تازہ تر ین

پانی کی کہانی

مسعود احمد شاکر ….خاص مضمون
دوکروڑ 23لاکھ ہیکٹر (ہیکٹر بین الاقوامی یونٹ ہے، جو ہمارے اڑھائی ایکڑ کے برابر ہوتا ہے) پر لہلہاتے کھیت، خوبانی، سیب، انگور، کنوں، مالٹا، آم اور کھجور کے پھولوں پھلوں سے لدے باغات، دریائے سندھ، اس کے معاون دریاﺅں اور جھیلوں میں تیرتی انواع و اقسام کی مچھلیاں اور دیگر آبی پرندے، شمالی علاقہ جات، پنجاب، سندھ اور بلوچستان کی چراگاہوں میں چرتے دودھ اور گوشت فراہم کرنے والے کروڑوں مویشی اور فضاﺅں میں رقصاں لاکھوں رنگ برنگ پرندے۔ یہ 22کروڑ آبادی والا دنیا کا چھٹا گنجان آباد ملک پاکستان ہے۔ پاکستان دنیا بھر میں گندم، چاول، کپاس، گنا، پھل اور سبزیاں ، دودھ اور گوشت کی پیداوار کے لحاظ سے ساتواں یا آٹھواں بڑا زرعی ملک ہے۔
برصغیر پاک و ہند میں زراعت کی تاریخ چھ تا سات ہزار سال قبل مسیح سے شروع ہوتی ہے، جب وادی سندھ کی قدیم تہذیب مہر گڑھ اور موہنجوڈارو وغیرہ میں آبپاشی ، جانوروں کے ذریعے زمین میں ہل چلا کر غلہ کاشت کرنا شروع ہوا۔ قابل کاشت زمین اور دریاﺅں جھیلوں کا پانی اس خطے کے قدرتی وسائل میں سب سے نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ 1947ءمیں تقسیم ہند کے بعد بھارت چونکہ ایک بڑی اور گنجان آبادی والا ملک تھا، اس لیے بھارتی قیادت نے زراعت کے فروغ کو اپنی معاشی پالیسیوں میں اولین ترجیح قرار دیا لیکن پاکستان میں جس اعلیٰ سطحی بیورو کریسی نے ملک کا نظم و نسق سنبھالا وہ ابتدائی برسوں میں زراعت کی ترقی کیلئے مطلوب زمینی حقائق کا ادراک نہ کرسکی۔ مغربی اور مشرقی پاکستان میں نوے فیصد چھوٹے کاشت کار زراعت میں جدید اور ترقی یافتہ ذرائع استعمال کرنے کیلئے مطلوبہ وسائل سے محروم تھے۔ ملک کے آبی وسائل کی تنظیم نو اور ذخائر کی تعمیر بھی بھاری فنڈز کی متقاضی تھی۔ آزادی کے وقت زراعت گو ملکی جی ڈی پی کا پچاس فیصد حصہ فراہم کر رہا تھا، لیکن یہ قلیل مقدار ملک کی معاشی نمو میں کوئی نمایاں کردار ادا کرنے سے قاصر تھی۔
قیام پاکستان سے پہلے متحدہ ہندوستان میں پنجاب کو برعظیم کی فوڈ باسکٹ کہا جاتا تھا، مشرقی پنجاب جو تقسیم کے بعد بھارت کے حصے میں آیا، کا زرعی کاشتہ رقبہ گو مغربی پنجاب سے ایک تہائی تھا، لیکن بھارتی حکومت نے نہرو پلان کے تحت مفت آبپاشی، سستی کھاد اور بیج، زرعی تعلیم و تحقیق کیلئے وافر فنڈز، زرعی منڈیوں اور دیہی آبادی میں سڑکوں کی تعمیر کے نتیجے میں جلد ہی زرعی پیداوار میں حیرت انگیز کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جبکہ پاکستان میں غریب کاشتکار سحر خیزی اور دن رات خون جما دینے والی سردی اور جسموں کو جھلسا دینے والی گرمی میں کام کرنے کے باوجود نان جویں اور بنیادی انسانی ضروریات کے حصول میں ناکام رہے۔
قیام پاکستان کے وقت پاکستان کی سالانہ غلے کی پیداوار صرف 8ئ3 ملین ٹن گندم تھی، جبکہ آج الحمدللہ ہم سالانہ 22 ملین ٹن گندم، 6ئ5 ملین ٹن چاول، 12ملین کپاس کی گانٹھیں، وافر چینی، پھل اور سبزیاں پیدا کر رہے ہیں۔ شعبہ مرغبانی و حیوانات جو زراعت ہی ایک سب سیکٹر ہے، 30 ملین ٹن دودھ، 530 ملین مرغیاں،2ئ11 ارب انڈے سالانہ پیدا کرتا ہے، جبکہ چودہ کروڑ سے زائد گائے، بھینس اور بھیڑ بکری ہمارا مستقل اثاثہ ہیں، جو دودھ ، گوشت اور چمڑا فراہم کرتے ہیں۔ شعبہ فصلات، حیوانات کے علاوہ جنگلات اور ماہی پروری بھی زراعت ہی کے سب سیکٹرز ہیں، جو ہماری قومی ضروریات پوری کرنے کے علاوہ برآمدات کے ذریعے قابل قدر زرمبادلہ بھی فراہم کرتے ہیں۔ زراعت کی دنیا میں کامیابیوں کایہ سفر کس طرح طے ہوا؟ ہم اس کا ایک مختصر جائزہ پیش کرتے ہیں۔جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے کہ آزادی کے بعد ابتدائی برسوں میں ہماری حکومتیں زراعت کی ترقی اور آبی وسائل کی تنظیم نو کیلئے کوئی خاطر خواہ کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکیں ، لیکن 1960ءکے عشرے اور ایوب خان کے 10 سالہ دور حکومت میں زراعت کی ترقی اور مطلوب آبی ذخائر کی تعمیر کے ذریعے نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں۔
پاکستان کے آبی وسائل کا تخمینہ دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاﺅں، جھیلوں، شمال کے پہاڑی سلسلوں میں موجود گلیشیرز کی صورت تقریباً 140 ملین ایکڑ فٹ سالانہ ہے۔ زیرزمین پانی جو تقریباً دس لاکھ ٹیوب ویل کی مدد سے ہمیں آبپاشی کے لیے میسر آتا ہے،55 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ مون سون کی بارشیں جو تین مہینے جاری رہتی ہیں ہمارے آبی ذخائر کو بھرنے کا بڑا ذریعہ ہیں۔ صرف انیس ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت جو چالیس برس گزرنے کے کے بعد 35 فیصد کم ہوکر صرف بارہ ملین ایکڑ فٹ رہ گئی ہے کی وجہ سے تیس تا چالیس ملین ایکڑ فٹ پانی سیلاب کی صورت میں بڑی تباہی کے بعد سمندرمیں جا گرتا ہے۔ آبپاشی کے لیے 140 ملین ایکڑ فٹ دستیاب پانی کا تقریباً چالیس فیصد جذب و تبخیر جیسے نقصانات کے بعد صرف نوے ملین ایکڑ فٹ کھیت تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ امر قابل افسوس ہے کہ گزشتہ چالیس برس میں کوئی بھی نیا ڈیم تعمیر نہیں کرسکے، اگرچہ ہم چشمہ، ورسک، خان پور، منگلا، تربیلا جیسے آبی ذخائر،18 بیراج،12لنک کینال،45 آبپاشی نہروں اور دس ہزار 7 سو کھالوں کے ساتھ دنیا کے سب سے بڑے نہری نظام کے حامل ہیں۔پاکستان چونکہ دنیا کے گرم اور خشک خطے میں واقع ہے، جہاں زیرزمین پانی بھی زیادہ تر نمکین ہے۔ اس لیے بڑھتی ہوئی آبادی اور کم ہوتے آبی وسائل کے پیش نظر اسے پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے ۔ دوسری جانب پنجاب اور سندھ میں زرعی آبپاشی کے لیے نصب لاکھوں ٹیوب ویل زمین میں کھارے پانی کی وجہ سے کلر اور سیم و تھور کا پانی بن رہے ہیں۔(یاد رہے کہ دنیا بھر میں فی کس 1000 مکعب میٹر سالانہ سے کم دستیاب پانی والے ممالک/ علاقوں کو خشک سالی/ قحط کا شکار گردانا جاتا ہے)
ایک وسیع ترین نہری نظام کے باوجود پاکستان 3ئ22 ملین ہیکٹرزیر کاشت رقبے میں سے صرف 56ئ14 ملین ہیکٹر رقبہ ہی نہری پانی سے سیراب ہو پاتا ہے۔ زراعت اور دیگر ضروریات کے لیے وافر پانی کی فراہمی کویقینی بنانے کیلئے مزید آبی ذخائر کی تعمیر اور آبپاشی کے لیے سپرنکلر اور ڈرپ جیسے مستعد اور کفایت شعار آبپاشی نظام اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔1960ءکے عشرے میں زراعت کی ترقی اور آبی ذخائر کی تعمیرکے لیے سندھ طاس معاہدے کے تحت منگلہ اور تربیلا جیسے بڑے ڈیم تعمیر کیے گئے۔ ان منصوبہ جات کے لیے ورلڈ بنک اور دیگر مالیاتی اداروں و دوست ممالک نے کثیر فنڈز فراہم کیے لیکن یہ بات باعث تشویش ہے کہ پاکستان ایوبی دور کے ان تعمیرشدہ آبی ذخائر کے بعد مزید آبی ذخائر کی تعمیر میں کوئی کارکردگی نہیں دکھا سکا، جبکہ بھارت مسلسل بیسیوں ڈیم تعمیر کر چکا ہے۔ آبی ذخائر کی تعمیر کے علاوہ زراعت کے دیگر شعبہ بھی ماضی اور آج کی حکومتوں کی عدم دلچسپی کاشکار ہیں۔ قیام پاکستان سے لیکر آج تک مختلف ادوار میں زراعت اور آبی وسائل کے لیے فراہم کردہ کا میزانیہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ شعبہ زراعت مسلسل نظر انداز ہو رہا ہے۔ صرف 1960ءکے عشرے میں زراعت کے لیے قابل ذکر رقوم فراہم کی گئیں جو تربیلا، منگلہ ڈیم بنانے اور زراعت کو ترقی دینے میں معاون ہوئیں۔ بعد میں تسلسل سے مختص شدہ رقوم میں بالترتیب کمی ہوتی گئی۔ مختلف ادوار میں جی ڈی پی کا 30ئ40 فیصد فراہم کرنیوالا شعبہ بمشکل 8ئ10 فیصد فنڈز حاصل کرتا رہا ہے۔
زراعت میں سالانہ شرح نمو ایک ایسا پیمانہ ہے جس سے ہم زراعت کی ترقی ماپ سکتے ہیں۔ حقائق کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ سوائے 1960ءکے عشرے اور 1980ءکے عشرے میں زراعت کی سالانہ شرح نمو اطمینان بخش نہیں رہی ہے۔1960ءہی کے عشرے میں میکسیکو کے رہائشی نوبل انعام یافتہ نارمن بورلاگ کی قیادت میں زرعی سائنسدانوں کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے دنیا میں سبز انقلاب برپا کیا۔ یہ بات ہمارے لیے قابل فخر ہے کہ فیصل آباد پاکستان کے دو زرعی سائنسدان ڈاکٹرایس اے قریشی اور ڈاکٹر منظور احمد باجوہ بھی اس تاریخی معرکے میں شریک تھے۔ اس ٹیم نے گندم کی بیماریوں کے خلاف مزاحمت رکھنے والی اور تقریباً دوگنا پیداواری صلاحیت کی حامل اقسام دریافت کیں اور یوں دنیا کو بھوک اور قحط کے خطرے سے نجات دلانے میں معاونت کی۔
درج بالا جائزے سے یہ بات عیاں ہے کہ زراعت ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے۔ قیام پاکستان کے وقت ملکی جی ڈی پی کا پچاس فیصد فراہم کرنے والا شعبہ آج صنعت اور سروسز سیکٹر کے ساتھ تیسرا بڑا شعبہ ہے، جو 24 فیصد جی ڈی پی اور روزگار کے پچاس فیصد مواقع فراہم کرتا ہے۔ ملکی برآمدات کا 66 فیصد زرعی شعبے سے حاصل ہوتا ہے۔ کپاس، چاول، پھل، سبزیاں، چمڑے کی مصنوعات ہماری بڑی بڑی زرعی برآمدات ہیں جبکہ خوردنی تیل اور چائے درآمد کرنے پر ہمارا بڑا زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے۔
زراعت میں نئے آبی وسائل/ ذخائر کی تعمیر، جدید مشینری کا استعمال اور کیمیائی کھادوں و کیمیائی ادویات کا محفوظ استعمال اور گلوبل وارمنگ مستقبل میں قومی زراعت کے بڑے بڑے چیلنج ہیں۔ اگر ہم ان سے بہ احسن عہدہ برا ہوسکے تو انشاءاللہ ہم نہ صرف قومی ضروریات پوری کریں گے، بلکہ اپنی برآمدات بڑھا کر کثیر زرمبادلہ بھی کمائیں گے اور اللہ کی مخلوق کو خوراک بھی فراہم کر رہے ہونگے۔
(کالم نگار آبی و زرعی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved