تازہ تر ین

عمران اداروں کی مضبوطی کے حامی الیکشن کمیشن میں پیش ہونا چاہیے

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے پروگرام ”کالم نگار“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی اور تجزیہ کار توصیف احمد خان نے کہا ہے کہ آرمی چیف نے معیشت کے حوالے سے بڑی زبردست اور الارمنگ باتیں کیں تاہم یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ فوج کئی دہائیوں تک حکومت کرتی رہی ہے۔ اکانومی میں فوج اتنی ہی ماہر ہوتی تو ملک تو اب تک جنت نظیر بن چکا ہوتا جبکہ دور آمریت میں ہمیشہ ملک کا نقصان ہی سامنے آیا۔ کسی بھی چیز کی تھیوری بیان کرنا اور بات ہے مگر اس پر عمل کرنا ایک الگ اور مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ دوسرے فریق یعنی حکومت سے بھی پوچھا جانا چاہیے کہ آپ انفراسٹرکچر کےلئے جو اتنے بھاری قرضے لے رہے ہیں یہ واپس کیسے ہونگے۔ زراعت پر بھی ٹیکس لگنا چاہیے۔ انتخابی اصلاحات بل کو چالاکی سے پاس کرانے والی حکومت اب سینٹ میں قرارداد سے بے نقاب ہوئی ہے۔ قرارداد کی قانونی نہ سہی اخلاقی حیثیت تو ضرور ہے۔ اس معاملہ پر پیپلز پارٹی کا اصولی مو¿قف اور تھا اور عملی مو¿قف دوسرا نظر آیا۔ بائیو میٹرک سسٹم کے تحت ووٹنگ میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ 60 سال کی عمر کے بعد جسم میں تبدیلی آ جاتی ہے اور انگوٹھے کا نشان بھی تھوڑا بدل جاتا ہے۔ معروف صحافی امجد اقبال نے کہا کہ آرمی چیف نے کئی اہم باتیں کیں۔ سلامتی اور معیشت کو جڑواں قرار دیا، روس جس کی ایک مثال ہے۔ امریکہ اور چین کی ترقی کی اصل وجہ ان کے اسلحہ کے ذخائر نہیں بلکہ مضبوط معیشت ہے۔ ہماری صورتحال یہ ہے کہ 22کروڑ میں صرف 11 لاکھ ٹیکس فائلر ہیں جن میں شاید ایک تہائی ٹیکس دینے والے ہیں۔ عام عوام سے ٹیکس لیا جاتا ہے لیکن جنہیں دینا چاہیے ان سے کوئی نہیں پوچھتا۔ نیب میں پلی بارگین کا قانون دنیا بھر میں موجود ہے۔ پلی بارگین کے تحت صرف قید نہیں ہوتی نااہلی دیگر سزا تو ہوتی ہے تاہم میرے خیال میں سخت سزا دینی چاہیے۔ پلی بارگین کے خلاف اسمبلی میں بھی بل بھیجا گیا ہے۔ اعلیٰ عدلیہ میں بھی کیس چل رہا ہے یقیناً وہ بہتر فیصلہ کرے گی۔ کوئی ادارہ بلائے تو پیش ہونا چاہیے۔ عمران خان اب ضمانت کےلئے ہائیکورٹ نہیں جا رہے بلکہ الیکشن کمیشن کے دائرہ کار کو چیلنج کرنے جا رہے ہیں۔ سیاسی قیادت اگر اداروں کا احترام نہیں کرے گی تو عوام تو بالکل ہی نہیں کرینگے۔ معروف صحافی خالد چودھری نے کہا کہ پاکستان میں صرف 3لاکھ افراد ٹیکس دیتے ہیں۔ آرمی چیف کا کام یہ نہیں کہ جغرافیائی حدود سے باہر نکل کر بات کریں۔ آرمی ملک کی صرف جغرافیائی حدود کی محافظ ہے۔ تمام اداروں کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے اس کے برعکس چلا جائے تو گڑ بڑ ہوتی ہے۔ فوج کا کام ٹریڈنگ کرنا نہیں ہے۔ ن لیگ کی پالیسیاں ٹھیک نہیں ہیں لیکن کیا احتساب صرف نواز شریف کا ہی ہونا چاہیے۔ انتخابی اصلاحات بل تمام جماعتوں نے انڈرسٹینڈنگ سے پاس کرایا کیونکہ نااہلی کی لٹکتی تلوار سے سبھی خوفزدہ ہیں۔ سینٹ میں قرارداد سے صرف یہ ہوگا کہ چونکہ کیس سپریم کورٹ میں چل رہا ہے تو عدالت کو اخلاقی سپورٹ حاصل ہو گی۔ پلی بارگیننگ کے سخت خلاف ہوں کیا ڈاکو کو یہ اجازت دے دینی چاہیے کہ 10 لاکھ لوٹے اور 2لاکھ دیکر معاملہ حل کر لے۔ مجرم کو سزا ضرور ملنی چاہیے ورنہ یہ ملک و قوم سے زیادتی ہے۔ تحریک انصاف الیکشن کمیشن کے دائرہ کار کو چیلنج کرنے جا رہی ہے۔ الیکشن کمیشن میں صرف ریٹائرڈ ججز کو نہیں بلکہ دیگر شعبوں سے بھی دیانت دار اور ذہین افراد لئے جانے چاہئیں اس سے ادارہ مضبوط ہوگا۔ عمران خان کو الیکشن کمیشن کے سامنے حاضر ہونا چاہیے۔ دنیا میں اس وقت 12ممالک میں الیکشن میں بائیو میٹرک نظام کامیابی سے چل رہا ہے۔ معروف تجزیہ کار مکرم خان نے کہا کہ آرمی چیف نے اکانومی پر جو باتیں کیں عام آدمی کو ان کی توقع نہ تھی۔ رائے عامہ ہے کہ جغرافیائی، نظریاتی حدود کے بعد کیا اب معاشی سرحدوں کی حفاظت بھی فوج کے تفویض کر دی گئی یا اس نے سنبھال لی ہے۔ ایسی بات نہیں کہ آرمی چیف کو اکانومی بارے پتہ نہ ہوگا۔ اس اعلیٰ عہدے پر پہنچنے والے افسر کو نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں ایک سال کا خاص کورس کرایا جاتا ہے جس میں ملک کے تمام معاملات سے لیکر عالمی سطح کے معاملات تک ڈسکس ہوتے ہیں۔ آرمی چیف نے تقریر پاکستان کے معاشی حب میں کی جہاں بزنس کی ایلیٹ کلاس موجود تھی۔ سینٹ میں انتخابی اصلاحات بل کےخلاف قرارداد سے سیاسی جماعتوں میں موجود تضاد واضح ہوا ہے۔ بدقسمتی ہے کہ نیب کی تاریخ میں شاید ہی کسی وائٹ کالر جرم پر سزا دی گئی ہو۔ بائیومیٹرک الیکشن کےلئے لائی گئی مشینوں میں یہی گڑ بڑ کی خبریں ہیں۔ عمران خان نے الیکشن کمیشن میں حاضری کو انا کا مسئلہ بنا لیا ہے حالانکہ انہیں پیش نہ ہونے سے سیاسی طور پر نقصان ہوگا۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved