تازہ تر ین

شہباز شریف سے ملاقات اور اللہ کے فیصلے

غفار احمد میاں
میاں شہباز شریف اس بات کا برملا اظہار کرتے ہیں کہ جنوبی پنجاب میں احساس محرومی ہے، ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ احساس محرومی غلط بھی نہیں اور میں نے اس میں نمایاں کمی کرنے کیلئے ملتان اور جنوبی پنجاب میں میگا پراجیکٹس شروع کروارکھے ہیں، ماڈل ٹاو¿ن میں پریس کلب ملتان کے عہدیداروں اور وہاں سے شائع ہونے والے قومی اخبارات کے ریذیڈنٹ ایڈیٹرز کے ساتھ ناشتہ پر طویل گپ شپ میں انہوں نے ایک مرتبہ پھر انہی خیالات کا اظہار کیا جو وہ اکثر کرتے ہیں کہ اب غلطیاں ہوئیں تو آنیوالی نسلیں معاف نہیں کریں گی۔
میں کہنا چاہتا تھا کہ آنے والی نسلوں سے معافی کا انتظار کرنے کی بجائے ہمیں اسی نسل کو سنوارلینا چاہئے مگر ہمیں چونکہ جنوبی پنجاب میں صحافت کے مسائل کے حوالے سے عمومی اور پریس کلب ملتان کے حوالے سے خصوصی توجہ لینی تھی لہٰذا جناب وزیراعلیٰ کی ایک ایک بات توجہ سے سن کر ایک احساس ہوا کہ پنجاب بھر میں ہوکیارہاہے ، وہ شاید واحد وزیراعلیٰ ہیں جو اس سے بخوبی آگاہ ہیں جوکہ بہت خوش آئند بات ہے ۔
دس سال بعد ہونے والی اس ملاقات میں ایک خوشگوار پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ اب ان میں بہت ٹھہراو¿ ہے اور وہ کسی حد تک توجہ سے بات سنتے ہیں، تیسرا پہلو یہ سامنے آیا کہ وہ آج بھی اتنے ہی پرعزم اور مضبوط ہیں جتنے ایک دہائی پہلے تھے، پریس کلب ملتان کے صدر شکیل انجم نے انہیں سوونیئر اور پریس کلب ملتان کی تاحیات ممبر شپ دی اور اپنی مختصر تقریر میں صحافیوں کو پیش آنیوالے مسائل کا ذکر کیا، مطالبات پیش کئے جنہیں انہوں نے فوری طور پر تسلیم کرلیا اور مزید سہولیات کا بھی وعدہ کیا۔
شہبازشریف نے کہا جب تک ہر ادارہ اپنا بھرپور کردار ادانہیں کرتا ملک ترقی نہیں کیاکرتے، انہوں نے کہا فوج کا اپنا رول ہے ، بیوروکریسی ، پولیس ، سیاستدان اور میڈیا سب اہم ہیں مگر پرنٹ میڈیا میں پختگی کی وجہ یہ ہے کہ اس کی اننگز بہت طویل ہے، الیکٹرانک میڈیا کو ابھی بہت سیکھنا ہے، یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ انہیں صاف پانی پراجیکٹ کے حوالے سے گھپلوں کا علم ہے اور انہوںنے بتایا کہ ایف آئی آر بھی گریڈ 20کے افسران کےخلاف درج ہوچکی ہے ، مگر شاید جناب وزیر اعلیٰ کو ابھی تک کاریگروں نے یہ علم نہیں ہونے دیا کہ صاف پانی پراجیکٹ میں 50فیصد سے زائد رقم اوپر اوپر ہی سے غائب ہوچکی ہے اور ابھی تک انکوائریوں کا رخ بھرپور طریقے سے اس طرف جانا باقی ہے، وہاں اب بھی پردہ داری چل رہی ہے۔
امجد بخاری نے وزیراعلیٰ کی توجہ دلائی کہ جنوبی پنجاب کی متعددیونیورسٹیاں وائس چانسلر حضرات کے بغیر کئی ماہ اور سال سے چلائی جارہی ہیں، جس کی وجہ سے انتظامی مسائل اور تعلیمی انحطاط کی صورتحال ہے، انہوں نے اس بات کو اپنے نوٹس میں شامل کیا او راس پر جلد غور کرنے اشارہ دیا، مگر وہاں تو ایک ایک افسر کے پاس تین تین چارج ہیں، ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی گذشتہ تیس سال سے ڈائریکٹر جنرل کے بغیر چل رہی ہے اور ہر کمشنر اضافی چارج پر بیٹھا ڈی جی کے اختیارات بھی استعمال کررہاہے، ہفتوں اور مہینوں فائلیں رکی رہتی ہیں کہ معاملات ترجیحات کے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے پنجاب کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے اچانک بات کراچی کی طرف موڑ دی اور بتایا کہ کراچی روشنیوں کاشہر تھا، اس کے حالات دیکھ کر بہت تکلیف ہوتی ہے، میں نے از خود کراچی میں ٹرام ٹرین چلنے ہوئے دیکھی ہے ، 70کی دہائی میں کراچی ایک چمکتا ستارہ تھا، پھر انہوں نے بتایا کہ ملتان میں کڈنی ٹرانسپلانٹ سینٹر جلد کام شروع کردیگا اور اس کے علاوہ پنجا ب کے دوشہروں لاہور اور ملتان میں انتہائی جدید سہولتوں سے آراستہ پتھالوجی سنٹر بنایاجارہاہے جو کہ ڈیڑھ لاکھ سینپل روزانہ مانیٹر کرنے کی صلاحیت رکھا ہے۔
میں نے وزیراعلیٰ پنجاب کو بتایا کہ سودی کاروبار نے جنوبی پنجاب کے لاکھوں افراد کو عذاب میں مبتلا کررکھا ہے اور اللہ تعالیٰ نے سود خوری کو جنگ قرار دیا ہے، انہوں نے وعدہ تو کیا مگر شاید ابھی انہیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کام کے لئے چنا نہیں ۔
انسان روز اول سے ہی بہت سی غلط فہمیوں اور بہت سی خوش فہمیوں کا شکار رہاہے، اشفاق احمد نے بہت ہی خوبصورت جملہ اس حوالے سے لکھا ہے کہ پرابلم یہ ہے جو کام اللہ نے کرنے ہوتے ہیں وہ انسان اپنے ذمہ داری میں لانے کی کوشش کرتا ہے اور جو کام انسان کے کرنے کے ہوتے ہیں وہ اللہ پر ڈال دیتا ہے ۔
حاجی لطیف پولیس میں تین دہائیوں تک ایس ایچ او رہے ، پہلے تو مال پانی لیتے اور ڈٹ کر لیتے تھے مگر تائب ہوئے تو قابل رشک مقام پایا ، پاکپتن میں ایس ایچ او تعینات تھے کہ ان کا تبادلہ ڈیڑہ غازی خان کے تھانہ کوٹ چھٹہ ہوگیا، تیاری کرنے لگے، سامان باندھا ، کپڑے استری کرتے ہوئے تار جل گئی تو استری ہاتھ میں پکڑے بازار کی طرف چل دیئے، الیکٹریشن بھی نیک آدمی تھا، اس کے پوچھنے پر بتایا کہ میرا تبادلہ کوٹ چھٹہ ہوگیاہے،دکاندار نے کہا بس پھر اللہ نے آپ کو میرے لئے ہی وہاں ٹرانسفر کیا ہے، پھر بتایا کہ پاکپتن کی ایک فیملی کے چند لوگ کوٹ چھٹہ میں مقیم ہیں اور یہاں سے تھوڑی زمین فروخت کرکے انہوں نے وہاں کافی اراضی خریدی ہے، میں نے شہری اراضی فروخت کرکے انہیں ڈیڑھ لاکھ دیا کہ مجھے بھی وہاں زمین لے دیں، تب وہاں زمین 5ہزار روپے فی ایکٹر سے بھی کم تھی ، وہ پیسے بھی لے گیا اور زمین بھی خرید کر نہیں دی۔
تین دن بعد حاجی لطیف نے کوٹ چھٹہ تھانے میں ایس ایچ او کا چارج سنبھالا اور سب سے پہلے اس شخص کو بلاکر 3دن میں پیسے واپس کرنے کا کہا، سخت آدمی تھے ، تین دن میں پیسے واپس ہوگئے ، اللہ اسی طرح مظلوم کی مدد کے اسباب پیدا کرتا ہے ۔
شاید ابھی اللہ پاک انتہائی طاقت ور وزیراعلیٰ پنجاب کو سود خوری کے خلاف جنگ میں اپنا ساتھی بنانے پر راضی نہیں ہوا، بیشک اللہ ہی دلوں کو بدلتا ہے مگر کوئی چاہے تو ۔
٭٭٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved