ نہیں سکا لیکن آج یہ دُکھ ختم ہو گیا۔ اینکر بڑی حیرت سے پوچھتی ہے کہ وہ کیسے؟ بچہ بولتا ہے کہ میرے دوست جن کتابوں کے سبق منسٹر صاحب کو سنا رہے تھے وہ منسٹر صاحب نے بھی تو اپنے بچپن میںپڑھی ہوں گی، تو اگر بڑے ہو کر وہ سب کچھ بھول جاتا ہے جو سکول میں پڑھتے ہیں تو اس بات سے فرق ہی کیا پڑتا ہے کہ کوئی سکول جائے یا نہ جائے؟
ہمیں بالعموم اور ہمارے حکمرانوں کو بالخصوص سکول کالج کی کتابوں پرکیا ایک مرتبہ پھر نظر نہیںدوڑانی چاہیے؟ ہمیشہ سچ بولو، سانچ کو آنچ نہیں، امانت میں خیانت نہ کرو، رزقِ حلال عین عبادت ہے،رشوت لینے اور دینے والا دونوں جہنمی ہیں،دوسروں کے حقوق کی حفاظت ویسے ہی کرو جیسے اپنے حقوق کی کرتے ہو، بہترین انسان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے محفوظ رہیں،انفرادی مفاد پر اجتماعی مفاد کو ترجیح دو،دشمن کے ساتھ بھی ناانصافی نہ کرو،قانون کی بالادستی قائم کرو،ظالم کی مخالفت کرو اور مظلوم کا ساتھ دو چاہے وہ کوئی بھی ہو، بہترین حکمران وہ ہے جو عوام کی فلاح و بہبور کا خیال رکھے وغیرہ وغیرہ۔ کیا یہ سب کچھ ہم نے اپنے نصاب کی کتابوں میں نہیں پڑھا اور کیا ہم اسے بھلا نہیں بیٹھے؟سکول کالج سے یاد آیا کہ ہمارے نصاب میںمعذور افراد کا خصوصی خیال رکھنے کے حوالے سے بھی کئی سبق موجود تھے( اب بھی ہوں گے) لیکن ہمارا ایک کلاس فیلو جس کی ایک ٹانگ دوسری سے ذرا چھوٹی تھی، جب کلاس میںایک ایسا سوال پوچھ بیٹھا جس کا جواب تھوڑی ہی دیر پہلے دیا جا چکا تھا اور وہ کسی وجہ سے سن نہیں سکا تھا،تو استاد نے بڑے غصے سے اس کا کان مروڑ کر کہا کہ لنگڑے تو تم ہو ہی کیا بہرے بھی ہو؟ اس جملے سے اس معصوم کے دل پر کیا گزری ہوگی،یہ سوچ کر خدا کی قسم آج بھی آنکھوں میں آنسو اتر آتے ہیں۔ میں اکثر سوچتا تھا یہ کیسا معاشرہ ہے جہاں اس قسم کے اساتذہ ہوتے ہیں اور کسی معذور کے زخموں پر اس سے بری نمک پاشی اور کیا ہو سکتی ہے؟ مجھے کیا معلوم تھا کہ ایک روز اسلام کا قلعہ کہلانے والی پاک سر زمین میں نابینا افراد پر بھی پولیس کا وحشیانہ تشدد بھی دیکھنا پڑے گا؟
شاید آپ کو یاد نہ ہو کہ انہی نابینا افراد پر تین برس پہلے لاٹھی چارج بھی کیا گیا تھا، وہ بھی3دسمبر کو یعنی عین اس روز جب ساری دنیا معذوروں کا عالمی دن مناتی ہے اور ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کا عزم کرتی ہے؟ اسی دن 1982میںاقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے قرار داد نمبر37/52منظور کر کے 1983-92کو ”معذروں کا عشرہ“ قرار دیاتھا۔ اس عشرے کے اختتام پریعنی 1993ءمیں معذور افراد کے لئے یکساں مواقعوں کی فراہمی کے حوالے سے 22اصول ترتیب دیے گئے جنکا مقصد معذور افراد کی طبی، مالی اور معاشرتی دیکھ بھال اور تربیت ہے۔ان اصولوں کی بنیاد پر عالمی ادارہ برائے صحت نے تمام رکن ممالک اور معذروں کی بحالی و بقا کے لئے کام کرنے والے سبھی قابلِ ذکر اداروں کو ایک سوالنامہ بھیجاجس کی مدد سے اکٹھے کیے گئے چیدہ چیدہ حقائق کچھ اس طرح سے ہیں کہ 30فیصد ممالک ایسے ہیں جن میں معذور افراد کی بحالی کے لئے کوئی مناسب ادارہ سرے سے ہے د ہی نہیں،47 فیصد ممالک میں معذور افراد کو صحت کی بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں،33فیصد ممالک میں معذور افراد کے لئے کام کرنے والوں کو مناسب تربیت فراہم نہیں کی جاتی۔ ان حقائق میں اس حقیقت کا اضافہ کہ دنیا کا ایک ملک ©©©©”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ ایسا بھی ہے جہاں نابینا افراد پر لاٹھی چارج بھی کیا گیا، یقینی طور پر ایک عالمی ریکارڈ ہوگا۔ ذرادیر آنکھیں بند کرکے محسوس کیجئے کہ جن کی بینائی نہیں ہوتی، جنہیں اندھیرے کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا، جو ہر روز کتنی مرتبہ جیتے اور کتنی مرتبہ مرتے ہیں، ان کے دل پر پنجاب پولیس کے اس وحشیانہ برتاﺅ سے کیا گزری ہو گی،اس کے باوجود ان کے مسائل تا دمِ تحریر حل نہیں ہو سکے؟اپنا ایک شعر یاد آ رہا ہے کہ
روز سورج تو ضیا بانٹنے آتا ہے مگر
جن کی بینائی نہ ہو اُن کی سحر کیسے ہو
شاید آپ نے یہ کہانی نہ سنی ہو کہ ایک باپ کو اپنے بیٹے سے یہ شکایت تھی کہ وہ پڑھتا نہیں، ساراوقت کھیل کود میںگزار دیتا ہے لیکن بیٹا اس الزام کو سراسر بے بنیاد قرار دیتا تھا۔ تو باپ نے اس کی امتحانی تیاری کا جائزہ لینے کے لئے ایک روز دنیا کے نقشے کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے اسے یہ اعضاجوڑنے کا حکم دیا۔ بر خوردار نے آناً فاناً ساری دنیا بحال کر کے دکھا دی تو والد صاحب حیران رہ گئے۔کرشمہ طالب علم کی مہارت کا نہیں تھا بلکہ اس لڑکی کی تصویر کا تھا جو نقشے کی پشت پر مسکرا رہی تھی۔ وہ تصویر کے اعضا جوڑتا چلا گیا اور دنیا خود بخود جڑتی چلی گئی۔ یہ دلچسپ حقیقت والد صاحب پر کھلی تو انہوں نے بیٹے کو ایک بڑی ہی خوبصورت نصیحت کی۔ انہوں نے کہا کہ بیٹا ساری زندگی ایسے ہی ٹوٹے ہوئے لوگوں کو جوڑتے رہنا اور جب تم نے کسی ایک ٹوٹے ہوئے شخص کو بھی جوڑ لیا تو سمجھ لینا کہ ساری دنیا جڑ گئی ہے۔ کاش ہم یہ سمجھ سکیںکہ جس طرح ایک انسان کو جوڑنے سے ساری دنیاجڑ جاتی ہے اسی طرح ایک انسان کو توڑنے سے ساری دنیا ٹوٹ جاتی ہے۔
(کالم نگار ڈزاسٹر مینجمنٹ کنسلٹنٹ
اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved