تازہ تر ین

قانون کی بالا دستی!

اسرار ایوب….قوسِ قزح
آج آپ کوفقط تین لفظوں پر مشتمل ایک ایسا عجیب راز بتاﺅں گا جس کا دائرہ ءکار(پاکستان سمیت) ساری کائنات پر پھیلا ہوا ہے،یہ راز جان لینے کے بعد کسی بھی مسئلے کا حل بعید ازقیاس نہیں رہتا، یہی نہیں بلکہ آپ کو یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ آپ کا اصل مسئلہ ہے کیا؟
یاد کیجئے کہ مشہور فلمی ہیروشاہ رخ خان کا ایک ڈائیلاگ بڑا مشہور ہوا تھا کہ” اگر کسی چیز کو پانے کی کوشش دل سے کرو تو ساری کائنات اسے تم سے ملانے کی سازش کرنے لگتی ہے“۔ یہ دراصل پالو کوئیلوکی مشہورکتاب Alchemistکا ایک جملہ ہے جس کا مطلب خود پالو کے بقول یہ ہے کہ ( انسان سمیت) ساری کائنات دراصل ایک وجود ہے جو ایٹموں سے مل کر بنا ہوتا ہے، تو پھر ایک انسان جب اپنے اندر تبدیلی پیدا کرتا ہے تو یہ کیونکر ممکن ہے کہ اس کے اثرات کائنات پر مرتب نہ ہوں،آپ کے خیال کی توانائی یا اس سے پیدا ہونے والی لہروں سے کائنات کی روح متاثر ہوتی ہے اور وہ آپ کی معاونت پر مجبور ہو جاتی ہے۔ یہی ہے کائنات کاوہ راز جو بیک وقت مختصر ترین بھی ہے اور عظیم ترین بھی،اسے ”کشش کا قانون“(Law of Attraction)کہا جاتا ہے اور اس کی تعریف انگریزی میںیوں کی جاتی ہے کہ “Thoughts become things”یعنی خیالات اشیاءمیں تبدیل ہو جاتے ہیں، مثلاًانسان نے پرندوں کواڑتے دیکھا تو اس کے ذہن میں اڑنے کا خیال پیدا ہوا جوشدید سے شدید تر ہو کر آخرِ کار جہاز کی شکل اختیار کر گیا۔ اس بات کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ آپ کو کوئی ہاﺅسنگ کالونی اچھی لگ جاتی ہے اور آپ کو وہاں گھر بنانے کا خیال دامن گیر ہوتا ہے تو یہ خیال جتنا گہرا ہوگا آپ گھر بنانے کی کوشش اتنی ہی تیز کریں گے،حالات و واقعات آپ کا ساتھ دینا شروع کر دیں گے اورایک دن گھر بن جائے گا۔قرآنِ کریم میں یونہی تو نہیں لکھا کہ انسان کو وہی کچھ ملتا ہے جس کی وہ جستجو کرتا ہے۔ اپنا ایک شعر یاد آ رہا ہے کہ :
سوچ مر جائے تو انسان بھی مرجاتا ہے
زیست تجسیم فقط اپنے خیالات کی ہے
یہ جو کہا جاتا ہے کہ Attitudeکا فرق ہی انسان کی کامیاب یا ناکام کرتا ہے، اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ ”ایٹی چیوڈ“تین چیزوں سے مل کر بنتاہے، خیالات، محسوسات اور رویہ۔ دوسرے لفظوں میں ©”ایٹی چیوڈ“ کا مطلب یہ ہے کہ کسی خاص موقع پرہم کیا سوچتے ہیں، کیا محسوس کرتے ہیں اور کیسا برتاﺅ کرتے ہیں؟خیالات اس وقت اشیا میں تبدیل ہوتے ہیں جب ہم انہیں محسوسات کا ”مادہ “مہیا کرتے ہیں، یعنی ہم جس خیال کو جتنی شدت سے محسوس کریں گے وہ اتنی ہی جلدی جسمانی شکل اختیار کر لے گا۔ جن محسوسات سے ہم اپنے خیالات کو”مادہ“ مہیا کرتے ہیں وہ دو ذرائع سے آتی ہیں، ایک خوف اور دوسرا محبت۔ خوف والی محسوسات (مثلاً غصہ،ذہنی دباﺅ، ڈپریشن وغیرہ)سے جن خیالات کی آبیاری کی جائے گی وہ ”منفی“اشیاءیاتجربات میں ڈھل جائیں گے اورمحبت والی محسوسات( مثلاً تشکر، امن، بھائی چارہ،فلاح و بہبود وغیرہ )جن خیالات سے جڑی ہوں گی وہ مثبت اشیاءیا تجربات کی شکل اختیار کر جائیں گے۔قانونِ کشش کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ”ان چیزوں پر توجہ دیں جو آپ کو درکار ہیں،ان چیزوں پر توجہ نہ دیں جو درکار نہیں“۔ کبھی آپ نے غور کیا کہ ایک کام خراب ہوتا ہے اور پھر سارے کام خراب ہونے لگتے ہیں، کیونکہ آپ کا خیال ایک برے واقعے پر مذکور تھا لہذا آپ کو مذیدبرے واقعات کا سامناکرنا پڑا۔ ہماری عادت بالعموم یہ ہے کہ وہ 99باتیں بھول جاتے ہیں جو اچھی ہوتی ہیں لیکن وہ ایک نہیں بھولتے جو بری ہوتی ہے، جبکہ اچھا سوچنے سے ہی اچھا ہو سکتا، اسی لئے اسلام سمیت ہر مذہب کی بنیادی تعلیم یہ ہے کہ ان نعمتوں کو یاد کیا کرو جو تمھیں عطا کی گئیں تاکہ ان میں اضافہ ہو۔ خدا کا شکر ادا کرنے کا مطلب ہی یہ محسوس کرنا ہے کہ جو نعمتیں آپ کو عطا ہوئیں ان میں محروموں اور مجبوروں کا حصہ بھی ہے اور اُن پرخرچ کرنے سے آپ کا مال کم نہیں ہوگا بلکہ زیادہ ہو گا۔
یہ جو ماہرینِ نفسیات کی بین الاقوامی تنظیم نے پاکستان کو ”نفسیات کا پریشرکُکر“کہا تو اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے، ہمارے یہاں قانون کی بالادستی، میرٹ کی پاسداری اور معاشی مساوات نہ ہونے کی وجہ سے ہماری اکثریت ایک نفسیاتی بیماری ”پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈِس آرڈر“کا شکار ہے جس سے ہماری سوچ منفی ہو چکی ہے تو ہمیں منفی چیزوں کا ہی سامنا رہتا ہے، ہمارے خیالات منتشر ہیں اور انہیں مادہ فراہم کرنے والی محسوسات محبت سے نہیں بلکہ خوف سے پیدا ہو رہی ہیں، چناچہ ہم عدم استحکام، بے چینی اور عدم تحفظ میں گھِرے ہوئے ہیں۔سیدھی سی بات ہے کہ ہم آج وہاں ہیں جہاں ہونے کا ماضی میں سوچتے رہے اور کل وہاں ہوں گے جہاں ہونے کا آج سوچ رہے ہیں، اسی لئے تو کہتے ہیں کہ جیسا بو گے ویسا کاٹو گے، یعنی” آج“ ہمیںقانون کی بالادستی، میرٹ کی پاسداری اور معاشی مساوات قائم کرنے کا خیال دامن گیر نہ ہوا یا اگر ہوا بھی تو ہم نے جن محسوسات سے اسے ”مادہ“ فراہم کیا ان کی بنیاد محبت پر استوار نہ ہوئی، تو کچھ عجب نہیں کہ ”کل“ ہم یوں مٹ جائیں جیسے کبھی تھے ہی نہیں۔
(کالم نگار ڈزاسٹر مینجمنٹ کنسلٹنٹ
اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved