تازہ تر ین

جھوٹ اور ریاکاری کا بازار عروج پر

عبدالودود قریشی
ملک میں جھوٹ اور ریاکاری کا بازار عروج پر ہے اور اس کام میں سرکاری ادارے ¾ فوج ¾ پرائیویٹ ادارے ¾ میڈیا اور عدالتیں سرفہرست ہیں۔ حیرت اس بات کی ہے کہ ایک وقت میں فائل اور گفتگو کو خفیہ (سیکرٹ) رکھ کر اس میں جھوٹ لکھا اور بولا جاتا تھا مگر آج کل سرعام میڈیا پر بولا جاتا ہے دوسرے دن اسی شخص کا اسکے متبادل ¾ کہا ¾ لکھا اور عمل دکھایا جاتا ہے شرم شرم نام کوئی چیز انکے آڑے ہی نہیں آتی فوجی اداروں میں بھی یہی ہوتا ہے فوج کے ڈسپلن کی وجہ سے پرائیویٹ اداروں میں فوجی ملازمت پر رکھنے کا گزشتہ سال تک بہت رواج تھا مگر ان ریٹائرڈ ملازمین کی مالکان کو جھوٹ کی کہانیوں اور من گھڑت وارداتوں سے ان کی لاکھ متاثر ہوئی اور بقول سردار خان نیازی میں تو اب ایسے لوگوں کو ملازمت پر رکھنے سے کوسوں دور بھاگتا ہوں۔
حکمرانوں کو بھی ان کے مصاحب جھوٹ کی من گھڑت کہانیاں سنا کر اس مقام پر لے جاتے ہیں جہاں سے ان کی واپسی ممکن نہیں ہوتی مگر وہ حقائق سے اس وقت باخیر ہوتے ہیں جب سب کچھ ڈوب چکا ہوتا ہے۔ موجودہ دور میں کسی بھی عدالت میں جائیں سرعام جھوٹ قسم اٹھا کر بولا جاتا ہے حد تو یہ ہے کہ عدالت میں مقدمہ ابھی زیر سماعت ہوتا ہے مگر فریقین کے گماشتے عدالتی کارروائی پر خیالات کا اظہار کررہے ہوتے ہیں اور وہ وہ درفطنی چھوڑ رہے ہوتے ہیں جس کا کمرہ عدالت میں ذکر تو کجا خیال بھی نہ گیا ہو مرحوم وزیردفاع میر علی احمد تالپور کے سٹاف آفیسر ایک کرنل تھے میری میر صاحب سے اچھی یاد اللہ تھی میرے علم میں یہ واقع آیا کہ کرنل صاحب ویزوں اور جنرل سعید قادر کی جانب سے کنٹونمنٹ کی لیز ختم ہونے پر ضبط کرنے پر ڈی او لکھ کر خود دستخط کرتے اور چیک وصول کرتے ہیں جب یہ بات میں نے میر علی احمد تالپور کو بتائی تو انہوں نے ایک ہفتہ بعد اپنے گھر بلاکر مجھے کہا آپکی اطلاع بالکل غلط اور بے بنیاد ہے میں نے بتایا کہ اس حوالے سے (آجکل کے ایک وزیراعلیٰ اور بڑے راولپنڈی میں شاپنگ مال ) کے مالک سے بھی رابطہ ہوا میرے کہنے پر ان وزیرصاحب نے خود (ڈی او) سعید قادر کو بذریعہ سیکرٹری دفاع جنرل جیلانی لکھ دیا مگر میری اطلاع کو درست ماننے سے کو تیار نہ تھے انکو مذکورہ کرنل اور اس نے حساس ادارے کے ایک فرد کو ملوا کر بتایا کہ وزارت دفاع اور وزیر کے عملے پر آئی ایس آئی ¾ ایم آئی اور دیگر حساس ادارے کڑی نظر رکھتے ہیں جبکہ آئی بی بھی ان پر کڑی نظر رکھتی ہے اور ایک ایک کاغذ دیکھا جاتا ہے وہ ان کی بات مان گئے مگر اس کرنل کے خلاف لوگوں سے رقم بٹورنے ¾ ڈی او دے کر رقم لینے کے مقدمات تھانہ صادق آباد درج ہوئے وہ گرفتار ہو کر جیل گئے اور اس وقت لاکھوں پیسے واپس کر کے بھی جیل سے اس وقت ضمانت پر رہا ہوئے کہ کچھ عرصہ بعد دارفانی کو کوچ کر گئے۔ اس طرح امریکہ میں پاکستانی سفارت خانے کو لابنگ کیلئے اربوں روپے دے جاتے ہیں اور حسن حقانی کو ای الیون اسلام آباد میں ایک گھر کی ادائیگی کا بھی اس وقت کے وزیراعظم نے کہا مگر سفیراور وزیراعظم نے یہ آڑ لی کہ نیویارک سفارتخانے میں تو آئی ایس آئی اور انٹیلی جنس کا سٹاف ہوتا ہے بدعنوانی ممکن نہیں جس پر سادہ لوگ یقین کر لیتے ہیں کیا حساس اداروں کے لوگ انتہائی ایماندار ہوتے ہیں اور اگر ان کے علم میں کوئی بات آئے بھی تو وہ ایمانداری سے صرف رپورٹ کر سکتے ہیں اس پر عملدرآمد ممکن ہی نہیں کیونکہ بدعنوانی کرپشن کو ثابت کرنے کیلئے جو چیز درکار ہوتی ہیں وہ خفیہ طریقے سے ممکن نہیں ایک مدت سے حقانی سفارت خانہ اسلام آباد شراب فروخت کرتا تھا مگر اکثر لوگ اس پر یقین ہی نہیں کرتے تھے سابق آئی جی ڈاکٹر شعیب سڈل کے گھر کے سامنے یہ کام ہوتا تھا انہوں نے مجھے بتایا کہ یہ سفارتخانہ ہے اور اوپر جھنڈا ہے مگر کام شراب فروشی کا ہے جبکہ حقانی حکومت سرکاری سطح پر لوگوں کو آزادی دیتی ہے بدھ کے روز حقانی پنڈ میں شراب فروشی پر پابندی ہوتی ہے اور سفارتخانوں میں شراب پر پابندی ہے جس کی میں نے تحقیق کی مگر ہمارے ہاں معاملات حد سے آگے نکل گئے ہیں جھوٹ پر نہ کسی کو سزا ہوتی ہے اور نہ لوگ جھوٹے افراد سے سماجی قطع تعلق کرتے ہیں حد تو یہ ہے کہ سزا یافتہ شخص اور جھوٹ کو رئیل بنانے کیلئے پارلیمنٹ قانون سازی کرتی ہے جب صورتحال یہ ہوتو پھر اخلاقیات کہاں کھڑی ہیں عمران خان جیسے چپڑاسی نہ رکھنے کا ٹی وی پر اس کے سامنے کہتا ہے اسے وزیراعظم کیلئے منتخب کرتا ہے آصف علی زرداری ان ارکان کو بدعنوان کہتے ہیں جن کو وہ پارٹی میں عہدے اور وزارتیں دے چکے تھے اور ناراضگی انکا ساتھ چھوڑنے پر ہے اور دوسری پارٹی میں شمولیت ہے۔ ایک واقعہ مدت سے سنتے آئے ہیں کہ ایک بستی پر عذاب نازل ہوا جس میں ایک بزرگ نیک اور پرہیز گار بھی رہتا تھا جب عذات شروع ہوا تو بزرگ نے دعاکی کہ اللہ تعالیٰ میرا کیا قصور ہے اسے اسے فوراً نیند آئی اور ایک بزرنگ نے انہیں خواب میں بتایا کہ آپکا جرم مصلحت کو کوش اور خاموشی ہے اور جب بستی پر عذاب آتا ہے تو سب پر کوئی بڑا اجتماعی گناہ ہوتا ہے ہمارے ہاں جھوٹ کے اجتماعی گناہ میں ساری قوم اور ہر طبقہ اپنے عروج پر پہنچ گیا ہے اسے نجات کیلئے لوگوں کو سامنے آکر دنیا کی سب سے بڑی اس خرابی کی طرف متوفہ کرنا چاہئے۔
٭٭٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved