تازہ تر ین

جہانگیر ترین بڑی مشکل میں پھنس گئے

اسلام آباد (صباح نیوز)سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے جہانگیر ترین نااہلی کیس میں ریمارکس دیئے کہ جہانگیر ترین نے اپنی مکمل زرعی آمدنی الیکشن کمیشن کو نہیں بتائی ، ایمانداری کاکنڈکٹ سے پتہ چلتاہے ،ا مطمئن نہیں کرسکے کہ لیز زمین کی آمدن پر ٹیکس نہیں لگتا۔ جہانگیرترین کے پاس چاہے زمین لیزپرتھی لیکن انھیں آمدن مل رہی تھی ، وہ اٹھارہ ہزارایکڑ زمین پر کاشت کاری کررہے تھے اورقانون کے تحت کاشتکار کوآمدنی ٹیکس دیناہے،انہیں نے زرعی آمدن پر5فیصد کے اعتبارسے ٹیکس دیناتھا، زرعی زمین پر رینٹ آمدن ہوگی اورزرعی زمین سے کاشتکاری کاریونیو بھی آمدنی ہوگی اورلیز زمین سے بھی جو ریونیو حاصل کرے گا وہ اس کی زرعی آمدن ہوگی ۔جمعرات کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جہانگیر ترین نااہلی کیس کی سماعت شروع کی تو جہانگیر ترین کے وکیل سکندر بشیر مہمند نے تحریری گزارشات عدالت میں پیش کر تے ہوئے موقف اپنایا کہ الیکشن فارم میں جہانگیرترین سے ادا زرعی انکم ٹیکس متعلق پوچھاگیالیکن جہانگیرترین نے زرعی آمدن پر جوٹیکس دیابتادیا،صرف ملکیتی زمین پر اداٹیکس کا پوچھاگیاجس کا فارم میں جواب دیاگیااور جہانگیرترین نے کاغذات نامزدگی میں کچھ نہیں چھپایاچیف جسٹس نے استفسار کیاکہ جس شخص کی ذاتی زمین نہ ہواور لیز زمین سے 10ارب کماتاہے توایسی صورت میں وہ شخص الیکشن فارم میں کیالکھے گا۔ وکیل نے جواب دیا کہ ایسی صورت میں وہ کچھ بھی نہیں لکھے گا ۔ ہماراموقف ہے کہ لیز زمین پرٹھیکیدار پرٹیکس لاگونہیں ہوتا تاہم لیز زمین پرٹیکس کے اطلاق کا معاملہ متعلقہ فورم پر زیرالتواہے سکندر بشیرایڈووکیٹ کے مطابق درخواست گزارچاہتاہے کہ زیرالتوامعاملے کونظرانداز کردیاجائے اور 184/3کے مقدمے میں عدالت ٹیکس معاملات پرفیصلہ کردے ۔ جسٹس فیصل عرب نے کہاکہ متعلقہ فورم پرزیرالتوامقدمات وفاقی قانون سے متعلق ہیںاور زرعی ٹیکس کاایشو صوبائی معاملہ ہے کیا کسی ایگریکلچرل اتھارٹی نے آپ کونوٹس جاری کیا جس پر وکیل کا کہنا تھا کہ پنجاب ایگری کلچرل اتھارٹی نے کوئی نوٹس جاری نہیں کیا اورجہانگیرترین نے ایف بی آر کو زرعی آمدن سمیت مجموعی آمدن بتائی ، چیف جسٹس نے کہاکہ زرعی زمین پر رینٹ آمدن ہوگی اورزرعی زمین سے کاشتکاری کاریونیو بھی آمدنی ہوگی اورلیز زمین سے بھی جو ریونیو حاصل کرے گا وہ اس کی زرعی آمدن ہوگی چیف جسٹس نے کہاکہ ابھی ہم قانون کوسمجھنے کی کوشش کررہے ہیں ابھی عدالت اپنی حتمی رائے نہیں دے رہی ان کا کہنا تھا کہ جہانگیرترین کے پاس چاہے زمین لیزپرتھی لیکن انھیں آمدن مل رہی تھی ، جہانگیرترین اٹھارہ ہزارایکڑ زمین پر کاشت کاری کررہے تھے اورقانون کے تحت کاشتکار کوآمدنی ٹیکس دیناہے ۔ جہانگیرترین نے زرعی آمدن پر5فیصد کے اعتبارسے ٹیکس دیناتھا جس پر وکیل نے جواب دیاکہ پنجاب ایگری کلچرل قانون میں ابہام ہے جس کی وضاحت درکار ہے اور جہانگیرترین کے زرعی ٹیکس کے گوشوارے اب کھولے نہیں جاسکتے کیونکہ قانون کے مطابق زرعی زمین کے ٹیکس گوشوارے 2سال کے اندرکھول سکتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ جہانگیر ترین نے اپنی مکمل زرعی آمدنی الیکشن کمیشن کونہیں بتائی ۔اس پر وکیل کا کہنا تھا کہ یہ ایمانداری تب ثابت ہوگی جب کسی فورم کافیصلہ آئے گا ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ایمانداری کاکنڈکٹ سے پتہ چلتاہے ۔ سکندر بشیر ایڈووکیٹ نے کہاکہ الیکشن فارم میں صرف ملکیتی زمین کی تفصیل مانگی گئی ہے تاہم پنجاب کی نسبت سندھ کاقانون لیز زمین کی آمدن کااحاطہ کرتاہے ،سندھ کاقانون واضح اورپنجاب کے قانون میں ابہام ہے ۔چیف جسٹس نے کہاکہ پنجاب قانون کے تحت ہروہ شخص زرعی ٹیکس دے گاجوزرعی زمین سے آمدن حاصل ہو ، جس پر وکیل نے کہاکہ ہماراموقف ہے کہ پہلے متعلقہ فورم کوفیصلہ کرنے دیاجائے پنجاب زرعی ٹیکس حکام نے قانون کی ایسی تشریح نہیں کی چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ قانون کے تحت اگرکوئی کم ٹیکس دے تو اس کی سزاکیاہے سکندبشیر نے جواب دیا کہ زرعی ٹیکس کے گوشوارے 2سال بعد نہیں کھول سکتے ۔ اس دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ فرض کرلیں لیز زمین پرٹیکس لگتاتھا اور اگرلیززمین پر ٹیکس نہیں تو قانونی اثرات کیاہوں گے جس پر وکیل کا کہنا تھا کہ اس صورتحال میں جہانگیرترین کونااہل نہیں کیاجاسکتا کیونکہ وہ باقاعدگی سے ٹیکس اداکرتے ہیں بتایا جائے کہ جہانگیرترین نے کس جگہ جھوٹ بولا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ آپ مطمئن نہیں کرسکے کہ لیز زمین کی آمدن پر ٹیکس نہیں لگتا۔اس دوران چیف جسٹس نے حنیف عباسی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اکرم شیخ صاحب آپ سر پکڑ کر بیٹھ گئے ہیں بوریت تونہیں ہورہی ،سبجیکٹ ہی ایسا ہے بوریت ہوجاتی ہے جس پر اکرم شیخ نے کہاکہ عدالتی کارروائی کوغور سے سن رہاہوں ۔جہانگیر ترین کے وکیل نے کہاکہ درخواست گزارچاہتاہے میرے حقوق کوآرٹیکل 184/3کے مقدمے میں ختم کردیاجائے ، اس دوران اکرم شیخ نے کہاکہ بدنیتی پہلے سے ثابت ہے کیونکہ جہانگیرترین نے خسرہ گردواری پیش نہیں کیے ، لیز معاہدے رجسٹرڈ نہیں ہیں۔لیز معاہدوں کے ذریعے منی لانڈرنگ کی گئی اور دفاع کے وکیل سکندر بشیرعبدالحفیظ پیزادہ کے انداز میں بینچ پر حاوی ہوناچاہتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے جہانگیرترتین کے وکیل سے مکالمہ میں کہاکہ سکندر بشیر، حفیظ پیرزادہ کااندازاختیارکرناآپ کے لیے کریڈٹ ہے سکندر بشیر نے جوابا کہاکہ عبدالحفیظ پیرزادہ کے ساتھ کام کرنامیرے لیے اعزاز کی بات ہے ، چیف جسٹس نے ان سے استفسار کیاکہ یہ بتادیں مزید کتناوقت لیں گے تو سکندر بشیر نے کہاکہ میری کوشش ہوگی جلدی دلائل مکمل کروں ، بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت منگل 17اکتوبر تک ملتوی کردی۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved