تازہ تر ین

خبریں مشاورت اور صوبہ پوٹھوہار

انوار حسین حقی …. حد ادب
پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے تیسرے دور اقتدار کے آخری دنوں میں جنوبی پنجاب کے عوام کے ساتھ ایک کھیل کھیلتے ہوئے ”جنوبی پنجاب بہاولپور “ کے نام سے ایک نیا صوبہ قائم کرنے کا اعلان کیا تھا اور میانوالی اور بھکر کو بھی اُس صوبے کا حصہ قرار دے دیا تھا جس پر اس علاقے میں شدید احتجاج سامنے آیااس مزاحمتی تحریک کے دوران دریائے سندھ کے کنارے آباد اضلاع میں اس صوبے کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے ” نیلاب “ کے نام سے ایک نئے انتظامی یونٹ کے قیام کا مطالبہ سامنے آیا تھا۔ اس کے مطابق صوبہ خےبر پختونخواہ کے انتہائی جنوبی اور مشرقی اضلاع ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، کرک اور لکی مروت اور پنجاب کے شمال مغربی اضلاع میانوالی بھکر، خوشاب پر مشتمل ایک ایک علیحدہ صوبے کا قیام اس تجویز پر ان علاقوں میں خاصا کام بھی ہوا لیکن اس مجوزہ نئے انتظامی یونٹ کے قیام میں دو صوبوں کی آئینی حدود کی تبدیلی کا معاملہ درپیش تھا اس لیئے اس تجویز کو زیادہ پذیرائی نہیں حاصل ہو سکی۔
پنجاب ایک بہت بڑا صوبہ ہے شمالی پنجاب، جنوبی پنجاب اور سینٹرل پنجاب میں وسائل کی منصفانہ تقسیم کا معاملہ ہمیشہ سے ایک مسئلے کی صورت میں درپیش رہا ہے۔ پاکستان کے اس سب سے بڑے صوبے کے جنوبی اضلاع اور شمال مغربی اضلاع صوبائی دارالحکومت سے دوری کی وجہ سے ہمیشہ حکمرانوں کی نظر التفات سے محرومی کے مستحق ٹھہرے رہے لاہور اور صوبے کے دیگر ترقی یافتہ اضلاع کے مقابلے میں یہاں کے ترقیاتی فنڈز ایسے زکوٰة فنڈز بن کر رہ گئے جو کبھی مستحق تک نہیں پہنچتے۔ اپنی محرومیوں کے ازالے کی جدوجہد کرنے والے ان علاقوں میں ” پوٹھوہار صوبے “ کا مطالبہ وقتاً فوقتاً سر اُٹھاتا رہا ہے۔ لیکن پنجاب کی موجودہ آئینی حدود کو برقرار رکھ کر پورے ملک پر اختیار و اقتدار قائم رکھنے والی بیوروکریسی اور سیاستدانوں نے اس معاملے کو ہمیشہ سے دبانے کی کوشش کی ہے۔ دو روز قبل جہلم میں خبریں مشاورت کے دوران ” صوبہ پوٹھوہار “ کے مطالبے کی ایک مرتبہ پھر بازگشت سنائی دی۔ روزنامہ خبریں کی وساطت سے بلند ہونے والی اس آواز کو اس مرتبہ بھر پور پذیرائی ملی ہے اور خطے کے غیور لوگوں کی رسیلی آنکھوں میں بسے ترقی کے سرمدی خواب کی تعبیر اب صوبہ پوٹھوہار کے قیام کی صورت میں دکھائی دینے لگی ہے۔ ہماری صحافت میں عوامی اور قومی مسائل کو اُجاگر کرنے اور ان کے حل کے لیئے قابل عمل تجاویز کو مثبت انداز میں آگے بڑھانے میں جناب ضیاءشاہد نے ہمیشہ مہمیز کا کردار ادا کیا ہے۔ خطہ پوٹھو ہار اور پنجاب کے دوردراز علاقوں کے مسائل کے حل کی سعی کو مربوط بنانے، نئے صوبے کے قیام کی تجویز کو آگے بڑھانے اور اس پر ڈائیلاگ کا عمل شروع کرنا ایک قابل قدر عمل ہے۔کیونکہ موجودہ حالات میں پاکستان کےلئے قائداعظم ؒ کی فکر او ر وژن کو بروئے کار لانا انتہائی ضروری ہے۔قومےتی اور لسانی بنےادوں پرنئے صوبوں کے قےام کے مطالبے قومی اتحاد و ےکجہتی کو پارہ پارہ کر سکتے ہیں لیکن انتظامی بنےادوں پر نئے صوبوں کے قےام اور وفاق کی اکائےوں کی تقسےم مےں کوئی مضائقہ نہےں۔ بلکہ یہ انتہائی ضروری ہیں۔
پنجاب کے اضلاع مےانوالی، بھکر، خوشاب اپنے اپنے صوبوں کے انتہائی آخری اضلاع ہےں۔ےہ علاقے اپنے اپنے صوبوں کی باو¿نڈری پر واقع ہونے کی وجہ سے ترقی اور خوشحالی کے ثمرات سے محروم ہےںاور ان علاقوں کے عوام پسماندگی اور درماندگی کا شکار ہےں۔ ماضی میں یا پیپلز پارٹی کی حکومت نے جس نئے مجوزہ صوبے کے قیام کی بات کی تھی ان مےں شمولےت کے بعد بھی ان اضلاع ےا علاقوں کی حےثےت پر کوئی فرق نہےںپڑتا تھا۔ دن پھر بھی ترقی یافتہ علاقوں کے پھریں گے ان علاقوں میں ماضی کی طرح اُداسی اور مایوسی کا راج رہے گا۔خطہ پوٹھوہار کے علاقوں جہلم، چکوال، راولنڈی، اٹک، میانوالی اور خوشاب کے علاقوں کو و ترقی ےافتہ علاقوں کے برابر لانے کے لئے ان علاقوں پر مشتمل اےک نئے صوبہ ”پوٹھوہار “ کے قےام کی اشد ضرورت ہے۔ ا س نئے انتظامی ےونٹ کا صدر مقام راولپنڈی ہونا چاہئے۔ اس تجویز کا ہمیشہ سے ان علاقوںمےں بڑے پیمانے پر خےر مقدم ہوا ہے۔
تاریخی اورثقافتی حوالوں سے جہلم، چکوال، راولپنڈی، اٹک، خوشاب اور میانوالی آپس میں جُڑے ہوئے ہیں۔ ان میں سے صرف میانوالی کا ضلع ایسا ہے جس کے سماج پر قبائلی معاشرت کے اثرات ہیں اُس کی وجہ اُس کی خیبر پختونخواہ سے قربت ہے۔ یہ علاقے مختلف تہذیبوں کا سنگھم رہے ہیں۔ اس خطے نے کئی تہذیوں کا عروج و زوال دیکھا ہے۔ یہ زیادہ تر کوہستان نمک ( سالٹ رینج ) کاعلاقہ ہے۔ یہاں کی سب سے بڑی برادری اعوان ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ جہاد ہند میں حصہ لینے کی غرض سے 1009 ءمیں ہندوستان آئے تھے۔ اُس وقت غزنی میں اسلامی سلطنت کا پرچم پوری آب وتاب کے ساتھ لہرا رہا تھا۔ تاریخی حوالوں کے مطابق ” میر قطب شاہ اپنے قبیلے کے لشکر سمیت سلطا ن کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ سلطان آپ نے کفر و شرک کو صفحہ ہستی سے مٹانے اور اسلام کا پرچم بلند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ خدائے بزرگ و برتر آپ کو کامیابی عطاءفرمائے۔ بندہ اپنے لشکر سمیت حاضر ہوا ہے آپ ہمیں بھی اس جہاد میں شرکت کی اجازت بخشیں۔
سلطان نے جواب دیا کہ۔”مرحبا قطب شاہ تم پر خدا کی سلامتی ہو۔ آپ میری اعانت کےلئے سر بکف آئے ہیں۔ میں آپ کو ” اعوان “ کا خطاب دیتا ہوں۔ “ اعوان کے معنی مدد گار کے ہیں۔سلطان محمود غزنوی کے ان اعوان مجاہدوں کو یہ خطاب اس قدر پسند آیا کہ حضرت ہاشمؓ اور حضرت علیؓ کی یہ اولاد جن کی پہچان ”ہاشمی “ اور ”سادات علوی “ تھی خود کو اعوان کہلانے لگے۔
فتح ہند کے بعد سلطان غزنوی نے واپس غزنی جاتے ہوئے دریائے سندھ سے لے کر دیارئے جہلم تک سالٹ رینج ( کوہستان نمک ) تک کا علاقہ میر قطب شاہ کے حوالے کردیا تھا۔ یہ تمام تاریخی حوالے ظاہر کرتے ہیں کہ خطہ پوٹھوہار کے ان چھ ضلعوں کی مشترکہ اقداراورتاریخ موجود ہے۔ اپنی جغرافیائی اہمیت کے باجود ان علاقوں کی معاشی پسماندگی نے اس خطے کو بہت پیچھے چھوڑ دیا۔ اس درماندگی کی ذمہ داری اس علاقے کی قیادت اور سیاست پر بھی عائد ہوتی ہے ´ لیکن اس کی ایک بڑی وجہ صوبہ پنجاب کی بے پناہ وسعت ہے جس کی وجہ سے اکثر علاقوں سے امتیازی سلوک ہوتا ہے۔
دنیا بھر میں ترقی کے ثمرات عوام تک یکساں پہنچانے کے ساتھ ساتھ وفاق کو مضبوط کرنے کے لیئے زیادہ سے زیادہ صوبوں کے قیام کو ممکن بنایا جاتاہے۔ اس کی مثالیں دنیا بھر میں موجود ہیں ہم رہنمائی کے لیئے اپنے خطے میں بھارت اور افغانستان میں صوبوں کی تعداد کا بھی جائزہ بھی لے سکتے ہیں۔مجوزہ صوبہ پوٹھوہار میں جن چھ اضلاع کو شامل کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے ان علاقوں کے صاحب الرائے طبقات کو اس سلسلہ میں ایک مرتبہ پھر میانوالی میں میز پر بٹھا کر ڈائیلاگ کو آگے بڑھانا چاہئے تا کہ مزید مثبت تجاویز سامنے آئیں اور خطے کی پسماندگی دور کرنے کی کاوشوں کو کامیابی کے راستے پر گامزن کیا جا سکے۔
(کالم نگار سیاسی و سماجی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved