خبریں مشاورت بہاولپور

خواجہ اسد اللہ ….اظہار خیال
بہاولپور کے مسائل پر مشاورت کیلئے جناب ضیاشاہد صاحب نے سابقہ ریاست کے تینوں اضلاع سے متحرک سیاسی و سماجی لوگوں کو بلا کر اپنا فرض خوب نبھایا، حالانکہ یہ کام مقامی سیاسی جماعتوں اور ان کے منتخب نمائندوں کا تھا جس پر یہاں کے باشندے آپ کے بے حد مشکور ہیں۔ مشاورت میں شریک لوگوں کی رائے میں یہاں کے تمام مسائل کا واحد حل بحالی صوبہ میں ہے جو بہت حد تک درست ہے۔آپ کی طرف سے مشاورت بہاولپور کے مسائل پر تھی لیکن وہ صوبہ بحالی میں تبدیل ہوگئی ، جس پر آپ نے خوبصورت جواب دیا کہ بہاولپور صوبہ بارے اپنی ذاتی رائے نہیں دوں گا کیونکہ یہ فیصلہ بہاولپور کے لوگوں نے کرنا ہے، بحالی صوب ہکے کارکنوں کیلئے یہ واضح پیغام تھا کہ اگر آپ بحالی تحریک سے سنجیدہ ہیں تو عوام کے پاس جائیں اسے ایک پیج پر لے آئیں تاکہ حکمران جماعت سمیت سب سیاسی جماعتیں مجبور ہو جائیں بحالی صوبہ کیلئے ۔بہالپور ڈویژن پنجاب کی ٹیل پر واقع ہونے کی وجہ سے حکومتی سہولیات نہ ہونے کے برابر ملتی ہیں۔ یہاں کے باشندوں کی آواز منتخب نمائندے پہنچاتے ہیں اور نہ ان کی سنی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں غربت اور بے روزگاری بہت زیادہ ہے، انڈسٹری زون نہیں۔ یہاں کے لوگوں کو سی پیک کی نہیں صاف پانی اور نہری پانی کی ضرورت ہے اور این ایف سی ایوارڈ کے تحت اپنے حصے کے فنڈز کی ضرورت ہے تاکہ آبادی اپنی بنیادی ضروریات پوری کرسکیں!
2013ءکے الیکشن میں حکمران جماعت کے نمائندوں نے بحالی صوبہ کا نعرہ لگا کر کامیابی حاصل کی تھی اور شہریوں کو یقین دلایا تھا کہ ہماری جماعت نے پنجاب اسمبلی سے قرارداد پاس کی ہے ۔ لہٰذا منتخب ہوکراپنا وعدہ پورا کریں گے، لیکن حکمان جماعت نے گیم کھیلی ہے جس کا بھرپور فائدہ اپوزیشن جماعتیں 2018ءکے الیکشن میں لے سکتی ہیں اور اگر ایسا ہوا تو حکمران جماعت کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا باوجود اس کے کہ ڈویژن کے باشندوں نے کبھی بھی صوبہ بحالی کو سنجیدگی سے نہیں لیا!میں یہ سوچ کر کانپ جاتا ہوں کہ اگر نواب آف بہاولپور نے اپنی ریاست کا الحاق کشمیر کے نواب کی طرح انڈیا سے کیا ہوتا تو موجودہ پاکستان کا نقشہ کیسا ہوتا؟ نواب کے اس اقدام کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
ریاست اپنے شہریوں سے امتیاز نہیں برتتی کہ اس پر کون آباد ہیں وہ کونسی زبان بولتے ہیں یا ان کا مسلک و مذہب کونسا ہے۔ اگر ہماری ریاست اور اس کے ادارے مزید مستحکم رہنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنی سوچ بدلنا ہوگی۔
ملک کی خوشحالی کیلئے مزید صوبے درکار ہیں اگر صوبہ پنجاب کو اس کی پاس کردہ قرارداد کے مطابق جنوبی پنجاب اور صوبہ بہاولپور میں تقسیم کر دای جائے تو کوئی قباحت نہیں۔ ہاں! اگر ایک گروہ یہ واویلا کرتا ہے کہ ہم تقسیم ہو جائیں گئے تو بھائی تقسیم ہو جانے سے کونسی قیامت آ جائے گی۔ میں آپ کو بتاتا چلو کہ آپ جڑے ہوئے کب ہیں۔
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved