تازہ تر ین

عمران خان‘ یہ نارووال ہے!

جاوید کاہلوں….اندازِفکر
ابھی چند روز قبل اسلام آباد کے کنونشن سنٹر میں عمران خان نے تحریک انصاف کے ممبر شپ اجلاس کے موقع پر ایک پرمغز خطاب کیا جس میں نارووال کے ایک وزیر کا نام بھی لیا۔ سچ ہے کہ بیس بائیس برس کی سیاسی تپسیہ میں وہ اب کندن بن چکا ہے۔ پرانے کرکٹر کو اب وہ کہیں دور چھوڑ چکا ہے۔ نپی تلی سچی باتیں اس کا ایک طرہ امتیاز بن چکی ہیں اور ایسا کیوں نہ ہو؟ وہ باب سیاست میں قائداعظم محمد علی جناح کو اپنا پیشوا یا آئیڈیل گردانتا ہے اور کون نہیں جانتا کہ دیانت و امانت اور راست گوئی و بے باکی میں گزری صدیوں میں قائداعظم جیسا لیڈر شاید ہی کوئی ہندی مسلمانوں میں پیدا ہوا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اسلام آباد میں پانامہ کا افسانہ طشت ازبام ہوتے ہی ایک میلہ لگ گیا تھا اس کہانی کے سب سے بڑی مجرم میاں نواز شریف نے جب سیدھے ہاتھ اپنے اوپر لگے الزامات کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تو معاملات بگڑنے لگ پڑے۔ سیاسی شوروغوغا اور احتجاجی جلسے جلوس شروع ہوئے تو ان میں سب سے بلند اور نمایاں آواز پاکستان تحریک انصاف کی تھی۔ بحیثیت وزیراعظم نواز شریف نے پانامہ سکینڈل پر دو مرتبہ قومی ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کیا تو ایک دفعہ قومی اسمبلی کے معزز ایوان میں بھی خطاب کرکے معاملات پر مٹی ڈالنے کی کوشش کی۔ ان کی ایسی کاوشیں بعد میں کھلا فراڈ اور جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوئیں کیونکہ وہ سپریم کورٹ میں اپنی بیرون ملک موجود جائیدادوں سے متعلق کوئی ”منی ٹریل“ پیش نہ کرسکے۔ معزز عدالت عظمیٰ نے جب بے پناہ عوامی پریشرکی وجہ سے (جس کا کہ کھلا اظہار تحریک انصاف کے چیئرمین کررہے تھے) ازخود نوٹس لے کرسماعت شروع کی تو ن لیگیوں نے اسے فقط ایک کھیل تماشہ سمجھا۔ ان کا خیال تھا کہ پنجاب اور مرکز میں ان کے مکمل اختیارات کی وجہ سے ملک کے عدالتی نظام کو چکمہ دینا ان کیلئے کوئی بڑی بات نہیں ہوگی۔ اس مقصد کیلئے انہوں نے ہر قسم کے فراڈ اور فریب کا رویہ اپنائے رکھا بلکہ اپنے کالے دھن کو جائز قرار دینے کیلئے قطری شہزادے تک سے بھی فریبی خط لکھوائے۔ مگر اب عدلیہ کے علاوہ قوم بھی سنبھل چکی تھی اور اپوزیشن کے علاوہ میڈیا بھی بیدار تھا۔ نتیجہ وہی نکلا جس کی کہ کم ہی امید کی جاتی تھی۔ نواز شریف نااہل ہوئے اور ”گاڈ فادر“ کے علاوہ ”سسلین مافیا“ جیسے القابات سے بھی نوازے گئے۔
ظاہر ہے کہ نااہلی کے بعد ایک نیا وزیراعظم منتخب ہونا تھا۔ یہ اعزاز بہرحال اس کے پاس ہی رہنا تھا جس کی پارٹی یا اتحاد کو قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل تھی اور یہی وہ لمحہ تھا کہ لیگی کابینہ کی اکثریت، گو کہ چہروں پر نواز شریف کی نااہلی کا ملال سجائے بیٹھی تھی مگر دل میں بہت سے وزراءاور ارکان اسمبلی اپنے لئے شیروانیاں تیار کروا رہے تھے کہ کون جانے کہ ”وزارت عظمی کا ہما“ انہی کے کندھوں پر آبیٹھے۔ ایسی مائع صورتحال میں منڈی (ارکان اسمبلی) کے نہ صرف ریٹ گھٹ بڑھ رہے تھے بلکہ ان میں سے کچھ امیدواروں کے دلوں کی دھڑکنیں بھی دور تک سنی جاسکتی تھیں۔ متوقع ناموں میں سے ایک نام ضلع نارووال کے ایک ”لومڑ صفت وزیر“ کا بھی تھا۔ کوئی عام انسان ہو، وزیر امیر ہو یا پھر عام رکن اسمبلی، ظاہر ہے کہ جب ایسا ”ہما“ فضاﺅں میں آوارہ اڑ رہا ہو تو نیچے موجود ہر کس و ناکس خواہشات اور امیدوں کے پسینے میں نہا سکتا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ ایسے موقع پر میڈیا میں بہت سی قیاس آرائیاں چھپتی ہیں اور بعض ”کاریگر“ تو ایسی فہرستوں میں بھرپور تردد کرکے اپنا نام چھپواتے بھی ہیں تاکہ بادشاہ کی نظر تو پڑسکے۔ سب سمجھ سکتے ہیں کہ ایسے موقع پر غلام گردشوں میں محلاتی سازشیں اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہیں جبکہ اہل سیاست کو اپنے مقاصد حاصل کرنے کیلئے ایک چہرے پر کئی کئی اور چہرے بھی سجانے پڑ جاتے ہیں۔
ان ایام میں نارووالی لومڑ صفت بھی یقینا دن رات ساون بھادوں کے پسینے میں بھی شیروانی پہن کر شیشے کے سامنے وزیراعظم، وزیراعظم کھیلتا ہوگا مگر چشم فلک کو شاید یہ منظر نارووال کی گرمی کی بجائے مری کے سہانے موسمی پرندے کو پیش کرنا تھا۔ ظاہر ہے کہ ملکہ کوہسار کے اردگرد موسم گرما میں بھی شیروانی زیب تن کئے رکھی جاسکتی ہے۔ لہٰذا دیکھتے ہی دیکھتے وزارت عظمیٰ کا ہما ابتدائی اعلان کے مطابق 45 ایام کیلئے محترم شاہد خاقان عباسی کے کندھوں پر اتر گیا۔
اب اس موقع پر قارئین کی توجہ ایک اور اہم نقطے پر بھی مرکوز کروانا مقصود ہے۔ موٹی مثال کیلئے ہم صرف دو پارٹی رہنماﺅں کی طرف اشارہ کریں گے۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی ایک موقع پر ایسا ہی وزارت عظمیٰ کا کھیل تب ہوا تھا جب ظفر اللہ خان جمالی صاحب سے استعفیٰ لے کر شوکت عزیز کو وزیراعظم بنایا گیا تھا۔ درمیانی 45 ایام کیلئے یہ اعزاز چودھری شجاعت حسین کے پاس رہنا تھا۔ تب صوبہ پختونخوا میں مولانا فضل الرحمان کی پارٹی کی حکومت تھی۔ شنید ہے کہ وزارت عظمیٰ کے حصول کیلئے مولانا مذکور نے اور سازشوں کے علاوہ ایک جال امریکی سفارتخانے میں بھی بنا تھا۔ ان کے خیال میں پاکستان کے وزیراعظم کے عہدے کیلئے داخلی طاقتوں کے علاوہ امریکی یا مغربی تھپکی بھی تیر بہدف نسخہ تھی۔ سو انہوں نے وہ تیر بھی پھینکا اور وزارت عظمیٰ کی کرسی ملنے پر اور باتوں کے علاوہ ملک کے ایٹمی پروگرام پر دسترس کی بولی بھی دے ماری تھی۔ وہ علیحدہ بات ہے کہ امریکی شاید باخبر تھے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام اوروں کے علاوہ ملک کے دفاعی اداروں کی بھی سخت نگرانی اور تحویل میں جاری و ساری ہے۔ دوسری مثال میمو گیٹ سکینڈل کی ہے اس پر عدالتی کمیشن نے انکوائری بھی کی تھی۔ یہ سازش اور اس کا مرکزی کردار پھر سے امریکہ ہی میں پاکستان کا غدار سابق سفیر حسین حقانی تھا اور یہ آصف علی زرداری کے دور کی بات ہے۔ اس کی تفاصیل سے پاکستانی کافی حد تک پہلے ہی واقف ہیں۔
اب اگر ہم اپنے موجودہ سیاسی حالات کو دیکھیں تو وطن عزیز کی سیاست ایک مائع کی مانند ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر بہتی نظر آتی ہے۔ اب گو کہ وزارت عظمیٰ کا ہما ایک ظاہر بین آنکھ کیلئے خاقان عباسی پر بیٹھا نظر آتا ہے حالانکہ حلقہ این اے 120 کا انتخابی معرکہ بھی ختم ہوچکا ہے اور ابتدائی اعلامیہ کے مطابق 45 دن بھی بیت چکے ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ پاکستان کی وزارت عظمیٰ ایک بہت بڑی عزت اور وقار والی کرسی ہے اس کو پانے کیلئے بڑوں بڑوں کو بہت بہت پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ معلوم پڑتا ہے کہ اس کے حصول کیلئے تاحال کھیل زور و شور سے جاری ہے مگر ایک بات طے ہے کہ اس سلسلے میں نارووالی لومڑ صفت کا پسینہ خشک ہونے کا نام نہیں لے رہا تو اس کی تازہ سلی سلائی شیروانی بھی ابھی تک استعمال نہیں ہوسکی۔ کون نہیں جانتا کہ ملک کے وزیرداخلہ کے گھر،دفتر بلکہ سرکاری گاڑی تک میں ایسی ماڈرن سہولیات موجود ہوتی ہیں کہ جس سے اس کو ملک بھر کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹ ہر وقت مل سکتی ہے۔ ویسے بھی آج کل کے حالات میں ملک کے چند وزرا کو خصوصی حفاظتی سرکاری پروٹوکول ہر وقت میسر رہتا ہے اور ملک کا وزیر داخلہ ان میں سرفہرست ہوتا ہے۔
اب اگر وہ تمام معلومات کے ہوتے ہوئے بھی بغیر کسی سرکاری وجہ یا ڈیوٹی کے اسلام آباد کی احتساب عدالت میں جاکر جان بوجھ کر کیمروں کے سامنے بے عزت ہونے کا راستہ اختیار کرتا ہے تو یہ غلطی تو کوئی عام فہم کا وزیربھی نہیں کرتا، چہ جائیکہ ایک ”لومڑ صفت“ کرے۔ پھر چیئرمین عمران خان اسے یہ طعنہ دیں کہ وہ رینجرز کے نچلے درجے کے عہدیدار کو انگریزی میں جھاڑتا ہے اور”بننانا ریپبلک“ کی انگریزی بھی اس سے بولتا ہے تو یہ اس سے نہ تو ناراضی میں ہوا ہے نہ ہی سہواً۔ دراصل انہیں وزارت عظمی کا ”ہما“ ابھی تک محوپرواز دکھائی دیتا ہے اور لومڑ صفت نارووالی کا پسینہ ہے کہ خشک ہی نہیں ہورہا۔ ایسے انگریزی طعنے جہاں پر اس کے ملکی آقاﺅں کو سمجھ آجاتے ہیں ان سے براہ راست امریکی بھی بغیر کسی مترجم کے فیض یاب ہوجاتے ہیں اور ہما کوئی یونہی اتفاقاً تو نہیں بیٹھے گا۔ بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ عمران خان لہٰذا یاد رکھیں کہ نارووالی ہرگز سادہ نہیں۔ وہ ارسطو کی ذہانت کے قریب پھڑک پائیں یا نہیں وہ کمال کا ”لومڑ دماغ“ رکھتے ہیں۔ بہتی مائع میں انہیں ہاتھ دھونا بھی خوب آتا ہے۔ عمران خان کا کیا خیال ہے کہ وہ امریکہ میں بیٹھ کر بھی اگر افواج پاکستان کے ترجمان کو بے نقط سنانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں وہ نیوز لیکس تخلیق کرنے والے اپنے آقاﺅں کی خوشی تو بہرحال سمیٹتے ہیں، اس سے میموگیٹ جیسی پیشکش بھی براہ راست امریکہ پہنچ سکتی ہے۔ وزارت داخلہ کے بعدامریکہ میں وزارت خزانہ کی نمائندگی اور فضاﺅں میں اڑتا ہما۔ لومڑ بے چین نہ رہے تو اور کیا کرے؟
(کرنل ریٹائرڈ اور ضلع نارووال کے سابق ناظم ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved