دودھ کے رکھوالے کتے اور بلے

خواجہ عبدالحکیم عامر \ مجھے ہے حکم اذاں
صحافتی دنیا سے دو سالہ خودساختہ علیحدگی کے بعد اپنے اندر کی سچائی کے مجبور کرنے پر اور محترم ضیاشاہد کے حکم پر ایک بار پھر صحافت کی دنیا سے جڑنے کی کوشش کررہا ہوں‘ اس دعا کے ساتھ کہ رب کعبہ مجھے اس ٹرم میں بھی سچ اور صرف سچ بیان اور قلمبند کرنے کی ہمت اور جرا¿ت عطا کرے اور میں پاکستانی سیاست‘ صحافت اور ثقافت کو دیمک کی طرح چاٹنے والی منافقت پر کاری ضربیں لگانے کا فریضہ انجام دے سکوں۔ میری اس مختصر سی عرضداشت کا خلاصہ صرف اتنا ہے کہ مجھے جھوٹ اور منافقت کے سومناتوں میں ایک بار پھر اذان دینی ہے‘ سوئے ہوئے ضمیروں کو جھنجھوڑ کر جگانا ہے‘ سادہ لوح پاکستانیوں کو کھوکھلے اور جعلی نعروں کا چکمہ دینے والے لیڈروں کے گریبان جھنجھوڑنے ہیں۔ کرپشن کی دلدل کو صاف کرنے میں اپنا قومی فریضہ انجام دینا ہے‘ پاکستانی ثقافت کا حلیہ بگاڑنے والوں کا محاسبہ کرنا ہے۔ وہ پاکستانی کلچر جس پر ہمیں ناز تھا آج کے کلچر کا تذکرہ کرنے سے پہلے میرے رونگٹے کھڑے ہوچکے ہیں۔ فشار خون بلند سطح کو چھونے لگا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ کیفیت ہی مجھے بے حیائی و فحاشی کے مندروں میں اذان دینے کے لئے اکسا رہی ہے۔
سیاست اور سیاستدانوں کا ذکر کرنے سے پہلے مجھے اپنے صحافتی مرشد آغا شورش کاشمیری مرحوم کا مشہور زمانہ شعر ابھر کر سامنے آرہا ہے کہ:
میرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو
گھری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں میں
اور جب میں پاکستان کی موجودہ ثقافت اور کلچر کا ذکر کرنے کی کوشش کروں گا تو ظاہر ہے کہ اس شعر کے ساتھ ابتدا کروں گا کہ:
کل تیرا مقام اوج ثریا سے پرے تھا
اے ہوا تجھے آج کہاں دیکھ رہا ہوں
سیاست تو ایک ناقابل تصور طویل سفر کا نام ہے۔ سیاست اور سیاستدانوں کے بارے میں باتیں تو جب تک دم میں دم ہے ہوتی رہیں گی۔ جھوٹے اور سچے تبصرے ہوتے رہیں گے۔ میرا وعدہ ہے اپنے رب اور قارئین سے کہ بے لاگ تجزیئے قلمبند کرکے پیش کرتا رہوں گا‘ بے غیرتوں کی غیرت جگاتا رہوں گا‘ دولت کے پجاریوں کو موت یاد دلاتا رہوں گا کہ بھائیو اور دوستو ”کفن کی جیب نہیں ہوتی۔“
ہمارا وطن عزیز اندرونی و بیرونی طور پر جن خطرات اور ممکنہ حوادثات کا شکار ہے اس کی اگر تصویر کشی کردوں تو ایک طوفان بپا ہوجائے۔ پاکستانی سیاست و صحافت سے وابستہ معاملات کو آئندہ کالم کے لئے محفوظ کررہا ہوں اس امید کے سہارے کہ پاکستان کو تباہی کے کنارے پہنچانے والے عناصر کی نیندیں آج ہی سے اڑ جائیں گی۔ یہ جان کر کہ ایک مرد قلندر دو سال بعد ایک بار پھر کرپشن و منافقت کی دلدل میں کود پڑا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب بے ضمیر و بکاﺅ سیاستدانوں اور صحافیوں کو منہ چھپانے کے لئے پاکستان میں جگہ نہیں ملے گی۔
حالات و واقعات نے اگر شیخ رشید احمد کو خودکش سیاستدان بنایا ہے تو اللہ کی مہربانی سے اس فقیر کو بھی اعزاز حاصل ہے کہ میں صحافت کی دنیا کا خودکش قلمکار کہلوانے کا مستحق ہوں۔
پہلے کالم کی تمہید کچھ زیادہ ہی طویل ہو گئی مگر سچ تو یہ ہے کہ یہ تمہید ان قارئین کیلئے ضروری ہے جوخودکش سیاستدان اور خودکش صحافی کا مطلب نہیں سمجھتے۔ اس لیے میری درخواست ہے کہ میرے ہر کالم کو اذان سمجھ کر سنا اور پڑھا جائے ایسا کرنے سے زیادہ کا بھلا اور زیادہ کا برا بھی ہوگا۔ہمارے مغرب زدہ پاکستان بیورو کریٹس یقینا کسی کے ایماءپر پاکستانی ثقافت پر ضرب کاری لگانے کیلئے زبردست منصوبہ بندی کر چکے اور کر رہے ہیں کیونکہ پاکستان دشمن عناصر کو اس سچ اور حیثیت کا ادراک ہے کہ پاکستانی نوجوانوں کو توپوں اور ٹینکوں کے گولوں سے مفلوج نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان اور پاکستانیوں کو کمزور کرنے کیلئے ثقافتی یلغار اشد ضروری ہے اور جو انہوں نے شروع کر رکھی ہے۔
مقام افسوس ہے کہ پاک دشمن قوتیں اپنے مقاصد کے حصول میں 80 فیصد کامیاب ہو چکی ہیں اور ہمارے لوگ خاص کر نوجوان نسل ایک ایسے کلچر کو اپنانے کی طرف گامزن ہے جس کا انجام صرف اخلاقی تباہی ہی نہیں پاکستان کی تباہی ہی ہوسکتا ہے۔ وطن دشمن قوتیں بڑی تیزی کے ساتھ پاکستان کی ثقافت کو ختم کر رہی ہیں اور ہماری ثقافت کی جگہ عریانی و فحاشی اور جسم فروشی کو پاکستان کی ثقافت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ سرکاری و نیم سرکاری ثقافتی اداروں میں بے حیائی و بے راہ روی کا بازار گرم ہے ۔الحمرا سے لیکر پوش علاقوں میں موجود ثقافتی سنٹرز اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ جگہ جگہ جسم فروشی کے مراکز موجود ہیں۔ ابھی میں اپنے کالم کو آخری ٹچ دے رہا ہوں کہ تھانہ اقبال ٹاﺅن کے ایس ایچ او سرور نے فون پر مطلع کیا کہ اس نے ایک نام نہاد ثقافتی سنٹر سے دو درجن کے قریب عورتوں اور مردوں کو گرفتار کیا ہے جو مساج و دیگر ثقافتی سرگرمیوں کے نام پر مادر پدر آزاد کام میں مصروف تھے۔ اس جرات پر میں نے ایس ایچ او چودھری سرور کو شاباش دی۔ سٹیج ڈراموں میں فحاشی و بے حیائی تیزی کے ساتھ پھیلائی جا رہی ہے اور یہ سچ بیان کرتے ہوئے مجھے تکلیف ہو رہی ہے کہ بیورو کریٹس اور غنڈوں کی سرپرستی حاصل ہونے کی وجہ سے ان واہیات سٹیج ڈراموں پر قانون بھی گرفت کرنے سے قاصر ہے۔ مقصد و مطلب یہی کہ دال میں کالا ضرور ہے یا تو قانون بے غیرت ہوگیا اور یا پھر غنڈے اور بعض سرکاری بے غیرت بیورو کریٹس قانون سے زیادہ طاقتور ہیں۔ مقام افسوس ہے کہ کسی قانون کے محافظ کی جرات نہیں کہ سٹیج ڈراموں میں پیش کی جانے والی بے غیرتی کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائے۔
پاکستان کو اخلاقی طور پر دیوالیہ کرنے میں ہم برابر کے شریک ہیں مجھے یاد آیا کہ میں نے وزیراعلیٰ شہباز شریف کی خدمت میں گزارش کی تھی کہ جناب آپ نے دودھ کی رکھوالی پر کتے اور بلے مقرر کر رکھے ہیں جس کے جواب میں میاں صاحب نے اصلاح احوال بارے سفارشات پیش کرنے کی ذمہ داری مجھ سمیت پرویز رشید اور عطاءالحق قاسمی کو سونپی تھی۔
ہم نے طویل نشست میں سفارشات مرتب کرکے خادم اعلیٰ پنجاب کو پیش کردی تھیں جنہیں انہوں نے سراہا اور شاباش دی۔ اس کے بعد کیا ہوا اور ہورہا ہے چھوٹی سی مثال پیش کرتا ہوں کہ حکومت نے دکھاوے کے طور پر کئی سکرونٹی اور مانٹیرنگ ٹیمیں اور کمیٹیاں بنا رکھیں ہیں جو فحش سٹیج ڈراموں پر نظر رکھ کر انہیں بین کرنے کا اختیار رکھتی ہیں مگر یہ بات نہایت معذرت اور افسوس کے ساتھ بیان کررہا ہوں کہ کبھی کبھار تو ایسے لگتا ہے کہ سچ مچ کتوں اور بلوں کو دودھ کی رکھوالی پر مقرر کردیاگیا ہوا ہے اور ان بے حس جانوروں کی ڈوریاں ثقافت سے وابستہ بڑے افسروں کے ہاتھوں میں ہیں۔ میں یہ بات ڈنکے کی چوٹ پر اس لئے بھی کہنے کو تیار ہوں کہ ذاتی تجربہ ناقابل تردید ہوتا ہے ۔ میں نے بطور ممبر فلم سنسر بورڈ اور بطور ممبر سکرپٹ سکرونٹی کمیٹی پنجاب اس بات کا بڑی باریک بینی سے مشاہدہ کیا ہے کہ فحش حرکات اور ڈانس کرنے والیوں پر تمام تر برائیوں کا الزام ڈال دیا جاتا ہے کوئی مائی کا لال اس بات کی طرف دھیان نہیں دیتا کہ فحاشی و بے حیائی کو کنٹرول کرنے والی اتھارٹی بیوروکریسی اپنا اخلائی جواز کھوچکی ہے جو چند سکوں اور عیاشی کی خاطر اپنے فرائض بھلا بیٹھی ہے یہی وجہ ہے کہ آج کا کوئی بھی سٹیج شو یا ڈرامہ اس قابل نہیں کہ فیملی کے ساتھ بیٹھ کر دیکھا جاسکتا ہو۔ اگر یہ حقیقت ہے تو لعنت ہے گورنمنٹ کے ثقافتی ناخداﺅں پر جن کی عیاشی و کمزوری نے پاکستانی ثقافت کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔
کہنے کو تو میرے پاس اتنا مواد موجود ہے کہ کالم کی جگہ ختم ہوجائے گی مگر میں حکومت اور اس کے اللے تللے افسروں کے ضمیر اس وقت تک جھنجھوڑتار ہوں گا جب تک میراقلم کام کررہا ہے۔ بطور محب وطنقلمکار موجودہ گند سے دل برداشتہ ہوکر فی الحال صرف اسی وارننگ پر اکتفا کرتا ہوں کہ پاکستان کو کمزور ہونے سے بچانا ہے، نوجوانوں کو اخلائی طور پر تباہ ہونے سے بچانا ہے توایک کام بلاتاخیر کرنا ہوگا کہ ثقافت اور ثقافتی اداروں کو ڈیل کرنے والی ٹیموں کو بلاتاخیر تبدیل کرنا ہوگا اور پاکستانی ثقافت کو اس کا اصل مقام دلوانے کے لئے ایسے افسروں اور اہلکاروں کا تقرر کیا جائے جن کی غیرت اور ضمیر زندہ ہیں، بے غیرت اور بکاﺅ مال نہ ہوں۔ثقافت اور ثقافتی اداروں کو ہینڈل کرنے والی موجودہ سرکاری ٹیم کلی طور پر ناکام ہوچکی ہے۔ ثقافت کے نگران اور کرتا دھرتا ایسے افراد مقرر کردئیے گئے ہوئے ہیں جو ثقافت کی ابجد سے بھی واقف و آگاہ نہیں، بھارت ایسے سیکولر ملک کے علماء نے ایک فتویٰ جاری کیا ہے کہ خواتین کے لئے بھنویں بنوانا حرام ہے اس کے برعکس اسلامی ملک پاکستان کی خواتین کو مادرپدر آزادی دیدی گئی ہوئی ہے۔
سب سے بڑا دکھ مجھے پاکستانی علماءکرام پر ہے کہ سب کچھ جاننے سمجھنے کے باوجود وہ خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ یہ علماءہی کی کمزوری ہے کہ حکومت کو آئین میں ختم نبوت والی شق نکالنے کی جرات ہوئی۔ علماءسے اپیل نہیں مطالبہ ہے کہ خدارا چندے اور قربانی کی کھالوں کی دنیا سے باہر آئیں اور پاکستان و پاکستانی کلچر کو بچانے کے لیے اپنا رول ادا کریں میرے نزدیک جس کے امکانات کچھ زیادہ ہے۔
چلے چلتے چند باتیں جناب شہبازشریف کی نذر۔ امید ہے کہ جناب شعیب بن عزیز میری یہ تحریر اور گزارشات چھوٹے میاں صاحب تک ضرور پہنچائیں گے کہ اپنے اردگرد موجود چاپلوسوں کی خبر لیں ان کے حصار سے باہر آئیں اور دیکھیں کہ ان کے وزیر، مشیر بیوروکریٹس کیا کیا گل کھلارہے ہیں یہ لوگ حکومت کی نیک نامیوں پر بدنما داغ ہیں۔
دوستو! میرے اس کہے ہوئے کو میرے مشن کا ابتدائیہ / تعارف سمجھئے۔ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ بھرپور کوشش کروں گا کہ وہ حقائق آپ تک پہنچاﺅں جن پر پردہ ڈالنے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔
(کالم نگار زیادہ تر سماجی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved