تازہ تر ین

نازک موڑ

اختر مرزا …. نقطہ نظر
ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں وزیرخارجہ خواجہ محمد آصف اپنے تین ملکی بیرونی دورے کے بعد ہمارے ملک کے کئی سالوں سے بگڑے ہوئے اندرونی حالات پر اپنی تشویش کا اظہار فرما رہے تھے۔ لگتا تو یہ ہے کہ چین‘ ایران اور ترکی کے دوروں میں ان تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے کہا ہو کہ خواجہ صاحب آپ کو ہم خوش آمدید کہتے ہیں اور آپ کے ملک کو جو بیرونی خطرات لاحق ہیں‘ اس میں بھی ہم آپ کا ساتھ دیں گے مگر پہلے آپ اپنے سالہاسال سے بگڑے اندرونی حالات کو تو کنٹرول کریں۔
یہ پریشان کن اندرونی حالات ضیاءالحق کے دور میں شروع ہوئے جب آدھی رات کو سوئے پڑے عوام کے سر پھاڑ دیئے جاتے تھے‘ جنہیں ہتھوڑا گروپ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا اور یہ ہتھوڑا گروپ عرصہ دراز تک قریباً ہر چھوٹے بڑے شہر کے عوام کے سر چکناچور کرتا رہا اور ضیاءالحق ہمدردی جتاتے ہوئے مقتول کے گھروں کو پہنچ جاتے تھے۔ اس کے بعد کراچی میں الطاف حسین نے مہاجر قومی موومنٹ شروع کی تو آج تک یعنی پچیس تیس سالوں سے نہ صرف کراچی کو درہم برہم کردیا ہے بلکہ ان کے اثرات حیدرآباد‘ سکھر اور کئی دوسرے شہروں پر بھی پڑے۔ ہر دور میں آنے والی حکومت ان حالات کو دیکھتے ہوئے خاموش تماشائی بنی رہی اورالزام پچھلی حکومت پر ڈالتی رہی اور ساتھ ساتھ لوگ مرتے چلے گئے‘ ہزاروں بے گناہ جانیں ایک سیاسی پارٹی کی کال کوٹھڑیوں کی نذر ہوگئیں۔ حالات کو پھر بھی قابو نہ کیا گیا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے الطاف حسین یکدم لندن جا آباد ہوئے اور وہاںانہیں انگلینڈ کی شہریت بھی مل گئی۔ لندن سے ان کی تقاریر کا سلسلہ کئی سال جاری رہا اور کراچی کے ہزاروں افراد جلسے‘ جلوس میں شامل ہوتے گئے۔ قتل و غارت بھی جاری رہا‘ دکانیں اور کاروباری ادارے بند ہونے لگے‘ ہڑتالوں کا سلسلہ بھی شروع ہوا‘ سکول‘ کالج اور یونیورسٹیوں کو تالے لگا دیئے گئے۔ بسوں کو آگ لگا دی گئی مگر کسی بھی آنے جانے والی حکومت نے مل بیٹھ کر ان حالات کو قابو میں لانے کی کوشش نہ کی۔ اول تو ہمارا نظام حکومت انگریزوں کی ہی راجدھانی سمجھنا چاہئے۔ یہ پاکستان یا مسلمانوں کا نظام حکومت نہیں ہے۔ 1947ءسے قبل تعزیرات ہند ہوا کرتا تھا‘ اب وہی 200 سال پرانا قانون تعزیرات پاکستان میں تبدیل ہوا ہے۔ اس کے بعد ریلوے کی پٹڑیاں اکھیڑنے کا سلسلہ شروع ہوا اور کئی ریل گاڑیاں اُلٹ پلٹ گئیں‘ ہزاروں لوگ مارے گئے اور حسب معمول وزراءکے ہمدردانہ بیانات کے سوا کچھ نہ ہوتا رہا۔ کوئی پاکستانی باشندہ اگرکسی وزیر کو ملنا چاہے تو وزیرکے پاس یا کسی بیوروکریٹ کے پاس اس سے ملاقات کا وقت ہی نہیں ہوتا۔ صاحب بہت مصروف ہیں یا وہ دفتر میں نہیں ہیں (حالانکہ موجود ہوتے ہیں) یہ وہی انگریزوں کا چھوڑا ہوا طرز حکومت ہے جو آج تک ہمارے سروں پر چڑھا ہوا ہے۔
اس کے بعد افغانستان میں روس نے 17 سال حکومت کی تو ہزاروں لاکھوں افغان مہاجرین نے پاکستان میں پناہ لی اور اس کے ساتھ صوبہ سرحد پختونخوا اور پنجاب میں چوری ڈالے اور گولی کا راج چل نکلا۔ حکومت وقت پھر بھی اپنی زبانیں چلاتی رہی مگر بگڑے حالات کو کنٹرول کرنے میں ناکام ثابت ہوئی۔ اس کے برعکس ہر وقت پولیس کو ان لوگوں کے پیچھے دوڑنا پڑا جو سیاسی حل نہ تھا۔ پھر سارے ملک میں نوجوان لڑکے بمبار بن گئے اور ان بمبار لڑکوں نے ملک کو ہلاکر رکھ دیا مگر کسی بھی حکومت نے ملک میں تحفظ پیدا کرنے کے لئے نہ تو طالبان کو ٹھنڈا کیا اور نہ ہی پہاڑی علاقوں میں چھپے دیگر گولی بندوق والوں سے ہاتھ ملانے کی کوشش کی بلکہ کسی جگہ رینجرز اور کسی جگہ فوج کو آگے لگا دیا مگر بمبار لڑکے پھر بھی اپنا کام کرتے رہے۔
ہمارا طرز حکومت باایں انگریزوں کے نقش قدم پر قائم ہے لہٰذا ہمارے صاحب بہادر عوام سے ڈائریکٹ گفتگو کرنا گوارا نہیں کرتے۔ ایسا کرنے پر ان کے عہدے پر حرف آتا ہے کیونکہ وہ ہاتھی پر چڑھے بیٹھے ہوتے ہیں اور ہاتھی سے نیچے اترنا آسان نہیں ہوتا۔ پرویز مشرف کے دور میں کراچی میں باقاعدہ خون کی ہولی کھیلی گئی تھی اور اسلام آباد میں لال مسجد کے طالب علموں کو گولیوں سے اڑا دیا گیا تھا۔
بلوچستان میں ہمسایہ ممالک نے مل کر خوب زور لگایا اور وہاں بار بار بم پھٹنے لگے۔ شیعہ حضرات کو نشانہ بنایا گیا مگر حسب معمول سیاسی بیانات کے بعد کسی حکومتی وزیر نے حالات کو قابو نہ کیا حالانکہ بلوچستان اور صوبہ پختونخوا ہمارے وزراءکی بیان بازی اور بے فائدہ اسمبلیاں ملک‘ قوم کے لئے بے کار ثابت ہوچکی ہیں۔ ہمارے اندرونی حالات اگرچہ دگرگوں ہیں اگر ہم میں جذبہ ہو تو بہت کچھ کنٹرول میں لایا جاسکتا ہے۔
(کالم نگار سیاسی و سماجی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved