تازہ تر ین

قانون توڑنے والے

منظور احمد عارف ….اظہار خیال
برطانیہ کے سابق آنجہانی وزیراعظم ہیرلڈولسن 1945ءمیں پارلیمنٹ کے رکن بنے اور وہ 1964ءمیں برطانیہ کے وزیراعظم منتخب ہوئے‘ لیکن انہوں نے مارچ 1967ءمیں اچانک استعفیٰ دے کر پوری دنیا کو حیران کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب وہ سیاست میں آئے تھے تو انہوں نے اپنے دل میں فیصلہ کیا تھا کہ وہ ساٹھ سال کی عمر میں ریٹائر ہوجائیں گے‘ آج ان کی عمر ساٹھ برس ہوگئی ہے۔ چنانچہ وہ اقتدار اور سیاست دونوں کو خیرباد کہنے کا اعلان کرتے ہیں۔ وہ برطانیہ کی تاریخ کے ایسے وزیراعظم تھے جنہیں رخصت کرنے کے لئے ملکہ برطانیہ الزبتھ خود 10 ڈاﺅننگ سٹریٹ گئیں‘ ولسن اس لحاظ سے حیران کن شخصیت کے مالک تھے کہ‘ انہوں نے اپنے دور اقتدار میں ایسے بے شمار فیصلے کئے جن کے نتیجہ میں پوری دنیا میں برطانیہ کے وقار میں اضافہ ہوا۔ ہیرلڈولسن نے ویت نام کی جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے سے معذرت کرلی۔ انہوں نے عالمی مشترکہ منڈی کے معاملہ پر ریفرنڈم کرایا اور بین الاقوامی دباﺅ کے باوجود برطانوی پاﺅنڈ کی قیمت کم کرنے سے انکار کردیا۔ انہوں نے دنیا میں پہلی اوپن یونیورسٹی بھی قائم کی۔ ہیرلڈ ولسن کے دور میں ایک معمولی سا واقعہ پیش آیا جو آگے چل کر برطانیہ میں قانون اور انصاف کے لئے بڑا ہی اہم سنگ میل ثابت ہوا۔ 1966ءمیں جاپان کے وزیراعظم ساتو ایساکو نے برطانیہ کا دورہ کیا۔ یہ جاپان کے کسی وزیراعظم کا پہلا دورہ تھا‘ جاپانی وزیراعظم نے ایئرپورٹ سے سیدھا ولسن کی سرکاری رہائش گاہ پر جانا تھا، جب جاپانی وزیراعظم کا قافلہ سنٹرل لندن پہنچا تو اس وقت ولسن پارلیمنٹ ہاﺅس میں تھے‘ ولسن نے وقت کا اندازہ لگایا۔ ان کے پاس صرف پانچ منٹ تھے اور وہ پانچ منٹ میں 10 ڈاﺅننگ سٹریٹ نہیں پہنچ سکتے تھے‘ لہٰذا انہوں نے فوراً پولیس چیف کو فون کیا اور اسے اپنا مسئلہ بتایا اور اس سے درخواست کی کہ اور چند لمحوں کے لئے ٹریفک رکوا دیں تو وہ جاپانی وزیراعظم کے استقبالی کے لئے وقت پر پہنچ سکتے ہیں‘ جس پر پولیس چیف نے فوراً انکار کردیا۔ پولیس چیف کا کہنا تھا کہ ”سر اس ملک میں کوئی ایسا قانون نہیں جس کے ذریعے ہم وزیراعظم کے لئے ٹریفک رکوا سکیں“ ولسن نے اپنی مجبوری‘ دہرائی لیکن اس کے جواب میں پولیس چیف نے کہا ”سر آپ لوگ لا میکر ہیں‘ اگر آج آپ لا بریک کریں گے تو کل برطانیہ کا ہر وزیراعظم قانون توڑے گا۔ دوسرا یہ کہ سر اگر آپ لا بریکر وزیراعظم کے طور پر تاریخ میں جانا چاہتے ہیں تو میں ٹریفک رکوا دیتا ہوں‘ جس پر ہیرلڈ ولسن خاموش ہوگئے اور فون بھی بند کردیا۔ دنیا کے تمام قانون دان‘ تمام دانشور اس بات پر متفق ہیں کہ قانون ایک دھارے کی طرح ہوتا ہے‘ جو ہمیشہ اوپر سے نیچے کی طرف بہتا ہے۔ جس طرح آبشار میں ندیاں اور دریا اونچائی سے اترائی کی طرف آتی ہیں‘ اسی طرح قانون‘ انصاف اور اخلاقیات بھی حکمران طبقے‘ اشرافیہ اور سیاستدانوں سے عوام کی طرف بہتی ہیں۔ کسی ملک میں قانون کا کتنا احترام کرنا چاہئے‘ اس کا فیصلہ حکمران طبقے کا رویہ کرتا ہے۔ جب کسی ملک کے حکمران پیسے دے کر کسی باغ کا پھل توڑتے ہیں تو اس ملک کے سارے باغ اور سارے باغبان ہمیشہ کے لئے چوروں‘ ڈاکوﺅں اور اچکوں سے محفوظ ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح جب کسی ملک کا حکمران ٹریفک کے سگنل پر کھڑا ہوتا ہے تو پورا ملک ریڈ سگنل کا احترام کرتا ہے۔ قوموں اور ملکوں کے قوانین بھی بالائی طبقوں سے ٹوٹنا اور جڑنا شروع ہوتے ہیں۔ اگر کسی ملک کا حکمران طبقہ قانون کا احترام کرتا ہے تو پورا ملک قانون کو اپنا جزو ایمان بنا لیتا ہے لیکن اگر حکمران قانون روندنے لگیں تو اس ملک سے قانون‘ انصاف اور امن تینوں رخصت ہوجاتے ہیں۔ قانون قوموں کی بنیادی طاقت ہوتا ہے۔ آپ امریکہ کی ایک مثال پر غور فرمائیں۔ سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش ایک وقت امریکہ کے طاقتور ترین حکمران تھے۔ اس قدر طاقتور کہ اس نے پوری دنیا کی مخالفت کے باوجود افغانستان اور عراق پر حملہ کیا۔ ان ملکوں میں تہس نہس مچا دی اور دنیا کا کوئی حکمران‘ کوئی ملک اس کا راستہ نہ روک سکا‘ لیکن اس کی اپنی دو بیٹیاں ٹیکساس میںشراب نوشی اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر گرفتار ہوئیں۔ عدالت میں پیش ہوئیں‘ عدالت نے انہیں سزا سنائی اور سابق صدر بش اپنے تمام تر اختیار کے باوجود انہیں سزا سے نہ بچا سکے۔ امریکہ کے ہی ایک سابق صدر بل کلنٹن نے ایک بار کہا تھا کہ ”امریکہ کا قانون ایک ایسی قوت ہے جو ہمیں پوری دنیا پر حکومت کرنے کی طاقت دیتا ہے۔“
تو یہ ہوتا ہے قانون اور قانون کی اہمیت۔ آج اگر امریکہ طاقتور ہے تو اس کی وجہ اس کا قانون اور اس قانون کا احترام ہے۔ ہماری بدقسمتی دیکھئے کہ جب ہم اپنے ملک میں قانون کی حالت دیکھتے ہیں تو ہمارے دل خون کے آنسو روتے ہیں۔ ہمارے سر شرمندگی سے جھک جاتے ہیں۔ ہم خود کو بے بس اور بے کس محسوس کرتے ہیں۔ معاشرے کے کسی بھی شعبہ میں جھانک کر دیکھیں ہمیں قانون کی دھجیاں اڑاتے نظر آئیں گی۔ کیا مثالی شادی کھانوں‘ شادی ہالوں‘ میڈیکل سٹوروں‘ ہسپتالوں‘ قانون نافذ کرنے والے اداروں‘ سرکاری محکموں‘ سڑکوں‘ گلی محلوں‘ شہروں اور دیہات میں رہنے والے‘ جاگیرداروں‘ وڈیروں‘ صنعتکاروں‘ سرمایہ داروں یہاں تک کہ مذہبی آماجگاہوں سمیت کوئی بھی ایسی جگہ نظر نہیں آتی جہاں جرائم پیشہ عناصر بارے صفائی پیش کی جاسکے۔ جس ملک میں لا میکر ہی لا بریکر بن جائیں‘ جس ملک میں جرائم پیشہ عناصر کو کھلی چھٹی ہو کہ وہ عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹیں‘ کہیں رہائشی سکیموں کے ذریعے‘ کہیں کاروباری جھانسوں کے ذریعے‘ کہیں دینی اور مذہبی دکھوں کا مداوا کرنے کے ذریعے تو پھر ایسے ملک کا مستقبل کیا ہوگا؟ جس ملک میں قانون توڑنا کھیل ہو تو اس ملک کا آئندہ مستقبل کیا ہوگا۔ اس کی آئندہ نسل کیسی ہوگی؟ سیاستدان تو قانون کی ماں ہوتے ہیں‘ جس ملک میں مائیں ہی اپنے بچے کچلنا شروع کردیں‘ جس ملک میں خواتین اور کمزور عناصر کی عزت و عصمت محفوظ نہ ہو تو پھر اس ملک کی اگلی صبح کیا ہوگی۔ یقین کیجئے ہم زوال کے دھانے پر بیٹھے ہیں‘ ہمیں اپنے انجام کا تخمینہ لگانے کے لئے کسی ماہر یا کسی جوتشی کی ضرورت نہیں۔ ہمارا کل ہمارے سامنے دیواروں پر لکھا ہے۔ جب باڑ کھیتوں کو کھانا شروع کردے‘ چوکیدار چوریاں کرنے لگیں‘ سیاستدان قانون توڑنا شروع کردیں‘ برے عناصر دندنانہ شروع کردیں تو پھر زمین پر اللہ کا عذاب ہی اترتا ہے اور پھر آج ہمارے ولسن تو برطانیہ کے ہزاروں ولسنوں سے زیادہ مضبوط اور زیادہ بااختیار ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ قانون کا احترام کیا ہے اور کس قدر ہے‘ کتنے لوگوں کے خلاف قانون توڑنے کے جرم میں کارروائی ہوئی‘ کتنے لوگوں کو سزائیں ہوئیں‘ کتنے لوگوں کا محاسبہ ہوا کتنے مفادپرست سیاستدانوں کے خلاف گھیرا تنگ کیا گیا کتنے صاحب اقتدار کی کارکردگی سے اٹھارہ کروڑ عوام کو آگاہ کیا گیا۔ کتنے آئین توڑنے اور ملک توڑنے والوں کو ان کے کئے دھرے کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ کیا ہمارے حکمران ہوا میں ہی تلواریں چلاتے رہیں گے یا پھر ان دکھوں کا کوئی مداوا بھی ہوگا۔ کیا ہماری آئندہ نسلیں اسی ماحول میں پرورش پاتی رہیں گی یا ان کا کوئی مستقبل سنہری بھی ہوسکے گا۔ آج ہمارے سامنے بے شمار ملکوں کی مثالیں موجود ہیں جن پر عملدرآمد کرکے اس ملک کے مستقبل کو بھی سرسبزشاداب اور درخشاں بنایا جاسکتا ہے۔ ضرورت صرف عمل کی ہے کہ عمل سے ہی زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی۔ حال ہی میں بعض ملکوں کے چند حکمرانوں کی مثالیں ہمارے سامنے آرہی ہیں جن میں ایک مثال یوکرائن کے وزیراعظم آرمینسی یانسین اور دوسری مثال برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون اور تیسری مثال آئس لینڈ کے وزیراعظم سگمندر گنلا وگسن کی ہے جنہوں نے اپنے آپ کو اپنے اپنے ملک کے عوام کے سامنے نہ صرف خود کو پیش کردیا بلکہ اپنے اپنے حق میں اپنی صفائی اور سچائی کی مہم بھی زور و شور سے شروع کردی۔ ان حالات اور صورتحال میں اپنی صفائی اور سچائی کی مہم بھی زور وشور سے شروع کردی۔ ان حالات اور صورتحال کا تقاضا ہے کہ پاکستانی حکمران اور سیاستدان بھی اپنے آپ کو عوام کے سامنے پیش کریں اور اپنی پاک دامنی اور سچائی سے اٹھارہ کروڑ عوام کو آگاہ کرکے نہ صرف سرخرو ہوں بلکہ آئندہ کے لئے بھی سیاسی میدان مار لیں کیونکہ اس میں ان کی بہتری ہے۔
(کالم نگار سماجی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved