تازہ تر ین

”بیوقوف“ امریکی صدر

توصیف احمد خان
بڑا بیوقوف ہے یہ ڈونلڈ ٹرمپ بھی…. امریکہ جیسی قوت اور وائٹ ہاﺅس میں بیٹھا مگر عقل سے پیدل ہی ٹھہرا۔ یہی نہیں اس سے پہلے اور غالباً ان سے بھی پہلے صدور کا یہی عالم ہو گا۔
ان امریکی حکمرانوں کو عقل سیکھنا ہے تو ہمارے یعنی پاکستانی حکمرانوں سے سیکھیں۔ موجودہ ہی نہیں سابق حکمرانوں سے بھی کہ صدارت جیسا عہدہ حاصل کرنے کے بعد مال گنوایا نہیں بنایا کرتے ہیں۔
تفصیل اس اجمال کی امریکہ کے ایک جریدہ نے شائع کی ہے۔ لکھا ہے کہ گزشتہ دو برس کے دوران ٹرمپ کی دولت میں اکتیس فیصد کمی آئی ہے۔ ٹرمپ نے 20 جنوری کو صدارت سنبھالی تھی یعنی انہیں صدارت سنبھالے نو ماہ ہو رہے ہیں اس سے پہلے سوا سال انتخابی مہم میں گزر گیا۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ انکی یہ دولت اس وقت میں کم ہوئی جب وہ ”میدان صدارت“ میں اتر گئے اس میدان کو ہم اکھاڑہ میں قرار دے سکتے ہیںکیونکہ ٹرمپ خود سابق ریسلر یعنی کشتی باز ہیں اس حساب سے ان کا اکھاڑے میںاترنا ہی مناسب رہے گا
تو بتایا یہ گیا ہے کہ دو سال پہلے ان کی دولت تین ارب ستر کروڑ ڈالر تھی جس میں ساٹھ کروڑ کی کمی ہو چکی ہے اور اب تیرہ ارب دس کروڑ ڈالر رہ گئی ہے جبکہ وہ خود امریکہ کے امیر تین افراد کی فہرست میں 248 ویں نمبر پر آ گئے ہیں۔ اس حوالے سے بھی ان کے مقام میں فرق پڑا ہو گا کہ اس دوران کئی اور امریکی ان سے اوپر پہنچ چکے ہونگے۔
قارئین! ہے نا یہ بیوقوفی کی بات ہے ان سے پہلے صدر اوبامہ بھی ایسے ہی تھے کہ وائٹ ہاﺅس جیسے مقام سے نکلے تو کرائے کا مکان تلاش کرنے لگے اس دوران ان کا اتنا ہاتھ بھی نہ پڑا کہ اپنے لیے ایک اچھا سا مکان ہی بنا لیں ایسے میں ہم انہیں پاکستانی حکمرانوں کے نقش قدم پر چلنے کا مشورہ دے رہے ہیں تو کوئی غلط بات نہیں۔ حکمرانوں اور ان کے محلات کی بات تو بعد میں کرتے ہیں امریکی صدور کم از کم اسحاق ڈار جیسا کوئی وزیر خزانہ نہیں تو ذاتی مشیر ہی ڈھونڈ لیں کہ ان کو دولت بڑھانے کا گر خوب بتائے گا۔ نیب والے کہتے ہیں کہ جناب اسحاق ڈار کی دولت میں اکانوے گنا اضافہ ہوا ہے۔ اکانوے فیصد نہیں اکانوے گنا کہا جا رہا ہے کہ ان کے پاس اگر ایک ارب روپے تھے تو وہ اب اکانوے ارب ہو چکے ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم اس الزام میں کس قدر صداقت ہے اس کا فیصلہ تو عدالت ہی کرے گی لیکن ہم ایک سیدھا سا اصول جاتنے ہیں کہ ہم نے ہلانے سے پانی اس وقت گدلا ہوتا ہے جب تہہ میں مٹی یا گار وغیرہ موجود ہوں۔
اور دیکھ لیجئے…. ہمارے حکمرانوں نے تو محلات تک بنا لیے ہیں۔ دونوں حکمرانوں کے محلات میں کوئی زیادہ فاصلہ بھی نہیں ”تیرے گھر کے سامنے“ گھر بنانے کے مصداق اگر ایک محل رائیونڈ روڈ پر ہے تو وہ دوسرا بحریہ ٹاﺅن میں۔ یہ دونوں محل ہمارے ان حکمرانوں کے ہیں جو یکے بعد دیگرے سابق ہوئے۔ ایک مدت پوری کر کے نکلے تو دوسرے کو نکال دیا گیا…. سنا ہے کہ کم از کم ایک محل کی کرسیوں پر تو سونے کے تار بھی لگے ہوئے ہیں…. ہمارے نزدیک تو ان پر بیٹھنا حرام ٹھہرا۔ معلوم نہیں یہ لوگ کیسے بیٹھ پاتے ہونگے…. ہم اس لیے قرار دے رہے ہیں کے کہ مردوں کیلئے سونا حرام ہے لہٰذا جب کوئی مرد ان پر بیٹھے گا تو اس کی نشست ایک حرام شے پر ہو گی۔
ویسے تو ضرورت سے زیادہ مکان بنانا بھی جائز نہیں آپ کو اس دور میں اور اس شہر لے جاتے ہیں جب اس مقدس و متبرک شہر کو تازہ تازہ یثرب سے مدینة النبی کا نام نامی ملا تھا۔ ایک روز نبی کریم کہیں تشریف لے جا رہے تھے کہ آپ کی نظر ایک زیر تعمیر مکان پر پڑی جو دو منزلہ تھا۔ آپ نے صحابہ کرامؓؓؓسے پوچھا کہ یہ کس کا مکان ہے۔ صحابہ کرامؓ نے نام بتا دیا پھر آپ کی محفل میں وہ صحا بی ؓ بھی آ گئے جن کا مکان زیر تعمیر تھا ۔ نبی کریم نے ان سے کوئی التفات نہیں فرمایا۔ وہ صحابی بڑے پریشان ہوئے اور محفل کے بعد دوسرے صحابہ کرامؓسے پوچھا کیابات ہو گئی ہے کہ نبی کریم نے میری طرف توجہ نہیں دی انہیں جواب دیا گیا کہ اور تو کوئی بات نہیں۔ حضور تشریف لے جا رے تھے کہ آپ نے تمہارا زیر تعمیر مکان دیکھا اور پوچھا کہ یہ کس کا ہے…. صحابیؓ کی سمجھ میں بات آ گئی پھر انہوں نے وہی کیا جو ایک سچے عاشق رسول کو کرنا چاہیے۔ انہوں نے رسول اللہ کی ناراضگی کی وجہ ہی ختم کر دی…. حضور ایک دفعہ پھر ادھر سے گزرے تو آپ نے دیکھا کہ وہ مکان موجود نہیں ہے۔ آپ نے پوچھا کہ اس مکان کیا ہوا۔ صحابہ کرامؓ نے جواب دیا کہ وہ انہوں نے اسی روز منہدم کر دیا تھا۔
غالباً وہ مکان مذکورہ صحابیؓ کی ضرورت سے زیادہ تھا کہ رسول کریم کی ناراضی کا باعث بن گیا اور ان صحابیؓ کا جذبہ بھی دیکھیں کہ رسول اللہ کی ناراضگی کو گوارا نہ کیا اور مکان گرا دیا۔ آج ہم ہیں کہ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر گھر اور عمارتیں بنا رہے ہیں جو ہماری ضروریات کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتی ہیں کیا روز محشر اللہ تعالیٰ ہم سے پوچھے گا نہیں اور ہمارے اس مال ودولت اور اسباب کو ہمارے گلے کا طوق نہیں بنا دیا جائے گا…. ہمارا اندازہ ہے…. ضروری نہیں یہ اندازہ درست ہو کہ …. حلال مال سے اس طرح کی عیاشی ممکن ہی نہیں …. یقینا یہ سوفیصد پر صادق نہیں آتا ہو ا مگر وسیع تو اکثریت کا معاملہ یہی رہا ہو گا کہ اگلے جہان میں انکی گردنیں اس طوق کا بوجھ کس طرح سہار پائیں گی۔
ہمیں علم نہیں ہمارے سابق اور موجودہ حکمرانوں کے پاس حلال مال ہے یا پھر….؟
امریکی حکمرانوں اور خصوصاً موجودہ حکمران یعنی صدر ٹرمپ کو ہمارا مشورہ دنیا داری کے حوالے سے ہی نہیں یہ بتانا بھی مقصود ہے کہ حق حکمرانی حاصل کر کے ہمارے ہاں مال کمانے کی دھن بھی سوار ہو جاتی ہے اور پھر ”ہل من مزید“ کی پکار پڑھ جاتی ہے مگر روز قیادت جب یہی بات دوزخ دہرا رہی ہو گی تو ہمارا کیا بنے گا…. ہم نے کبھی سوچا ہے…. یقینا نہیں اگر سوچتے تو یوں ذلت ورسوائی ہمارے حصے میں نہ آتی۔
آخرت میں کیا ہو گا وہ اللہ بہتر جانتا ہے مگر اس دنیا میں بھی ہمیں ذلت ورسوائی مل رہی ہے۔ ایک قول پڑھا تھا کہ جب مسلمان ذلیل ورسوا ہو رہے ہوں تو سمجھ لیں کہ انہوں نے اسلامی اصولوں کو ترک کر دیا ہے اور جب اغیار کو عزت مل رہی ہو تو جان لیں کہ انہوں نے مسلمانوں والے اصول اپنا لیے ہیں۔
ایک اور بزرگ کا قول پڑھا تھا کہ لالچی آدمی کا پیٹ قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے ایسے میں ہم خود دیکھ لیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں یہ مال ودولت تو یہیں پڑا رہ جاگے گا۔ وہ لقمہ جو غریب کھاتا ہے غالباً بہت سے امیروں کو نصیب نہیں ہو گا کہ صحت اجازت نہیں دیتی اور آخرت میں کیا ہو گا….؟
اللہ تعالیٰ ہم سب کو معاف فرما دے۔
٭٭٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved