عمران خان کو دوستانہ مشورہ ہے وہ الیکشن کمیشن کو چیلنج نہ کریں بلکہ پیش ہوجائیں

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو
کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ کار ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں کہا ہے کہ
وہ مجبوریوں پر میری مسکرائے
یہاں تک تو پہنچے یہاں تک تو آئے
چوہدری نثار علی خان اور شہباز شریف ویسے تو ایک پیج پر ہیں۔ عدلیہ، فوج اور اداروں سے ٹکراﺅ نہ کرو وغیرہ لیکن شہباز شریف ”برادر خورد“ ہیں۔ چودھری نثار علی خان نے آج کھل کر کہہ دیا ہے کہ میاں نوازشریف کے خلاف فیصلے درست ہیں۔ یہ بات شہباز شریف صاحب نہیں کہہ سکے۔ ہمارے دوست نذیر ناجی ”نوائے وقت“ کے دور میں بینظیر کیخلاف بہت کھل کر لکھا کرتے تھے۔ وہ ان کے بچوں کے بھی صدقے واری جاتے تھے۔ پاکستان میں ہمارے لیڈروں کے بچے بھی عزیز ہوا کرتے ہیں۔ لوگ تو ان کے کتوں تک کو ووٹ دینے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں۔ چودھری نثار علی نے درست کہا ہے کہ مریم نواز نے پارٹی کو فائدہ پہنچانے کی بجائے نقصان پہنچایا ہے۔ آئی بی کی لسٹ میں کچھ نام ایسے ہیں جن کے تعلقات انتہا پسندوں کے ساتھ ہیں۔ ریاض پیرزادہ کے شیعہ انتہا پسند گروپ سے تعلقات بہت گہرے رہے۔ نجف سیال بھی اہل تشیع انتہا پسندو ںکو پناہ دیتے تھے وسطی پنجاب میں ان کا علاقہ گڑھ سمجھا جاتا تھا۔ لسٹ میں جو لوگوں کے نام ہی ان کے کسی نہ کسی طرح انتہا پسندوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ ریاض پیرزادہ چار پارٹیاں بدل چکے ہیں۔ اب بھی انہیں موقع ملا تو پارٹی بدل لیں گے۔ چودھری نثار علی خان کی مخالفت ہے خواجہ آصف سے، احسن اقبال سے، پرویز رشید سے۔ میاں نوازشریف جب جلاوطنی میں تھے۔ نثار علی خان نے بڑی بہادری سے وہ دور گزارا۔ وہ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے چیئرمین تھے اور انہوں نے اس دور میں بہت سے سکینڈل پکڑے۔ وہ پارلیمنٹیرین کی حیثیت سے بہت محنت کرتے ہیں۔ ان کی خواہش تھی کہ ہمارا لیڈر آئے گا تو مجھے گلے لگائے گا۔ ایک مرتبہ میں نوازشریف صاحب کے ساتھ عام آدمی کی حیثیت سے ملنے گیا ان کے سیکرٹری انور زاہد نے روک لیا کہ آپ نے وقت لیا ہے۔ میں نے جواب دیا نہیں۔ میاں صاحب باہر نکلے تو میں نے پکڑ لیا۔ انہوں نے کہا گاڑی میں بیٹھ جاﺅ بات کر لیتے ہیں۔ میں گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ کر انتظار کرنے لگا۔ اتنے میں جاوید ہاشمی آئے گاڑی کا شیشہ نیچے کر کے کہنے لگے یار میاں صاحب سے ہماری تو ملاقات نہیں ہو رہی حالانکہ وہ اس وقت وزیر تھے۔ انہوں نے کہا کہ راستے میں میرے متعلق بات کرنا۔ میں نے نوازشریف سے کہا کہ غلام اسحاق خان آپ کی چھٹی کرنے والے ہیں۔ آپ ان سے بات کریں۔ انہوں نے کہا میں نے وزارت خارجہ میں اہم لوگوں سے بات کرنی ہے آپ ساری تفصیل چوہدری نثار علی کو بتا دیں۔ میں نے واپس جانا تھا۔ ایک دن بعد ہی ان کی چھٹی ہو گئی۔ وزارت خارجہ پہنچ کر می ںنے کہا آپ اپنے ومیر کی بات بھی سن لیں۔ انہوں نے کہا وزیر تو بنا دیا ہے اَب اور کیا سنوں۔ میاں صاحب صرف اپنی ”ہارڈ کور‘’ سے ملاقات کرتے ہیں۔ چوہدری نثار علی نے مجھے بتایا کہ چھ ماہ ہو گئے ہیں میری نواز شریف سے بات بھی نہیں ہوئی انہیں اس بات کا بہت گلا ہے۔ چوہدری نثار علی کے پاس ڈان لیکس کے فیصلے کی فائل تھی۔ ایک فائل وزیراعظم ہاﺅس میں تھی۔ ان کے سیکرٹری فواد صاحب نے بیان جاری کر دیا کہ فاطمی صاحب کی چھٹی، راﺅ صاحب کی انکوائری؟؟ وغیرہ وغیرہ اس پر چوہدری نثار علی نے شور مچایا کہ یہ فائل تو میرے پاس تھی اور مجھے آﺅٹ کرنی چاہئے تھی۔ چوہدری نثار نے سوچا تھا کہ تین چار گھنٹے کی پریس کانفرنس کروں گا۔ اگلوں نے وہاں سے بیان جاری کر کے انہیں فارغ کر دیا۔ میاں صاحب کا اپنا انداز ہے وہ اپنے مشیروں پر انحصار کرتے ہیں۔ وہ اپنے افسروں کی زیادہ سنتے ہیں۔ نسبتاً وزراءکے۔ سینٹ نے جو قرارداد آج منظور کی ہے۔ اس کی ذرا برابر بھی اہمیت نہیں آئین میں ترمیم ہو چکی۔ ایک نااہل شخص اپنی پارٹی کا صدر بن سکتا ہے۔ ترمیم کی ووٹنگ کے وقت پی پی پی کے سات بندے، چھ بندے دوسرے پی ٹی آئی کے تین بندے اور ایم کیو ایم کے سارے رکن غائب تھے۔ لیکن ایک صاحب میاں عتیق نے اپنا ووٹ ڈال دیا۔ ان کے ووٹ سے حکومت والے جیت گئے۔ میاں عتیق نے فارماسویٹیکل کا لائسنس بنوانے کیلئے اپنا ووٹ نوازشریف کے حق میں دے دیا۔ آئین میں ترمیم ہو چکی اب اسے قرارداد کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ عمران خان، اسی الیکشن کمیشن کے تحت یاسمین راشد کے انتخابی حلقے میں گئے اور ان کی مہم چلائی۔ وہی الیکشن کمپین انہیں بلاتا ہے تو یہ کیوں پیش نہیں ہوتے۔ اگر آپ الیکشن کمیشن کو نہیں مانتے تو اس کے تحت ہونے والے الیکشن میں کس طرح حصہ لے سکتے ہیں؟ ہو سکتا ہے کہ عمران چاہتا ہو کہ مجھے گرفتار کیا جائے۔ لیڈر کے جیل میں جانے سے پارٹی کی ریٹنگ بڑھ جاتی ہے۔ عدالت کوئی بھی ہو غیر مشروط معافی مانگ لینی چاہئے۔ اس سے مخالفت ٹھیک نہیں۔ میرے خیال میں عمران خان کے مشیر بھی انہیں غلط مشورے دے رہے ہیں۔ لیڈر بھی انسان ہوتے ہیں۔ کسی نے کہا وہ آئینے کی طرح ہوتے ہیں۔ ان کے سامنے جو بھی آ جائے وہ اسی طرح ان کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ بنی گالا کا ایک دن والا مجمع ہے اور ایک رات والا مجمع ہے۔ شام کے مجمع کے دوست بہت اہم ہوتے ہیں۔ وہی اپنے مشوروں پر چلاتے ہیں۔ ایک ہندو سکالر چانکیہ نے اپنی کتاب میں تین چیزیں لکھی ہیں۔ ایک یہ کہ دشمن کے محل میں خوبصورت عورت داخل کر دو۔ محل کی ایک ایک خبر حتیٰ کہ بادشاہ کے بیڈ روم کی بھی خبر آپ کو مل جائے گی۔ دوسرا یہ کہ دشمن کے حواریوں میں دو، تین اپنے بندے پلانٹ کر کے داخل کر دو۔ جو اسے الٹی مت دے اور اس کا بیڑا غرق ہو جائے۔ سکالرز کا قول ہے کہ لوگوں کو میلوں، ٹھیلوں پر لگائے رکھو تا کہ ان کا دھیان اس طرف آئے ہی نہ کہ بادشاہ کیا کر رہا ہے۔ کیپٹن صفدر نے بڑی ذہانت کے ساتھ اپنے کارڈز کھیلے ہیں۔ چند دنوں تک لوگ جس پارٹی کو ختم نبوت کے قانون میں ترمیم پر بُرا کہہ رہے تھے۔ اب کہہ رہے ہیں کہ کیپٹن صفدر نے کمال کر دیا۔ انہوں نے بڑھک لگا کر ججوں اور فوجیوں کو مشکوک کیا ایک طرف اور دوسری طرف عوام کی توجہ اور دھیان ادھر سے ہٹا کر اپنی طرف لے آئے کہ کیپٹن صفدر نے بہت کمال بیان دیا ہے۔ سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے کہا ہے کہ اصولی طور پر عمران خان کا موقف درست نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن کے پاس آرٹیکل 204 کے تحت مکمل اختیارات حاصل ہیں کہ وہ ہائیکورٹ کے جج کی طرح ”ایکسرسائز“ کر سکیں۔ عمران کے خلاف ڈیڑھ سال سے کیس چل رہا ہے۔ انہیں سب نے مشورہ دیا کہ پیش ہو کر ضمانت حاصل کر لیں۔ لیکن ان کے ساتھیوں نے انہیں بند گلی میں دھکیل دیا ہے۔ بابر اعوان صاحب اچھے وکیل، معلوم نہیں وہ انہیں غلط مشورہ کیوں دے رہے ہیں۔ عدالت نے اگر انہیں ایک مرتبہ گیلانی کی طرح عدالت میں کھڑے ہونے کی سزا دے دی تو وہ 5 سالوں کیلئے نااہل ہو جائیں گے۔ عدالت میں غیر مشروط معافی نامہ جمع کروا دیں۔ عمران خان، شاہ محمود قریشی اور بابر اعوان کے ساتھ عدالت چلیں چاہیں انہیں ایک منٹ میں چائے پلا کر فارغ کر دیں گے۔ ورنہ سزا پائیں گے کوئی عدالت بھی انہیں ریلیف نہیں دے گا۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved