تازہ تر ین

مسلم لیگ(ن) مارشل لاءکی منتظر

عبدالودود قریشی
میاں نواز شریف نے چار سال تک وزیر خارجہ نہیں لگایا اور خود ذاتی اور خاندانی معاملات میں الجھے رہے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار جنہیں کسی جمہوری ملک کا کوئی تجربہ نہیں تھا ¾ محمد خان جونیجو کے دور میں وزیراعظم کی جانب سے ایک غیر ملکی کو دیئے جانے والے ڈنر میں شریک ہوئے اور راقم سے میز پر بیٹھے افراد کے نام معلوم کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ پیپلز پارٹی نے ایک معاہدے کے تحت وزیر خزانہ بنایا۔ جب ملکی معیشت کا دیوالیہ نکلنے گا تو بقول آصف علی زرداری ہم نے اسحاق ڈار سے استعفیٰ لیا اور اور اب آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے اس حد تک قرضے لئے کہ قوم جکڑی گئی ہے ان قرضوں کے عوض بعض سرکاری عمارتیں اور موٹروے بھی گروی رکھنے کی نوید ہے۔
مبینہ طور پر آئی ایم ایف نے اسحاق ڈار سے کسی قسم کی بات کرنے سے بھی انکار کر دیا۔ لہٰذا وزیر خزانہ کی جگہ وزیر داخلہ مذاکرات کے لئے گئے ۔ ملکی معیشت جس قدر آج تباہی کے دھانے پر ہے۔ پانامہ لیکس کے حوالے سے سپریم کورٹ میں چلنے والی کارروائی نے لوگوں پر بہت کچھ آشکار کر دیا اور پھر جے آئی ٹی نے تو وہ کام کیا جس کا زخم مندمل ہونا ناممکن ہے۔
محترمہ کلثوم نواز کی حقیقی بیماری کو بھی لوگ ہمدردی حاصل کرنے کے لئے ڈرامہ قرار دے رہے ہیں۔ احتسابی عدالت سے رینجر زکو ہٹا کر فوج پر احسن اقبال کا برسنا اور پھر سرکاری ملازمین کے ذریعے پیشی کے موقع پر پولیس کو زدو کوب کرنا سب طے شدہ منصوبے کے تحت ہے۔ اس پیشی پر وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال زیر کنٹرول پولیس کو جس طرح زدو کوب کر کے عدالت کو کام سے روک دیاگیا سے ثابت کرتا ہے کہ ملک کو ” بنانا‘ ری پبلک بنا دیاگیا ہے ملک کی جغرافائی اور نظریاتی سرحدوں کی نگران فوج ہے۔ اگر ملکی معیشت تباہ ہو جائے گی تو پھر ملک کی فوج کیسے بچے گی۔ اس حوالے سے بیان پر وزیر داخلہ برہم ہو گئے گویا کھلم کھلا رہزنی ¾ڈکیتی پر بھی فوج کو بات کرنے پر بھی ڈانٹنے کے مقاصد کیا ہو سکتے ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ مسلم لیگ (ن) فوج کو مشتعل کرنا چاہتی ہے۔ سزا عدالت دے تو گالی فوج کو جرمنی کا اخبار پانامہ کیس ظاہر کرے تو گالی پاک فوج کو۔ عدالت کی مصالحت کیلئے رینجر غیر متعلقہ افراد کو عدالت اندر کرنے سے روکنے کا حکم دے۔ اس کا اصل مقصد فوج کو مشتعل کر کے ملک میں مارشل لاءلگوا کر مظلوم بننا اور فوج کے خلاف امریکہ اور بھارت سے ہمدردی حاصل کرنا ہے۔ اب مسلم لیگ (ن) جس مقام پر کھڑی ہو چکی ہے2018ءکے انتخابات میں وہ مرکز میں حکومت نہیں بنا سکے گی۔ جب کہ صوبہ پنجاب میں بھی دیگر جماعتوں کے اتحاد سے مخالف حکومت بننے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔ کیونکہ مسلم لیگ(ن) کا گراف تیزی سے نیچے گر رہا ہے۔ عدالت سے ملزموں کو سزا یقینی ہے کیونکہ ان کے پاس فلیٹ کس رقم سے خریدے کا ثبوت نہیں ہے۔ کیونکہ یہ سارے فلیٹ مبینہ طور پر بڑے منصوبوں سے حاصل ہونے والی کمیشن کے ذریعے خریدے گئے ہیں۔ اس صورتحال میں مسلم لیگ(ن) کو سراہ دیاگیا ہے کہ وہ کسی طرح مظلوم نہیں۔ پیپلز پارٹی تو محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کی وجہ سے مظلوم بن گئی تھی اور آصف علی زرداری کو اقتدار اور پارٹی مل گئی تھی مگر مسلم لیگ (ن) کے پاس مظلوم بننے کا کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا۔ لہٰذا ان کا خیال ہے اگر ملک میں مارشل لاءلگ جائے تو ہم مظلوم بن سکتے ہیں ¾ ممکن ہے اس اقدام سے ہم پراپیگنڈہ کر کے پھر اقتدار میں آ سکتے ہیں۔ لہٰذا مسلم لیگ ملک میں مارشل لاءکی منتظر ہے۔ آج بھی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ فوج آئین کی پابند ہے اور مار شل لاءکا کوئی امکان نہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ (ن) کی بے چینی بڑھتی جا رہی ہے۔ اور اگر مزید کچھ ماہ مسلم لیگ کا گراف اس طرح نیچے گرتا رہا تو مسلم لیگ(ن) ملک میں مارشل لاءلگانے کے لئے مظاہرے بھی کر سکتی ہے۔ کیونکہ ان کے وزراءاور مشیروں کے سخت ترین بیانات اور حد سے زیادہ آگے بڑھنے کے بارے فوج خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔ اور بار بار اعلان کر رہی ہے کہ فوج آئین اور قانون کی پابند ہے اور کسی بھی قسم کے مارشل لاءکا کوئی امکان نہیں۔ تا ہمدو روز قبل فوجی ترجمان نے اس طرف اشارہ دیا کہ وہ بھی ملک میں فوجی حکومت کی افواہیں سن رہے ہیں۔ فوجی حکومت کے خدوخال پر وفاقی دارالحکومت میں خاص بحث و تمہید گزشتہ چھ ماہ سے جاری ہے۔ ممکن ہے عبوری حکومت کسی بھی موقع پر فوجی حکومت کی شکل اختیار کر جائے اور پھر ملک میں بڑے پیمانے پر احتساب اور انتخابی اصلاحات کے بعد انتخابات ہوں جس میں دو سال بھی لگ سکتے ہیں۔ جس عبوری وزیر اعظم کو مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نافذ کرے گی اور وہ وزیراعظم اپنی کابینہ بنائے گا پھر اس کابینہ میں ہونے والے فیصلوں کی روشنی میں بہت کچھ ممکن ہے مگر اس کے لئے انہیں سپریم کورٹ سے رجوع کرنا پڑے گا۔ مگر مسلم لیگ(ن) کسی بھی طرح مظلوم بننے کی تک و دو میں ہے۔ خواہ اس کے وزراءکو فوجی ادارے کو براہ راست گالیاں کیوں نہ دینی پڑیں۔ اب مظلوم بننے کیلئے اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیںرہ گیا۔ البتہ ملک میں مظاہرے کر کے بھی فوج کو بلانے کا ایک آپشن موجود ہے۔ اس پر بھی مریم نواز شریف کا میڈیا سیل سوچ بیچار کر سکتا ہے۔ مگر فوج نے کسی کے جھانسے میں نہ آنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔
٭٭٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved