کمردرد کب ختم ہوگا


توصیف احمد خان
12اکتوبر آیا اور گذر گیا، اٹھارہ سال پہلے بھی یہ دن آیاتھا، جو بہت سے لوگوں کیلئے بہت کٹھن ثابت ہوا۔ جنرل مشرف کیلئے ابتداکٹھن دن سے ہوئی مگر رات آئی تو سہانے پیغام لائی، نوازشریف اور ان کے ساتھیوں کیلئے اس لئے کہ وہ سب اس جرنیل کی گرفت میں آگئے اور بڑی مشکل کے ساتھ نکل پائے ، یہ دن انہی کیلئے نہیں پوری قوم کیلئے کٹھن تھا کہ یہ جمہوریت کا بوریا بستر سمیٹتے ہوئے آمریت کا سندیسہ لایا تھا،جمہوریت جیسی بھی تھی بہرحال جمہوریت تھی، اس میں لوٹ مار بھی ہوئی ہوگی ، اقرباءپروری بھی ہوئی ہوگی ، یقینا ہوئی ہے کہ برادری اور برادری کے لوگوں کو نوازنا اور انہی پر اعتماد کرنا وقت کے حکمرانوں کا شیوہ تھا، اس دور میں بہت سی بدانتظامی ہوئی ہوگی مگر اپنی بدترین شکل میں بھی آمریت سے بہتر تھی کہ اس میں کم از کم دم تو نہیں گھٹتا تھا ، باقی رہ گئی لوٹ مار وغیرہ تو آمریت کے دور میں کون سی کم ہوئی تھی ، کونسا آمرانہ دور ہے جو پاک صاف ہونے کا دعویٰ کرسکتا ہے، بہت سی داستانیں منظر عام پر آئیں اور بہت سی اونچے ایوانوں میں ہی دم توڑ کر رہ گئی ہونگی ۔
اس کا مطلب ہرگز نہیں کہ ہمیں نوازشریف صاحب سے کوئی ہمدردی ہے ، انہوں نے یاا ن کے ساتھیوں نے لوٹ مار کی ہے تو انہیں لٹکائیں اور انکی ہڈیوں سے قوم کا یہ مال نکلوائیں ، چھ ماہ نہیں ہوسکتا ہے تو اس سے بھی پہلے فیصلہ کریں اور جس نے جو کیا ہے اسے کیفر کردار تک پہنچائیں۔
اب ہمارا سوال یہ ہے کہ صرف نوازشریف اور ان کے بچے ہی کیوں؟ جس نے بھی لوٹ مار کی ہے اس کو پکڑیں خواہ وہ کتنے ہی اختیار اور اقتدار کا مالک کیوں نہ ہو، پانامہ میں صرف نوازشریف کے بچے ہی نہیں تھے، چار پانچ سو اور پاکستانی بھی تھے ، ان سے کون پوچھے گا ، یا ان کو اس قبیل کے دوسرے لوگوں کو چھٹی ہے کہ ان سے کچھ نہیں پوچھا جائیگا،کیا ان سے پوچھنے والا کوئی نہیں ہے …لوٹ مار تو لوٹ مار ہے کسی کو بھی کیوں بخشا جائے۔
جی ہاں! 12اکتوبر کے حوالے سے یاد آگیا، ایک مقدمہ 12اکتوبر والے آمر پر بھی بنا تھا، وہ آئین کے آرٹیکل 6کے تحت کیس ہے اور سب قارئین سمجھتے ہیں کہ کیس کیا تھا، اس کیلئے ایک خصوصی عدالت بھی بنی تھی، مگر طویل عرصہ سے اس مقدمہ کی کوئی خیر خبر ہے اور نہ ہی عدالت کی، ملزم بھی دوبئی میں کمردرد کا علاج کروارہاہے، یہ کیسی کمردرد ہے کہ دور ہونے کا نام ہی نہیں لیتی،آخر یہ درد کب ختم ہوگا ، غالباً ڈانس وغیرہ تو فزیوتھراپی کیلئے ہے ، ایسا لگتا ہے کہ صدیوں انتظار کرنا پڑیگا، اور فرض کرلیں کبھی اس مقدمہ کی بازگشت سنائی بھی دی تو غالباً اس وقت ملزم موجود ہوگا اور نہ مدعی اور خصوصی عدالت کے جج صاحبان بھی معلوم نہیں کس راہ پر چل نکلے ہوں۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ دونوں اس ملک کے حکمران تھے، ایک مقدمہ تو جھٹ پٹ ہورہاہے کہ اس ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کا یہی فیصلہ اور حکم ہے ، ہمیں اس حکم پر کوئی اعتراض نہیں لیکن ہمارا سیدھا سا سوال ہے کہ دوسرے مقدمے کی باری کب آئیگی ؟ کبھی آئیگی بھی یا نہیں ؟ کیا کوئی ایسا ادارہ ہے جو اس قسم کے معاملات کو دیکھ سکے ، اس کیس کو بھی دیکھ سکے اور بازپرس کرسکے کہ کیوں لٹکا ہوا ہے ، اب تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کبھی سماعت شروع ہو بھی گئی تو ایک نئی عدالت بنانا پڑے گی۔
ویسے یہ ذکر بھی کردیں کہ 12اکتوبر کے اقدام کے وقت نظریہ ضرورت ابھی زندہ تھا، فوج کے اقتدار سنبھالنے کے خلاف کیس پیش ہوا تو اس وقت کی سپریم کورٹ نے جمہوریت ختم کرکے آمریت کے قیام کے حق میں فیصلہ دیاتھا اور ہمارے راجپوت جج جناب افتخار چودھری اس بنچ کے رکن تھے، یاد نہیں مگر ہوسکتا ہے کہ موجودہ چیئرمین نیب بھی فل بنچ میں شامل ہوں۔
ہمارے یہاں مشہور ہے کہ قانون اکثر موم کی ناک ہوتا ہے ، اس کا ثبوت ہمیں ملتا رہتا ہے ، سارے آمروں کے ادوار میں ملا ، جسٹس منیر اکیلے نہیں تھے ، وہ تو اس قبیلے کے سرخیل تھے ، یاد آیا …! صرف یحییٰ خان کی آمریت کے خلاف فیصلہ دیا گیا تھا …لیکن کس وقت …؟ اس وقت جب مشرقی پاکستان ہم سے علیحدہ ہوچکا تھا، ذوالفقار علی بھٹو نے مارشل لاءکے سربراہ کے طور پر چارج سنبھال لیاتھا اور یحییٰ خان حراست میں تھا ، یحییٰ خان کے اقتدار کے دوران نہیں بلکہ یہ فیصلہ اس وقت آیا جب وہ اقتدار سے نکالا جاچکا تھا، ہوسکتا ہے کہ وہ بھی کسی قسم کا نظریہ ضرورت ہو، اب اس کی وضاحت تو کوئی ماہر قانون ہی کرسکتا ہے ، ہم ٹھہرے اس معاملے میں نرے جاہل، کوئی ہمیں یہ بھی بتادے کہ موجودہ مقدمات بھی تو کہیں نظریہ ضرورت نہیں …شاید کسی کی ضرورت ہو…مگر ہم نہیں مانتے، ایسا ہرگز نہیں ہے ، ایسا ہوہی نہیں سکتا ۔
قارئین! آج ایک دو اور موضوعات پر لکھنا چاہتے تھے مگر یہ 12اکتوبر درمیان میں آگیا…دعا کریں ، آپ بھی اور ہم بھی کہ آئندہ اس ملک میں ”12اکتوبر“ کبھی نہ آئے ( آمین ) ۔
جن موضوعات پر لکھنے جارہے تھے ان کا محض ذکر کردیتے ہیں کہ بڑی دلچسپ صورتحال ہے، پاکستان میں انٹارکٹیکا کے بعد دنیا کے سب سے بڑے گلیشیرز یعنی برف کے پہاڑ ہیں جو ہمارے شمالی علاقوں میں قراقرم ، ہمالیہ اور ہندوکش کے سلسلہ ہائے کوہ پر ہیں، دلچسپ امر یہ ہے کہ گلوبل وارمنگ کی بنا پر ساری دنیا میں گلیشیر پگھل رہے ہیں، مگر ہمارے گلیشیرپھیلتے جارہے ہیں جس کی وجہ سے دریاو¿ں میں پانی کی کمی ہوجائیگی کہ درجہ حرارت میں کمی ، تیز ہواو¿ں کے نہ چلنے اور نمی کی وجہ سے ان کے پگھلنے کی رفتار کم ہوگئی ہے، دنیا گلیشیر پگھلنے پر پریشان ہے اور ہمارا مسئلہ انکا نہ پگھلنا ہے ، اور یہ اطلاع حکومت پاکستان یااس کے کسی ادارے نے نہیں دی، اس کے راوی امریکی سائنسدان ہیں جنہوں نے شمالی علاقوں میں تحقیق کی ہے۔
ایک اور دلچسپ اطلاع کہ سویڈن، ناروے اور ڈنمارک میں نویں اور دسویں صدی عیسوی کے جہازرانوں کی کشتیوں میں ہی انکی قبریں دریافت ہوئی تھیں، وہاں سے ان کے کفن کے کپڑے بھی ملے جو سوسال تک سویڈن میں کسی سٹور میں پڑے رہے، اب کسی محقق نے نکالے اور ان پر کام کیا تو معلوم ہوا کہ ان پر لفظ اللہ اور علی ؓ موجود ہے ، ریشم اور چاندی کے تاروں سے کڑھا ہوا ہے، اب ان کپڑوں پر مزید کام ہورہاہے تاکہ اور اسلامی نقوش تلاش کئے جائیں ، سویڈن میں انہیں وائی کنگز یعنی بحری قذاق قرار دیاگیا ہے، ظاہر ہے مغرب اور کیا کہے گا۔
٭٭٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved