تازہ تر ین

بھارتی ثقافت کا المیہ

توصیف احمد خان
ان دنوں بھارت میں ایک بحث چل نکلی ہے ، بحث یہ ہے کہ مسلمان حکمرانوں کی یادگاروں کو ہندﺅوںکاکوئی اہمیت نہ دینا تو ایک طرف وہ انہیں تسلیم تک کرنے کیلئے تیار نہیں، مسلمان بھی خم ٹھونک کر میدان میں آگئے ، جس کے بعد ہندوو¿ں کو کسی حد تک پسپائی اختیار کرنا پڑی ہے ، یہ سارا قصہ کیا ہے …؟ اس پر بات کرنے سے پہلے ہم دیکھ لیں کہ بھارت میں ہندو ہماری یعنی مسلمانوں کی تہذیب و ثقافت کا دشمن ہو رہاہے مگر دوسری طرف ہم کیا کررہے ہیں ، ہم سے مراد پاکستانی ہیں اور پاکستانیوں میں خصوصاً ان کے حکمران کہ ہم اسلامی روایات اور اپنی ثقافت کے پیچھے خود پڑے ہوئے ہیں، جس کی سب سے بڑی وجہ ہمارے چھوٹے چھوٹے مفادات کو ہی قرار دیا جاسکتا ہے ، دوسری بڑی وجہ یہ کہ ہمیں خود اپنی تہذیب و ثقافت سے کوئی دلچسپی نہیں ، ہمارا حال یہ ہے کہ یورپ اور عالمی اداروں سے ” کچھ “ حاصل کرنے کیلئے اپنی ہی تہذیب کے پیچھے لٹھ لیکر پڑے ہوئے ہیں ، ہمارا وہی حال ہوگیا ہے جو ایسٹ انڈیا کمپنی نے متحدہ ہندوستان کا کیا تھا، یہ سر زمین تہذیب و ثقافت ہی نہیں صنعتی طور پر بھی ترقی کرگئی تھی ، یورپ کو خوف پیدا ہوگیا کہ اس کی صنعت کی بربادی کا سامان ہورہاہے ، لہٰذا انگریزوں نے مختلف روپ دھارا اور ہندوستان میں قدم جمانے شروع کردیئے، مغل حکمرانوں کا حال یہ تھا کہ وہ بنا سوچے سمجھے گوروں کو رعایتوں پر رعایتیں دیتے چلے گئے اور باقی کا کام غداروں نے پورا کردیا ۔
دوسروں کا رونا کیا روئیں ، ہم نے نصاب سے اسلامی تاریخ تک کو قریباً حذف کردیاہے اور نبی کریم کی حیات مقدسہ کا کہیں ذکر تک نہیں ، ہم تو اپنی نئی نسل کو یہ تک نہیں بتانا چاہ رہے کہ ہم پورے سے آدھا پاکستان کیسے بنے، بنگلہ دیش کبھی ہمارا مشرقی پاکستان تھا ، یہ کیوں اور کیسے الگ ہوا …؟ ہم اپنے نوجوانوں سے اس تاریخ کو چھپا رہے ہیں ، اس وجہ سے پاکستان کی نئی نسل میں سے اکثریت کو یہ تک معلوم نہیں کہ بنگلہ دیش 46برس قبل مشرقی پاکستان تھا اور قیام پاکستان کی سب سے زیادہ جنگ اس سر زمین پر لڑی گئی ، ہم نئی نسل کو اپنی ہی تاریخ سے آگاہ نہیں کرینگے تو وہ کس طرح اپنے مستقبل کا تعین کر پائیگی۔
یہ تو دل کے پھپھولے ہیں جو ہم پھوڑ رہے ہیں اور پھوڑتے رہیں گے ، جس کا بظاہر کوئی مثبت نتیجہ نکلنے کا امکان نہیں کہ ہم مفادات کے بندے ہوگئے ہیں، ہم بھارت میں اسلامی تہذیب و ثقافت کو مسخ کئے جانے کی منظم کوششوں کا ذکر کررہے تھے ، مودی حکومت کے آنے کے بعد ان کوششوں کو تیز کردیاگیا ہے ، جبکہ اقتصادی مفادات کے پیش نظر بہت سے اہم اسلامی ممالک بھارت کی کسی بھی حرکت کے بارے میں بات کرنے کو گناہ سمجھتے ہیں کہ اس میں سب سے معزز و محترم ملک بھی شامل ہے۔
جس امر کا ذکر کیا جارہاہے وہ آگرہ کے تاج محل سے شروع ہوا تھا ، جو شاہ جہاں نے اپنی ایک ملکہ کی یاد گار کے طور پر بنوایا ، اس پر یقینا کثیر سرمایہ اور وقت صرف ہوا کہ ایسے ہی دنیا کا آٹھواں عجوبہ قرار نہیں پاگیا، جب سے بھارت میں مودی حکومت اور اترپردیش میں ایک سادھو آدتیہ ناتھ یوگی کی حکومت آئی ہے ، اس وقت سے تاج محل زیاد ہ ہی زیر عتاب آگیا ہے، حالانکہ دنیا بھر سے زیادہ تر سیاح تاج محل دیکھنے کیلئے ہی بھارت جاتے ہیں ، اسے آثار قدیمہ کا درجہ بھی دیاگیاتھا، پہلے تو اس کا یہ درجہ ختم کیا گیا اور پھر اسے سیاحت کے مقام کے قابل بھی نہ سمجھا گیا، اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ تاج محل ہندوو¿ں کی تاریخ و ثقافت سے مطابقت نہیں رکھتا، ہندوو¿ں نے یہاں تک قرار دیدیا کہ بابر ، اکبر ، شاہجہاں اور اورنگزیب سب لٹیرے تھے، ان کا موقف ہے کہ ان بادشاہوں کی یادگاروں کو ہٹایا جائے، ان کی جگہ رام سے کرشن اور پرتاب سے شیو تک سب کو ان کا مقام ملنا چاہئے۔
اس پر بھارت کے اندر سے تو احتجاج ہوا ہی ، یورپ ، امریکہ اور بہت سے دوسرے ممالک سے احتجاج آیا کہ یہ تاریخ کو مسخ کرنے والی بات ہے ، بھارت میں مسلمانوں نے اس پر کافی زوردار موقف اختیار کیا ، سب سے پہلے میدان میں آنیوالے مسلمان رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی تھے جن کا کہنا ہے کہ ایسی ہی بات ہے تو پھر دہلی کے لال قلعہ سے بھارتی پرچم اتار دیا جائے کہ وہ بھی انہی ”لٹیرے“ حکمرانوں نے بنوایاتھا، سماج وادی پارٹی کے اعظم خان اس سے بھی آگے چلے گئے ، انہوں نے کہا کہ ایسی صورت میں راشٹر بتی بھون ( ایوان صدر ) پارلیمنٹ ہاو¿س ، لال قلعہ ، قطب مینار ، آگرہ کا قلعہ اور بہت سی دوسری عمارتیں منہدم کرنا پڑیں گی کہ تاج محل ہی نہیں یہ عمارتیں بھی انہی ” غدار “ حکمرانوں نے تعمیر کرائی تھیں، جن سے ہندوو¿ں کے بقول مسلمان حکمرانوں کی بو آتی ہے ۔
اس منطق کے بعد بھارتی لیڈروں نے اپنا موقف ہی بدل لیا ، پہلے مودی نے بالواسطہ طور پر تاج محل کی تعریف کی پھر سادھو جی نے بات کی کہ یہ اہم نہیں عمارت کس نے بنائی، اہم یہ ہے کہ اسے ہندوستانی مزدوروں نے اپنے خون پسینے سے تعمیر کیا ، لہٰذا اس کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔
قارئین کرام ! سوچ میں یہ رہا تھا کہ دوسرے مذاہب کی تعمیرات گرادی جائیں تو پھر لاہور کا کیا بنے گا، لاہور کی قریباً ساری تاریخی عمارتیں ، جن میں خوبصورت آبادی ماڈل ٹاو¿ن بھی شامل ہے گرادی جائیں تو اس شہر کے پاس کیا رہ جائیگا، کہ یہ ساری عمارتیں سر گنگارام نے ڈیزائن کیں اور بنوائی تھیں، ان میں نیشنل کالج آف آرٹس ، عجائب گھر ، ریلوے اسٹیشن ، جی پی او ، ہائیکورٹ ، کیتھیڈرل ، ایچی سن کالج، البرٹ واکٹر ہسپتال، لاہور کالج برائے خواتین ، پرانا ہیلی کالج ، لیڈی میکلیگن سکول اور بہت سے دوسری عمارتیں شامل ہیں، سرگنگارام نے اور بہت کچھ بنوایاتھا جبکہ گنگا رام ہسپتال بعدمیں اس کی اولاد نے تعمیر کروایا ، تصور کریں ، یہ ساری عمارتیں نہ ہوں تو لاہور کا نقشہ اور حلیہ بگڑ جائیگا۔
دراصل ثقافتی ورثہ ، خواہ وہ کسی شکل میں ہو کسی کی میراث نہیں ہوتی، یہ ورثہ متعلقہ علاقے کی آن بان اور شان ہوتا ہے ، اس لئے اسے کسی کے ساتھ مخصوص کر دینا پرلے درجے کی حماقت ہی کہلائی جاسکتی ہے ، جو بھارت کی حکومت کررہی ہے ، اسے ہم بھارتی ثقافت کا المیہ بھی کہہ سکتے ہیں۔
٭٭٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved